تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینتنقیدعلم و ادبعلمیکالم

“عظیم” ادیبوں کی بین الاقوامی بیماری —– فرحان کامرانی

by دانش ڈیسک 19/12/2019
written by دانش ڈیسک 19/12/2019
146

35کچھ سال قبل میں نے ترکی کے نوبل انعام یافتہ لکھاری ارہان پامک صاحب کی کتاب ”میں سرخ ہوں“ پڑھنے کی سعی کی مگر بڑا زور لگانے پر بھی سو، ڈیڑھ سو صفحات سے آگے نہ بڑھ سکا۔ میں انیسویں صدی کے یورپی ادب کا شائق ہوں اور دوستوئفسکی اور ٹالسٹائی کا ادب مطالعے میں رہا ہے۔ دونوں کے یہاں ہی کہانی بڑی جاندار ہوتی ہے اور انداز بیان کی جگہ بیان پر فوکس ہوتا ہے۔ مگر پامک صاحب کے یہاں صرف انداز ہی انداز تھا۔ اب ادب شائد کہانی نہیں بلکہ عرف عام میں صرف ”بھرم بازی“ ہی کا نام ہے۔ اسی لئے ان دور حاضر کے ادیبوں کے پاس سنانے کے لئے کوئی قصہ نہیں، بس کھودا پہاڑ نکلا چوہا کا ہی معاملہ ہر طرف نظر آتا ہے چاہے پامک صاحب کی بات کیجئے یا پاولو کوئیلو کی۔ مگر ان تمام ہی عہد حاضر کے ادیبوں کو اور بھی کچھ بیماریاں ہیں مثلاً ایک بیماری ہے خود کو ہر تعصب سے برتر ایک عظیم آدمی ظاہر کرنے کی اور دوسری بیماری ہے خود کو بین الاقوامی شخصیت بنا کر ہر قومیت اور ہر مذہب و نظریے کے حاملین کے لئے محض انسانیت کے نعرے پر مقبول بنانے کی۔

عہد حاضر کے ادیبوں کو ایک بیماری  خود کو ہر تعصب سے برتر ایک عظیم آدمی ظاہر کرنے کی ہے اور دوسری خود کو بین الاقوامی شخصیت بنا کر ہر قومیت اور ہر مذہب و نظریے کے حاملین کے لئے محض انسانیت کے نعرے پر مقبول بنانے کی۔

سلیم احمد نے لکھا ہے کہ تحریر کے تمام مسائل قاری کے تصور سے جنم لیتے ہیں۔ یہ انسانیت اور عظمت کے بزعم خود پیغمبر بنے ہوئے ادباء دراصل کسی تخیلاتی ”عالمی برادری“ کے لئے لکھتے ہیں۔ ایک ایسے خیالی انسان کے لئے کہ جس کا کوئی مذہب نہیں، وہ بس ”انسانیت“ پر یقین رکھتا ہے۔ ایک ایسا انسان جس کی کوئی قومیت نہیں، جس کا کوئی رنگ نہیں، کوئی نسل نہیں، کوئی شکل نہیں بلکہ یوں کہیے کہ وہ انسان ہے ہی نہیں۔ وہ کسی نوع کا ہیولا ہے۔ کوئی کہہ سکتا ہے کہ اس جدید ادب میں جو اتنی بہت سی روحانیت بھری جاتی ہے وہ دراصل اسی بے چہرہ مذہبیت کی صورت ہے کہ جس کی سرمایہ داری نظام کو ضرورت ہے۔ ایک ایسی روحانیت جو بدہیئت، ٹوٹے پھوٹے دور جدید کے رشتوں اور اخلاقیات کے جنازوں سے سجی جدید دنیا کے سڑے ہوئے چہرے پر غازے کا کام کر سکے۔

انسان تو تعصبات سے پاک ہو نہیں سکتا اور تجربہ بتاتا ہے کہ یہ لبرل، سیکیولر اور اشتراکی سارے ہی انسانی تاریخ کے خوفناک ترین نمونے ہیں۔ لبرل امریکا نے تاریخ انسانی میں جتنا خون بہایا اس کی مثال چنگیز خان اور ہلاکو، بھی کب ہیں؟ اور اشتراکی روس نے جس طرح کروڑوں انسانوں کا اپنے جغرافیے میں ہی قتل عام کر دیا اس کی دوسری مثال کیا ہے؟ پھر سارا ہی مغرب لبرل اور سیکیولر ہے مگر، ذرا کرسٹوفر کولمبس سے لے کر آج تک کے مغرب کے کارنامے تو دیکھئے۔ زمین کو انسانی خون سے سرخ کر دینے والے یہ لوگ اپنے آپ کو انسانیت کا پیغمبر گردانتے ہیں اور باقی ساری دنیا انکے نزدیک متعصب ہے، ظالم بھی ہے، اس میں عدم برداشت ہے اور یہ ہر ممکن تعصب سے پاک اور انسانیت سے لبریز ہیں۔

میاں ارہان پامک صاحب کی ”بین الاقوامی“ تحریر نہ پڑھ سکا اس لئے کہ میں اتنا عظیم نہیں مگر نے حال ہی میں ارہان صاحب کا تحریر کردہ ایک مضمون پڑھ لیا جو نیویارک ٹائمز میں شائع ہوا تھا، مضمون کا عنوان ہے I like your photographs because they are beautiful۔

اس انسانیت سے لبریز مضمون کا موضوع ایک آرمینی عیسائی فوٹوگرافر، آرا گولپر صاحب ہیں جو 1928ء میں پیدا ہوئے اور حال ہی میں دارفانی سے رخصت ہوئے۔ اس مضمون میں ارہان صاحب کو اتنے سماجی کربوں نے تڑپایا کہ مجھے مضمون پڑھنے کے بعد پین کلر کھانی پڑی۔ ان کے کرب کیا کیا تھے؟

جدید ادب میں جو اتنی بہت سی روحانیت بھری جاتی ہے وہ دراصل اسی بے چہرہ مذہبیت کی صورت ہے کہ جس کی سرمایہ داری نظام کو ضرورت ہے۔ ایک ایسی روحانیت جو بدہیئت، ٹوٹے پھوٹے دور جدید کے رشتوں اور اخلاقیات کے جنازوں سے سجی جدید دنیا کے سڑے ہوئے چہرے پر غازے کا کام کر سکے۔

٭  1942ء میں ترک حکومت نے ایک جابرانہ ٹیکس کا اطلاق کیا جس کا شکار غیر مسلم ترکوں کو بنایا گیا، آرا گولپر کے والد کو عیسائی ہونے کی وجہ سے اس کرب سے گزرنا پڑا۔

٭  1955ء میں استنبول کی استقلال اسٹریٹ پر واقع دکانوں پر مسلم ترکوں نے حملے کئے۔ اس لئے کہ وہ یونانی نژاد عیسائیوں کی تھیں اور 1960ء تک ہر یونانی وہاں سے جا چکا تھا (اوہان پامک صاحب کو لگتا ہے کہ یہ حملے بھی ترک حکومت کے اشارے پر کئے گئے ہوں گے تا کہ یونانیوں کی Ethnic cleansing کی جا سکے۔)

٭  وہ کبھی آرا گولپر صاحب سے آرمینیا میں کئے گئے عثمانی ترک فوج کے ہاتھوں ہوئے قتل عام پر بات نہ کر پائے اس لئے کہ ترکی میں اتنی آزادی کب ہے؟

٭  ترکی (خاص کر استنبول) پچھلے 15 سالوں کی ترقی سے بھی برباد ہو گیا کیونکہ؟ بس ایسے ہی۔۔۔ انسانیت سے لبریز ارہان پامک صاحب اپنے اس تاثر کی کوئی وجہ نہ بتا سکے اس لئے کہ یہ تاثر نہیں تعصب ہے؟

٭  ترکی میں تو لوگوں کو محض آرمینیا کے قتل عام کے تذکرے پر ہی قتل کر دیا جاتا ہے۔

یہ تو ہم جانتے تھے کہ غریب اور غیر مغربی ملکوں کے یہ لبرل دراصل مغربی لبرل کی کاربن کاپی بننے میں ہی اپنی زندگی صرف کرتے ہیں۔ یہ بھی ہم جانتے تھے کہ پاکستان لبرل کو پاکستان کی ہر بات میں عدم برداشت جھلکتی نظری آتی ہے اور وہ پاکستان سے اپنے دل کی گہرائیوں سے شدید نفرت کرتا ہے مگر یہ معلوم نہ تھا کہ یہ صرف پاکستانی لبرل کی بیماری نہیں بلکہ یہ لبرل کی بین الاقوامی بیماری ہے۔

چلئے پاکستانی لبرل پاکستان سے نفرت کرتا ہے تو بات سمجھ بھی آتی ہے کیونکہ لبرل کو ایک اسلام کے نام پر بننے والی ریاست ہضم نہیں ہوتی، مگر یہ ترک لبرل بھی اپنے ملک سے نفرت کرتے ہیں؟ اور آج کے ترکی سے نفرت کرتے تو بات سمجھ آتی اس لئے کہ اب تو وہاں اسلام پسندوں کی حکمرانی ہے مگر خاص سخت گیر سیکیولروں کے دور سے بھی نفرت؟

پامک صاحب کی خدمت میں عرض ہے کہ حضور ترکی کی تاریخ تو آپ بہتر جانتے ہیں مگر اتنا تو یاد ہو گا کہ مبینہ آرمینی قتل عام (جس کا درد آپ کو ادھ موا رکھتا ہے) جب پیش آیا تھا تب نوجوانان ترک کا ریاست پر عملاً قبضہ ہو چکا تھا اور بادشاہ عملاً بے بس تھا۔ آپ اس واقعے کو (اگر یہ ہوا تھا) عثمانی خلافت کے سر نہیں تھوپ سکتے اس لئے کہ اگر عثمانی عیسائیوں کے اتنے بڑے دشمن ہوتے تو آج یونان، مقدونیہ، بوسنیا، سربیا، جارجیا، کریمیا، کوسوو اور خود ترکی میں بھی ایک بھی عیسائی نہ زندہ ہوتا۔

دوسری بات یہ حضور کہ تب یونانی اور آرمینی اپنے ملکوں میں مسلمانوں کے ساتھ کیا کر رہے تھے جب یہ استقلال اسٹریٹ والا (مبینہ) واقعہ پیش آیا؟ آپ کو اس پر بھی بڑا درد ہے کہ سائپرس میں ترکی نے کیوں دخل اندازی کر کے ایک ترک حکومت قائم کی، مطلب ترکی کو چاہئے تھا کہ وہاں پر موجود ترکوں کو یونانی عیسائیوں کے ہاتھوں مرنے کے لئے چھوڑ دے؟

بزعم خود پیغمبر بنے ہوئے ادباء دراصل کسی تخیلاتی ”عالمی برادری“ کے لئے لکھتے ہیں۔ ایک ایسے خیالی انسان کے لئے کہ جس کا کوئی مذہب نہیں، وہ بس ”انسانیت“ پر یقین رکھتا ہے۔ ایک ایسا انسان جس کی کوئی قومیت نہیں، جس کا کوئی رنگ نہیں، کوئی نسل نہیں، کوئی شکل نہیں بلکہ یوں کہیے کہ وہ انسان ہے ہی نہیں۔

پھر جس ٹیکس کی طرف حضور نے اشارہ فرمایا ہے کیا وہ کسی مسلم پر نہ لگا تھا؟ ارہان صاحب اپنے ملک کی نفرت میں اس قدر ڈوب گئے ہیں کہ ان کی باتیں پاگل پن کی حد تک غیر منطقی ہو رہی ہیں۔ وہ ایسا ظاہر کر رہے ہیں کہ ترکی (جو ایک سیکیولر ریاست ہے) نے اپنے غیر مسلم شہریوں پر جزیہ ہی نافذ کر دیا تھا۔ ویسے راقم بڑے غور سے اس مضمون کو بار بار پڑھتا رہا کہ اتنے بہت سے درد اور کرب میں کہیں شائد راقم کو اورہان صاحب کے مبارک قلم سے ایک دو جملے اس غم کے بھی مل جائیں کہ ترکی میں اسلام کے بنیادی معاملات پر پابندی تھی۔ داڑھی رکھنے اور برقعہ پہننے پر پابندی تھی۔ مساجد بند کروا دی گئی تھیں، عدنان مندریس کو محض اس جرم میں وزارت عظمیٰ سے ہٹا کر پھانسی دے دی گئی کہ وہ اسلام پسند تھا۔ زیادہ پہلے نہیں محض 1999 ء میں ایک ترک ممبر پارلیمنٹ کی شہریت محض اس لئے چھین لی گئی تھی کہ وہ اسکارف لگا کر پارلیمنٹ آ گئی مگر یہ سب ہی کرب، یہ سارے درد پامک صاحب کی تحریر سے غائب ہیں۔

ان کو درد محسوس ہوتا ہے تو صرف آرمینی عیسائی آرا گولپر کا۔ ان کو درد محسوس ہوتا ہے تو استقلال اسٹریٹ کے یونانی دکانداروں کا۔ ان کو بالکل یاد نہیں کہ کس طرح ترکی اور البانی نژاد مسلمانوں کو ترکی کے پڑوس میں ہی سرب عیسائیوں نے محض 18 سال قبل تہ تیغ کیا۔ کتنا جبر بوسنیا اور کوسوو میں ہوا۔ انہیں یاد نہیں آیا اس لئے کہ ہمارے لبرلوں کو بھی کبھی کشمیر اور فلسطین یاد نہیں آتا۔ وہ بھی ہمارے ملک کے مسیحیوں اور قادیانیوں کے ہی مرثیے پڑھتے رہتے ہیں۔ اس لئے کہ خود کو گالی بکو تو مغرب سے پذیرائی ملتی ہے۔ اسی لئے ارہان پامک جی نے ادب کا نوبل انعام حاصل کیا اور ہماری لبرل چنائے ایکسپریس صاحبہ نے آسکر ایوارڈ۔ اب کشمیر یا فلسطین پر دستاویزی فلم بنانے سے تو یقینا ایسا نہ ہوتا ناں؟

پس ثابت ہوا کہ لبرلوں کی یہ بین الاقوامی بیماری بڑی کارآمد شے ہے۔ یہ مغرب سے نوٹ اور ایوارڈ دلواتی ہے۔ لبرل بھلے تعصبات سے پاک ہونے کے دعویدار ہوں مگر اندر سے تو لالچی لوگ ہی ہیں تو سمجھ لینا چاہئے کہ ان کا کرب دراصل روزی روٹی کے چکر کے سوا کچھ نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: زندگی ادب میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سلیم احمد
Facebook Comments Box
featuredارحان پاموکآرمینیارہان پامکاستنبولترکیسیکولرلبرلمیں سرخ ہوں
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
ڈھاکہ لینن گراڈ نہ بن سکا —– اورنگزیب وٹو
next post
کامیابی کا مغالطہ: ایک تبصرہ — سروش طارق

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.