تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
شعور کی انارکی: یہ سب ہوا کیسے؟ —...
شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...
ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری
شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول
ابریشم از سلمان باسط — ڈاکٹر بی بی...
محمد حفیظ خان کی فکشن نگاری —  ڈاکٹر...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
آپ بیتی، خاکہ، تذکرہتازہ ترینسماجیعلم و ادبکالم

کیا مائیں بھی مر جاتی ہیں؟ — عاطف ملک

by دانش ڈیسک 02/01/2020
written by دانش ڈیسک 02/01/2020
88

بچہ پہلا سوال ماں سے پوچھتا ہے، اور پھر ساری عمر ماں سے ہی پوچھتا رہتا ہے۔ خصوصاً متوسط طبقے میں تو باپ احترام کا نام ہے، اور احترام میں سوال پوچھتے جھجک، ڈر، خوف سب سامنے آن کھڑے ہوتے ہے۔ مل کر زبان روکتے، الفاظ کے سامنے دیوار کھڑی کرتے۔ جبکہ ماں سے پوچھا جاسکتا ہے، بغیر الفاظ کے پوچھا جاسکتا ہے کیونکہ ماں اور اولاد کی گفتگو تو زبان پر لفظ اترنے سے کہیں پہلے شروع ہوتی ہے۔ یہ گفتگو الفاظ کی محتاج نہیں۔

باقی دنیا بچے کی پیدائش کے بعد ایک رشتہ جوڑتی ہے۔ ماں اس سے کئی ماہ قبل رشتہ جوڑے ہے، احساس، محبت، بوجھ، تکلیف سب ساتھ لیے۔ سخت کھیتی کی مزدوری، دن رات کا کسب، رات کی بے آرامی، لمبے دن کا کٹھن، ایک لمبی فہرست ہے۔ اور پھر ایک لمبا سفر آگے بھی ہے۔ ایک ننھی روح کو پروان چڑھانا، تربیت دینا، اوصاف نکھارنا۔ محبت، خلوص، الفت، چاہ، قربانی، برداشت سب کا تعلق ماں سے ہے۔ لیکن الفاظ کا دامن اس رشتے کو بیان کرنے سے خالی ہے کیوں کہ یہ رشتہ الفاظ کے اترنے سے کہیں پہلے بنتا ہے۔ الفاظ بے بس ہیں اور اس سے آگے جملے، مضامین سب تہی دامن، بیکار، کسی نہ کام کے۔ الفاظ یوں ہی لنگڑاتے، گھسٹتے، سر پر خاک ڈالتے اس رشتے کو بیان کرنے کی کوشش میں ہیں، ناکام کوشش۔

ماں کو کبھی بتانا نہیں پڑتا، اسے خود پتہ چل جاتا کہ آگے کیا آرہا ہے، بچہ خوش ہے یا پریشان ہے۔ اور یہ بچے چاہے کسی عمر کے بھی ہوں؛ عمر رسیدہ، سفید بال، سمندر پار، ماں سب جانتی ہے۔ ماں کا رشتہ الفاظ، فاصلوں، عمروں سب کی بندشوں سے کہیں آگے ہے۔ ماں سے پوچھا جاسکتا ہے، اسے بتایا جاسکتا ہے، لفظوں کے ساتھ یا لفظوں کی بیساکھی کے بغیر۔ گھر میں کیا پکا ہے کے سوال سے لے کر میں یہ نہیں کھاتا، سب کہا جاسکتا ہے۔

گورنمنٹ سنڑل ماڈل سکول میں جب میں تیسری جماعت میں پڑھتا تھا تو میری جماعت میں ایک لڑکا عثمان بھی تھا۔ نام تو اس کا عثمان تھا مگر سب ہم جماعت اُسے بودی شاہ کہتے تھے۔ بودی شاہ کا حلیہ عجیب تھا، سر پر مشین پھری ہوتی یا پھر چھوٹے بال مگر سر کے عین درمیان بالوں کی ایک لمبی لٹ ہوتی، گردن تک آتی لٹ۔ بودی شاہ باقی لڑکوں سے مختلف تھا۔ اُس زمانے میں میں نے اماں سے بودی شاہ کے بارے میں پوچھا۔ سوال ماوں سے ہی پوچھے جاتے تھے۔ اماں نے کہا کہ یہ منت کا بچہ ہے، اس کے سر کے درمیان میں جو لمبے بالوں کی لٹ ہے اسے بودی کہتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ اس کی ماں کئی سال لوگوں سے کپڑے مانگ مانگ کر اسے پہنائے گی، یہ منت کا بچہ ہے۔ مجھے سمجھ نہ آئی، عرصے بعد سمجھ آئی کہ مِنت سے کام نہ ہو تو لوگ مَنت مان لیتے ہیں۔

چوتھی جماعت میں جب ہمارا ہم جماعت عارف کرشن نگر میں پتنگ لوٹتے چھت سے گر کر مر گیا، تو میں نے اماں سے پوچھا، “اماں، کیا بچے بھی مر جاتے ہیں؟”۔ اماں نے مجھے اپنے ساتھ بھینچتے اداس لہجے میں کہا، “بیٹا، بڑی بڑی باتیں نہ کیا کر”۔ ان کی آواز میں وہ کرب تھا کہ اس دن کے بعد سے میں ڈر گیا کہ اگر میں مر گیا تو اماں کو کتنا دکھ ہوگا۔ یہ ڈر اتنا بھاری تھا کہ موت کا ڈر کہیں دور پیچھے رہ گیا۔

اماں چند سال پہلے دنیا سے چلی گئیں۔ سب خالی ہو گیا، گھر، محلہ، شہر، سب خالی ہوگیا۔ اگر مائیں مِنت سے واپس آتیں تو مسجدوں، مزاروں پر ہجوم مِنت گذاراں ہوتا۔ اگر منت سے کام چلتا تو شہر بودیاں رکھے، مانگے کے کپڑے پہنے لوگوں سے بھرا ہوتا۔ مگر کیا کریں اس معاملے میں مِنت یا مَنت کسی سے کام نہیں چلتا۔

آج جب کبھی مسکراتا ہوں تو نہ جانے کہاں سے اماں کا خیال ساتھ آجاتا ہے، لگتا ہے کہ وہ ساتھ مسکرا رہی ہیں۔ آج بھی بچپن کی مانند وہ میری شرارتوں میں شریک ہیں۔ انکی باتیں کئی مناظر کے ساتھ خود بخود آن ملتی ہیں۔ بچے کبھی فراڈ کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو اماں یاد آجاتی ہیں کہ ہر ماہ کے شروع میں وہ پورے مہینے کا جیب خرچ بچوں کو دے دیتی تھیں۔ بچے ایک ہفتے بعد پھر جیب خرچ لینے کے لیے آجاتے تھے کہ آپ نے تو اب تک اس ماہ کا جیب خرچ نہیں دیا۔ مسکرا اٹھتیں اور کہتیں کہ فراڈ لگاتے ہو، مگر پھر بھی کچھ نہ کچھ اور مل جاتا تھا۔ کوئی کسی امتحان میں کامیاب ہوتا ہے تو اسے مبارکباد دیتے اماں ساتھ آ کھڑی ہوتی ہیں کہ بچوں کی پڑھائی میں کامیابی ان کے لیے بہت خوشی کا باعث ہوتی تھی۔ رات سونے سے قبل کتاب پڑھتے اماں کی یاد ساتھ ہوتی ہے کہ وہ ہمیشہ رات سونے سے قبل کتاب پڑھ رہی ہوتی تھیں۔ کبھی کسی کو کسی کی مدد کرتے دیکھا تو اماں کی یاد بھاگ کر اپنا حصہ ڈالنے پہنچ جاتی ہے۔ کبھی مشکل وقت آیا تو اماں کندھے پر ہاتھ رکھے حوصلہ بڑھانے آن موجود ہوتی ہیں۔

سوچتا ہوں کہ کیا مائیں بھی مر جاتی ہیں؟

شاید نہیں۔ ماں کہاں اولاد کو چھوڑ کر جاسکتی ہے۔ موت تو بہت کمزور ہے کہ کسی ماں کو ہرا سکے۔ ماں یہیں ہے میرے آس پاس۔ انکی مسکراہٹ میرے ساتھ ہے، میرے لرزتے قدموں کو وہ آج بھی سنبھالا دیتی ہیں۔ وہ اب ایک فرد سے زماں میں بدل چکی ہیں۔ میرے اردگرد کسی شناسا یا اجنبی کے ہر شفقت، محبت، خیال، جدوجہد، بہادری کے عمل میں وہ جھلک رہی ہیں۔ آج بھی کہتے ہوئے، “بیٹا، بڑی بڑی باتیں نہ کیا کر”۔

موت تو بہت کمزور ہے کہ کسی ماں کو ہرا سکے۔
saewidow nufe

یہ بھی پڑھیں: جنازے، روح اور ماں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اظہر عزمی
Facebook Comments Box
MomMotherParntsمائیںماںماں باپمدروالدہوالدہ مرحومہوالدین
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
پاکستانی فلمیں جو ہم نے سینما ہال میں دیکھیں — اظہر عزمی
next post
عمران خان کیا کریں؟ —– احمد الیاس

Related Posts

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری

11/07/2026

شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول

11/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • غزل گائیکی اور آج کا پاکستان —- اقدس علی ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.