تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
شعور کی انارکی: یہ سب ہوا کیسے؟ —...
شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...
ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری
شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول
ابریشم از سلمان باسط — ڈاکٹر بی بی...
محمد حفیظ خان کی فکشن نگاری —  ڈاکٹر...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیکالم

جدید معاشرہ، خاندان اور عورت کی آزادی و نوکری —– احمد الیاس

by دانش ڈیسک 11/03/2020
written by دانش ڈیسک 11/03/2020
92

خاندان کے ادارے کی تین صورتیں ہوسکتی ہیں۔

 مرد باہر جاکر کمائے اور عورت گھر چلائے
عورت باہر جاکر کمائے اور مرد گھر چلائے۔
دونوں کمائیں اور دونوں گھر چلائیں۔

جدید مغربی طرزِ زندگی جو فیمینسٹ تحریک کے بعض حلقوں کے پیشِ نظر ہے، تیسری صورت کو ترجیح دیتا ہے کیونکہ ان کے نزدیک اسی صورت میں عورت کی ‘آزادی’ ممکن ہے۔ مگر مسئلہ ہے کہ یہ صورت خاندان کے ادارے کو مجموعی طور پر بے معنی بنا دیتی ہے۔

خاندان کا ادارہ روایتی طور پر ایک معاہدے کے تحت وجود میں آتا ہے جس میں جنسی تعلقات صرف ایک ثانوی پہلو ہیں، جنسی تعلقات کو اس شکل میں انسٹیٹوشنلائز کرنے کا مقصد دراصل دونوں اصناف کی صلاحیتوں کو سپیشلائز کرکے نئی نسل کی اچھی پرورش اور اس عمل میں یہ معاہدہ کرنے والوں کو پائیدار جذباتی و ذہنی اطمینان فراہم کرنا ہے۔ جنسی تعلقات تو شادی کے بغیر بھی قائم ہوسکتے ہیں۔ مگر روایتی فہم کے مطابق شادی کا بنیادی مقصد جنسی تعلقات یا دو لوگوں کے درمیان محبت کو سماجی تصدیق فراہم کرنا نہیں بلکہ افزائشِ نسل اور اولاد کی پرورش ہے یا پھر بڑھاپے کے لیے جذباتی سرمایہ کاری جب انسان جنسی طور پر ناکارہ ہوجاتا ہے اور شریک حیات اور بچوں کا ساتھ ہی اس کے لیے باعث اطمینان ہوتا ہے۔

مغربی جدیدیت کے نزدیک شادی کا بنیادی مقصد صرف فرد کی رومانی تسکین ہے، اولاد صرف اس کا ایک بائی پراڈکٹ یا سائیڈ ایفیکٹ ہے۔ 

یہی وہ نکتہ ہے جسے گزشتہ دو ڈھائی سو سال میں رومانی تحریک کے زیر اثر مغرب نے فراموش کیا ہے۔ یہ جدید رومانی نکتہ نظر کہ انسان کی لمحہ موجود میں فرحت ہی سب کچھ ہے، ایک انسان کو دوسرے انسان سے حاصل ہونے والے وقتی جسمانی اور جذباتی سرور یا نشے کو ہی سب سے اہم عامل قرار دے کر شادی جیسے سماجی اور عملی ادارے کو ذاتی اور رومانوی بنا دیتی ہے۔ گویا مغربی جدیدیت کے نزدیک شادی کا بنیادی مقصد صرف فرد کی رومانی تسکین ہے، اولاد صرف اس کا ایک بائی پراڈکٹ یا سائیڈ ایفیکٹ ہے۔ جب تک رومانی تسکین ہوتی رہے تب تک شادی قائم رہتی ہے۔ جب ایسا ہونا بند ہوجائے، شادی ٹوٹ جاتی ہے اور دونوں افراد آزاد ہوتے ہیں۔ پھر چاہے ایسی شادی کے بائی پراڈکٹ یعنی بچوں کی شخصیت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجائے اور خود شادی کرنے والوں کا بڑھاپا خوفناک طور پر تنہا گزرے۔

اس سارے عمل میں تینوں فریق یعنی مرد و عورت (خاص طور پر بڑھاپے میں) اور سب سے بڑھ کر اولاد بہت منفی طور پر متاثر ہوتے ہیں۔ گویا عورت کی مبینہ ‘آزادی’ کے حق کے لیے بچوں کے اچھی پرورش کے حق، نیز خود عورت اور مرد کے بڑھاپے میں جذباتی سہارے کے حق کو پامال کیا جاتا ہے۔

اس دور میں جب ہر چیز سپیشلائزڈ ہوچکی ہے، یہ اصرار کرنا کہ خاندان کے ادارے میں ذمہ داریوں کی سپیشلائزیشن نہیں ہونی چاہیے، یوں بھی تہذیب کا ایک اندرونی تضاد معلوم ہوتا ہے۔ سپیشلائزیشن اداروں کے معیار کو بہتر کرتی ہے اور اختیارات کی تقسیم صرف ریاست نہیں، ہر تنظیمی سیٹ اپ میں آزادی کی ضامن ہے، مخالف نہیں۔

ظاہر ہے کہ معاشرے کے کئی شعبوں میں خواتین کی ضرورت گھر سے باہر بھی موجود ہے اور رہے گی۔ مثلاً ٹیچر، ڈاکٹر وغیرہ۔ اسی طرح بیوہ، طلاق یافتہ خواتین یا ایسی خواتین جن کے شوہر جسمانی یا کسی اور سبب سے معذور ہیں پورا حق رکھتی ہیں کہ وہ گھر سے باہر نکل کر کام کریں اور معاشرہ اس سلسلے میں ان سے برابری کا سلوک کرے، احترام اور آزادی دے۔ نیز یہ کہ جو عورت گھر سے باہر کام کرتی ہو اور گھر میں مالی طور پر کانٹریبیوٹ بھی کررہی ہو، وہ اس بات کا مطالبہ کرنے میں بھی برحق ہے کہ مرد گھر کے کاموں میں اس کا برابر کا ہاتھ بٹائے۔ یہ بھی یاد رہے کہ گھر کے کاموں سے مراد بچوں کی پرورش اور تربیت ہے۔ صفائی کے تمام امور اور کھانا پکانا وغیرہ نہیں۔ ایسے روزمرہ کے کام مرد و عورت مل کر کرسکتے ہیں اور سنت طریقہ یہی ہے کہ مرد جس قدر ممکن ہو ان کاموں میں عورت کا ہاتھ بٹائے یا صاحب ثروت ہو تو ملازم رکھ لے۔

جدید معاشرے میں ذہنی مشکلات مثلاً ڈپریشن، اینگزائٹی وغیرہ اس خوفناک حد تک بڑھ گئے ہیں جس کا روایتی سماج میں تصور بھی نہ تھا اور اس صورتحال سے عورت اور اس کی آزادی سب سے زیادہ متاثر ہو رہی ہے۔

مگر بات یہ ہے کہ تیسری صورت یعنی دونوں فریقوں کے کام کرنے اور دونوں کے گھر چلانے کو ایک صحتمند معاشرے میں exception رہنا چاہیے، rule نہیں بننا چاہیے۔ ایسے خاندان معاشرے کی ایک مجبوری ہیں۔ مگر بہرحال ہم سب نے کام کرنے والی ماؤوں کے بچوں کو suffer کرتے دیکھا ہے۔ ایسے خاندانوں میں طلاق کی شرح بھی عام خاندانوں سے زیادہ دیکھی ہے۔ کچھ لوگ طلاق کے بعد خوش رہنے کی صلاحیت یقیناً رکھتے ہوں گے مگر سب نہیں۔ طلاق بچوں اور میاں بیوی تینوں کی زندگی پر ایک گہرا زخم بہرحال چھوڑ جاتی ہے۔

یہی سب وجوہات ہیں کہ جدید معاشرے میں ذہنی مشکلات مثلاً ڈپریشن، اینگزائٹی وغیرہ اس خوفناک حد تک بڑھ گئے ہیں جس کا روایتی سماج میں تصور بھی نہ تھا اور اس صورتحال سے عورت اور اس کی آزادی سب سے زیادہ متاثر ہو رہی ہے۔ اس وقت خودکشی دنیا میں اموات کی دہشتگردی یا ریاستی جبر سے زیادہ بڑی وجہ ہے۔ یہ بھی دراصل ایک طرح کا تشدد ہی ہے جس کی ذمہ دار جدیدیت ہے۔

لہذا معاشرے کا اصول خاندان کی یہی سپیشلائزڈ صورت ہی رہنی چاہیے یعنی ایک فریق گھر کا وزیر خارجہ اور دوسرا وزیر داخلہ۔ ہاں مگر سماجی ضرورتوں کے سبب کچھ عورتیں گھر سے باہر نکل کر کام کرتی ہیں تو ان کے شوہر کو گھر کے۔اندرونی معاملات میں برابر کی ذمہ داری اٹھانی چاہیے تاکہ بچے اور گھر کا ادارہ متاثر نہ ہو۔

یہ بھی پڑھیں: عورت کی ملازمت: مجبوری اور استحصال ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محمد مدثر احمد
Facebook Comments Box
FamilyfeaturedModern FamilyWorking Womenآزادئ نسواںجدید خاندانجدید معاشرہخاندانعورتعورت کی آزادیفیملیورکنگ لیڈیز
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
حرّیت کیا ہے؟ کلامِ اقبال کی روشنی میں (حصہ اول) ——– افضل رضوی
next post
Feminism : روائتی معاشروں میں سرمایہ دارانہ جبر کے پھیلاو کا آلہ کار ——– طلحہ افتخار

Related Posts

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول

11/07/2026

فکنگ بِچ —– افسانہ

27/03/2026

07/12/2025

10/11/2025

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • غزل گائیکی اور آج کا پاکستان —- اقدس علی ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.