تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
آپ بیتی، خاکہ، تذکرہتازہ ترینعلم و ادبعلمیکالممذہبی

ڈاکٹر فضل الرحمان: ایک مطالعہ —– ڈاکٹر غلام شبیر

by دانش ڈیسک 11/06/2020
written by دانش ڈیسک 11/06/2020
125

ڈاکٹر فضل الرحمان کو ہمسایہ جبریل امیں کہنا مبالغہ نہیں کسر نفسی ہے۔ ماضی اور عہدحاضر میں لکھی گئی تفاسیر سے لگتاہے کہ قرآن عہد رفتہ کی کتاب ہے۔ تاہم ڈاکٹر فضل الرحمان کے رشحات قلم سے نمو پانے والا قرآن کا عالمی تناظر، اس کی گہرائی اور گیرائی کے مطالعے سے یوں لگتا ہے جیسے قرآں عہد جدید کے مسائل کو ایڈریس کرنے کیلئےابھی نازل ہو رہا ہے۔ ڈاکٹر اعجاز شفیع گیلانی سے ملاقات میں ڈاکٹر فضل الرحمان پر بات ہورہی تھی، ان کے ہونٹوں پر بے ساختہ یہ الفاظ تیرنے لگے یاران کی Major Themes of Quran تو سراپا الہام ہے۔ بڑے بڑے اہل علم عموماً الٰہیاتی تصورات کو عقائد کا گورکھ دھندا بنا کر غیرمشروط ایمان کا تقاضا کرتے ہیں۔ یہ کتاب ایمان میں گندھا ہوا ثقہ علم ہے۔ یہاں علم اور ایمان راکب و مرکب کے بجائے ہمزاد و ہمرکاب ہیں۔ اخص الخاص بات یہ ہے کہ اس میں زمانہ وسطیٰ کی کسی تفسیرسے استفادہ یا حوالہ نہیں ملتا۔ اقبال نے جو مقدمہ فکراسلامی کی تشکیل جدید میں باندھا اور فکری ارتقا کی مجبوری میں نبھا نہ سکے اسے فضل الرحمان نے خوب نبھایا ہے، تاہم اس جانب پہلا قدم اقبال نے اٹھایا تھا اس لیے ان کا مقام ایک عظیم پیش روکی حیثیت سےہمیشہ مسلم رہے گا۔

اقبال نے جو مقدمہ فکراسلامی کی تشکیل جدید میں باندھا اور فکری ارتقا کی مجبوری میں نبھا نہ سکے اسے فضل الرحمان نے خوب نبھایا ہے

۲۰۰۶ میں راقم الحروف جب پی ایچ ڈی کیلئے عنوان کی تلاش میں سرگرداں تھا تو لگا کہ اقبال کے بعد اگر اسلام پر عرق ریزی کا کسی نے حق ادا کیا ہے تو وہ سید مودودی اور پرویز صاحب ہیں۔ سپروائزر کی تلاش بھی ایک بڑا مرحلہ تھا، کیونکہ جامعہ کراچی شعبہ اسلامی کے پروفیسرز یا تو مدارس کے فارغ التحصیل قدامت پسند تھے، یا پھر یورپ پلٹ لبرل سیکولرز جن کے نزدیک اسلام شوکیس کی چیز تھی یا پھر مغربی ما ڈل پر تراشا گیا بے روح مجسمہ۔ پاک اسٹڈی سینٹر کے بانی چیئرمین ڈاکٹر سید محمد حسین جعفری سے ملاقات رہی کسب فیض بھی کیا، تاہم معروف برنارڈلیوس کے شاگرد رشید ڈاکٹر جعفری کا زیادہ زور اسلام کی سیکولر تعبیر پر تھا۔ شعبہ فلسفہ میں ڈاکٹر منظور احمد، ڈاکٹر وہاب سوری اور ڈاکٹر بابر سے ہوتا ہوا ڈاکٹر سید محمد احمد سعید تک پہنچا۔ اکٹر سعید صاحب سے سینے کا سوزوگداز شیئر کیا۔ دو ہفتوں بعد سعید صاحب نے کہا میں آپ سے مطمئن ہوں۔

ڈاکٹر صاحب کی اس بات نے متاثر کیا کہ ہمارے درمیان حتمی فیصلہ میری رائے کے بجائے ہمیشہ دلیل کرے گی مجھے کہا اگر آپ کی دلیل صائب ہوگی تو مجھے اپنی رائے سے انحراف پر ہمیشہ تیار پائو گے اور یہ وعدہ مرحوم نے آخری سانس تک خوب نبھایا۔ ان کی عظمت کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے Major Themes of Quran کے کئی اہم نکات پہ مجھ طالب علم کی رائے سننے اور اتفاق کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کیا۔ تاہم ان کی علمی وجاہت کا یہ عالم تھا کہ میں ان کے پاس پی ایچ ڈی کے مقالے کیلئے عنوان مولانا مودودی اور غلام محمدپرویز صاحب کا تقابلی جائزہ لے کرپہنچا تھا۔ انہوں نے کہا میرے نزدیک ان حضرات کا علمی تشخص ایک صحافی ایسا ہے۔ پھر ہمارے باہم اتفاق سے مقالے کا موضوع

The Dynamics of Islamic Reforms in Sub-continent from 18th Century to Date with Special Reference to Shah Wali Allah, Sayyed Jamal al-Din Afghani and Dr. Fazlur Rahman

طے پایا۔ عشرت پارہ دل دردتمنا پانا، لذت ریش جگر غرق نمکداں ہونا کے مصداق یہ مطالعہ گہے دل کی عشرت کا سبب بنا، گہے دعوت مژگاں اور گہے جگر کے غرق نمکداں ہونے سے عبارت، مجموعی طور پر یہ سیر چراغاں تھی۔

اس تمہیدکا مقصدیہ باور کرانا ہے کہ مجھے بضرورت مقالہ فضل الرحمان کو نہایت باریک بینی سے سمجھنے کا موقع ملا۔ اور اس باب میں سپروائزر کے علاوہ جسٹس جاوید اقبال مرحوم، ڈاکٹر حسین محمد جعفری مرحوم، ڈاکٹر منظور احمد، پروفیسر شریف المجاہد مرحوم، ڈاکٹر قبلہ ایاز، ڈاکٹر شکیل اوج شہید اور ڈاکٹر اختر سعید صدیقی سمیت دیگر معروف علمی شخصیات سے گہرا ربط رہا۔

Related imageڈاکٹر فضل الرحمان کے والد مدرسہ دیوبند کے عظیم عالم اور مفتی ہند مفتی محمودالحسن کے رفیق کار تھے۔ جب مدرسہ دیوبند انگریزی زبان کو زبان کفر اور جدید تعلیم کو رزالت قراردے رہا تھا، فضل الرحمان لکھتے ہیں کہ ان کے والد گرامی اس وقت یہ سمجھتے تھے کہ مدرسے کا نصاب تعلیم عصری معنویت کھو چکا ہے اور ہمیں جدید علوم کیطرف رجوع کرنا پڑےگا ورنہ فکری پسماندگی ہمارا مقدر رہے گی۔ ڈاکٹر صاحب نے درس نظامی کا سلیبس والد گرامی سے پڑھا اور انہیں کی تحریک پر جدید علم کیطرف مائل ہوئے۔ جامعہ پنجاب سے عربی لٹریچر میں گولڈ میڈلسٹ کی حیثیت سے ایم اے کیا۔ ایم فل، پی ایچ ڈی کیلئے پرتول رہے تھے کہ غالباً ۱۹۵۱ میں مولانا مودودی سے ملاقات ہوئی۔ سید صاحب نے پوچھا کیا ارادے ہیں توکہا مزید پڑھنا چاہتا ہوں۔ مولانا نے فرمایا آئو جماعت کے پلیٹ فارم سے عملی کام کرو، جتنا پڑھو گے تمہارا ذہن شل ہوتا جائے گا۔ کہا بہرحال میرا ارادہ مزید مطالعے کا ہے۔ یہ واقعہ ڈاکٹر صاحب نے اپنی تصنیف Islam and Modernity میں بیان کیا ہے۔ جب آکسفورڈ یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی میں ایڈمشن ملا، سپروائزر نے پوچھا جامعہ الازہر کے بجائے آکسفورڈ کا رخ کیوں کیا ہے تو کہا میں اسلام کا تعریفی و توصیفی کے بجائے تنقیدی مطالعہ چاہتا ہوں۔ سپروائزرکے سینے میں گویا تیر کی طرح پیوست ہوگئے۔ Psychoanalysis of Avicenna پر مقالہ قلم بندکیا، ایرانی فلسفی ملا صدرہ پربھی عمدہ تصنیف تحریر کی۔ مگر ادق فلسفیانہ موشگافیوں اور چٹخاروں کے برعکس اسلام کی تعبیر نو کے عملی مسائل کو میدان تحقیق و تخلیق بنایا۔

Related imageڈاکٹر فضل الرحمان لکھتے ہیں کہ مسلم ممالک میں مدارس اور جدید نظام تعلیم کی دوئی کا حتمی نتیجہ دو مختلف قوموں کی پرداخت اور نشوونما ہے۔ اسلامی نظریاتی اساس پر قائم ہونے والی ریاست پاکستان نے اسلام کی توضیح و تعبیر کو پرائیویٹ سیکٹر یعنی مدارس کے سپرد کردیا۔ کیا چین اور روس جیسی نظریاتی ریاستیں یہ افورڈ کرسکتی ہیں کہ کمیونزم کی تعبیر و تشریع ریاست کے بجائےکوئی پرائیویٹ ادارہ کرے۔ ریاست پاکستان نے پہلے ایک دو عشروں میں ہی عالمی سطح کے ڈاکٹرز، انجینئرز اور سائنسدان پیدا کرنا شروع کردیئے تھے اہل حل و عقد اور ارباب سیاست کی نیت درست ہوتی تو عالمی سطح کے اسلامی اسکالرز پیدا کرنا اور جدید چیلنجز سے ہم آہنگ اسلامی ریاست اور اسلامی معاشرے کا قیام خارج ازامکان نہیں تھا۔ یہ خلا چھوڑا گیا تو اب خیر سے ایک لغت ہائے حجازی کا قاروں مذہبی مکتبہ فکر منصہ شہود پر ہے جو کہتا ہے پاکستان ایک قومی ریاست کے طور پر وجود میں آیا تھا اور اسے قومی اور عالمی سطح پر ہمنوا بھی میسر ہیں اور یہ تعبیر مقامی اور عالمی ارباب سیاست کو راس ہے تو یہ گروہ قبلہ ارباب ذوق اور کعبہ ارباب فن ہے۔ جسے شاہین کی طرح سوئے افلاک منزل کے اشارے تھے وہ موش اور ممولوں کیطرح زیر خاک آسودہ ہے۔ جسے افمن یمشی مکباًعلیٰ وجہ احدیٰ امن یمشی سویاً علیٰ صراط مستقیم کہہ کر واضح پیغام دیا گیا تھا کہ تم ہی بتائو زمین پر چہرہ ٹیک کرچلنے والا (کیچوا یعنی مادیت پرست) ہدایت پر ہے یا وہ جو شان کیساتھ صراط مستقیم کو شعار بناتا ہے، اسی نے مادی مفادات کیلئے دلق بوذر اور چادر زہرا کو بیچ کھانے کی قسم کھا رکھی ہے۔

فضل الرحمان کے نزدیک مبنی بر توحید ریاست اور معاشرت وہی ہے جہاں سماجی، معاشی اور سیاسی مساوات اور توازن قائم ہو۔ ایسا تبلیغ محض سے ممکن نہیں ہے اس کیلئے ریاستی پاوردرکارہوتی ہے

ڈاکٹر فضل الرحمان کے نزدیک اہل اسلام کا یہ المیہ ہے کہ اہل مدارس جہاں اسلام کی مبادیات کا علم رکھتے ہیں مگر تاریخی شعور سے محروم ہیں وہاں جدید تعلیم یافتہ تاریخی شعور رکھتے ہیں مگر اسلام کی مبادیات کا علم نہیں رکھتے۔ اس لیے جدید تعلیم یافتہ جب مستشرقین کی تحریروں سے اسلام کو سمجھتے ہیں تو اسلام سے بیگانگی کا ایک رویہ جو مستشرقین کیلئے فطری امر ہے، ان جدید سیکولر نظام تعلیم کے پروردہ اسلامیان کی تحریر و تقریر میں غیر محسوس انداز میں در آتا ہے۔

فضل الرحمان کے نزدیک مبنی بر توحید ریاست اور معاشرت وہی ہے جہاں سماجی، معاشی اور سیاسی مساوات اور توازن قائم ہو۔ ایسا تبلیغ محض سے ممکن نہیں ہے اس کیلئے ریاستی پاور درکار ہوتی ہے، ایسا جب مکہ میں ممکن الحصول نظر نہ آیا تو ہجرت مدینہ کی راہ اختیار کی گئی اور یہ مکہ کو ہمیشہ کیلئے خیرباد کہنے کے اذن کے برعکس مدینہ میں پاور مجتمع کرکے واپس مکہ کو مسخر کرنے اور تاحد امکاں مہلت زیست کے مطابق زماں و مکاں اور علت کی زنجیروں کو عملی طور پر عبور کرتے ہوئے مبنی برتوحید ریاست اور معاشرت قائم کرنے کا جاں گسل معرکہ تھا۔ ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں قل یااھللکتاب تعالو الیٰ کلمۃ سوا بیننا وبینکم میں مذاہب ابراہیمی یعنی یہودیوں عیسائیوں اور عالم اسلام کو جو کم و بیش ملتا جلتا تصورحیات رکھتے ہیں انہیں دعوت دی گئی ہے کہ آئو اس پلیٹ فارم سے کہ ہم خدائے عزوجل سوا کسی کی عبادت اور اطاعت نہیں کرتے، مل کر روئے زمین پر ایک اخلاقی سماجی ورلڈ آرڈر Ethical social egalitarian moral order کے قیام کیلئے متفقہ کوشش کرتے ہیں۔ یہ کوئی اEcumenism طرز کی دعوت نہیں ہے جس میں بین المذاہب محض جزبہ خیرسگالی کو salvation کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے اور یاد رہے یہ بھی محض عیسائیت پر کاربند فرقوں کے مابین ہوتا ہے۔ اسلام میں سالویشن کے برعکس فلاح و خسر کا تصور ہے۔

طوالت کا خوف دامن گیر ہے، انشا اللہ قارئین کے سامنے ڈاکٹر صاحب کی فکر کے تعارف پہ مبنی تحاریر پیش کرتے رہیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: ڈاکٹر فضل الرحمان: پاسبان روایت و اجتہاد --------- ڈاکٹر غلام شبیر
Facebook Comments Box
پروفیسر شریف المجاہد مرحومجسٹس جاوید اقبال مرحومڈاکٹر حسین محمد جعفری مرحومڈاکٹر شکیل اوج شہیدڈاکٹر فضل الرحمانڈاکٹر قبلہ ایازڈاکٹر منظور احمد
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
سماجی رابطے اور سماجی ضابطے —– سعدیہ بشیر
next post
افتخار عارف سے سماجی اور ادبی موضوعات پر “دانش” کا ایک مکالمہ

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.