تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیصنف/ جینڈرکالم

عورت کے حقوق اور جنسی لبرل ازم —— اورنگ زیب نیازی

by دانش ڈیسک 05/03/2020
written by دانش ڈیسک 05/03/2020
111

مغرب میں حقوق نسواں کی تحریک کا آغاز انقلاب فرانس(۱۷۷۹ء) کے ساتھ ہوا جب پہلی مرتبہ وہاں کی خواتین نے اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کی۔ اجتماعی جدو جہد کا یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ مغرب میں یہ تحریک تین طویل اور صبر آزما مراحل سے گزری، پہلے مرحلے میں عورت کے لیے ووٹ کے حق کا مطالبہ کیا گیا۔ یہ لہر ۱۹۲۰ء تک جاری رہی تاآنکہ عورت کو ووٹ کا حق مل گیا۔ دوسرے مرحلے میں عورت نے روزگار اور تعلیم کے یکساں مواقع، کام کے یکساں اوقات اور یکساں اجرت کو مطالبہ کیا۔ یہ لہر ۱۹۷۰ء کی دہائی تک جاری رہی۔ تیسری لہر کو جنسی آزادی کے مطالبے سے موسوم کیا جاتا ہے۔ اس طویل اجتماعی جدو جہد میں ورجینیا وولف کی کتاب A room of one,s own، ڈورتھی رچرڈسن کے ناول Pilgrimage، سیمون دی بووا کی کتاب The Second sex اور کیت ملٹ کی کتاب Sexual Politics نے اس تحریک کو فکری اساس فراہم کی۔

میرا جسم، میری مرضی کا نعرہ تو لگتا ہے لیکن عملی طور پر اپنے جسم کو اپنی مرضی سے ڈھانپنے والی عورت کا مذاق بھی اڑتا ہے۔

یہ مختصر تاریخ بیان کرنے کا مقصد گزشتہ دو سال سے بپا ہونے والے متنازع عورت مارچ اور اس کے خلاف شدید عوامی ردعمل کو سمجھنے کی کوشش ہے۔ فلسفیانہ مو شگافیوں میں الجھنے اور دور دراز کی کوڑیاں لانے کے بجائے اس قضیے کو سادہ لفظوں میں سمجھنے کی کو شش کی جانی چاہیے۔ اگر ایک گروہ عورت کے حقوق کی طرف توجہ دلانے کے لیے سڑکوں پر نکلا ہے تو ان سے اختلاف کیسا؟ عورت مارچ کے کرتا دھرتاوں کی ذاتی پر تعیش زندگی اور غیر ملکی این جی اوز کی فنڈنگ کے الزام کے باوجود ان کے مقصد کی سچائی پر سوال کرنا درست نہیں گا۔ شدید رد عمل کی بنیادی وجہ شاید ان کے طرز عمل اور طریق کار سے اختلاف ہے۔ ’’میرا جسم، میری مرضی‘‘ جیسے مبہم نعروں (جو مخالف گروہ کی نظر میں مذہبی، اخلاقی اور معاشرتی اقدار کے منافی ہیں)، انڈر گارمنٹس کی نمائش، جنسی اشتعال دلانے والی تصاویر اور ’’ایام حیض میں مباشرت‘‘، ’’مشت زنی کے فوائد‘‘ اور ’’یار تیری ماں بڑی سیکسی ہے‘‘ جیسے موضوعات پر مضامین کی اشاعت سے مذکورہ گروہ نے لبرل آئیڈیالوجی کا ایک بھونڈا تصور پیش کیا ہے۔ یوں انھوں نے نہ صرف لبرل آئیڈیالوجی کو بلکہ عورت مارچ کے کاز کو بھی خود ہی نقصان پہنچایا ہے۔ ایسے میں اگر ہمارے کسی لکھاری دوست کا ذہن رسا ’’جنسی لبرل ازم‘‘ کی اصطلاح وضع کرنے پر مجبور ہو جائے تو اسے داد نہ دینا زیادتی ہو گی۔

دنیا کے تمام مذاہب اور مہذب معاشروں میں انسان تو کجا جانوروں کے بھی حقوق مقرر ہیں۔ حقوق کا تعین صرف جنس کی بنیاد پر نہیں کیا جا سکتا۔

دوم یہ کہ ’’حقوق‘‘ اور ’’برابری‘‘ کے تصورات پر بھی از سر نو غور کر لینا چاہیے۔ دنیا کے تمام مذاہب اور مہذب معاشروں میں انسان تو کجا جانوروں کے بھی حقوق مقرر ہیں۔ حقوق کا تعین صرف جنس کی بنیاد پر نہیں کیا جا سکتا۔ پیشہ، تعلیم، محنت، جسمانی یا ذہنی مشقت یا دوسرے خصائص کی بنیاد پر مختلف طبقات اور افراد کے حقوق متعین ہوتے ہیں۔ کسی ایک معاملے میں کسی فرد کے حقوق کم ہوتے ہیں تو کسی دوسری حیثیت میں وہی فرد زیادہ حقوق حاصل کرتا ہے۔ مثلاََ کسی فیکٹری میں کام کرنے والے ایک مزدور اور ایک انجینیئر کے بعض حقوق برابر نہیں ہو سکتے، مزدور زیادہ جسمانی مشقت کرتا ہے تو اس بنیاد پر یہ اعتراض نہیں اٹھایا جا سکتا کہ اس کی مراعات اور دیگر سہولیات کا حق انجینیئر سے زیادہ کیوں نہیں ہے؟جب کہ ’’برابری‘‘ میں اگر حقوق برابر کے ہوں گے تو پھر مشقت، ذمہ داری، کام اور وقت میں بھی برابر کا حصہ دار ہو نا پڑے گا۔

صنف اور طبقہ سے قطع نظر کسی ایک معاملے میں کسی فرد کے حقوق کم ہوتے ہیں تو کسی دوسری حیثیت میں وہی فرد زیادہ حقوق حاصل کرتا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ اگر مخالف نقطہء نظر کو دلیل کے ساتھ رد کیا جا سکتا ہے تو پھر طنز و تضحیک کا طوفان بد تمیزی کیوں؟ جب کسی گروہ یا طبقے کے قول و فعل میں تضاد واضح ہو جاتا ہے تو مخالفین کی طرف سے طنز و تضحیک کا رویہ جنم لیتا ہے۔ بد قسمتی سے اس وقت سوشل میڈیا پر بر سر پیکار دونوں گروہوں کے شدت پسند رویوں میں نام اور حلیے کے علاوہ سر مُو فرق نہیں ہے۔ مذہبی یا قدامت پسند طبقے کو ہمارے معاشرے میں تضحیک کا نشانہ اس لیے بنایا جاتا ہے کہ وہ ظاہری طور پر مذہب کی نمود و نمائش تو کرتا ہے لیکن عملی طور مذہبی اقدار کے نزدیک بھی نہیں پھٹکتا۔ یہی صورت حال دوسرے گروہ کی ہے۔ یہ کسی عورت کو دی جانے والی گالی پر تو طوفان اٹھا سکتا ہے لیکن کسی پیغمبر، رسول کی توہین کو آزادیء اظہار کا نام دے کر، ایسا کرنے والے کے حق میں نظمیں، قصیدے اور کالم لکھتا ہے۔ میرا جسم، میری مرضی کا نعرہ تو لگاتا ہے لیکن عملی طور پر اپنے جسم کو اپنی مرضی سے ڈھانپنے والی عورت کا مذاق بھی اڑاتا ہے۔

ہر معاشرے کی اپنی ترکیب اور اپنی حدود و قیود ہوتی ہیں، جب اس ترکیب کو توڑنے کی کوشش کی جاتی ہے تو معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔ اگر ہم اپنے معاشرے میں عورت کو عزت و احترام کے ساتھ تعلیم کے یکساں مواقع اور روزگار کی خود مختاری دینے میں کامیاب ہو جائیں تو کسی عورت مارچ کی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔

Facebook Comments Box
feimisimwome marcWomen's Daywomen's marcwomen's rightsاپنا کھانا خود گرم کرواپنے موزے خود تلاش کروآزادی نسواںحقوق مرداںخیبر پختونخواہ ڈاکٹرزڈاکٹرڈاکٹرزسوشل میڈیاشعبہ صحتشوہرعورتعورت مارچغیر ملکی ایجنڈامرد مارچمردوں کے حقوقمیڈیکلمیرا جسم میری مرضیمیرا زبان میری مرضییوم نسواں
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
بھارتی مصنفین کے دو ناول ——– نعیم الرحمٰن
next post
یوم خواتین : حقوق کی آواز، تنازعات کی نذر‎ —- راحیلہ سلطان

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.