تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیکالم

ذاتیات سے واہیات تک —- ڈاکٹر مریم عرفان

by دانش ڈیسک 10/01/2020
written by دانش ڈیسک 10/01/2020
95

دنیا واقعی گلوبل ولیج ہے جس میں اب فاصلے سمٹ گئے ہیں۔ ایک ذرا سے موبائل نے ہر شے کی دوری کو نزدیکی میں بدل دیا ہے۔ پہلے ایک دوسرے کے بارے میں جاننے کے لیے دوپہر کے اخبار کی ضرورت پڑتی تھی جس میں چٹ پٹی خبریں اور کرداروں کی کردار کشی سے طبیعت سیر ہو جاتی تھی۔ پڑھنے والوں کے لیے صرف فلمی شخصیات کی ذاتی زندگیاں ہی اہم نہیں ہوتی تھیں بلکہ اس میں سیاسی اور سماجی شخصیات کے معاشقے اور اخلاقی پامالیاں بھی معنی رکھتی تھیں۔ جب زبان ذائقوں کی عادی ہو جائے تو ذاتیات میں الجھنا فرض سمجھ لیا جاتاہے۔ تاریخ کے طالب علم جانتے ہیں کہ تاریخی شخصیات کی ذاتی زندگی اور ان سے منسوب قصے تاریخ کا حوالہ تو بنتے ہی ہیں ساتھ میں اپنے پیچھے کئی سوال بھی چھوڑ جاتے ہیں۔ اب اندرا گاندھی کی جنسی زندگی بھی ہمارے لیے معنی نہیں رکھتی کیونکہ ہمارے پاس اس سے بڑی بڑی شخصیات موجود ہیں۔

جب زبان ذائقوں کی عادی ہو جائے تو ذاتیات میں الجھنا فرض سمجھ لیا جاتاہے۔

جب امرتا پریتم ’’رسیدی ٹکٹ‘‘ میں ساحر لدھیانوی کے لیے اپنی خواہشات اور تمناؤں کا ذکر کرتی ہیں تو پردہ سکرین پر دو رومانوی کردار ناچنے لگتے ہیں۔ کشور ناہید کی خود نوشت ’’بری عورت کی کتھا‘‘ خود ان کے کردار کا نوحہ ہے جسے پڑھنے والے منہ بھی بناتے ہیں اور مزے لے لے کر پڑھتے بھی ہیں۔ احمد بشیر کے منہ سے ’’ چھپن چھری‘‘ کا لقب پانے والی کشور ناہید کے حوصلے کو داد دینا پڑے گی کہ انھوں نے کمال ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس مضمون کو برداشت کیا۔ ’’پارلیمنٹ سے بازار حسن تک‘‘، تہمینہ درانی کی ’’مینڈا سائیں‘‘ یا ریحام خان کی کتاب کو ہی لیجیے، ذاتیات کی دھجیاں ابھی تک فضا میں پرواز کر رہی ہیں۔ ان کتابوں میں کیا کچھ نہیں تھا، آپ تہمینہ درانی کو ہی لے لیں جنہوں نے مصطفی کھر کی ذات کے خوب لتے لیے۔ وہ اپنے زمانے کی بڑی بولڈ کتاب تھی جب کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ذاتیات کو اس طرح بھی بیچ بازار میں اچھالا جا سکتا ہے۔

اب بات کتاب سے نکل کر موبائل کی چھوٹی سکرین تک محدود ہو گئی ہے۔ فوراً ویڈیو بنائی یا آواز ریکارڈ کی اور بس ایک کلک کے بعد سب وائرل ہو گیا۔ گویا اب تو سرعام ہی اپنے گندے کپڑے دھونے کی عادت سی ہو گئی ہے۔ ایساہی سب کچھ قندیل بلوچ کرتی تھی اور پھر حریم شاہ نے اس کا بیڑہ اپنے کاندھوں پر اٹھا لیا۔ دونوں میں فرق صرف اتنا تھا کہ قندیل خود کو منوانے کی خواہش مند تھی، وہ اپنی ویڈوز بناکر پرستاروں کو خوش کرتی تھی۔ وہ ماڈل تھی اور شہرت کی بلندیوں کو چھونے کے لیے اس نے جو راستہ اپنایا وہ موت کی طرف کھل گیا۔ مولانا قوی کے ساتھ بنائی گئیں تصاویر کوئی انہونی چیز تو نہیں تھی لیکن اس کی بے باکی اور بے لگامی نے اسے موت کے روبرو کر دیا۔ ایسی ہی بے شمار ویڈیوز آپ کو پیروں کے آستانوں کی بھی مل جائیں گی جہاں ایک اشارے پر سب کچھ ہوتا ہے۔ آپ جتنا مرضی انھیں بے نقاب کر دیں عوام کا اندھا اعتقاد کبھی ختم نہیں ہو گا۔

حریم شاہ کے کردار پر بات کرنے کے بجائے اگر ہم یہ سوچ لیں کہ بلیک میلنگ کا جو نیا کاروبار شروع ہو چکا ہے وہ ہماری نئی نسل کے لیے کتنا برا ہے تو شاید اس کے تدارک کے لیے اقدامات کیے جا سکیں۔

اب آتے ہیں حریم شاہ کی طرف، جس کی حد درجہ بے شرمی نے سیاست کے ایوانوں میں بھی شور برپا کر رکھا ہے اور سوشل میڈیا کے در و دیوار کو بھی ہلا ڈالا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ وہ مدرسے سے پڑھ کر، سر پر چادر تان کر چلتے چلتے کیسے اس راستے پر گامزن ہوئی؟ یا پھر وہ قصور وار ہے تو مرد کیوں نہیں؟ مسئلہ یہ ہے کہ یہی سوشل میڈیا ہماری نوجوان نسل کو کس طرف لے کر جا رہا ہے۔ سیلفی کے شوق نے کتنی جانیں لیں اور مزید کتنی جائیں گی، کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ دوسری طرف چوری چھپے بنائی جانے والی وہ ویڈیوز ہیں جو خاص طور پر بلیک میلنگ کے لیے بنا کر وائرل کی جاتی ہیں۔ اس ایک خبر نے میرا سکون چھین لیا کہ شیخوپورہ کے ایک پرائیویٹ ہسپتال کا عملہ ڈیلیوری کی ویڈیوز بنا کر گھر والوں کو بلیک میل کرتا تھا۔ آفرین ہے ان بلیک میل ہونے والے شریف گھر والوں کا جو ان سے ڈر گئے۔ گویا ہمارے ہاں کمزور اور بزدل کو ڈرانا کتنا آسان کام ہے۔ ابھی ہم قبروں میں لیٹی ان عورتوں کی لاشوں کو نہیں بھولے تھے جن سے بدفعلی کی جاتی رہی۔ جیتے جاگتے گرم جسم کیسے ان ٹھنڈے جسموں کو اپنے مذموم ارادوں کے لیے استعمال کرتے ہوں گے یہ سوچ کر روح فنا ہو جاتی ہے۔ ہماری جبلی ضروریات اس درجہ بڑھ گئی ہیں کہ اب ہمیں زندہ اور مردہ میں بھی فرق محسوس نہیں ہوتا۔ مجھے منٹو کا افسانہ ’’ٹھنڈا گوشت‘‘ یاد آجاتا ہے جس میں کم از کم زیادتی کرنے والے کو اپنے گناہ کا ادراک تو تھا۔

حریم شاہ کے کردار پر بات کرنے کے بجائے اگر ہم یہ سوچ لیں کہ بلیک میلنگ کا جو نیا کاروبار شروع ہو چکا ہے وہ ہماری نئی نسل کے لیے کتنا برا ہے تو شاید اس کے تدارک کے لیے اقدامات کیے جا سکیں۔ یہاں ذہن میں سائبر کرائم نامی اصطلاح گونجتی ہے جو واقعی ایک قانون ہے لیکن ہے کہاں یہ کچھ نہیں پتہ۔ ویسے تو ٹی۔وی پر اور بہت سے اشتہار ہماری اشتہا بڑھانے کے لیے کافی ہیں لیکن کبھی حکومتی اداروں نے اس قانون کی تشہیر کی طرف توجہ نہیں دی۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق گزشتہ سال ۱۱۲۲ پر پندرہ لاکھ سے زائد جعلی کالیں کی گئیں۔ کیا مقصد تھا ان کالز کا؟ ظاہر ہے انتشار پھیلانا، تھرل یا موج مستی۔ رفاہ عامہ کے اتنے بڑے ادارے کے ساتھ ہنسی مذاق ہوتا ہے اور کہیں کوئی پرچہ نہیں کٹتا، کسی کو کوئی سزا نہیں ملتی اور یوں یہ سلسلہ دراز رہتا ہے۔ فضہ حسین کوئی ایک دن میں حریم شاہ نہیں بنی۔ اس کے دبئی کے دورے، پرائیویٹ جہازکے اندر چہل قدمی اور وزیراعظم کی کرسی یہ سب موج مستی سے پروان چڑھ کر بڑی بلیک میلنگ کی طرف اشارہ ہے۔ ابھی تو ہمیں اپنے چیئرمین نیب جاوید اقبال کی ویڈیو نہیں بھولی تھی، جنہیں بلیک میل کرنے والی بھی ایک عورت تھی۔ یہ بلیک میلنگ زمانہ ازل سے جاری ہے اور ابد تک رہے گی۔ کبھی کتاب کی صورت میں اور کبھی ویڈیو کے وائرل ہونے کی شکل میں، یہ حادثات رونما ہوتے رہیں گے۔ سوال بس یہ ہے کہ ٹک ٹاک نامی طوفان بلاخیز کب تھمے گا، کب اس کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں آئے گی۔ اس سلسلے میں میڈیا کا بھی فرض ہے کہ حریم شاہ جیسے کرداروں کو زیادہ چٹ پٹا بنا کر دکھانے کے بجائے سیاسی ایوانوں میں دنگل سجا لیا کریں۔ پراڈکٹ کیسی ہے اس کا اندازہ ہمیشہ اس کی پیکنگ سے کیا جاتاہے، چمکیلی اور سجی سجائی پیکنگ میں دستیاب مال دکان داری تو بڑھاتا ہے لیکن کھانے والے کو اس کی کوالٹی کا اندازہ کرنے میں زیادہ دیر نہیں لگتی۔ اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے ارباب اختیار کو مسئلے کے تدارک پر دھیان دینا چاہیے کیونکہ کتاب پڑھنے والا طبقہ ہمیشہ سے ہی کم رہ ہے لیکن ویڈیوز دیکھنے والی آنکھوں پر کوئی ہاتھ نہیں رکھتا۔

Facebook Comments Box
Cyber Crime LawHareem ShahMariam Irfanحریم شاہسائبر کرایم بلقندیل بلوچمریم عرفان
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
نظریۂ جہاد — پروفیسر عمران احسن نیازی
next post
استاد دامنؔ : پنجابی شاعری کا ایک ورثہ —- افضل رضویؔ

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.