تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیکالم

ترکی کا پاکستان پر سفارتی حملہ اور ملائشیا کانفرنس — ظفر محمود شیخ

by دانش ڈیسک 21/12/2019
written by دانش ڈیسک 21/12/2019
72

ملائشیاء سے دیگر بہت سی خبروں کے ہمراہ جب یہ خبر آئی کہ ترک صدر رجب طیب اردوان نے پاکستان کی کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کے حوالہ سے ایک منفی بیان دیا ہے تو مجھے خبر کی صداقت پر یقین نہ آیا بلکہ میرا پہلا ردعمل یہ تھا کہ کسی دشمن نے برادر اسلامی ملک ترکی سے پاکستان کے محبت و انسیت کے تعلقات میں رخنہ ڈالنے کے لئے شرارت کی ہے۔ تصدیق ہونے پر گویا غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ ہم پاکستانی ترکوں سے بھی اتنی ہی محبت کرتے ہیں جتنی کسی اور سے۔ خصوصا ترکی کو سیکولرازم کے چنگل سے نکال کر اسلام اور اسلامی امت کے راستے پر ڈالنے پر ہم ان کی موجودہ قیادت سے خوش بھی ہیں۔ ترکوں کی خوش عقیدگی پاکستان میں بہت سے ہم عقیدہ لوگوں کے لئے اطمینان کا باعث ہے مگر ہم کبھی بھی یہ نہیں سوچ سکتے تھے کہ جدید ترکی کا بانی طیب اردوان پاکستان کو محض ایک کانفرنس میں شریک نہ ہونے پر یوں دنیا بھر میں خفیف کرنے کی کوشش کرے گا۔ کشمیر فلسطین و مسلم امت کے دیگر مسائل پر ترکی کے بے لاگ موقف کو بہت سے پاکستانی ستائیش کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور حکومتی سطح پر بھی اس کا اقرار کیا جاتا ہے مگر کبھی بھی پاکستانی حکومت اور عوام نے ترکی سے یہ مطالبہ نہیں کیا کہ ترکی بھارت سے اپنے کاروباری دوستی اور محبت کے تعلقات کو ختم کرے اور بھارت کا بائیکاٹ کرے۔

کیا یہ ایک کھلی حقیقت نہیں کہ طیب اردوان کے دور حکومت میں ترکی کے بھارت کے ساتھ تعلقات خصوصا نریندرا مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد بے حداضافہ ہوا۔ نہ صرف دونوں ممالک کے حکمرانوں اور اعلی سطحی حکومتی عہدیداران نے مسلسل دورے کئے بلکہ 8 پارلیمانی وفود کا بھی تبادلہ ہوا۔ سٹریٹجک تعلقات میں بڑھوتری کے ساتھ ٪22 اضافہ کے ساتھ ترکی اور بھارت کی تجارت 6۔8 ارب ڈالر ہو گئی۔ کیا لکھنؤ سب وے اور بمبئی سب وے اور جموں وکشمیر ریلوے ٹنل سمیت ہاؤسنگ کے430 ملین ڈالر سے زائد کے منصوبے ترک کمپنیاں نہیں چلا رہی ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان سیاحت میں بے پناہ اضافہ کے ساتھ ہندوستانیوں میں ہنی مون کیلئے ترکی جانے کا رحجان نہیں زور پکڑ گیا؟ کیا بھارتی بحریہ کیلئے 45000 ٹن وزنی فلیٹ سپورٹ شپس کہ تیاری کا 3۔2 ارب ڈالر کا کانٹریکٹ ترک فرم اناطولیہ شپ یارڈ کو نہیں ملا؟ کیا یہ جنگی سازوسامان پاکستان کے خلاف استعمال ہونے کا خطرہ نہیں؟ کیا ترکی نے پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کو 30 حملہ آور جنگی ہیلی کاپٹرز کی فروخت کیلئے 5۔1 ارب ڈالر کا معاہدہ نہیں کیا؟ بھارت اور ترکی کی بڑھتی ہوئی قربتوں خصوصا دفاعی شعبے کے تعاون سے براہ راست متاثر ہونے والا ملک پاکستان ہے لیکن پھر بھی جانتے بوجھتے پاکستان نے خاموشی اختیار کئے رکھی صرف اسی لئے کہ محبت کے تعلقات کو گزند نہ پہنچے۔

کیا بھارتی بحریہ کیلئے 45000 ٹن وزنی فلیٹ سپورٹ شپس کہ تیاری کا 3۔2 ارب ڈالر کا کانٹریکٹ ترک فرم اناطولیہ شپ یارڈ کو نہیں ملا؟ کیا یہ جنگی سازوسامان پاکستان کے خلاف استعمال ہونے کا خطرہ نہیں؟ کیا ترکی نے پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کو 30 حملہ آور جنگی ہیلی کاپٹرز کی فروخت کیلئے 5۔1 ارب ڈالر کا معاہدہ نہیں کیا؟ 

ابھی اسلام آباد پشاور موٹروے اور رینٹل پاورکے منصوبوں میں ترک کمپنیوں کے حوالے سے اڑتی ’گرد‘ بیٹھی  نہیں تھی کہ طیب اردوان نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ سعودی عرب پاکستان کو بلیک میل کر رہا ہے اور دھمکیاں دے رہا ہے کہ 40 لاکھ پاکستانیوں کو واپس بجھوا دے گا اور ان کے بدلے بنگلہ دیشی ورکرز کو لے آئے گا۔ اس جیسی لاعلمی پر مبنی بچکانہ بات سے خود طیب اردوان جیسے بڑے لیڈر کا قد کاٹھ بری طرح متاثر ہونے کا خدشہ ہے کہ وہ کیونکر اس حقیقت سے بے خبر ہیں کہ سعودی عرب میں موجود پاکستانی روزگار سے آگے بڑھ کر حرمین کے سپاہی ہیں۔ ان کے نزدیک حرمین کی حفاظت کے لئے جان نچھاور کرنا زندگی کا سب سے بڑا مقصد ہے وہ جن کی آنکھیں حرمین کے دیدار کے لئے ترستی ہوں ان کے لئے مملکت سعودی عرب مقدس و محترم ہے۔

بھارت اور ترکی کی بڑھتی ہوئی قربتوں خصوصا دفاعی شعبے کے تعاون سے براہ راست متاثر ہونے والا ملک پاکستان ہے لیکن پھر بھی جانتے بوجھتے پاکستان نے خاموشی اختیار کئے رکھی صرف اسی لئے کہ محبت کے تعلقات کو گزند نہ پہنچے۔

خود سعودی حکمران بھی پاکستانیوں کے اس جذبےکو جانتے اور اس کا احترام کرتے ہیں یہی وجہ ہے کی سعودی عرب، امارات، بحرین، کویت وغیرہ میں پاکستانی ورکرز کی تعداد میں ہمیشہ اضافہ ہی ہوا ہے۔ کیا حالیہ تاریخ میں سنہرے لفظوں سے لکھا سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا وہ جملہ نہیں سنا جو انہوں نے 19 فروری 2019 کو اسلام آباد کے دورہ کے دوران وزیراعظم عمران خان سے کہا تھا کہ آپ مجھے سعودی عرب میں پاکستان سفیر سمجھیں۔ یہ تعلقات باہمی دوطرفہ احترام اور ایک دوسرے کی ضروریات و مشکلات میں مدد دینے کے جذبے پر مبنی ہیں۔

طیب اردوان کی گفتگو میں دیا گیا تیسرا حوالہ سٹیٹ بینک میں رکھے سعودیہ و متحدہ عرب امارات کے مشترکہ 5 ارب ڈالر کے بارے میں ہے اور اگر انہیں ان کا کوئی اہلکار پاکستانی اخبارات میں گذشتہ برس چھپی خبروں کے بارے میں بتا سکتا تو ضرور انہیں یہ علم ہو جاتا کہ مذکورہ رقم صرف ایک سال کے لئے زرمبادلہ کے گرتے ہوئے ذخائر کو تقویت دینے کے لئے ہی اعلان کر کے دی گئی تھی جو اپنی مدت کی تکمیل پر واپس ہی کی جانی تھی اور اس رقم کے سبب پاکستانی معیشت پر پڑنے والے بہتر اثرات ونتائج کے سبب پاکستان کی درخواست پر ویسے بھی اس کی مدت میں نہ صرف اضافہ کیا جا چکا ہے بلکہ اس رقم کو سافٹ لون یعنی نرم شرائط قرض میں تبدیلی کا عمل بھی جاری ہے۔ اس پورے عمل میں پاکستان کی گردن مروڑنے کا کوئی شائبہ تک نہیں۔ کیا طیب اردوان صاحب یہ بتانا پسند کریں گے کہ انہوں نے مشکل وقت میں پاکستان کی کیا مدد کی؟ اور بھارت کے ساتھ کشیدگی اور جنگ کے حقیقی خطرہ کے جواب میں انہیں جنگی سازوسامان کیوں بیچا؟

طیب اردوان صاحب اور ان کا ملک تازہ ترین ’قول‘ کے بعد کہاں کھڑا ہے اس کا فیصلہ وہ خود کریں البتہ پاکستان کے ساتھ وہ اب مزید کتنے فاصلے پہ چلے گئے ہیں اس کا اندازہ انہیں جلد ہو جائے گا۔

طیب اردوان صاحب کی اطلاعات کا منبع غیر مصدقہ و غیر سنجیدہ ہے انہیں اپنے خبر نگاروں کو تبدیل کرکے ذرائع اطلاعات پر نظر ثانی کرنی چاہئے جو ان کی عالمی وسفارتی سبکی کا باعث بنے ہیں۔ ہاں ایک بات ضرور ہے کہ سعودی عرب سمیت ہمارے دیگر عرب و غیر عرب مسلمان ممالک کا اس کانفرنس کے پس پردہ مقاصد کے حوالہ سے سخت تحفظات تھے جن کا وہ برملا اظہار کرتے رہے ہیں۔ اور خود پاکستان کو بھی اسی طرح کے خدشات تھے مگر ہم نے ان کا اظہار نہ کیا۔ پاکستانی دفتر خارجہ نے جو مختصر مگر جامع وضاحتی بیان جاری کیا وہ ترکی کی خارجہ پالیسی کے لئے ایک تازیانہ سے کم نہیں جس میں پاکستان نے بالآخر یہ تسلیم کر لیا کہ اس کانفرنس میں عدم شرکت کی اصل وجہ اس کی امت کی تقسیم کا تاثر تھا۔ ترکی، ملائشیا وغیرہ کو حزیمت سے بچانے کی خاطر پاکستان نے کانفرنس میں عدم شرکت کا وضاحتی بیان جاری کرنے کی ذمہ داری خود ملائشیا پر ڈالی تھی تا کہ پاکستان کو خود یہ بات نہ کہنی پڑے کہ ہماری عدم شرکت کی وجہ یہ حقیقی خدشات تھے کہ دونوں ممالک اس کانفرنس کو اوآئی سی کے متبادل الگ پلیٹ فارم کی تشکیل کے لئے استعمال کرنا چاہتے ہیں اور پاکستان امت کی تقسیم کے بجائے اسے مزید مضبوط و متحد کرنے کا خواہش مند ہے۔

اب طیب اردوان کی گفتگو نے پاکستان کو مجبور کیا کہ وہ کھل کر یہ تسلیم کر لے کہ پاکستان اس معاملہ میں سعودی عرب و دیگر مسلمان ممالک کے ساتھ کھڑا ہے اور تقسیم کے کسی بھی عمل کی مخالفت کرتا ہے۔ خود طیب اردوان کا اوآئی سی سے ماورا کسی نئے پلیٹ فارم کے قیام کی خواہش کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ گویا انہوں نے سعودیہ، عرب ممالک، پاکستان اور دیگر مسلم ممالک کے خدشات کو درست ثابت کیا ہے۔ اور رہا جہاں تک سوال سعودی عرب کی امداد کا تو یہ کوئی نئی بات نہیں۔ ہر مشکل گھڑی اور سانحہ میں سعودی عرب پاکستان کے پیچھے کھڑا رہاہے۔ 2005 کا قیامت خیز زلزلہ اور 2010 کا ملک گیر تاریخی سیلاب اور ان مواقع ہر سعودی عرب کی بھر پور امداد کس کو بھولی ہے۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی باق نہیں کی جہاں خود بہت سے پاکستانی ان سانحات کو فراموش کر بیٹھے سعودی عرب کی امداد تاحال جاری ہے۔

طیب اردوان صاحب اور ان کا ملک تازہ ترین ’قول‘ کے بعد کہاں کھڑا ہے اس کا فیصلہ وہ خود کریں البتہ پاکستان کے ساتھ وہ اب مزید کتنے فاصلے پہ چلے گئے ہیں اس کا اندازہ انہیں جلد ہو جائے گا۔ میرے پاس ترکی کی پاکستان سے معلوم و نامعلوم محبتوں کی بے شمار تفصیلات ہیں جو میں جلد ہی پیش کروں گا تا کہ اردوان کی محبت کا دم بھرنے والوں کو بھی پتہ چلے کہ موصوف کتنے اسلام پسند اور پاکستان کی محبت میں مبتلا اسرائیل و بھارت و دیگر دشمنان پاکستان کے کتنے قریب ہیں۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ شائد طیب اردوان صاحب ماضی کے مرد بیمار ترکی کو آج بھی اپنے آپ کو حجاز مقدس کا والی سمجھتے ہیں اور اسی ذہنی کیفینت میں اپنی پالیسیاں اور بیانات جاری کرتے ہیں۔

مصنف ماہر عرب امور/ سینئر صحافی و تجزیہ کار ہیں۔

نوٹ: ادارہ کا مصنف کی رائے اتفاق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاک ترک رشتے کے ستر برس ۔۔۔ فاروق عادل
Facebook Comments Box
erduanTurkeyاردغاناردگاناردوانترکی بھارتکوالالمپور کانفرنسملایشیا کانفرنس
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
’’چک پیراں کا جسا‘‘ از بلونت سنگھ ——- علی عبد اللہ
next post
علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کا تصورِ تقدیر (حصہ اوّل) ——– افضل رضوی

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.