تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیکالم

زندگی موت کے پہلو میں بھلی لگتی ہے؟ ———- فارینہ الماس

by فارینہ الماس 24/03/2020
written by فارینہ الماس 24/03/2020
117

شاید لوگ زندگی کی بیزار ی و بے رنگی سے اکتائے ہوئے ہیں۔ مصائب کے ایک جیسے بیان و تذکرے نے ان کے حواس کو رگید رکھا ہے۔ روز روز ظلم کی ایک ہی کہانی مختلف سیاق و سباق میں سن سن کر ان کے کان پک چکے ہیں۔ وجہ یہ بھی ہے کہ معمول کے شب و روز میں گھلنے کے سوا ان کے پاس کچھ اور کرنے یا سوچنے کو نہیں۔ نا کوئی جشن، میلے ٹھیلے اور نہ ہی زندگی کو زندہ ہونے کا احساس دلاتا کوئی اور پر آسائش بندوبست۔ جب دل بستگی کے پر فریب بہانے نہ مل سکیں تو پھر انسان ابتلاء و آزمائش میں ہی دل کے بہلاوے کا ساماں کر لیا کرتا ہے۔ جبھی تو ہمارے لوگوں کے لئے وبا کے یہ دن فکر و تفکر سے کہیں ذیادہ دل بستگی کاسامان ثابت ہوئے۔ ان دنوں نے انہیں پریشاں حالی کا شکار بنانے سے کہیں ذیادہ پر جوش اور متجسس بنا دیا۔ جیسے وہ کسی ایسی ہی کھلبلی کے انتظار میں تھے جو انہیں زندہ ہونے کا احساس دلا سکے۔ اگر زندگی انہیں ان کے ہونے کا احساس نہ دلا سکی تو کوئی بات نہیں موت کا احساس ہی زندہ ہونے کا پتہ دے گا۔ ۔ ۔

Related imageوبا پھیلتی رہی اور اپنے خونی پنجے گاڑنے کا موقع تلاشتی رہی۔ لوگ حالات کی سنگینی کا مذاق اڑاتے رہے۔ مرے ہوئے لوگوں کو مرنے کا کیا خوف۔ یقین جانیں کہ آج جب سڑکوں پر فوجی گشت کا فرمان جاری ہوا تو بھی لوگ گھبرائے نہیں بلکہ اس منظر سے خیال ہی خیال میں لطف اندوز ہو نے لگے۔ اک دوسرے کو اس نئی پیش رفت کی اطلاع خوش دلی سے دینے لگے۔ جیسے کوئی جشن منایا جانے والا ہو۔ جیسے یہ فرمان کسی نئے منظر کی نوید ہو۔ نئے منظر کی تلاش ہے انہیں یا شاید وہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ ریاستی ادارے ان کی فکر میں متحرک ہوتے ہوئے کیسے دکھائی دیں گے۔ وہ ریاست کی اس فکر و محبت سے اپنے لئے وہ احسا س کشید کرنا چاہتے ہیں جو ایک بچہ اپنی ماں کی محبت میں محسوس کرتا ہے۔ وہ ریاست کے رویے میں خود کے لئے اپنائیت کی تلاش میں یہ بھی بھول گئے کہ کاروبار زندگی کی معطلی ان کے لئے کیسے کیسے معاشی، نفسیاتی وجذباتی نقصان کا باعث ثابت ہو سکتی ہے۔

اگر زندگی انہیں ان کے ہونے کا احساس نہ دلا سکی تو کوئی بات نہیں موت کا احساس ہی زندہ ہونے کا پتہ دے گا۔

موت کے منڈلاتے تاریک سایوں تلے بھی ہم بے خوف و بے فکر کیوں دکھائی دے رہے ہیں؟ اس کی وجہ شاید یہ بھی ہے کہ ہم نے کبھی زندگی سے پیار کرنا سیکھا ہی نہیں۔ ہمیں زندگی کو کھونے کے احسا سکا دکھ اس لئے نہیں کہ ہم زندگی کو کبھی جیئے ہی نہیں۔ یا ہمیں زندگی کو جینا سکھایا ہی نہیں گیا۔ شہادت کے نظریئے کو موت کے ہر تابوت کی کیلوں کے ساتھ اس قدر زور آوری سے ٹھونک دیا گیا ہے کہ اسے اکھاڑنا محال ہے۔ ہر وہ موت جو ریاست کی غفلت و نااہلی سے رونما ہو اسے شہادت سے جوڑ کر، ہمیں اس جذبے کی چاہت میں اس قدر مبتلا کر دیا جاتا ہے کہ ہم پھر کوئی سوال نہ کرسکیں۔ اپنی زندگی سے کہیں زیادہ ہمیں اپنے عقیدے کی فکر رہتی ہے۔ اپنی زندگی سے کہیں زیادہ ہم اپنے مسلک کو بچانا افضل جانتے ہیں۔

زندگی کی طرف واپس لوٹنے کے لئے بہت ضروری ہو جاتا ہے کہ موت کو قریب سے دیکھا جائے اور موت کے رنج کو محسوس کیا جائے۔ لیکن ہمارے لئے زندگی بھی اک تماشہ ہے اور موت بھی۔ اس موذی وبا کو سنجیدگی سے نہ لینے کے پیچھے یہ حقیقت بھی شامل ہے کہ ہم ابتلائے زمانہ جھیل جھیل کر اب فولادی ہو چکے ہیں۔ جنگیں، قحط، خشک سالی، افراتفری، دہشت گردی، اور کچھ نہیں تو بے روزگاری، بیماری، غربت لاچاری کی حدوں کو چھوتے ہوئے ہماری نسلیں گھل گئیں اور رل گئی ہیں۔ ایسے لوگ جن کے اعصاب انفرادی عذاب جھیلتے جھیلتے شل ہو جاتے ہیں انہیں نسل انسانی کے اجتماعی دکھوں سے تسکین ملتی ہے۔ ہمیں تسکین ملتی ہے جب بتایا جاتا ہے کہ

”تم سے بھی کہیں بہتر زندگی گزارنے والے مر رہے ہیں“ ”دیکھو! آج تم سے بھی کہیں زیادہ بہتر حالات میں جینے والے کسمپرسی اور بے بسی کا شکار ہیں“

ہمارے دل کو اطمینان ہو جاتا ہے۔ ہم اپنی ذات کا تماشہ اس قدر بھگت چکے ہوتے ہیں کہ ہمیں ذہنی سکون ملتا ہے جب ہم دوسروں کا تماشہ دیکھتے ہیں۔ ہمیں کوئی آکر کہے ”فلاں بستی میں آتش فشاں کا گاڑھا گاڑھا لاوا ابل رہا ہے اور اس کے دھانے سے مرغولے بناتی گیس فضا میں نقش بنا رہی ہے” تو ہم اپنے مصائب و الم کی چادر اتار پھینک کر بھاگم بھاگ اس بستی کا رخ کر یں گے کہ دیکھ سکیں انسان کا بدن اس دریا میں جم کر کیسے راکھ کا ملغوبہ بنتا ہے۔ اسی لئے تو سڑک کے بیچ حادثے میں مر جانے والوں یا زخمی ہونے والوں کے گرد مددگاری کو پہنچنے والوں سے کہیں پہلے تماشہ دیکھنے والوں کی بھیڑ اکٹھی ہو چکتی ہے۔

ہر وہ موت جو ریاست کی غفلت و نااہلی سے رونما ہو اسے شہادت سے جوڑ کر، ہمیں اس جذبے کی چاہت میں اس قدر مبتلا کر دیا جاتا ہے کہ ہم پھر کوئی سوال نہ کرسکیں۔

ہم اٹلی کی فضاؤں میں بے دلی سے بجائے گئے گٹار کی یاسیت سے لتھڑی دھنوں کو سجھنا ہی نہیں چاہتے۔ ہم نے تو شام کی صعوبت کے دنوں میں دکھائی دینے والی اس تصویر کی بے بسی پر بھی دھیان نہیں دیا تھا جس میں ایک شکستہ سے مکان میں ایک عمر رسیدہ شخص اپنے مٹی و دھول سے اٹے، سیمنٹ کی اتری پپڑیوں سے ڈھکے کبھی بڑی محبت و پیار سے سجائے گئے سامان کے بیچ بیٹھا ماتم کرنے کی بجائے بچ رہنے والے پیانو اور گٹار پر اپنی شکستہ اور مجروح دھنیں بجا رہا تھا۔

ہم موت کو سنجیدگی سے لیں یا نہ لیں لیکن ہمیں زندگی کو سنجیدگی سے ضرور لینا چاہئے۔ ہمیں جینا چاہئے اور جیتے رہنے کی اہمیت کو سمجھنا چاہئے۔ ابھی زندگی باقی ہے۔ ہمارے گھروں کی عمارتوں سے سریے، ریت کے بخیے نہیں ادھڑے۔ ہمارے گھرکا سامان ریت، مٹی کی دھول سے تاحال عاری ہے۔ ابھی ہماری گلیوں میں موت وبا کی صورت رقص کناں نہیں۔ ہم اٹلی یا شام کی طرح اپنے شکستہ راگوں کی یاسیت بکھیرنے تک کے لمحوں سے محفوظ ہیں۔ ہمیں سوچنا چاہئے کہ موت سے کہیں ذیادہ موت کا انتظار تکلیف دہ اور خوفناک ہوتا ہے۔ اور موت چاہے جنگ کے منحوس سایوں سے جنم لے یا وبا کی کوکھ سے پھوٹے، موت موت ہی ہوتی ہے۔ ہمیں جاننا چاہئے کہ موت کی تاریکی کیسے امید و انتظار کو نگل لیتی ہے۔ کس طرح سمے کی آنکھوں سے کل کے حسیں خواب نوچ لیتی ہے۔ ہمیں سمجھنا چاہئے کہ جن گلیوں سے زندگی رخصت ہو جائے وہاں بس کھنڈر رہ جاتے ہیں، وہ کھنڈر جن میں تاریکی کی الٹی لٹکی چمگادڑیں ہولناکی میں اور بھی اضافہ کرتی ہیں۔

ایسے لوگ جن کے اعصاب انفرادی عذاب جھیلتے جھیلتے شل ہو جاتے ہیں انہیں نسل انسانی کے اجتماعی دکھوں سے تسکین ملتی ہے۔

گھر کی چاردیواری میں کچھ دن کی حوالگی میں قدرت آج ہمیں اپنی بازیافت کا موقع دے رہی ہے۔ ہمیں سوچنا چاہئے کہ زندگی کیسی ہو، اگر محبت و الفت کے سبھی تعلق معطل ہوجائیں۔ جب انسان، انسان کے قرب سے کٹ جائے۔ جب زندگی کا مقصد صرف سانسیں بچانا ہی رہ جائے۔ کیسا لگے گا زندگی کی گہما گہمی سے الگ تھلگ ایک کونے کھدرے سے صبح کی روشنی کو جھانکنا۔ جب کھلی فضا میں درختوں کے سائے میں گرتے سوکھے پتوں کا منظر نظر نہ آئے گا۔

Related imageجبری خانہ نشینی کے ان دنوں میں، اپنی مادی زندگی کی بے حساب طلب اور خواہشوں سے نکلی اس چند دن کی زندگی میں اپنی اس روح کو تلاش کرنا چاہئے، جس سے ملنے کا کبھی موقع ہی نہیں ملتا۔ دنیا کے بکھیڑوں اور جھمیلوں میں خود اپنے آپ سے ملنے اور خود کو سمجھنے کا وقت آ ہی نہیں پاتا۔ شاید یہ ہماری پوری زندگی کا وہ واحد موقع ہے کہ جب ہم خود اپنے ساتھ جینے کا سلیقہ سیکھ سکتے ہیں۔ حساب لگائیں کہ زندگی میں ایسا کیا کچھ تھا جو ہم غیر ضروری طور پر کئے جا رہے تھے۔ اور ایسا کتنا کچھ تھا جو کرنا تھا لیکن اسے کرنے کا کبھی موقع ہی نہ مل سکا۔ فرصت کے ان لمحوں میں یہ بھی سوچیں کہ ہم کس کس جگہ غلطی پر تھے، ہمارے ایسے کون کون سے افعال تھے جو کسی اور کے لئے تکلیف و رنج کا باعث بنے۔ جب ہم نے اپنی دلیل کو بچانے کے لئے کسی انسان کی تذلیل کرڈالی۔ ہو سکے تو ایسے دوست احباب اور رشتہ داروں سے معافی بھی مانگ ڈالیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ حق پر تھے یا نہیں۔ یہ بھی سوچیں کہ ہم نے اپنے بچوں کو کیا کچھ سکھانا اور بتانا تھا جو زندگی کی مصروفیت میں نہ بتا سکے۔ کہاں کہاں ان کی تربیت میں کسر رہ گئی۔ کیا آج موقع ہے کہ اس غلطی کو سدھارا جاسکے؟ اگر موقع ہے تو جو کچھ کیا جا سکتا ہے کرنا چاہئے۔ خود احتسابی و خود شناسی، یہ دو چیزیں ایسی ہیں کہ اگر ان فرصت کے دنوں میں ہماری زندگی میں شامل ہو جائیں تو ہو سکتا ہے کہ پابندیء لمحات کے ان دنوں کے ٹل جانے کے بعد نئے آنے والے دنوں میں ہم ایک بہتر زندگی گزارنے کا موقع پاسکیں۔ اور شاید وبا کے یہ دن ہمیں خود اپنے آپ سے محبت کرنا اور خود اپنے دل کی سننا سکھا سکیں۔

Facebook Comments Box
Epidemic age and LifefeaturedlifeLife and DeathLoving Deathزندگیزندگی موت کے پہلو میںکروناکرونا وائرسموت سے محبتموت کا خوفموت و زندگیوبا کے دنوبا کے دنوں میں زندگی
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
فارینہ الماس

فارینہ الماس نے سیاسیات کے مضمون میں تعلیم میں حاصل کی لیکن اپنے تخیل اور مشاہدے کی آبیاری کے لئے اردو ادب کے مطالعہ کو اہمیت دی۔ احساسات کو لفظوں میں پرونے کی طلب میں "جیون مایا ” اور "اندر کی چپ ” کے عنوان سے ناول اور افسانوی مجموعہ لکھا ۔پھر کچھ عرصہ بیت گیا،اپنے اندر کے شور کو چپ کے تالے لگائے ۔اب ایک بار پھر سے خود شناسی کی بازیافت میں لکھنے کے سلسلے کا آغاز کیا ہے ۔سو جب وقت ملےقطرہ قطرہ زندگی کے لاکھ بکھیڑوں کی گنجلک حقیقتوں کا کوئی سرا تلاشنےلگتی ہیں

previous post
لفظ ”صوفی“ سے ملاقات: “چالیس چراغ عشق کے” کا ایک کردار ——- دبیر حجازی
next post
نیاسیاسی محاذ: کیا کشمیر کو مصائب سے نجات دلا پائے گا؟ — غازی سہیل خان

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.