تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتازہ ترینصنف/ جینڈر

مرد مارچ : کچھ حقائق —– رمشا کھوسہ

by دانش ڈیسک 02/03/2020
written by دانش ڈیسک 02/03/2020
87

میری یہ تحریر عورت کے خلاف نہیں، بس مغرب سے مرعوب کچھ خواتین کی طرف سے عورت کے نام پر اپنی روایات سے بغاوت کی ترغیب دینے کی بابت ہے۔ اس مہم کے مکمل طور پہ یکطرفہ ہونے پر اعتراض درج کروانا میرا مقصد ہے۔

ہمارے ملک میں جن عورتوں کو حقوق نہیں مل رہے ان کے لیے کی گئی سب کی جدوجہد میرے لیے قابل احترام ہے۔۔
مگر افسوس اس بات کا ہے کہ حقوق کی بات کو عورت تک محدود کیا گیا ہے۔ عورت کی مظلومیت کا ذکر اور نعرہ تو ہمارے ملک میں خاصا عروج پاچکا ہے۔ پاکستانی ڈراموں میں عورت کو اتنا تو مظلوم پیش کیا جاتا ہے کے جو عورتیں ظالم ہوتی ہیں وہ بھی خود کو مظلوم ترین سمجھنے لگتی ہیں۔
ایسے میں ہمارے مرد بیچارے جائیں تو کہاں جائیں۔ تاریخ گواہ رہے گی اس بات کی کہ ہمارے مظلوم مرد بھی ان ڈراموں کی وجہ سے ظالم ٹھہرے۔۔۔

یقین مانیں اس عورتوں کے معاشرے میں ہمارے اچھے مردوں کا جینا محال ہو چکا ہے۔۔
یہ مرد وہی مرد جو اپنے گھر مطلب اپنی ماں، بہن، بیٹی، بیوی بچوں کے لیے محنت کرتے دن دیکھتے ہیں نہ ہی رات۔۔ جی ہاں یہی مرد جو پورا دن تھکے ہارے گھر کو لوٹتے ہی لڑائی جھگڑوں کا سامنا کرتے ہیں، بیوی کی ہزاروں شکایتیں باقی گھر کے افراد کی الگ۔۔۔

جہاں طلاق کے بعد بچوں کو ماں کے پاس رہنے کا حق اگر باپ اپنے پاس رکھے تو ظالم ماں کے پاس کیوں نہیں رہنے دیتا اور وہی بیوی اگر بچے کو باپ سے ملنے نہ دے تو وہ ظالم کیوں نہیں؟ اگر ماں کے قدموں تلے جنت ہے تو باپ اس جنت کا دروازہ ہے لیکن یہاں کیوں چپ لگ جاتی ہے؟
طلاق دینے والا مرد ظالم طلاق مانگنے والی عورت بیچاری۔۔۔؟
مرد کا گریبان پکڑنے والی عورت بیچاری؟
لڑکے ان پڑھ یا کم پڑھی لکھی لڑکی کو بخوشی شریک حیات بنا لیں مگر زیادہ پڑھی لکھی لڑکیاں کم پڑھے لکھے لڑکے سے شادی کرنے کو عیب مانیں؟
عورت جتنی بد زبانی کرے مگر جب مرد کچھ کہے تو برا؟
عورت شک کرے تو ہنسی آتی ہے اور اگر وہی شک مرد عورت پر کرے تو افسوس کیوں؟
مرد اپنا کھانا خود گرم کرے اور بیوی اور ماں کی لڑائی ہو تو صلح بھی کروائے؟
بیٹی شادی کر کے جائے تو اسے کہو لڑکا تمہیں خوش رکھے گا یہ کبھی نہ کہنا کے لڑکے کو بھی خوش رکھنا۔۔۔۔
عورت شادی کر کے پرائی ہوجاتی ہے یہ رونا باقی یہ جو عورتیں شوہر کو اپنے گھر والوں سے پرایا کرتی ہیں اس کا رونا کون روئے گا؟

جہاں دیکھو عورت مارچ پر بات ہورہی ہے عورت مارچ پر پروگرام رکھے جارہے ہیں کیوں نہ اس بار مرد کے حقوق کے لیے بھی بولا جاۓ…
یہ جو دن بھر آزادی کے نعرے لگا کے تھکی ہاری اپنے گھر کو لوٹ جاتی ہیں جن کی حفاظت کو ان کے باپ بھائی شوہر بیٹے انکی ڈھال بنے رہتے ہیں۔
سوچو جب یہ تم سے آزادی کا مطالبہ کریں تو تمہارا محافظ کون ہوگا؟
تمہارے گرنے پر تمہیں دوبارہ کھڑا کرنے کو ہاتھ کون تھامے گا؟
مانا کے تم خود کو بہادر مانتی ہو مانا کے تم مرد کا مقابلہ کرنا چاہتی ہو مگر تم جتنی بھی مضبوط ہو لیکن تمہیں جینے کو مرد کے سہارے کی ضرورت ہے ایک عورت دماغی طور پر جتنی بھی مضبوط ہو مگر جسمانی طور پر مضبوط نہیں۔۔۔
دنیا میں حساس ترین ذات کون، عورت؟ مرد بیچارہ تو رو بھی نہیں سکتا کیوں؟
کیونکہ وہ مرد ہے۔۔۔ مرد ہے کوئی ڈھانچہ نہیں۔۔۔

جو مرد عورت کو جگہ دینے کو گھنٹوں کھڑا رہ سکتا ہے، جو مرد جتنا بھی کمزور ہو مگر اپنے گھر والوں کے لیے خود کو مضبوط ظاہر کرتا ہے، جو مرد آج بھی اپنے گھر والوں کو ہر سہولت آسائش دینے کو باہر ممالک میں کام کر رہا ہے، جو مرد تھکا ہارا گھر کو لوٹ کے رات کو بھی گھر کی فکروں میں سوتا ہے۔۔
اگر وہی مرد یہ کہے کے اپنا ذمہ خود اٹھاؤ تو میں یقین سے کہتی ہوں ہزاروں لوگ بول اٹھیں گے۔۔
مگر اپنا کھانا خود گرم کرو کا مطالبہ کرنے والی عورتوں کو تو جوں تک نہیں رینگتی۔۔۔

ہمارے مرد اتنا سب سہنے کے بعد بھی آزادی کا مطالبہ نہیں کرتے کیونکہ وہ اپنی ذمہ داریوں سے واقف ہیں ان کی یہ سوچ ہے کے آزادی کس سے مانگے اپنی ماں سے؟ اپنی بہن سے؟ اپنی بیوی بیٹی سے؟ جو ہماری ذمہ داریاں ہیں ہم ان سے رخ موڑ بھی لیں تو کیسے۔۔۔

ہمارے مرد ہمارے لیے ہزاروں قربانیاں دے رہے ہوتے ہیں یہ مرد ہمارے محافظ ہیں یہ ہمارا سہارا ہیں یہ ہماری ڈھال ہیں اگر ان کو ہماری ضرورت ہے تو ہمیں اسے بھی زیادہ ان کی ضرورت ہے۔۔۔
کیونکہ یہی مرد باپ، بھائی، شوہر، بیٹے کے روپ میں خوشحالی اور امن و امان کا روپ ہیں۔۔۔
اللّه ہمارے ان محافظوں کا سایہ ہم پر سلامت رکھیں آمین۔۔۔۔!!!

Facebook Comments Box
FeminismMen MarchMen RightsMenismWomen Marchحقوق مرداںشوہر کے حقوقعورت مارچمردمرد مارچ
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
جہان گم گشتہ: تاریخی دستاویز ——– محمد تیمور
next post
مردوں کے حقوق کا چارٹر ——- تزئین حسن

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.