تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینتنقیددیگرعلم و ادب

ایمسٹرڈیم کے پھول اور شہادت کا قضیّہ —- الیاس بابر اعوان

by دانش ڈیسک 25/03/2020
written by دانش ڈیسک 25/03/2020
98

یہ ایمسٹرڈیم ہے جو پوری دنیا میں پھولوں کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ گلِ لالہ یہاں کا سب سے مقبول پھول ہے۔ Keukenhof کو گلِ لالہ کا گڑھ کہا جاتا ہے۔ کیو کن ہوف کو یورپ کا باغ بھی کہا جاتا ہے۔ کیوکن ہوف نیدر لینڈ کے ایک قصبے لیزی میں واقع ہے۔ ۷۹ ایکڑ پر پھیلے اس باغ میں ہر سال ستر لاکھ گلِ لالہ اگائے جاتے ہیں۔ کیوکن ہوف صرف آٹھ ہفتوں کے لیے مارچ کے وسط سے مئی کے وسط تک پھولوں کی نمائش کے لیے کھلتا ہے۔ یہاں روزانہ  تقریباًچھبیس ہزار سیاح پھولوں کو دیکھنے آتے ہیں.

اس باغ کا قیام ۱۹۴۹ میں عمل میں آیا جس میں مختلف اقسام اور رنگوں کے گلِ لالہ کی نمائش کی جاتی ہے، ۱۹۵۰ میں ایک سال کے دوران تقریباً ۲۰ لاکھ سیاح اس باغ کی سیر کو آئے۔ سال ۲۰۱۹ میں اس باغ کی سیر پر ۱۵ لاکھ سیاح آئے جس میں محض ۲۰ فی صد مقامی سیاح تھے باقی ۸۰ فی صد سیاحوں کا تعلق دنیا کے دیگر ممالک سے تھا۔ رواں برس کیوکن ہوف میں اکیس مارچ سے دس مئی تک پھولوں کی نمائش ہونا تھی۔ لیکن اس دنیا پر زندگی نے ایک اور کروٹ لی اور چیزوں کے معنی یکسر بدل گئے۔ ۲۱ مارچ کو نیدر لینڈ میں لاکھوں گلِ لالہ اور دیگر پھولوں کو ضائع کردیا گیا جن کی آنکھیں سیاحوں کو ترستے ترستے پتھرا گئی تھیں، جن کی خوشبو سے اب بدبو کی بھبھکے اٹھ رہے تھے جن کے رنگوں پر موت کی تاریکی چھائی تھی، دُنیا کی سب سے بڑی پھولوں کی مارکیٹ میں پھولوں کا کوئی خریدار نہ تھا۔ رائیل فلورا ہالینڈ کے مالک مچل وین شی کا کہنا تھا کہ ان پھولوں کو مرتے ہوئے دیکھنے سے بہتر تھا کہ میں انہیں اپنے ہاتھوں سے ضائع کردوں کم از کم میں ان کی موت کا گواہ تو نہ بنوں، رائیل فلورا ہالینڈ، نیدر لینڈ کے پھولوں کی فروخت کا ستر سے اسی فی صد کا حصے دار ہوتا ہے۔ اور ہالینڈ پوری دنیا کے پھولوں کی ضرورت پوری کرنے میں ۴۴ فی صد کا حصہ دارہے۔

میں سوچ رہا تھا کہ پھول دُنیا کی وہ واحد جمالیاتی شے ہے جس کا اپنا کوئی مستقل معنی نہیں، یوں تو پھولوں کے مخصوص موسم ہوتے ہیں باوجودیکہ یہ آپ کو سارا سال بازار سے مل جاتے ہیں اب دنیا کے دیگر ممالک میں بھی پھولوں کی کاشت کی جاتی ہے اور یہ سارا سال دستیاب ہوتے ہیں، جیسے کہ میں عرض کررہا تھا کہ پھولوں کا کوئی مخصوص معنی نہیں ہوتا ہے ان کا تناظر ہی ان کا معنی تخلیق کرتا ہے، وہی پھول اگر خوشی کے موقع پر آپ کے ہمرکاب ہو تو اس کی خوشبو مختلف ہوتی ہے، غم کے موقع پر وہی پھول آپ کے ساتھ ساتھ اُداس ہو جاتا ہے اور اس کی خوشبو میں شوخی نہیں رہتی بلکہ احترام کا ذائقہ در آتا ہے، گویا کہ پھول کبھی بھی متروک تحفہ نہیں ہوتے، لیکن تاریخ نے تو اس مرتبہ کچھ اور ہی دیکھا لوگ اپنے پیاروں کی قبروں پر پھول ڈالنے سے بھی رہے، اس صورتِ حال پر مجھے اردو کے بڑے شاعر احمد مشتاق کا شعر یاد آرہا ہے :

رہ گیا مشتاق دل میں رنگِ یادِ رفتگاں /پھول مہنگے ہوگئے قبریں پرانی ہوگئیں۔

پھولوں کے اس دیس میں اس وقت تقریباً ساڑھے پانچ ہزار کے قریب کرونا وائرس کے یقینی مریضان ہیں، جب کہ ۲۷۶ افراد اس ل وقت تک قمہِ اجل بن چکے ہیں جب کہ سب سے زیادہ مریض ایمسٹرڈیم میں ہی ہیں، نیدر لینڈ میں وائرس کے داخلے سے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہاں وائرس ۲۷ فروری کو داخل ہُوا جب ایک مقامی شخص اٹلی کے علاقے Lombardy سے یہاں واپس آیا۔ جب کہ دوسرا کیس بھی اٹلی سے ہی اپنے ساتھ وائرس لایا۔ یادرہے نیدر لینڈ وہی ملک ہے جس کے ایک رکن اسمبلی گیرٹ ولڈرز نے توہین آمیز خاکوں کے مقابلے کا اعلان کیا تھا اگرچہ بعد میں اسے ملتوی کردیا گیا تھا تاہم اس کے اس اقدام کی وجہ سے نیدر لینڈ میں رہنے والے مسلمان اور عالمِ اسلام میں شدید بے چینی پائی گئی، نیدر لینڈ ان ممالک میں شامل ہے جہاں مسلمان خواتین کے حجاب کرنے پر پابندی ہے اور اس کی خلاف ورزی پر ابتدائی طور پر ۱۵۰ یورو جرمانہ کیا جاتا ہے۔ وہاں مسلمان خواتین کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا تاہم اب وہی وقت ہے کہ جب گیرٹ ولڈرز سمیت نیدرلینڈ کے بادشاہ نے بھی عوام کو طبی بنیادوں پر نقاب ( ماسک) پہنے کا حکم دیا ہے۔ گویا پھولوں کی طرح سماجی اخلاقیات اور ثقافتی اظہاریوں کا بھی کوئی مخصوص معنی نہیں ہوتے اُس کے وہی معنی ہوتے ہیں جو آپ اُن کے ساتھ نتھی کرنا چاہیں۔

پچھلے دنوں ایک سماجی پلیٹ فارم پر ماضی کی ایک سینیئربراڈ کاسٹرنے ایک خبر کا حوالہ دیتے ہوئے ایک پادری جس کی عمر بہتر برس تھی نے ایک نوجوان کی زندگی بچانے کے لیے اپنی سانس کی مشین اتروا کر اُسے لگوا دی اور خود وفات پاگیا تو کیا اُسے شہید کہا جائے گا؟ اس سوال کے جواب میں نیم مفتیانِ ملک و ملت طول و عرض سے تشریف لائے اور اپنے اختراعی فتاویٰ سے اسے مختلف اعزازات سے نوازتے رہے، میری تفہیم اس پر کیا ہے وہ میں عرض کردیتا ہوں لیکن اس سے قبل میں ایک مثال دینا چاہوں گا کہ فرض کیجیے کہ ایک شخص پاکستان میں پیدا ہوتا ہے اس کے بال بھورے ہیں آنکھیں نیلی ہیں عادات و اطور میں بھی انگریزوں کے قریب تر ہے لیکن وہ پاکستان میں کوئی ایسا غیر معمولی کارنامہ سر انجام دیتا ہے تو کیا ریاستِ پاکستان برطانیہ کو خط لکھے گی کہ چونکہ یہ شخص بالکل برطانوی شہریوں کی طرح دکھائی دیتا تھا اور اس نے جو کام کیا ہے وہ بعینہِ برطانوی معیارات کے عین مطابق ہے، چونکہ ہم اسے اپنے سرکاری اعزازات سے نواز ہی رہے ہیں لہٰذا آپ بھی اسے وکٹوریہ کراس یا جارج کراس سے نوازیں، کیا ایسا ممکن ہے؟ کیا ایسا سوچنا بھی حماقت نہیں ہوگا؟ کیا برطانیہ یہ جواب نہیں لکھے گا کہ پیارے پاکستانیو! یہ بہت عمدہ بات ہے کہ ایک پاکستانی نے بہت بہادری کا کام کیا بھلے وہ شکل و شباہت اور عادات و اطوار سے ہم سے ملتا جلتا تھا، ہم اس کے اس کام کی توقیر و توصیف بھی کرتے ہیں باوجودیکہ وہ ہمارے ایوارڈ کا مستحق نہیں ہے، ہمارا ایوارڈ ہمارے لوگوں کے مختص و مخصوص ہے وغیرہ وغیرہ۔

بالکل یہی شہادت کا معاملہ ہے، شہادت کا ایک سماجی اصطلاحی معنیٰ ہے جو تقریباً دنیا کے ہر خطے یا ہر ثقافتی اظہاریے میں تسلیم شدہ ہے۔ یوں تو شہید کا معنی ہے گواہ تاہم کوئی شخص جو ملک و قوم یا کسی ایک یا ایک سے زائد اشخاص کی جان بچاتے ہوئے اپنی جان جانِ آفرین کے سپرد کردے شہید کہلاتا ہے، دوسرمعنیٰ ا مذہبی اصطلاحی ہے، جس کے متعلق قرآن میں وضاحت موجودہے، سورۃ بقرۃ کی آیہ۱۵۴ کا ترجمہ ہے ’’اور جو لوگ راہِ خدا میں قتل ہوجائیں انہیں مردہ نہ کہوبلکہ وہ زندہ ہیں لیکن تمہیں ان کی زندگی کا شعور نہیں‘‘۔ ایسے ہی سورۃ آلِ عمران کی آیہ ۱۶۹ کا ترجمہ ہے، ’’اورخبردار راہِ خدا میں قتل ہونے والوں کو مردہ خیال نہ کرو وہ زندہ ہیں اور اپنے پروردگار کے یہاں رزق پا رہے ہیں ‘‘۔

اب اگر کسی شخص یا شخصیت کے ارفع عمل کو سماجی اصطلا حی معنی کے ساتھ ساتھ اسلامی اصطلاحی معنی بھی تسلیم کروانا چاہے تو یہ بالکل ایسے ہی ہوگا کہ اگر آپ کے بچے کی شکل و صورت اور عادات و اطوار میرے بچے سے ملتی جلتی ہیں تو میں یہ گذارش کروں کے ازراہِ کرم اپنے بچے کی ولدیت میں میرا نام لکھ دیں تو یہ فرمائش سراسر حماقت ہوگی، ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم اصطلاحات کی معنویت کی بجائے ان کی سیاست پر یقین رکھتے ہیں اور بیانیوں کی زد پر رہتے ہیں، لہٰذا پھولوں اور پھولوں جیسی اصطلاحات کے معنوی نظام دو علاحدہ علاحدہ چیزیں ہیں لہٰذا انہیں علاحدہ علاحدہ ڈومین میں ہی رہ کر سمجھا جانا چاہیے کہ یہی درست عملی رویہ ہے۔

وَمَا عَلَیْنَا إِلاَّ الْبَلاَغُ الْمُبِینُ

Facebook Comments Box
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
نیاسیاسی محاذ: کیا کشمیر کو مصائب سے نجات دلا پائے گا؟ — غازی سہیل خان
next post
وبا کے دنوں میں سرگوشیاں —- شازیہ ظفر کا خط زارا مظہر کے نام

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.