تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیکالم

قانون دان اور لاقانونیت ——– اے خالق سرگانہ

by Editor Daanish 18/12/2019
written by Editor Daanish 18/12/2019
82

لاہور میں انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی پر وکلاء کے حملے پر بہت کچھ لکھا اور بولا جا چکا ہے لیکن یہ واقعہ ایسا ہے کہ اس پر جتنا لکھا جائے کم ہے۔ اِس کے بہت سارے پہلو ہیں اور اس کے اثرات دور رس ہوں گے۔ اس واقعہ سے بہت سی تنظیمیں، ادارے اور افراد ننگے ہو گئے ہیں۔ وکلاء کی دھونس دھاندلی سب کو پتہ ہے کہ جنرل پرویز مشرف کے دور میں اعلیٰ عدلیہ کے معزز ججوں کی بحالی کی تحریک کا ایک سائیڈ ایفیکٹ ہے کچھ لوگ اس سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ عدلیہ کی بحالی کوئی غیرملکی ایجنڈا تھا اور اس تحریک کے نتیجے میں قوم گھاٹے میں رہی لیکن درحقیقت ایسا نہیں وہ تحریک بہت اہم تھی اور یقیناً اُس کے مثبت اثرات بھی نکلے۔ سوال یہ ہے کہ جب کوئی معاشرہ اپنے مسائل مکالمے سے اور پارلیمنٹ جیسے اداروں کے ذریعے حل کرنے میں ناکام رہتاہے تو پھر اس قسم کی تحریکیں چلتی ہیں گویا یہ کوئی نارمل عمل نہیں ہوتا بلکہ جب کوئی زخم ناسور بن جاتا ہے تو پھر عوامی تحریک ایک قسم کی اینٹی بائیوٹک کا کام کرتی ہے ظاہر ہے اس کے کچھ سائیڈ ایفیکٹ تو ہوں گے اس سے پہلے پاکستان کی تاریخ دیکھیں تو جنرل ضیاء الحق نے اسلام نافذ کرنے کی کوشش کی اور پھر افغانستان سے روسی قبضے کے خاتمے کیلئے جہاد شروع کیا گیا تو بات دہشت گردی تک جا پہنچی جس سے پاکستان کو بے پناہ نقصان پہنچا۔ اس سے پہلے ذوالفقار علی بھٹو نے غریب آدمی اور مزدوروں کو حقوق کا شعور دیا تو اُس کے نتیجے میں مزدوروں کی یونینز نے صنعت و حرفت کو تباہ کر دیا۔ سرمایہ کاری رک گئی، پیداوار کر گئی غرضیکہ اُس کے نقصانات شاید اب تک پاکستان بھگت رہا ہے۔

اسی طرح وکلاء نے دھونس دھاندلی کو ایک پالیسی کے طور پر اپنا لیا ہے یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں لیکن میرے خیال میں اب انتہا ہو گئی ہے وکلاء نے عدالتوں میں ججوں کو بند کیا۔ فیصل آباد میں ڈپٹی کمشنر کو دفتر سے گھسیٹا، ملتان میں اس سلسلے میں اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے ساتھ بدتمیزی کی گئی۔ چند ہفتے پہلے ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ہسپتال میں ایک معمولی بات پر ڈاکٹر اور وکلاء میں تلخی ہوئی تو معاملہ یہاں تک پہنچا کہ ہسپتال کے عملے کے دو افراد کو ہتھکڑیاں لگا کر بار روم اعلیٰ حکام خود لیکر آئے جہاں انہوں نے پبلک میں وکلاء سے معافی مانگی یہ کون سے قانون کے تحت ہوا۔ حیرت ہے کہ ایسے واقعات پر کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ گڈگورننس کا وعدہ پتہ نہیں کہاں گم ہو گیا۔ اس واقعے کے بعد بھی وکلاء نے جارحانہ رویہ اپنایا ہوا ہے اور بظاہر ایسا لگتا ہے کہ اس معاملے میں بھی صلح کرا دی جائے گی کیونکہ پہلے تمام واقعات میں بھی کسی کو کوئی سزا نہیں ہوئی اور یوں وکلاء کی سوچ اور رویے میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ انہوں نے اب عدالتوں میں غیرمعینہ عرصے کے لئے ہڑتال کر دی ہے اور عدالتوں میں پولیس یا کسی اور ایجنسی کے داخلے پر پابندی لگا دی ہے۔ بنچ اور بار کے رشتے کو مدنظر رکھتے ہوئے نہ تواعلیٰ عدلیہ نے اس واقعے کا ازخود نوٹس لیا اور نہ ہی کسی دوسری عدالت سے انصاف کی توقع ہے۔ قانون کے پیشے سے تعلق رکھنے والی کچھ اعلیٰ شخصیات کے چہروں سے بھی نقاب اُتر گیا ہے۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ لطیف کھوسہ، رضا ربانی اور حامد خان جیسے لوگوں نے جو رویہ اپنایا ہے اس سے انہوں نے اپنا قد کافی چھوٹا کرلیا ہے۔ البتہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کی جرأت اور اُصول پسندی کی داد نہ دینا زیادتی ہوگی اس کے علاوہ بابر ستار اور اعتزاز احسن نے بھی جرأت مندانہ مؤقف اپنایا ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ وکلاء میں جو یہ خطرناک رحجان پختہ ہو چکا ہے کیونکہ حکومتیں اور معاشرہ اِسے نظرانداز کرتا رہا ہے۔ کیا اب اس صورتحال سے نکلنے کیلئے بھی کوئی تحریک چلانا پڑے گی؟ اور یہ تحریک کون چلائے گا شاید اس تحریک کا آغاز ہو گیا ہے۔ 55 نامور وکلاء جن میں عابد منٹو اور مخدوم علی خان جیسے لوگ شامل ہیں اس واقعے کی مذمت کی ہے اور بارکونسل نے کہا ہے کہ وہ اس معاملے میں سخت ایکشن لے۔ اب سول سوسائٹی کو بھی اس معاملے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ وکلاء پڑھا لکھا اور منظم طبقہ ہے اور اُن کے سامنے بانی پاکستان محمد علی جناح کی اعلیٰ مثال بھی موجود تھی اور معاشرے کو اُن سے بڑی توقعات تھیں کہ معاشرتی سطح پر اور حکومتوں کے غلط اقدامات کے خلاف سول سوسائٹی بند باندھے گی اور اس سول سوسائٹی میں وکلاء سب سے اہم طبقہ تھا لیکن ہماری بدقسمتی کہ وکلاء نے قانون، انصاف اور معاشرتی رواداری کے پرخچے اُڑا دیئے ہیں اب یہ تو طے ہے کہ یہ معاملہ معمول کی عدالتی کارروائی سے حل نہیں ہو گا۔ اس کے لئے ریاست کے تمام سٹیک ہولڈروں ، عدلیہ، پارلیمنٹ، حکومت اور فوج کو مل کرضروری اقدامات کرنے ہوں گے۔ شاید اس کے لئے کوئی قانون سازی کرنی پڑے۔ اگر اس دفعہ بھی معاملہ رفع دفع کرنے تک محدود رہا تو ملک میں انارکی پھیل جائے گی۔ معاشرے میں پہلے ہی عدم برداشت ، بدتہذیبی اور لاقانونیت پھیل چکی ہے ۔ کئی اور طبقے پہلے ہی اس راہ پر چل چکے ہیں۔ وکلاء کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر بھی ماضی میں اس قسم کی حرکتیں کر چکے ہیں اگرچہ اُن کا عمومی رویہ کسی طرح بھی اس واقعے کا جواز نہیں بن سکتا۔ سوسائٹی میں عام طور پر مہنگائی ، بے روزگاری اور انصاف میں غیرمعمولی تاخیر جیسے عوامل کے نتیجے میں کافی بے چینی پائی جاتی ہے۔ کہیں یہ بے چینی خطرناک شکل اختیار نہ کر لے۔لیکن افسوس کہ حکومت نے اس معاملے کو کوئی اہمیت نہیں دی ۔ وزیراعظم صاحب، وزیراعلیٰ پنجاب، چیف سیکرٹری اور آئی جی سے ایک میٹنگ کرکے غیرملکی دورے پرروانہ ہو گئے ہیں اس مسئلے کا حل پنجاب حکومت کے بس کی بات نہیں لگتی بلکہ حکومت نے اسے سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی ہے کہ یہ مسلم لیگ کی سازش ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ حامد خان جیسے قانون دان نے بھی اِسے ایک سازش قرار دے دیا ہے۔ یہ ایک لا ء اینڈ آرڈر کے مسئلے کو سیاسی رنگ دینے کی مذموم کوشش ہے۔

Facebook Comments Box
انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجیعدلیہلاہوروکلاءوکلاء گردی
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
Editor Daanish

دانش ڈیسک سروس

previous post
کوالالمپور کانفرنس، امت مسلمہ اور پاکستان ——– ظفر محمود شیخ
next post
بے شرم —- محمد اویس حیدر کا افسانہ

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.