تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیعلم و ادبکالم

سوسائٹی کے ’’کرونا وائرس‘‘ ——– اسماء ظفر

by Editor Daanish 06/03/2020
written by Editor Daanish 06/03/2020
96

آجکل ساری دنیا “کرونا ” کے خوف میں مبتلا ہے یہ ایک ایسا وائرس ہے جو کمزور مدافعت والوں کو موت کے گھاٹ بھی اتار سکتا ہے اس سے بچنے کے لیئے لوگ خوف سے زیر نقاب چلے گئے ہیں کہ کہیں فضا سے یہ وائرس انکو نا لگ جائے۔

میں آج سوچ رہی تھی کرونا کی طرح ہمارے معاشرے میں بھی کتنی خطرناک روایات پنپ رہی ہیں جو اس معاشرے کے کمزور اعصاب لوگوں کے لیئے انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتی ہیں جیسے آجکل سوشل میڈیا پر عورت اور مرد کے نام پر چند ایسے لوگ چھائے ہوئے ہیں جو عورت مرد کی کیٹگری چھوڑ انسانیت کے سانچے میں بھی فٹ نہیں بیٹھتے یہ لوگ سستی شہرت اور نام کے لیئے کسی بھی حد کو پار کرسکتے ہیں اور انکے جھانسے میں آکر کئی کمزور اعصاب مرد و خواتین اسے صنفی جنگ سمجھ کر اس آگ میں بلا سوچے سمجھے کود پڑے ہیں۔

یقیناً آپ سب سمجھ گئے ہونگے میں کن دو مرد اور خاتون کی بات کرہی ہوں سوشل میڈیا ہو یا پرنٹ میڈیا آجکل ہر جانب ماروی سرمد اور خلیل الرحمٰن قمر صاحب کی گفتگو زیر بحث ہے جسے بحث کے لائق بھی آپ اور ہم نے بنادیا ہے نا لوگ انکی بدگوئی کو اتنی اہمیت دیتے نا نوبت یہاں تک آتی مگر اب معاملہ الٹ ہوگیا ہے میں سمجھتی ہوں نوجوان ذہنوں کو جو مرد عورت کی جنگ بنا کر دکھایا اور سمجھایا جا رہا ہے ایسا قطعاً نہیں ہے نا میں خلیل صاحب کو پاکستانی باشعور مرد کا نمائندہ مانتی ہوں نا ماروی کو پاکستانی خواتین کا نمائندہ تسلیم کرتی ہوں یہ دونوں ان مٹھی بھر لوگوں کے نمائندے تو ہوسکتے ہیں جو معاشرے میں انتشار اور بے چینی پھیلا کر اپنا الو سیدھا کرتے ہیں مگر ان کروڑوں خواتین اور حضرات کے نمائندے ہرگز نہیں جو اپنی اپنی حدود میں رہ کر اپنی صنف کے حقوق کےلیئے گراں قدر خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔

میری رول ماڈل آج بھی دنیائے اسلام کی پہلی بزنس وومن خدیجہ الکبریٰ اور فاطمہ الزہرا ہیں۔

اور مردوں میں تو نبی پاکؐ اور انکے صحابہ کی زندگی ایک زندہ و جاوید مثال کے طور موجود ہے۔

تو کیوں ایسے بدبودار رویوں کے حامل لوگوں کی تقلید کریں ہم۔

میں جانتی ہوں میرے حقوق کیا ہیں اور یہ مجھے چودہ سو سال پہلے ہی بتا دیئے گئے تھے جائیداد میں حصہ دے کر، مساوی تعلیمی حقوق دے کر، خلع کا حق تفویض کرکے اور دوسرے کئی مساوی حقوق کی صورت میں۔ اگر کوئی ان حقوق کی راہ میں آئے گا تو مجھے پتہ ہے مجھے دلیل کے لیئے کسی بینر کی نہیں میرے پاس دلیل کے لیئے قرآن موجود ہے اگر بینر اٹھایا بھی تو اس پر سورہ النساء کی آیات کے تراجم ہی لکھ دینا کافی ہو گا۔

مجھے ضرورت ہی نہیں کہ خلیل الرحمٰن جیسے بدگو آدمی کے سامنے ماروی بن کر اپنی صفائی پیش کروں۔ جسطرح ساری دنیا کے سامنے میڈیا پر ان دونوں نے شرافت اور انسانیت کی دھجیاں اڑائی ہیں اور بدگوئی کے ریکارڈ قائم کیئے ہیں اسے مرد اور عورت کے صنفی حقوق کی جنگ کہہ کر خدارا اس معاشرے کو مذید افراط وتفریط کا شکار مت بنائیں ایک باشعور عورت اور مرد اچھی طرح اپنے حق کو جانتے ہیں اور ان حدود کو بھی جو دین نے انکے بیچ میں قائم کی ہیں کیا مجھے بحیثیت ایک عورت یہ حق حاصل ہے کہ کسی بھی مرد کو گالی دوں ؟ یا بحیثیت ایک مرد کسی کی بھی بہن بیٹی کو سرعام کہوں کہ” تیرے جسم پر کوئی تھوکتا بھی نہیں ” ؟ کتنی گری ہوئی باتیں ہیں یہ ساری اور کتنے ہی کمزور ذہن کے لوگ اسے قبول کرکے دو صنفی گروپس میں تقسیم ہوکر اسکا دفاع کررہے ہیں۔

خدا کے لیئے اس وائرس سے بچیں یہ جان لیوا ہے یہ قطعاً مرد و زن کے حقوق کی جنگ نہیں ہے یہ دو بدبودار لوگوں کے اندر کا گند تھا جو ابل ابل کر باہر آیا میڈیا نے ریٹنگ کی خاطر اسے بڑھاوا دیا شدید افسوسناک بات یہ ہے کہ اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگ بنا سوچے سمجھے اس جنگ میں کود پڑے ہیں مرد ہیں تو خلیل الرحمٰن کے حق میں دلائل دے رہے ہیں خواتین ہیں تو ماروی کے حق میں دلیلیں تراش رہی ہیں۔ یہ آپکے نمائندے نہیں ہیں یہ سستی شہرت کے متلاشی وہ لوگ ہیں جو بدنام اگر ہونگے تو کیا نام نا ہوگا کے مطابق شہرت کے لیئے کچھ کر گزرتے ہیں۔

بچیں اس وائرس سے اسکی ویکسین ابھی تک مارکیٹ میں نہیں ہے اس کے شکار افراد کا انجام صرف اخلاقی موت ہے اور کچھ نہیں۔

Facebook Comments Box
coronaCorona VirusKhalil ur rehmanMarvi sarmadبیماریپرنٹ میڈیاخلیل الرحمانسوشل میڈیاعورتکروناکرونا وائرسماروی سرمدوائرسویکسین
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
Editor Daanish

دانش ڈیسک سروس

previous post
فیمینزم ایک اعتقادی بحث —– حسیسب احمد حسیب
next post
پانچ ماہ تک انٹرنیٹ بندشوں سے کشمیر کی معیشت روبہ زوال ——– غازی سہیل خان

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.