تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
آپ بیتی، خاکہ، تذکرہتازہ ترینتنقیدعلم و ادب

مغرب کو مشرق کا چیلنج: محمد حسن عسکری — وارث میر کی تحریر

by دانش ڈیسک 18/01/2020
written by دانش ڈیسک 18/01/2020
331

مغرب کو مشرق کا چیلنج: محمد حسن عسکری
مشرقی علوم کے خلاف مغرب کی سازش آج بھی جاری ہے۔


محمد حسن عسکری (مرحوم) کو سمجھ کر پڑھنا دِل گُردے کا کام ہے تو ان پر لکھنا مشکل تر مرحلہ ہے۔ عسکری جیسی عالی دماغ اور ذہین فطین شخصیت سے انصاف کرنے کے لیے ضروری ہے کہ لکھنے والے کی نظر میں ان کی وہ تمام تحریریں ہوں جو بین الاقوامی شہرت کے حامل فرانسیسی اور انگریزی رسائل و جرائد میں بکھری پڑی ہیں۔ ان کے دوستوں اور شاگردوں نے ان کے متعلق بہت کچھ کہا ہے لیکن ان باتوں کا تعلق عسکری کے تنقیدی ادب کے اس دور سے ہے جب ان کی کتابیں “انسان اور آدمی” اور بعد ازاں “ستارہ یا بادباں” شائع ہوئیں۔ ان کی زندگی کے آخری برسوں کی علمی مصروفیات اور خاص طور پر متصوفانہ مشاغل ابھی تک پردۂ اخفاء میں ہیں۔ وفات سے پیشتر وہ مفتی محمد شفیع کی تفسیر قرآن کا انگریزی میں ترجمہ کر رہے تھے اور تصوف کے موضوعات پر ان کے چند مضامین اعلیٰ پائے کے دینی رسائل میں چھپے جو ادب کے عام قارئین کی نظروں سے اوجھل رہے۔ خلوت نشینی کے انہی سالوں میں ان کے چند مضامین کراچی کے ایک آدھ ادبی رسالے میں بھی نظر آئے۔ بیشتر وقت وہ مسائل تصوف کی گتھیاں سلجھانے میں مگن رہے۔

محمد حسن عسکری نے جوانی میں لکھا تھا ’’فنکار اگر اپنے کام کے فائدے گنوانے لگے تو وہ تخلیق نہیں کر سکتا‘‘۔

حسن عسکری پڑھ کر لکھنے، اور کتاب مرتب کرنے اور پھر اس کی اشاعت کا اہتمام کر کے شہرت، ناموری اور دولت حاصل کرنے کی منزلوں سے بہت آگے جا چکے تھے۔ انہیں ادب کی تاریخ میں اپنا نام درج کرانے کا کوئی شوق نہیں تھا۔ وہ تجسس اور جستجو کی دنیا کے ایسے درویش تھے جو ایک مقام پر نہیں ٹکتے، مسلسل سفر میں رہتے ہیں اور دنیوی زندگی کو غیر ضروری طور پر بنانے اور سنوارنے سے بے نیاز رہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے، تخلیقی سرمستی ہی ان کے سفرکا ما حاصل ہوتا ہے۔ ان کا نظریہ تھا کہ سچا فنکار ستارے ڈھونڈنے کی کوشش نہیں کرتا ۔ وہ تو بس اپنی خودی کی کوٹھری سے نکل پڑتا ہے چاہے اس شوق کا حشر کچھ ہی کیوں نہ ہو۔ عسکری نے اپنی ادبی زندگی کے آغاز میں فرائڈ کے فلسفے اور جیمز جوائس کی ٹکنیک کے زیر اثر افسانے لکھے۔ لیکن بالآخر فرائڈ کے فلسفے سے بھی انہوں نے یہ آگہی حاصل کی کہ زندگی کا سچا مفہوم یہی ہے کہ انسان اپنی مجبوری کا شعور حاصل کرے اور اپنی تخلیقی قوتوں پر اعتماد کر کے، اس بار امانت کو اٹھا لے اور یہ کہ انسانی زندگی میں اصلی اور حقیقی تبدیلی وہی ہوتی ہے جو اندر سے واقع ہو۔ عسکری، خیال آرائی اور نکتہ آفرینی کا اچانک حیران کن مظاہرہ کرتے۔ ان کی حمایت اور مخالفت میں ادبی پہلوان اکھاڑے میں اترتے۔ زبردست معرکے پڑتے اور مڑ کر دیکھنے پر معلوم ہوتا کہ عسکری کسی نئی منزل کو گامزن ہو چکے ہیں۔ انہوں نے ”انسان“ کے اندر سے ”آدمی“ تلاش کرنے کی کوشش کی اور روس کے زیر اثر ”انسان “ اور ”انسانیت“ جیسے الفاظ کے سیاسی استعمال پر معترض ہوئے۔ اسے ترقی پسندی پر حملہ تصور کیا گیا اور عسکری کو ”داخلیت زدہ“ اور ”رجعت پسند“ قرار دیتے ہوئے، ان پر چاروں طرف سے یورش شروع ہو گئی۔ یہ یورش ابھی جاری تھی کہ آپ ”امریکی انسان“ پر حملہ آور ہو گئے کہ روس میں ہی نہیں، جمہوری دنیا میں حکمران طبقہ چاہتا ہے کہ ادیب اپنا دل و دماغ اور احساس و بصیرت سیاست بازوں کہ حوالے کر دے۔ روس کے حکمران ادیبوں پر پابندیاں عائد کر کے، ان سے مستقبل کی خاطر قربانیاں چاہتے تھے جبکہ جمہوری دنیا کے حکمران صرف موجودہ صورت حال کے تحفظ کی خا طر انہیں اپاہج کرنا چاہتے ہیں۔ اور انہیں یہ نمائش بھی کرنی پڑتی ہے کہ ہم علم و ادب کے سرپرست اور آزادی فکر کے علمبردار ہیں چناچہ بدلے ہوئے پس منظر میں، عسکری نے پاکستان کے ادبی حلقوں میں یہ سوال اٹھایا کہ ہم ”آدمی“ کے اندر سے ”انسان“ اخذ کرنے کی اہلیت اور طاقت رکھتے ہیں یا نہیں؟ انسان کو ہر لمحہ اپنے آپ کو تخلیق کرنا پڑتا ہے لہٰذا اسی سوال کے جواب پر نسل انسانی کے مستقبل کا دارومدار ہے۔
آدمی کو میسر نہیں انساں ہونا

عسکری صاحب نے روایت اور جدت کی کش مکش میں ایک درمیانی رویہ تلاش کیا تھا جو مسلمانوں کے تہذیبی چلن کو محکم بنیادوں پر استوار کر کے انہیں آگے بڑھنے کی راہ سمجھاتا ہے اور مغرب کے تضادات کی نشاندہی کر کے، مشرق کو نئی جہتوں کا شعور بخشتا ہے۔ 

ایک فطری جبلتوں سے بنا ہوا آدمی دوسرا تہذیب کہ سانچے میں ڈھلا ہوا انسان۔ عسکری ایک پورے آدمی کی تلاش میں تھے۔ ادب کے خارجی اور داخلی شعور کی بحث ابھی جاری تھی کہ عسکری صاحب نے پاکستانی ادب کا نعرہ بلند کیا اور اس محاذ پر خوب جم کر لڑے اور اپنے ہم خیال بھی پیدا کیے۔ مغرب کے تہذیبی اور ادبی رویوں کی غواصی کی اور ان میں پوشیدہ اضطراب اور منافقت تلاش کرتے کرتے اس نتیجے پر پہنچے کہ مغرب نے سازش کے تحت، مشرقی علوم و فنون کی عزتِ نفس کو مجروح کرنے اور اسے احساسِ کمتری میں مبتلا کرنے کی کوشش کی ہے۔ پاکستانی ادیبوں کو مشورہ دیا کہ اپنے تہذیبی اور ادبی رویوں کی اساس، اپنے ثقافتی ورثے میں تلاش کریں۔ حسن عسکری بیک وقت تخلیق کار بھی تھے اور نقّاد بھی لیکن جوں جوں ان کا مطالعہ وسیع ہوتا گیا، وہ ادب سے دور ہوتے گئے اور فلسفہ و تصوّف میں ان کی دلچسپی بڑھتی گئی۔ وہ ادب کے مستقبل سے مایوس ہو گئے تھے اور ان کے نزدیک ساری دنیا میں ادب کی موت واقع ہو رہی تھی۔ اردو میں لکھنے کا ماحول ان کے لیے بالکل ختم ہو چکا تھا اور ادبی رسالوں کی بہار خزاں رسیدہ ہو چکی تھی۔ اور”ڈائجسٹ ادب“ یا صحافت کا دور دورہ تھا چناچہ حسن عسکری نے اردو ادب پر لکھنے کا سلسلہ قریب قریب بند کر دیا تھا۔ زیادہ تر مطالعہ میں مستغرق رہتے اور جب کبھی لکھتے تو فرانسیسی اور انگریزی زبان میں اور وہ بھی زیادہ تر اسلامی موضوعات یا تصوف پر۔ عسکری صاحب نے روایت اور جدت کی کش مکش میں ایک درمیانی رویہ تلاش کیا تھا جو مسلمانوں کے تہذیبی چلن کو محکم بنیادوں پر استوار کر کے انہیں آگے بڑھنے کی راہ سمجھاتا ہے اور مغرب کے تضادات کی نشاندہی کر کے، مشرق کو نئی جہتوں کا شعور بخشتا ہے۔ انہوں نے ہمیشہ، مسائل کا وسیع تناظر میں جائزہ لینے کی کوشش کی اور فکری دنیا میں تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ اپنے معیار نقدو احتساب میں بھی تبدیلی لائے۔

اردو تنقید کے علاوہ علم کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جو عسکری کی جولان گاہ نہ رہا ہو۔ فلسفہ، نفسیات، تصوف، موسیقی، فن تعمیر حتیٰ کہ فوٹوگرافی کا موضوع بھی ان کی زد میں رہا۔

اردو تنقید کے علاوہ علم کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جو عسکری کی جولان گاہ نہ رہا ہو۔ فلسفہ، نفسیات، تصوف، موسیقی، فن تعمیر حتیٰ کہ فوٹوگرافی کا موضوع بھی ان کی زد میں رہا۔ انہوں نے اگر ایک موضوع پر لکھا تو بیسیوں دوسرے موضوعات پر اپنے دقیق مطالعے کی مدد سے، اس ایک موضوع کو چار چاند لگادیے۔ مغربی دنیا کے تمام بڑے بڑے لکھنے والے، زندہ یا مردہ، ان کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے رہتے اور وہ جب چاہتے ان کی گوشمالی کرلیتے۔ حسن عسکری کی تنقیدی تحریروں کو، بغیر کسی ذہنی تحفّظ کے، دنیا کی کسی بھی زبان کے بڑے سے بڑے نقّاد کے مقابلے میں پیش کیا جاسکتا ہے اور اس کے ثبوت کے طور پر ان کی وہ تازہ ترین تحریریں پیش کی جاسکتی ہیں جو ان کی وفات سے ایک ہفتہ پیشتر ”محراب“ میں شائع ہوئیں۔ یوں لگتا ہے کہ وہ تصوّف اور موسیقی پر مشرق و مغرب میں پھیلے ہوئے لٹریچر کا سمندر پی گئے ہیں۔ یہ مضامین بے شمار فنی، تحقیقی اور علمی موضوعات کا احاطہ کرتے ہیں اور ہمارے اخبار کے عام قارئین، ان مضامین کے طویل اقتباسات سے استفادہ کرنے میں مشکل محسوس کریں گے لیکن بعض اشاروں کو، ان کالموں میں محفوظ کرنا بھی ضروری معلوم ہوتا ہے تاکہ میں اس دعویٰ کا ایک ہلکا سا ثبوت بھی فراہم کرسکوں کہ حسن عسکری کی موت محض اُردو کے ایک افسانہ نگار اور نقّاد کی موت نہیں ہے بلکہ مشرق کے ایک ایسے عالمِ بے بدل کی موت ہے جس نے مغرب کی فکری، ادبی بلکہ باطنی تحریکوں کے کھوکھلے پن کو بھی طشت از بام کر دیا ہے۔

”پوپ موسیقی“ کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ یہ پیٹ کا گانا ہے اور اس بات کا اعلان فخریہ انداز میں کیا جاتا ہے۔

”وقت کی راگنی“ میں عسکری صاحب نے ایک خاص قسم کی گائکی ”خیال“ کے مطالب بیان کرتے ہوئے طریقت و شریعت کے اسرار اور علمِ موسیقی کے رموز پر معلومات افزا اور بصیرت افروز گفتگو کی ہے لیکن جہاں موقع ملتا ہے، مغرب کو اس کی سطحیت کا آئینہ ضرور دکھا دیتے ہیں۔ مثلاً ”پوپ موسیقی“ کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ یہ پیٹ کا گانا ہے اور اس بات کا اعلان فخریہ انداز میں کیا جاتا ہے۔ امریکہ میں لڑکے ایک طرف تو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اس موسیقی میں روحانیت زیادہ ہے، دوسری طرف خود اُن کے فخریہ اعلان کے مطابق انہیں مزہ اس بات میں آتا ہے کہ گانا سنتے ہی پیٹ میں گھونسا لگے کہ ہوش و حواس غائب ہوجائیں۔ دنیا میں حالات ہی ایسے ہی کہ پیٹ کا گانا چاہے ذریعہ سلوک کے طور پر ایجاد ہوا ہو لیکن اس کا منفی پہلو زیادہ اُبھرے گا۔ عسکری صاحب قرآن و حدیث میں روایت کی اہمیت بیان کرتے ہوئے موسیقی تک پہنچتے ہیں تو فرماتے ہیں کہ جنوبی ایشیا کے مسلمانوں میں فنِ موسیقی فی الجملہ سینہ بہ سینہ ہی چلتا رہا اور انہوں نے کتابوں کا سہارا کبھی نہیں لیا۔ مسلمان استاد شاستروں سے ہٹ کر گاتے رہے، یہاں تک کہ جنوبی ہند میں نہ سہی تو شمالی ہند میں موسیقی کے پنڈت بھی شاستروں سے گانا بھول گئے۔ مثلاً استاد امراؤ بندو خاں نے استاد فیاض خاں کا ایک قصّہ سنایا۔ کسی پنڈت نے بھری محفل میں استاد کو للکارا کہ خان صاحب غلط گا رہے ہیں شاستر میں تو اور طرح لکھا ہے، خاں صاحب نے شاستر منگوا کر سامنے تپائی پر رکھا اور دیر تک اس سے کان لگائے بیٹھے رہے۔ آخر مراقبے سے سر اُٹھا کر بولے کہ پنڈت جی، شاستر تو چپ ہے، آواز ہی نہیں نکل رہی۔ پنڈت جی نے کہا کہ شاستر بولے گا تھوڑے ہی، پڑھ کر دیکھیے۔ استاد نے جواب دیا کہ شاستر میں کیا لکھا ہے، اس سے مجھے مطلب نہیں۔ جو آپ کہہ رہے ہیں، ویسے آپ گا کے دکھا دیں تو مانوں۔ عسکری صاحب کا خیال ہے کہ اگر حتمی طور پر یہ ثابت بھی ہوجائے کہ مسلمانوں نے جنوبی ایشیا کی موسیقی میں کوئی اضافہ نہیں کیا تو اس سے اسلام یا اسلامی تہذیب کی کونسی ہیٹی ہوتی ہے۔ موسیقی اسلامی تہذیب کے بنیادی فنون میں اس طرح شامل نہیں جس طرح خطاطی یا شاعری ہے۔ مصوّری کا بدل مسلمانوں نے یہ نکالا کہ آوازوں کے ذریعے تصویرکشی کرنے لگے۔ اگر ہم تصویر کشی کو بھول جائیں اور آوازوں کو محض آوازوں کی حیثیت سے لیں تو قانون کی پیچیدگی میں خطاطی کی پیچیدگی فوراً نظر آجائے گی۔ خطاطی ہمارے فنون میں اس طرح جاری و ساری ہے کہ مسجدوں میں نقش و نگار کی ساخت بھی اسی پر مبنی ہوتی ہے۔ چنانچہ ”خیال“ کی اس امتیازی خصوصیت کا رشتہ ان دونوں فنون سے قائم ہوجاتا ہے یعنی ”خیال“ کی گائکی پیروی کرتی ہے، اسلام کے ایک بنیادی فنِ خطاطی کی۔ خیال میں بنیادی لَے تو اتنی ہی سادہ ہوتی ہے جتنا مسجد کا بنیادی نقشہ لیکن سروں کے کھیل میں وہ پیچیدگی ہوتی ہے جو مسجد کی اندرونی دیواروں کے نقش و نگار میں۔ تو اگر مسلمانوں کی گائکی میں عالم کثرت کی تصویرکشی ہندوؤں کی گائکی سے زیادہ ہوتی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ مسلمانوں کی موسیقی ہمیں عالم کثرت میں پھنساتی ہے بلکہ خیال تفریح کی سطح سے اُٹھتے ہی اصطلاحی معنوں میں ”فکر“ بننے لگتا ہے یعنی کثرت کے وسیلے سے وحدت کی تلاش۔ اگر تلاش کی جہت حق کی طرف ہے تو معرت ہے اور اگر جہت باطل کی طرف ہے تو محض غیرت ہے۔

”خیال“ کی گائکی پیروی کرتی ہے، اسلام کے ایک بنیادی فنِ خطاطی کی۔ خیال میں بنیادی لَے تو اتنی ہی سادہ ہوتی ہے جتنا مسجد کا بنیادی نقشہ لیکن سروں کے کھیل میں وہ پیچیدگی ہوتی ہے جو مسجد کی اندرونی دیواروں کے نقش و نگار میں۔

لفظ ”خیال“ کے مختلف اصطلاحی معنوں کی تشریح کرتے ہوئے، عسکری صاحب صوفیہ کے ہاں لفظ ”خیال“ کے استعمال کا ذکر یُوں کرتے ہیں کہ سارے عوالم کی اصل تو خیال ہے مگر خیال وہ صورت ہے جو خواب میں دیکھیں (یہ ذہن میں رہے کہ عسکری نے اپنے ادبی سفر کا آغاز فرائڈ کے نظریہ لاشعور سے کیا تھا!!) اس سے یہ نتیجہ نکلا کہ عالم یا وجُود جس طرح سے بھی ہمارے ادراک میں آئے ایک خواب ہے۔ یعنی ادراک بھی نیند ہے۔ یہ مغربی انداز کی فلسفہ طرازی یا عجمیوں کی مُوشگافی نہیں بلکہ یہ مضمون حدیث شریف سے ثابت ہوتا ہے جیسا کہ فرمایا ”لوگ سو رہے ہیں، جب مریں گے تو جاگیں گے“۔ اس زندگی میں جو خیال بھی ہمارے ادراک میں آئے، وہ نیند اور غفلت ہے، حقائقِ اشیا موت کے بعد ظاہر ہوں گے اور اصلِ اشیا حق تعالیٰ ہے۔ تو غفلت سے مُراد ہے اللہ تعالیٰ سے دُور رہنا۔ چنانچہ لوگ سو رہے ہیں، بیدار وہ ہے جو حاضر مع اللہ ہے۔ پھر نیند اور بیداری کے بھی درجے ہیں۔ خیال کی گائکی کا کام یہ ہے کہ سننے والے کے اندر پہلے تو عالمِ محسوسات کا ادراک یا خیال پیدا کرے اور پھر اُسے اٹھا کر منزل بہ منزل درجہ بدرجہ حقیقت کے مختلف مراتب سے گزرے۔

تصوّف میں تقلید اجتہاد کے مقابل نہیں رکھی جاتی بلکہ تحقیق کے مقابل ۔۔۔اور اس لفظ کے بھی الگ معانی ہیں، مغرب طرز کی ”ریسرچ“ نہیں۔صوفی بڑے سے بڑے درجے میں پہنچ جائے تو بھی شریعت سے آزاد نہیں ہوتا ۔ آزادی چاہے گا تو صوفی نہ رہے گا، البتہ سلوک کے میدان میں ضروری ہے کہ سالک تقلید سے شروع ہو اور بتدریج اس سے آگے چل کر تحقیق تک پہنچے یعنی سلوک کی منزل اپنے آپ طے کرے۔ معرفت ایسی چیز ہے جو آدمی اپنے آپ ہی حاصل کر سکتا ہے۔ یہاں تقلید بے مقصد اور بے معنی ہو جاتی ہے۔ سلوک کی منازل میں مرشد کی نگرانی ضرور ہوتی ہے لیکن تحقیق کے درجے میں پہنچ کر سالک مرشد سے بھی آزاد ہو جاتا ہے۔ اس طویل تحقیقی اور تنقیدی مقالے کے اختتام پر حسن عسکری دعا مانگتے ہوئے کہتے ہیں ”اللہ کے فضل سے امید ہے کہ اس مضمون کا کوئی مصرف نکل آئے گا حدیث شریف میں ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ پناہ مانگتے رہیں ایسے علم سے جو نفع نہ دے، ایسے دل سے جس میں خوف نا ہو ،ایسے نفس سے جو کبھی سیر نہ ہو اور ایسی دعا سے جو قبول نہ ہو“۔ یاد رہے یہ وہی محمد حسن عسکری ہیں جنہوں نے جوانی میں لکھا تھا فنکار اگر اپنے کام کے فائدے گنوانے لگے تو وہ تخلیق نہیں کر سکتا۔

عسکری کے نزدیک مغرب کے ذہنی انحطاط میں پہلا دور تو ہے روایت میں تحریف کا، دوسرا دور ہے روایت کی مخالفت اور انکار کا اور تیسرا دور ہے جعلی روایت قائم کرنے کا۔

”محراب” ہی میں، ”چینی موسیقی “ پر فرانسیسی اہلِ قلم پیئرگری زوں کے ایک مضمون کا ترجمہ بھی حسن عسکری نے کیا ہے۔ (”مادام بواری“ اور ”سرخ و سیاہ“ کے ترجمے کر کے عسکری اپنی بے پناہ صلاحیتوں کا لوہا، اپنی ادبی زندگی کے آغاز میں ہی منوا چکے تھے۔) علاوہ ازیں انگلستان کی مس ییٹس (YATES) کی دو کتابوں ”روزی کروشن روشن خیالی“ اور ”شیکسپیئر کے آخری ڈرامے“ پر طویل تبصرے کئے ہیں۔ مس ییٹس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ سولہویں اور سترھویں صدی کی فکری تاریخ میں اس نے ایسے رحجانات کی نشاندہی کی ہے جن سے لوگ غافل تھے اور اس طرح مغربی تہذیب کی تاریخ کا نقشہ ہی بدل دیا ہے۔ اس کا بنیادی دعویٰ یہ ہے کہ مغرب نے جو بھی ترقی ہے اس کا سہرا انگلستان کے سر باندھنا چاہیے۔ مس ییٹس نے شیکسپیئر کے آخری ڈراموں سے پوشیدہ مطالب بھی بر آمد کیے ہیں۔ حسن عسکری کا مؤقف یہ ہے کہ ”روزی کروشن“ جماعت اور بعض پوشیدہ علوم کے نام گنوا کر مس ییٹس نے کوئی تیر نہیں مارا۔ اس موضوع پر یورپ میں پہلے بھی کئی کتابیں لکھی جا چکی ہیں اور شیخ عبدالقادر یحییٰ (رینے گینوں) کی کم سے کم تین کتابیں برسوں سے موجود ہیں۔ شیکسپیئر کے باطنی مطالب پر بھی فرانس کے ژاں پاری تفصیلی کام کر چکے ہیں۔ عسکری صاحب کو مس ییٹس کی نیت پر شبہ ہے کہ یہ سارا کام سرکاری سرپرستی میں کیا جا رہا ہے اور وہ ایک ایسی فکر کی نمائندگی کر رہی ہے جو ابھی تک بر طانوی شہنشاہیت کا خواب دیکھ رہا ہے۔ عسکری کے نزدیک مغرب کے ذہنی انحطاط میں پہلا دور تو ہے روایت میں تحریف کا، دوسرا دور ہے روایت کی مخالفت اور انکار کا اور تیسرا دور ہے جعلی روایت قائم کرنے کا۔ صدیوں سے چند شیطانی اثرات چپکے چپکے ”زیر زمین“ کام کر رہے ہیں اور جب وہ غالب آجائیں گے تو اپنے چہرے سے نقاب اٹھا دیں گے۔ مس ییٹس نے اپنی کتابوں کے زریعے اس نقاب کا ایک کونا اٹھایا ہے۔ ایک اور تبصرے میں حسن عسکری نے طہران یونیورسٹی کے پروفیسر حسن ہنرمندی کے ایک فرانسیسی مقالے کو آڑے ہاتھوں لیا ہے جس میں ہنر مندی نے فرانس کے ژید پر فارسی ادب کے اثرات کا جائزہ لیا ہے۔ حسن عسکری کہتے ہیں کہ میں تو اس کتاب کا عنوان دیکھ کر ہی شرم سے پانی پانی ہو گیا۔ یہ درست ہے کہ ژید کی عبارتوں میں حافظ اور سعدی کا نام بھی ہے، شیراز کی یاد بھی ہے، شراب اور ساقی، گل و بلبل اور موسم بہار کا بھی ذکر ہے، لیکن پچھلے دو سال سے مغربی ادب میں یہی رہا ہے کہ اپنی زندگی سے بیزار ہوئے، تو کبھی چین کے خواب دیکھنے لگے، کبھی افریقہ کے، کبھی قدیم امریکہ کے اور اس خواب آرائی کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ لکھنے والا کسی دوسری تہذیب کی حقیقت سمجھ گیا ہے، یا سمجھنے کی کوشش کر رہا ہے، یا اپنی تہذیب چھوڑ کر دوسری تہذیب قبول کرنا چاہتا ہے۔ ڈی۔ایچ لارنس نے برسوں ریڈ انڈین تہذیب کا کلمہ پڑھنے کے بعد ارتداد سے توبہ کر لی۔ ژید نے تو کبھی مغربی تہذیب سے ٹوٹنے کا اعلان بھی نہیں کیا بلکہ آخری عمر میں تو صاف کہہ دیا کہ مشرقی تصورات قبول کرنے کے معنی ہوں گے سولہویں صدی سے لے کر آج تک کی مغربی تہذیب کو ملیامیٹ کر دیا جائے جس کے لیے میں تیار نہیں اور ساتھ ساتھ یہ اعتراف بھی کر لیا کہ میں بوڑھا ہو گیا ہوں۔اب اپنی اقدار پر نظر ثانی کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔
﴿نوائے وقت، لاہور 29 جنوری 1978﴾

Facebook Comments Box
Hassan Askariwaris mirحسن عسکریرینے گینوںمحمد حسن عسکریوارث میروقت کی راگنی
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
قرآن کا نظریہ علم و تعلیم —– ڈاکٹر غلام شبیر
next post
تصوف کے بارے میں کچھ بنیادی باتیں —- احمد جاوید

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.