تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیعلمیکالم

سیکولرازم اور معاشرہ: کچھ تصریحات —– حسیب احمد حسیب

by دانش ڈیسک 04/01/2020
written by دانش ڈیسک 04/01/2020
109

ایک مغالطہ یہ ہے کہ درحقیقت سیکولرزم ریاست اور مذہب کو جدا کرنے کا نام ہے اور یہ انسانی کے ذاتی خیالات یا مذہبی افکار میں دخیل نہیں ہوتا سیکولرازم ریاستی قوانین تک محدود رہے گا اور فرد کی سطح پر کسی بھی شخص کو اپنے مذہب پر چلنے کی مکمل آزادی ہوگی۔

لیکن کیا یہ بیانیہ درست ہے اور کیا اطلاقی سطح پر اسکا اظہار من و عن اسی طرح ہوتا ہے یا ہونا ممکن ہے؟ آئیے اس سوال کی جانچ کرتے ہیں۔

یہاں چند بنیادی سطح کے امور کا سمجھ لینا ضروری ہے۔

بنیادی سطح پر سیکولرازم صرف ایک سیاسی نظریہ نہیں ہے بلکہ جب اسکا اطلاق ہوگا تو یہ بہت سے امور کا تقاضا کرے گا معاشرے کی ایک مخصوص ساخت کے بغیر سیکولرازم کا چلنا ممکن نہیں ہے ، ایک سیکولر ریاست کیلئے لازم ہے کہ وہ جمہوری طرز سیاست اختیار کرے ایک بادشاہت یا ایک ڈکٹیٹر شپ زدہ معاشرہ سیکولر نہیں ہو سکتا (گو کہ بہت سے بادشاہ اور ڈکٹیٹر سیکولر بھی گزرے ہیں) اب جمہوری طرز سیاست اسی وقت سیکولرازم کو سپورٹ کرے گی جب معاشرہ ایک مخصوص سطح پر فکری طور پر بھی سیکولر ہوگا مثال کے طور پر پاکستان ایک جمہوریہ ہے اور یہاں کے عوام کی اکثریت مذہبی ہے اسی لیے پاکستان میں جب بھی قانون سازی ہوگی اس میں مذہب کے اثرات ضرور آئیں گے اسی طرح ہندوستان بظاہر ایک سیکولر ریاست ہے لیکن ہندوستان کی اکثریت مذہبی ہے اسلیے وہاں بھی قانون سازی پر مذہب کے اثرات آئیں گے اور لطف کی بات یہ کہ مذہب کے اثرات بھی اکثریتی مذہب کے رنگ میں رنگے ہوں گے (پاکستان کی پارلیمان میں قادیانیت کی تکفیر یا ہندوستانی عدالتوں سے بابری مسجد کی جگہ رام مندر بنائے جانے کا فیصلہ) سو یہ ثابت ہوا کہ جب تک معاشرہ مذہب سے پرے نہیں ہوگا یا پھر جب تک معاشرہ متشکک نہیں ہوگا سیکولر سیاسی نظریہ کارآمد ثابت نہیں ہو سکے گا اسی لیے مسلم معاشروں کو سیکولرائز کرنے کی کوشش موجودہ صدی اور پچھلی صدی میں عروج پر رہی ہے۔

یہاں پر سیکولر نظریے کو جمہوری طرز سیاست سے ہاتھ اٹھانا ہوگا، جی ہاں اگر معاشرے کی اکثریت مذہب پسندوں کی ہے تو سیکولر ریاست ڈکٹیٹرشپ کو بھی سپورٹ کر سکتی ہے، مثال کے طور پر ترک عوام بنیادی سطح پر مذہب پسند تھی اسی لیے خلافت کے خاتمے کے بعد بننے والی سیکولر ریاست کو بھی آمرانہ طرز عمل اختیار کرنا پڑ کیونکہ خالص جمہوری طرز عمل کے نتیجے میں معاشرہ دوبارہ سے مذہبی ریاست کی شکل میں ابھر کر سامنے آجاتا۔

دوسری جانب ایک اور عجیب بات یہ ہے کہ سیکولر ریاست ایک کمیونسٹ طرز معیشت کی جگہ سرمایہ داریت کی پشتیبان دکھائی دیتی ہے جبکہ سرمایہ داریت کے مقابلے میں کمیونسٹ نظام زیادہ انسان دوست دکھائی دیتا ہے ایک سیکولر ریاست کا انسانیت کی خدمت کا دعویٰ یہاں پر شکوک و شبہات کی نظر ہوتا دکھائی دیتا ہے۔

جیساکہ اوپر بیان کیا کہ سیکولر ریاست فرد کی سطح پربھی آپ کو وہی مذہبی آزادی دے گی کہ جو اسے قبول ہو ایک اور مثال دیکھتے ہیں امریکہ اور یورپ میں بلکہ مشرق کی سیکولر ریاستوں یہاں تک کہ مذہبی ریاستوں میں بھی اس بات پر قانون سازی کی گئی ہے کہ مرد بیک وقت دو عورتوں کو شادی کے بندھن میں نہ باندھ سکے یا کم از کم اسے مشکل تر بنانے کی کوشش ضرور کی گئی ہے۔

اگر امریکہ یا یورپ کی کسی ریاست میں کوئی مرد دو شادیاں کرنا چاہے تو بہت سی جگہ یہ ایک قانونی جرم ہے کیونکہ انکے تصور حیات کے تحت یہ عورت کے حقوق کی خلاف ورزی ہوگی بھلے دو عورتیں اس پر بخوشی راضی بھی ہوں۔

اسی مغربی معاشرت میں “اوپن میرج” کی اجازت ہے یعنی میاں بیوی بخوشی ایک دوسرے کو یہ اجازت دیں کہ وہ کسی دوسرے مرد یا دوسری عورت کے ساتھ جنسی تعلق قائم کر سکیں ہاں اسکا چھپانا انکے ہاں جرم ہوگا لیکن علم میں لاکار باہمی رضامندی سے اسکی اجازت دی جا سکتی ہے۔ یعنی معاشرتی سطح پر بھی ایک سیکولر ریاست آپ کے مذہبی حقوق میں دخیل ہوگی اسے آپ کا وہی مذہبی حق قبول ہے کہ جو اسکے نظریہ حیات اور تصور جہاں کے مطابق ہو۔

مزید آگے بڑھتے ہیں معروف اسلامی نکتہ نگاہ یہ ہے کہ ایک مسلمان مرد ایک مسیحی عورت سے نکاح کر سکتا ہے یعنی اہل کتاب عورت سے لیکن ایک ہندو ، سکھ ، پارسی یا ملحد عورت سے نہیں اور ایک مسلمان عورت صرف ایک مسلمان مرد سے نکاح کر سکتی ہے (گو کہ اس مذہبی نکتہ نگاہ کو بھی تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے) بنیادی بحث یہ نہیں یہاں نکتہ یہ ہے کہ ایک مسلمان مرد اور مسیحی عورت کی شادی ہو جاتی ہے (معروف نظریے کے مطابق) تو اب انکی اولاد کا مذہب کیا ہوگا کیا وہ مسلمان ہوں گے یا وہ مسیحی ہوں گے کیا وہ مسجد جائیں گے یا وہ چرچ جائیں گے کیا مسلمان مرد انہیں مسلمان کرے گا یا مسیحی عورت انہیں مسیحی کرے گی، ایک تصور تو یہ ہے کہ ہردو ماں باپ بچے کو اپنے اپنے مذہب کی تعلیم دیں گے اور پھر بچہ کوئی ایک مذہب اختیار کر لے گا لیکن کیا اس سے بچہ کنفیوز نہیں ہوگا اور اس پر برے نفسیاستی اثرات مرتب نہیں ہوں گے ؟ تو یہاں پر سیکولر ریاست دخیل ہوگی ایک سیکولر نظریے کے مطابق بچے کو اس وقت تک ملحد یا متشکک رکھا جائے کہ وہ خود فیصلہ کرنے کے قابل ہو سکے (ایک سیکولر معاشرے میں یہ شعوری بلوغت بھی قابل سوال ہے لیکن ہم اگر اسے شادی کی عمر کے مطابق اٹھارہ سال تسلیم کرلیں تو) اب اٹھارہ سال کی عمر تک ایک بچے کو ملحد یا متشکک رکھا جائے گا اسے کسی ایک مذہب کا پابند نہیں کیا جا سکتا، غور کیجئے یہاں ایک سیکولر ریاست براہ راست ذاتی حیثیت میں ہونے والے مذہبی معاملات میں دخیل ہوگی۔

جیساکہ عرض کی سیکولر ریاست اسی وقت چل سکتی ہے کہ جب اسکا نظام جمہوری ہو اور جمہوری نظام اسی وقت سیکولر ریاست کو سپورٹ کر سکتا ہے جب معاشرہ فرد کی سطح پر سیکولر ہو یعنی اعتقادی حوالے سے کم از کم اگناسٹک ضرور ہو اس کے بغیر ایک سیکولر ریاست کا تصور محال ہے سو یہ کہنا کہ قانونی سطح پر ریاست کو مذہب الگ کرنا سیکولرآئیزیشن ہے درحقیقت ایک بہت بڑا مغالطہ یہاں سیکولر از معاشرتی سطح پر بھی ایک لامذہب معاشرے کا تقاضا کرتا ہے۔

اس موضوع پہ درج ذیل تحاریر بھی پڑھئے:
 سیکولر ریاست: غیر جانبداری کا سراب۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نور الوہاب 
سیکولرزم: یہ جنگ آپ ہر حال میں ہار جائیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاوید احمد غامدی 
سیکولرزم کیا ہے؟ بنیادی فکر کو کھوجتی ایک تحریر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عمر فرید 
سیکولرزم اور دو قومی نظریہ تاریخ کی عدالت میں ۔۔۔ ابوبکر 
پاکستانی سیکولرازم: مغالطوں کا پہاڑ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ احمد الیاس 
سیکولرازم اور ریاست: ایک متبادل بیانیہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ذیشان ہاشم 
سیکولرازم اور لبرل ازم : وقت کی ضرورت؟ داود ظفر ندیم 
جمہوریت، سیکولرازم اور الہامی احکام : مجاہد حسین 
سیکولرازم: چند بنیادی غلط فہمیاں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انوار احمد 
امام حسین اور سیکولرازم ———- فیضان جعفری الخوارزمی
Facebook Comments Box
secular societySecularismسیکولر سماجسیکولرازمسیکولرزمسیکیولرازم
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
موم بتی والے لبرل: ماضی اور مستقبل —- فرحان کامرانی
next post
بزرگی بہ شکل است: سعود عثمانی ——– ڈاکٹر اشفاق احمد ورک

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.