تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیصنف/ جینڈرکالم

فضہ سے حریم کا سفر : سماج سے کچھ تلخ سوال — سحرش عثمان

by Editor Daanish 09/01/2020
written by Editor Daanish 09/01/2020
95

کچھ موضوعات پر چپ رہنا چاہئیے۔ کچھ واقعات پر خاموشی ہی جواب ہوتی ہے۔
لیکن خاموشی کی بھی ایک حد ہوتی ہے آوازوں کی طرح اور اگر گفتگو کے موقع پر بھی خاموش ہی رہا جائے تو خاموشی بھی چٹخ جاتی ہے۔
عموماََ تمہید وہاں باندھی جاتی ہے جہاں بات کرنا مشکل ہو، یا لفظ کم پڑ جائیں یا ختم ہو جائیں۔
دکھ افسوس یا صدمہ بڑا ہو اور لفظ چھوٹے۔
آج بھی کچھ ایسی ہی صورت درپیش ہے۔

خاتون ہونے کے ناطے جتنا دکھ جتنی توہین اور جس قدر شرمندگی برداشت کی جاسکتی ہے اتنی برداشت کی جاچکی ہے۔
اس سے زیادہ بے آبرو کسی خاتون کے لیے ہوجانا ممکن نہیں کہ وہ ہر کسی کی پہنچ میں ہو۔ ہر کوئی اس کا نام برملا لیتا پھرے۔

کچھ عرصہ پہلے بھی ایسی ہی صورتحال ہوئی تھی جب قندیل بلوچ کے فیس بک پیج پر ہمہ وقت رش لگا رہتا تھا۔
جب اس کی وڈیوز ہاتھوں ہاتھ لی جاتی تھیں تو ایسی ہی وحشت ہوتی تھی۔ ایسا ہی دکھ تھا ایسی تکلیف تھی۔
تب بھی اس رویہ پر اس انسانیت سوز “فیم” پر لکھنا چاہا تھا تب بھی الفاظ نے ساتھ نہ دیا تھا آج بھی ویسی ہی صورتحال درپیش ہے۔ نہ لفظ ساتھ دے رہے ہیں نہ قلم۔

اس سے زیادہ بے آبرو کسی خاتون کے لیے ہوجانا ممکن نہیں کہ وہ ہر کسی کی پہنچ میں ہو۔ ہر کوئی اس کا نام برملا لیتا پھرے۔

لیکن اس کے باوجود کچھ ٹوٹی پھوٹی گذارشات ہیں جو کرنا چاہتی ہوں۔ اس سماج میں رہنے کا قرض چکانا چاہتی ہوں۔ جو لفظ اترے ہیں مجھ پر ان کا حق ہے کہ انہیں بیان کیا جائے۔ اس حق کو ادا کرنا چاہتی ہوں جوابدہی کے خوف کے پیش نظر میں کچھ سوال اٹھانا چاہتی ہوں۔
اس سماج سے یہاں کے لوگوں سے اور بالخصوص ان لوگوں سے پوچھنا چاہتی ہوں جو سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں۔ پل میں انسان سے سلیبرٹی بنا دیتے ہیں لوگوں کو۔ لمحے میں خبر وائرل کردیتے ہیں ٹرینڈ چلا دیتے ہیں اور اس پر فیصلے بدلوا دیتے ہیں۔ وہ سارے لوگ مجھے بتائیں جواب دیں۔ اس سارے منظر نامے کا ذمہ دار کون ہے؟

اس سماج میں کتنی فوزیائیں قندیلیں بنیں، جل بجھیں۔ کتنی فِضائیں حریمیں بن کر بے توقیر ہورہی ہیں۔
ان فوزیائوں کو قندیلیں بنانے والا کون ہے؟
کون فضہ کو مدرسے سے اٹھا کر حریم بنا کر ٹک ٹاک پر لے آتا ہے؟
کون ہے جو ایسے حادثوں کی برسوں پرورش کرتا رہتا ہے؟ اور جب کوئی “بھائی” غیرت کھا جاتا ہے تو ٹرینڈ چلاتا ہے؟
وہ کون ہے جو غیرت کے معیار طے کرتا ہے؟

یقینا یہ ہم سب ہی ہیں۔ اس سماج کے کرتا دھرتا۔
یہاں کے عزت غیرت کے معیار طے کرنے والے۔
کوئی بھی بالغ باشعور انسان اپنے ہر فعل کا خود ذمہ دار ہوتا ہے لیکن اس کی ہر فعل کے پیچھے ایک نفسیات کارفرما ہوتی ہے۔ کچھ عوامل ہوتے ہیں جن کا وہ رد عمل دیتا ہے۔ کیا ان سب عوامل کو فراموش کر کے ہم صرف ٹک ٹاک پر بین لگا کر بہتری کی امید کرسکتے ہیں؟
کیا ہم روز سماجی بے انصافیاں ہوتے نہیں دیکھتے؟ کیا ہم تمام سماجی ناہمواریوں پر مجرمانہ خاموشی اختیار نہیں کیے رکھتے؟
یہاں روز پیدائش سے قبل اور پیدائش کے بعد مجرمانہ غفلت اختیار کرکے ماری جانے والی کتنی حریموں پر احتجاج کرتے ہیں ہم؟
ہر روز کئی فوزیائیں ہمارے سامنے حقوق کے لیے تعلیم کے لیے صحت کے لیے لڑتی ہیں اور ہم غفلت کی ردا اوڑھے سوئے رہتے ہیں۔ جب تک کہ فوزیہ قندیل نہ بن جائے ہماری آنکھ نہیں کھلتی۔
ہم میں سے کتنے فیصد لوگ ہیں جو مسلط کیے گئے رشتوں پر احتجاج کرتے ہیں؟
یہاں غیرت کا معیار یہ ہے زبردستی شادی کرنے والے باپ بھائیوں کے کندھے تھپھتاتے ہیں ہم۔ شاباشی دیتے ہیں کے بچے تو ہوتے ہی نادان آپ نے سمجھداری کا ثبوت دیا۔
ہم میں سے کتنے ہی ہیں جو مار کھاتی شوہر سے پٹتی عورت کو اسی کے ساتھ گھر “بسائے” رکھنے کی نصیحتیں کرتے رہتے ہیں۔ کبھی ہم نے ظلم کرنے والے کا زیادتی کرنے والے کا ہاتھ پکڑا ہے؟
کبھی مظلوم کا ساتھ دیا ہے؟
ہمیں تو عورت نظر ہی نہیں آتی جب تک وہ حریم نہ بن جائے صندل نہ بن جائے قندیل بن کر سر محفل شعلہ بن کر جلنے نہ لگے۔ ہمیں تو کوئی نسوانیت نظر ہی نہیں آتی۔

جب ملالہ اور حریم آپ کے نزدیک یکساں گالی کی مستحق ہوں تو صرف گالی کھانے کے لیے کون اتنی محنت کرے، کون پہلے گولی کھائے؟

بات تو کڑوی ہے مگر یہ سچ ہے۔ ہمیں ماں بہن بیٹی بیوی کے سوا کوئی عورت قابل عزت بھی نہیں لگتی۔
چاہے وہ آپ کے بچے کی استانی ہو۔ آپ کی بیوی کی ڈاکٹر ہو۔ آپ کو کسی بس جہاز ریل میں سروس پروائیڈ کررہی ہو۔ کسی ائیر پورٹ پر بیٹھی اٹینٹڈ کر رہی ہو۔ کسی ٹی وی شو کو ہوسٹ کر رہی ہو۔ کہیں آپکی زمینوں کا مقدمہ لڑ رہی ہو۔ آپ کے گھر برتن دھو رہی ہو۔ سبزی بیچنے آتی ہو۔بینک میں آپ کے فارم فل کر رہی ہو۔ یا یہاں سوشل میڈیا پر آپ کی رائے کے سامنے اپنی رائے رکھنے کا جرم کرتی ہو۔ وہ سب عورتیں آپ کے لیے میرے لیے اس سماج کے لیے حریمیں ہیں صندلیں ہیں قندیلیں ہیں۔۔ کیونکہ وہ اپنی رائے رکھنے کا جرم کرتی ہیں اپنی زندگی پر اپنا اختیار مانگتی ہیں۔
آزاد پیدا ہو کر غلام مرجانے کا انکار کردیتی ہیں۔ وہ سب واجب القتل ہیں اس سماج کی نظر میں۔

آپ ہی کہیئے جب ملالہ اور حریم آپ کے نزدیک یکساں گالی کی مستحق ہوں تو صرف گالی کھانے کے لیے کون اتنی محنت کرے، کون پہلے گولی کھائے؟
جس سماج میں صرف دولت پیسہ معیار ہو عزت کا شرافت کا غیرت کا۔ وہاں کون صرف محنت والا آپشن چنے۔ کیوں نہ اس سماج میں زندہ رہنے کے دوسرے طریقے اپنائیں لوگ؟
ظاہر ہے دولت ہوگی اختیار ہوگا اختیار والوں سے تعلق ہوں گے تو گالی دینے سے پہلے ہم آپ سو بار سوچیں گے کہ کہیں پکڑیں نہ جائیں حساب نہ لیا جائے۔
ایسے سماج میں گھٹ گھٹ کر مرتیں فضائیں آزاد ہوکر جینے کو ترجیح کیوں نہ دیں؟
رہ گئی آخرت تو سچی بات ہے اگر ہم آپ بخشے گئے تو یقینا حریمیں بھی معاف کردی جائیں گی۔

رہ گئی آخرت تو سچی بات ہے اگر ہم آپ بخشے گئے تو یقینا حریمیں بھی معاف کردی جائیں گی۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ کس دن حریم کے کسی بھائی کی غیرت جاگتی ہے۔ اور کسی دن ہم قاتل کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ انتظار کیجئے یہ سماج لاشیں ڈسکس کرنے میں بہت ماہر ہے۔ ہم زندوں کو اور زندگی کو بچانے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے ہمیں بعد از مرگ ہیرو بنانے ہیرو تراشنے کا شوق ہے۔
ایک بار مرجانے دیجئے پھر ہم باغی بھی بنائیں گے اور پوسٹر بھی اٹھائیں گے۔ ہمیں اپنی اپنی دوکان چمکانے کو لاش چاہیئے۔ سدھار پر ہم یقین نہیں رکھتے نہ اس کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔

اگر ہم میں سے کوئی بھی یہ چاہتا ہے کہ یہاں قندیلیں بجھائی نہ جائیں تو سب سے پہلے اپنے اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا۔
اپنی اپنی غیرت کے معیار درست کرنا ہوں گے۔
غلط کو غلط کہنا ہوگا۔ صحیح کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اپنی بچیوں کو سماجی ناہمواریوں سے بچانا ہوگا۔
ان کو ان کے جائز حقوق دینا ہوں گے۔ باہر کام کرنے والی عورت کو قابل احترام سمجھنا ہوگا۔

ہمیں اپنی بیٹیوں کو سکھانا ہوگا اگر وہ ہر شخص کو قابل رسائی لگنے لگیں تو سمجھ لیں انسان ہونے کی حثیت سے خاتون ہونے کی حثیت سے وہ اپنی اہمیت و حیثیت کھو بیٹھی ہیں۔

اور سب سے مشکل کام کہ ہمیں اپنی بیٹیوں کو سکھانا ہوگا اگر وہ ہر شخص کو قابل رسائی لگنے لگیں تو سمجھ لیں انسان ہونے کی حثیت سے خاتون ہونے کی حثیت سے وہ اپنی اہمیت و حیثیت کھو بیٹھی ہیں۔
ان کو بتائیں باہر جائیں کام کریں تعلیم حاصل کریں لیکن جنس کی بنیاد پر فیور لینے سے انکار کر دیں۔
کسی بھی شخص میں اتنی جرات نہیں ہونی چاہیے کہ آپ کو فری لنچ، کافی آفر کرسکے۔
کوئی آپ کے موبائل کو ریچارج کرنے کے متعلق سوچے بھی تو اپنے انجام سے ڈرے۔
آپ کے ساتھ سب سٹینڈرڈ گفتگو کرنے والے کو معلوم ہونا چاہیے آپ اسے اس کے انجام سے دوچار کیے بغیر دم نہیں لیں گی۔
اپنی بیٹیوں کو سر اٹھا کر جینا سکھائیں انہیں بتائیں وہ کموڈٹی نہیں ہیں۔ کوئی بھی پیسے کے بل پر خرید نہیں سکتا۔اپنا انمول ہونا پہچانیں۔

لیکن یہ سب کرنے میں محنت درکار ہے۔
آئیے ہم حریم کو متعوب ٹھہراتے ہیں۔
آئیے قندیلیں بجھاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: عورت کی ملازمت: مجبوری اور استحصال۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محمد مدثر احمد
اور
سوشل میڈیا کا ادب اور خواتین : احمد اقبال

 

Facebook Comments Box
featuredHareem ShahHarim ShahSandal KhattakTikTok GirlsTikTok Hareem Sahahٹک ٹاک گرلزحریم شاہسحرش عثمانصندل خٹکقندیل بلوچ
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
Editor Daanish

دانش ڈیسک سروس

previous post
خالد حسینی کا ناول “پہاڑوں کی فریاد” : ایک تبصرہ —- احسن رومیز
next post
نظریۂ جہاد — پروفیسر عمران احسن نیازی

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.