تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیسیاسیکالممذہبی

”اسلامی فلاحی شہر“ اور دیگر کہانیاں — فرحان کامرانی

by دانش ڈیسک 25/01/2020
written by دانش ڈیسک 25/01/2020
88

جنرل پرویز مشرف نے جب 2000ء میں شہری حکومت کا اجراء کیا تو متحدہ قومی موومنٹ نے شہری حکومت کے انتخابات کا بائیکاٹ کر دیا۔ اس کیفیت سے جماعت اسلامی کے بھاگ کھل گئے یعنی بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا کے مصداق جماعت اسلامی کو شہر کراچی کی باگ ڈور مل گئی۔ تب نومنتخب ناظم کراچی نعمت اللہ خان صاحب نے ایک نادر روزگار بیان دیا، آپ نے ارشاد فرمایا۔ ”ہم کراچی کو اسلامی فلاحی شہر بنا دیں گے۔“ معلوم نہیں وہ کہنا کیا چاہ رہے تھے اور کیوں یہ کہہ رہے تھے، مگر اس کے بعد جو سال انہیں کراچی کی نظامت کے میسر آئے اس میں وہ سڑکیں اور گلیاں بناتے رہے اور اس کے علاوہ انہوں نے شہر کے تقریباً 80 فیصد درخت کاٹ ڈالے۔ راقم الحروف 2003ء میں جامعہ کراچی میں داخل ہوا اور بس پر جامعہ جایا کرتا تھا۔ راقم کو یاد ہے کہ کیسے UBL اسپورٹس کمپلیکس کے آس پاس درختوں کا صفایا کیا گیا۔ بہرحال نعمت اللہ خان تو نظامت سے آخر کار اتر ہی گئے مگر یہ شہر اسلامی فلاحی نہ بن سکا۔ معلوم نہیں انہیں یہ خیال کیسے تھا کہ ایک شہر کی نظامت ان کو مل گئی تو وہ اسے اسلامی و فلاحی بنا دیں گے؟ اور انہوں نے اپنے منصب نظامت کے لئے اپنے ذہن میں اس قدر مبالغہ کیوں کر رکھا تھا؟

مگر یہ عجیب و غریب سوچ محض یہیں پر ختم نہیں ہوتی۔ 2002ء کے عام انتخابات میں ہمارے ادارے مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل پر بالکل اسی طرح مہربان ہو گئے جیسے اب تحریک انصاف پر ہیں اور رکابی میں رکھ کر اس وقت کا صوبہ سرحد انہیں دے دیا تا کہ امریکا اور اتحادیوں پر خوف چھا جائے کہ اگر مشرف کی حکومت گئی تو ملّا حاکم بن جائیں گے۔ خیر اس ”بابرکت“ عہد میں جو 2002ء سے شروع ہوا اور 2008ء تک جاری رہا، صوبہ سرحد میں اور اس کے باہر بھی ”اسلامی فلاحی صوبہ“ جیسے دعوے سننے میں آئے، تب ایک ”حسبہ بل“ بھی صوبائی اسمبلی سے پاس کرایا گیا۔ اس ”بابرکت“ دور میں راقم الحروف کو ایک مرتبہ صوبہ سرحد جانے کا اتفاق ہوا تو معلوم ہوا کہ اسلامی فلاحی صوبے میں پاکستان کے کسی دوسرے علاقے سے کوئی فرق نہ تھا۔

راقم الحروف اکثر سوچتا ہے کہ یہ اسلامی فلاحی شہر /صوبہ بنانے کے دعوے حقیقی طور پر معنی کیا رکھتے ہیں؟ راقم الحروف کو ایک بار 2008ء میں جامعہ پنجاب جانے کا اتفاق ہوا تھا۔ تب معلوم ہوا کہ دراصل جب یہ جماعتی، ’اسلامی فلاح‘ لفظ کا استعمال کرتے ہیں تو اِس سے مطلب ہوتا کیا ہے۔ جامعہ پنجاب میں ایک بھیانک خوف کی فضا تھی۔ راقم الحروف اپنی بہن کے ساتھ جامعہ پنجاب گھومنے گیا تھا مگر اُس کو اور اُس کی بہن کو ایک سے زائد مرتبہ لوگوں نے یہ بتایا کہ وہ ایک ساتھ نہ چلیں اس لئے کہ اسلامی جمعیت طلبہ نے اِس چیز کی اجازت نہیں دے رکھی۔

چلئے وہ طلبہ و طالبات کا اخلاق بچا رہے ہیں، ہم کو کیا ضرورت ہے اعتراض کرنے کی؟ مگر ہمارا سوال یہ ہے کہ کراچی اور صوبہ سرحد کے اسلامی فلاحی دور میں تو یہ بھی نہ ہوا؟ پھر اسلام کا اطلاق کسی بڑی صورت میں کیا ہوتا، الٹا نعمت اللہ خان نے تو کراچی کے سارے درخت ہی کاٹ کر کراچی کو گنجا کر دیا، اسلام تو درخت لگانے کو بڑی نیکی قرار دیتا ہے ناں؟

دراصل ہمارے جمہوریت پرست جدید اسلامی بھائی جو بیلٹ باکس پر بھی توحید و رسالت کے برابر ایمان رکھتے ہیں، اس بات سے بے بہرہ ہیں کہ جمہوری سسٹم اپنی نہاد میں سیکولر ہوتا ہے اور وہ خود ہی اسلام کے نفاذ کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اس نظام کے اندر رہتے ہوئے کبھی بھی نفاذ اسلام نہیں ہو سکتا۔ پھر سرمایہ داری نظام پر بھی ہمارے جدید اسلام پسند بڑا شدید ایمان رکھتے ہیں، مگر اس نظام میں کہ جس کی بنیاد ہی سود پر ہے نہ جانے اسلام کا نفاذ کیسے ممکن ہے؟ پھر ہمارے کچھ مقبول علما سود کے حیلے تراشنے لگتے ہیں اور نت نئی تاویلات سے سودی اور سیکولر نظام کی اسلام میں گنجائش پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پھر لے دے کر اسلام صرف ایک لیبل ہی رہ جاتا ہے۔ اسی لئے ہمارے شہر کے ایک سابق ناظم بڑے زوروں سے کہتے پائے گئے تھے کہ وہ کراچی کو ایک اسلامی فلاحی شہر بنا دیں گے۔ شاید اُن کا مطلب یہ تھا کہ چند چورنگیوں کے نام انہوں نے اسلامی رکھ دیے تھے یا چند مقامات پر بسم اللہ اور آیات لکھوائی تھیں۔ نظر یہ آتا ہے کہ ہمارے ظاہر پرست مولوی اگر کبھی اس وطن میں اقتدار میں بھی آگئے تو کچھ اسی قسم کا اسلام یہاں نافذ ہو سکے گا اس کے علاوہ کچھ نہیں۔

Facebook Comments Box
Islamic PakistanJamat e IslamiJIMMANaimatullah KhanNazim Karachiاسلامی انقلاباسلامی پاکستاناسلامی فلاحی ریاستایم ایم اےجماعت اسلامیکراچیناظم کراچینعمت اللہ خان
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
پھیلتی سیاہی ——– عاطف ملک
next post
پچھل پیری کا ہفتہ والا اجلاس برائے فروغ سوڈو فیمنزم — محمود فیاض

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.