تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
شعور کی انارکی: یہ سب ہوا کیسے؟ —...
شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...
ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری
شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول
ابریشم از سلمان باسط — ڈاکٹر بی بی...
محمد حفیظ خان کی فکشن نگاری —  ڈاکٹر...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیکالم

فوج کے متبادل اور سیاست دانوں کے راگ —— خرم شہزاد

by دانش ڈیسک 31/01/2020
written by دانش ڈیسک 31/01/2020
92

جنرل عاصم سلیم باجوہ جب آئی ایس پی آر چھوڑ کر جا رہے تھے یا دوسرے لفظوں میں جب ان کا آئی ایس پی آر سے تبادلہ ہوا تو بہت سوں کا خیال تھا کہ اب یہ ادارہ اپنا وہ عروج قائم نہیں رکھ سکے گا، جس تک باجوہ صاحب اسے پہنچا گئے ہیں۔ ایک لیفٹنینٹ کرنل کی سربراہی میں چلنے والے پاک فوج کے تعلقات عامہ کا شعبہ وقت کے ساتھ ساتھ ترقی کرتا چلا گیا اور میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ پہلے ڈی جی تھے جو اس ادارے کے تھری سٹار کمانڈر بنے۔ انہوں نے ایک یونٹ جیسے ادارے کو پوری کور میں بدل دیا تھا جس نے فوج کے موقف، خیالات اور رجحانات کو دوست دشمن سب کے سامنے پیش کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے نظریاتی دفاع میں اپنا کردار احسن طریقے سے نبھایا۔ میجر جنرل آصف غفور کی پہلی نیور کانفرنس پر جہاں یقینا بہت سے لوگوں کے دل ٹوٹے وہیں بہت سے صحافیوں اور وغیرہ وغیرہ کے چہرے پر مسکراہٹ بھی آئی ہو گی کہ یہ ٹھنڈے مزاج اور دھیمے لہجے میں بولنے والا شخص اُن کے سامنے کیا ٹک پائے گا یاں کب اور کہاں تک ٹک پائے گا۔ میجر جنرل آصف غفور نے بھی کسی کی غلط فہمی دور کرنے کی کوئی کوشش نہ کی لیکن اپنی قیادت اور کام کو وقت کے ساتھ ثابت کیا جس کی وجہ سے وہ بڑے سے بڑا پیغام بھی اپنے ٹھنڈے اور دھیمے لہجے میں دے دیتے تھے کہ سننے اور سمجھنے والوں کو اے سی کمروں میں پسینہ آنے لگ جاتا تھا۔ میڈیا کو جس خوبصورت انداز میں آصف غفور صاحب نے ہینڈل کیا وہ یقینا مستقبل والوں کے لیے ایک سبق رکھتا ہے، اس کے ساتھ ساتھ ان کی سوشل میڈیا ڈیلنگ نے بہت سی افواہوں اور الزامات کو بے موت مرنے پر مجبور کر دیا۔ بھارت میں ہونے والے حالیہ الیکشن اور پھر در اندازیوں میں بھارتی فضائیہ کی ذلت کو جس بہترین طریقے سے انہوں نے دنیا کے سامنے پیش کیا اور جس طور پر پاکستان اور پاکستا نی فوج کی نمائندگی کی، کہنا چاہئے کہ انہوں نے حق ادا کر دیا۔ ہم بطور پاکستانی ان کے کام کی جس قدر بھی تعریف کریں وہ کم ہو گی لیکن ان کے کام نے دوست دشمن سب کو تعریف پر مجبور کر دیا۔ ایسے میں راوی جب چین ہی چین اور سب اچھا لکھ رہا تھا کہ خبر آئی میجر جنرل آصف غفور کا اوکاڑہ تبادلہ کر دیا گیا ہے۔ چند دن بعد وہ اوکاڑہ میں ڈیویژن کمانڈ کر رہے تھے اور بہت سووں کی حیرت ابھی تک قائم ہے کہ یہ کیسے ہو گیا۔

میجر جنرل آصف غفور سیاست دانوں کے بہت سے سوالوں کا جواب ہے۔ پاکستان میں سیاست دانوں کا ہمیشہ سے یہ شکوہ رہا ہے کہ فوج انہیں کام نہیں کرنے دیتی اور ان کے کاموں میں بے جا مداخلت کرتی ہے۔ اپنے فیصلے نافذ کروانے کی کوشش کرتی ہے تو کہیں ان سے پوچھے بنا ہی کچھ فیصلے کر دئیے جاتے ہیں جن کے بارے انہیں بتا نا بھی پسند نہیں کیا جاتا۔ فوج پر تنقید کرنے کے لیے اکثر سیاست دان براہ راست تو کچھ نہیں کہتے لیکن اسٹیبلشمنٹ کے نام کا سہارا ضرورلیتے ہیں۔ عام عوام اپنی سیاسی وابستگی کی وجہ سے اپنے محبوب سیاست دانوں کے جملہ ارشادات عالیہ رٹے طوطے کی طرح دہراتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ جمہوریت کا حسن یہی ہے کہ وہ اظہار کی آزادی کا اچھا استعمال کر رہے ہیں۔ اسی جمہوریت کے نام لیوا جب بھی حکومت میں آتے ہیں، چاہیے وہ کسی بھی پارٹی سے ہوں یا کسی بھی مینڈیٹ کو لے کر منتخب ہوئے ہوں، فوج کو اپنے تابع کرنے کی کوئی نہ کوئی کوشش ضرور کرتے ہیں، حالانکہ پوری فوج پہلے ہی وزیر دفاع کے ماتحت ایک سیکرٹری دفاع کے زیر نگیں ہوتی ہے لیکن نالیاں بنانے کے وعدوں پر اقتدار میں آنے والوں کو اس بات کی کیا خبر۔

فوج ایک ادارہ ہے جو ایک طے شدہ نظام کے تحت چلتا ہے۔ جہاں کوئی بھلے کتنا ہی زبردست یونٹ کمانڈر ہو، جتنا مرضی لائق فائق ڈیو کمانڈر ہو یا جتنی مرضی شہرت کا مالک ڈی جی آئی ایس پی آر ہو، طے شدہ طریقہ کار کو نہیں بدل سکتا۔ پوسٹنگ فوج میں ایک عمومی چیز شمار کی جاتی ہے اور فوجی زندگی کا ایک باقاعدہ حصہ ہوتی ہے جس کی وجہ سے ہر فوج اس بیماری سے پاک ہوتا ہے کہ وہ نظام کے لیے ناممکن کی حد تک اہم ہے اور اس کے سوا کام نہیں چلے گا، عمارات گر جائیں گی اور لوگ صرف انیٹیں اٹھانے کا کام کرتے نظر آئیں گے۔ آپ گزشتہ دس پندرہ سالوں میں جتنے فوجیوں کے نام یاد کر سکتے ہیں، انہیں سوچیں تو یہی پتہ چلتا ہے کہ ان کے تبادلے یا رخصت کے بعد کوئی خلا پیدا نہیں ہوا بلکہ ہر آنے والے شخص نے پہلے سے زیادہ بہتر انداز میں کام کیا اور اپنے سے پہلے والوں کے کام میں اپنے ہنر سے نکھار پیدا کیا۔ کسی بھی عہدیدار یا سربراہ کے جانے یا آنے سے کبھی فوج کا ادارہ خطرہ میں نہیں آیا نہ ہی ایسا کوئی موقف سامنے آیا کہ فلاں شخص کے بغیر کام نہیں چلے گا یا سرحدیں خطرے میں ہیں۔

سوال یہ ہے کہ فوج پر ہر دم سوال اٹھانے والے اور فوج کو اپنے لیے خطرہ قرار دینے والے سیاست دانوں کی فوج میں کوئی ہے جو فوج جیسی ایک بھی مثال قائم کرتے ہوئے اپنی مثال دے سکے۔ ہر سیاست دان اپنی پوری کرپشن کے ساتھ زندگی کی آخری سانس تک کرسی سے چمٹ کر رہنے کا خواہش مند ہوتا ہے۔ جہاں ملے ہوئے اقتدار سے الگ ہونے کی سوچ ہی راتوں کی نیند حرام کر دیتی ہے اور اپنے اقتدار کو جمہوریت کا نام دیتے ہوئے ہر وقت جمہوریت خطرے میں ہے کا راگ الاپتے رہتے ہیں۔ کیا سیاست دانوں کے پاس ان کے کسی بھی شخص کا متبادل موجود ہے ؟ کیا سیاست دانوں میں یہ ظرف، ہمت اور برداشت ہے کہ انہیں اگر تبدیل کر دیا جائے بھلے ان کے پارٹی سربراہ کی طرف سے ہی ایسا کوئی فیصلہ ہو تو وہ خاموشی سے اسے برداشت کر لیں؟ کیا سیاست دان مائیک لائٹس اور کیمرے کی چکا چوند چھوڑ کر کسی گمنام سربراہی پر خوشی سی راضی ہو جاتے ہیں؟ کیا عوام کی خدمت صرف اقتدار میں رہ کر ہی کی جا سکتی ہے اورکروڑوں اربوں کی ذاتی جائیداد سے کسی غریب کا کوئی مسئلہ حل کرنا نا ممکن ہوتا ہے؟ فوج میں ایک سپاہی سے لے کر سربراہ تک کا ذاتی کچھ نہیں ہوتا، کوئی ڈی ڈی آئی ایس پی آر اپنی تعیناتی کی وجہ سے کسی ٹی وی چینل کا لائسنس لینے کی کوشش نہیں کرتا، آرمی ایوی ایشن والے چار جہازوں کے ساتھ ایک اپنے لیے آرڈر نہیں کرتے، نہ کیو ایم جی والے اپنے چاچے مامے کو زمین الاٹ کرنے لگ جاتے ہیں لیکن اس کردار کا مظاہرہ کیا سیاست دان اپنے اقتدار میں کر سکتے ہیںیاں کبھی انہوں نے ایسے کسی کردار کا مظاہر کرنے کی کوئی کوشش کی ہے؟ بات صرف اتنی سی ہے کہ دوسروں پر الزام لگا کر کوئی خود کو پاک باز ثابت نہیں کر سکتا، کردار کا مظاہرہ کرنا ضروری ہوتا ہے۔ جب آپ کا کردار ہی نہیں ہے تو پھر آپ کو اپنے ماتحتوں پر الزام لگانے پڑتے ہیں کہ وہ آپ کو کام نہیں کرنے دے رہے۔ فوج کے ہر عہدے پر درجنوں لوگ آئے اور چلے گئے لیکن سیاست دان خود اور ان کا رونا اپنی جگہ قائم ہے تو سوچیں کہ پھر غلط کون ہے؟

Facebook Comments Box
اسٹیبلشمنٹفوجفوج اور سیاستدان
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
لٹریچر میں انقلاب: ایک مکالمہ —- واشنگٹن ارونگ
next post
انور عباسی کی کتاب ’’بینک انٹرسٹ، منافع یا ربوٰ‘‘ —- نعیم الرحمٰن کا تبصرہ

Related Posts

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول

11/07/2026

فکنگ بِچ —– افسانہ

27/03/2026

07/12/2025

10/11/2025

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • غزل گائیکی اور آج کا پاکستان —- اقدس علی ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.