تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیصنف/ جینڈرکالم

تفریق مابین مرد و زَن ——— اعزاز احمد کیانی

by دانش ڈیسک 23/02/2020
written by دانش ڈیسک 23/02/2020
91

نہیں مطلب کسی پہ طنز کرنا
ہنسی میں مسکرایا جا رہا ہے

زیر نظر تحریر کے تناظر میں مندرجہ بالا شعر سے مراد یہ ہے یہ تحریر کسی فردِ واحد پر تنقید نہیں ہے بلکہ میرے پیش نظر ایک بنیادی اصول اور ایک غلطی کی وضاحت ہے. ذاتیات شائد وہ واحد موضوع ہے جو میرا موضوع نہیں ہے۔

میرے نزدیک کسی بھی مسئلہ و معاملہ پر گفتگو سے قبل بنیادی اصول سمجھ لینا ازحد ضروری ہے. کسی بھی مسئلہ و معاملہ کے متعلق فیصلہ کرنے , کوئی رائے قائم کرنے یا کوئی حکم لگانے کی تین ہی بنیادیں ہو سکتی ہیں. اول مذہب, دوم اخلاقیات اور سوم قوانین. مذاہب ,اخلاقیات اور قوانین میں جنس کی کوئی تفاوت نہیں ہوتی ہے. مرد اور عورت کے لیے نہ الگ الگ مذاہب ہیں نہ الگ الگ قوانین اور نہ ہی الگ الگ اخلاقی اصول ہوتے ہیں.

خدا اور خدا کا مذہب عورت اور مرد کے مابین جنس کی بنیاد پر کوئی تفاوت روا نہیں رکھتا. خدا کے جتنے بھی احکام ہیں ان کی اطاعت اور انکا اطلاق مرو و عورت پر یکساں طور پر ہوتاہے. حسنات و صحیحات کے تمام معیارات اور گناہ و بدی کے تمام اعلانات مرد و عورت کے لیے ایک ہی ہیں. خدا کے ہاں ایک ہی میزان ہے جس پر مرد و عورت دونوں تولے جائیں اور اسی ایک میزانِ و عدل و انصاف پر ایک ہی اصول کے تحت مرد و عورت دونوں کے لیے ایک ہی جنت و جہنم کی بشارت و وعید ہے.

ترجمہ:
اور جو کوئی نیک عمل کرے گا خواہ وہ مرد ہو یا عورت اور ہو وہ صاحب ایمان تو یہ وہ لوگ ہیں جو جنت میں داخل ہوں گے اور ان کی تل کے برابر بھی کوئی حق تلفی نہیں کی جائے گی. نساء 124

ترجمہ:
اور چور خواہ مرد ہو یا عورت ان دونوں کے ہاتھ کاٹ دو یہ بدلہ ہے ان کے کرتوت کا اور عبرت ناک سزا ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ زبردست ہے حکمت والا ہے. المائدہ 138

مذہب کی طرح اخلاقی اصولوں کی ہابندی بھی مرد و عورت پر یکساں عائد ہوتی ہے. اخلاقی اصول مردانہ و زنانہ نہیں بلکہ انسانی ہوتے ہیں. کوئی بھی جرم, گناہ, ظلم اور برائی اپنے آپ میں مکمل ہوتی ہے اور قابل نفرت و قابل مذمت ہوتی ہے اسے اپنی تکمیل و ثبوت کے لیے نہ کسی خارجی و مصنوعی سہارے کی احتیاج ہوتی ہے اور نہ جنس کی تخصیص کی ضرورت ہوتی ہے بلکہ وہ فی نفسہہ مذموم بالذات ہوتی ہے.

مذہب و اخلاقیات کی طرح قوانین بھی انسانی ہوتے ہیں. قانون مرد و عورت کی تفریق سے یکساں لاعلم ہوتا ہے اور یہی قانونی مساوات کا تصور ہے. جب کہا جاتا ہے کہ قانون اندھا ہوتا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ قانون کسی ظاہری آنکھ سے محروم ہے اور اس میں دیکھنے کی صلاحیت نہیں ہے بلکہ اس کا ایک ہی مفہوم ہے قانون انسانی تقسیم و طبقات سے بالاتر اطلاق چاہتا ہے اور یہی دنیا کی مسلمہ حقیقت ہے.

مذاہب اخلاقی اصول اور قوانین ہمیشہ جنس سے بالاتر ہوتے ہیں اور انہیں جنس سے بالاتر ہی ہونا چاہئیے. کسی عورت کو مجرد اس بنیاد پر چھوٹ نہیں دی جا سکتی کہ وہ عورت ہے اور نہ کسی مرد کو اس بنیاد پر اضافی سزا دی جا سکتی ہے کہ وہ مرد ہے. نہ عورت کی نزاکت کی بنیاد پر اپنا زبان و قلم روکا جا سکتا ہے اور مرد کے قَوام ہونے کی بنیاد پر اپنی زبان اور اپنا قلم روکا جا سکتا ہے بلکہ بے لاگ و بے باک تبصرہ بجاٰے خود اخلاقیات کا تقاضا ہے

وہ لوگ غلطی اور سنگین غلطی پر ہیں جو معاملات کو مرد و عورت میں تقسیم کر کے یا مرد و عورت کے ساتھ مخصوص کر کے دیکھتے ہیں. اقبال نے اگرچہ کسی اور پس منظر میں کہا تھا کہ:

تمیز بندہ و آقا فسادِ آدمیت ہے

میرے نزدیک جس طرح بندہ و آقا کی تمیز مہلک اور فسادِ آدمیت ہے بعینہ تمیز و مرد و عورت بھی مہلک ہے. میں یہ سمجھنے سے قاصر اور یکسر قاصر ہوں کہ آخر اس طرح کے معاملات کو کیسے مرد و عورت میں تقسیم کیا جا سکتا ہے اور کیسے مرد و عورت کے لیے جدا جدا معیارات متعین کیے جا سکتے ہیں.
میرے نزدیک ہمیں اس روایتی تقسیم اور مرد و عورت کے خوف سے بالاتر ہو کر فیصلہ و تبصرہ کرنا چاہئیے اور اسی میں انسانیت کی بقا ہے.

Facebook Comments Box
islam and womenmale and femalemale vs femalemen and womenmen vs womenwomenwomen rightsاسلام اور خواتینحقوق نسواںخاتونعورتعورتوں کے حقوقمرد و زنویمن رائٹس
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
شبیر ! کیمرہ بند کرو —– رقیہ اکبر چوہدری
next post
زیرِ آسماں: کتابِ زندگی (شاہد صدیقی کی نئی کتاب) —- قاسم یعقوب

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.