تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتازہ ترینعلم و ادبفلسفہ

میں ایک راہ گزر کی تلاش میں ——– سعید عباس سعید

by Editor Daanish 13/03/2020
written by Editor Daanish 13/03/2020
93

حیرت سامانی، جستجو، تلاش۔ ۔ ۔ زندگی انہی لفظوں سے عبارت ہے۔ ہر لمحہ کسی دوسرے لمحے کے سراغ میں محوہے۔ ہر زمانہ کسی دوسرے زمانے کے تعاقب میں ہے۔ ہر دن رات کو کھوجتے ہوئےغروب ہو جاتا ہےاور ہر رات صبح کی تلاش میں سرگرداں دم توڑ دیتی ہے لیکن ان سب کی تلاش سہل ہے۔ ۔ آسان ہےکیونکہ ان کے پاس راستہ تو ہے، منزل نہ سہی۔

مستنصر حسین تارڑ کہتے ہیں کہ پانی پر چلنا آسان ہوتا ہے۔ کسی مردہ شخص کے چہرے پر پھونک کر اسے پھر سے زندہ کرنا ایک معمول ہوتا ہے لیکن وہ کونسا راستہ ہے جسے اختیار کرنا ہے۔ اس سے دشوار اور کوئی عمل نہیں ہوتا کہ ہر کسی کا راستہ الگ اور ذاتی ہوتا ہے اور وہ اس یقین کی زنجیروں میں ہمیشہ کے لیے، پیدائش سے دم ِآخر تک، اسیر ہوتا ہے کہ جس راستے پر میں نے قدم رکھا ہے بس وہی وہ سیدھا راستہ ہے جو مجھے میرے عقیدے کی چوٹی پر لے جائے گا۔

مظاہرِ قدرت اس سلسلے میں خوش قسمت ہیں کہ ان کے لیے راستہ متعین ہے انہیں راہگزر کے انتخاب کے جانگسل مرحلے سے نہیں گزرنا پڑتا۔ منزل کیا ہے؟راستہ کہاں جاتا ہے؟سفر کتنا ہے؟۔ ۔ ۔ یہ سب بعد کی باتیں ہیں۔ ۔ بنیادی بات راستے کا علم ہونا ہے۔ انسان کا المیہ یہ ہے کہ اسے منزل کی تو خبر دے دی گئی ہے لیکن راستے کا انتخاب اس پر چھوڑ دیا گیا ہے اور اس پر مستزاد یہ کہ راستے بھی بے شمار ہیں۔ ہر راستہ ہی سیدھاراستہ سجھائی دیتا ہے۔ ۔ ہر راہ ہی منزل کا پتہ دیتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ ان میں سے صراطِ مستقیم کا تعین کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے اور جب کوئی پورے یقین کے ساتھ ایک راہ چن لیتاہے تو پھر اس کے لیےخود کو گمراہ تصور کرنا یاتسلیم کرنا ایک آزمائش سے کم نہیں ہے۔ انسان کا یہی چنیدہ راستہ اس کی زندگی کی فلاسفی، اس کےنظریہ حیات اور اس کے عقیدےکو متشکل کرتا ہے۔

انسان کے لیےاپنے عقیدے، نظریے یا فلاسفی کا بطلان تسلیم کرنا بہت مشکل اور پیچیدہ مرحلہ ہوتا ہے۔ جب مسافر کو راستے میں خبر ہوتی ہے کہ یہ راستہ کوئی اور ہےتو اس کے لیے یہ مان لینا آسان نہیں ہوتا ہے کہ اس کا اب تک کا سفر رائیگاں رہا۔ ایسی صورت میں دو طرح کے ردِ عمل سامنے آتے ہیں؛ ایک تو یہ کہ انسان اس حقیقت کو سراسر رد کر دیتا ہےکہ وہ غلط راستے پر ہے اور وہ اپنی گمراہی پر قائم رہتا ہے، ڈٹ جاتا ہے یااڑا رہتا ہے۔ ۔ ایسے لوگ بظاہر جتنے بھی مضبوط معلوم ہوں اندر سے کھوکھلے اور کمزور ہوتے ہیں۔

اپنی گمراہی کے احساس کا دوسرا ردِ عمل یہ ہو سکتا ہے کہ انسان اس حقیقت کے ادراک کے بعد کہ غلط راستے پر ہے، دوبارہ رختِ سفر باندھے، ایک نئے راستے کا انتخاب کرے اور ایک نئے حوصلے اور نئے ولولے کے ساتھ از سرِ نو عازمِ سفر ہو جائے۔ ۔ ایسے لوگ اندر سے مضبوط اور کھلے دل و دماغ کے حامل ہوتے ہیں۔
podcast helen83

میں ایک راہ گزر کی تلاش میں ہوں مگر
تلاش کرتی ہے مجھ کو بھی رہ گزر کوئی

اپنی چنیدہ راہ کے بطلان پر اوّل الذکر قسم کا ردِ عمل ظاہر کرنے والے افراد کی زیادتی کسی معاشرے میں عدم برداشت، شدت پسندی اور انتہا پسندی جیسے امراض کو جنم دیتی ہےاور ثانی الذکر قبیل سے تعلق رکھنے والے افراد کی افراط معاشرے کو برداشت، رواداری، یگانگت اور ہم آہنگی کے پھولوں سے گل و گلزارکر دیتی ہے۔ ۔ ہمارے ٹاک شوز اور سوشل میڈیا پر ہر روز ہونے والے تماشے کا ایک سطحی سا جائزہ بھی ہمارے اوپر یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں کر دیتا ہے کہ ہمارا معاشرہ کس جانب روبا سفر ہے۔ ہر کوئی اپنے راستے کو صحیح راستہ قرار دے رہا ہے۔ اور اپنے نظریے کو درست نظریہ اور اپنی سوچ کو حتمی سوچ نہ صرف مانتا ہے بلکہ منوانا بھی چاہتا ہے۔ ہم وہ لوگ ہیں جن کے لیے راستہ منتخب کرنا ہی ایک نہ حل ہونے والا مسئلہ بنا ہوا ہے۔ ۔ ۔ منزل تک پہنچنا تو دور کی بات ہے۔ آئیے ذرا اپنی سوچ کے زاویے بدلیں اور زندگی کو نئے انداز میں گزارنے کی راہ تلاش کریں۔

منزلیں ہم کو کیا ملیں گی سعؔید
ہم کو تو راستہ نہیں ملتا

Facebook Comments Box
تلاشجستجوعقیدےفلاسفیمستنصر حسین تارڑمظاہرِ قدرتنظریےیرت سامانی
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
Editor Daanish

دانش ڈیسک سروس

previous post
حرّیت کیا ہے؟ کلامِ اقبال کی روشنی میں ِ حرّیت اور جذبہء حریت کی وضاحت (حصہ دوم) ——– افضل رضوی
next post
ڈاکٹر برہان احمد فاروقی —– جلیل عالی کی خود نوشت کا ایک باب حصہ 1

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.