تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیکالم

سولہ دسمبر خالی ہاتھ گزر گیا —— خرم شہزاد

by دانش ڈیسک 17/12/2019
written by دانش ڈیسک 17/12/2019
88

سولہ دسمبر کی تاریخ اور حوالے بدلنے لگے ہیں۔ اب سولہ دسمبر وہ نہیں ہوتا جو کچھ سال پہلے ہوتا تھا۔ اب ہمیں سولہ دسمبر سقوط ڈھاکہ کی یاد نہیں دلاتا بلکہ اے پی ایس کے شہدا کے نام ہو گیا ہے۔ شائد ایسا بھی ہو کہ سقوط ڈھاکہ کو روتے ہوئے ایک زمانہ گزر چکا تھا اور یہ رونا بھی بیکار ہی تھا کہ نہ ڈھاکہ واپس ملنے کی امید تھی اور نہ ہمیں ایسی کوئی چاہ تھی کہ ڈھاکہ پھر سے پاکستان کا حصہ بنے، ایسے میں اے پی ایس کا حادثہ ہمارے لیے تحفہ غیبی رہا ہے کہ اس بہانے سقوط ڈھاکہ کو بھلانے کا موقع ہاتھ لگا۔ یقیناکچھ سال بعد سقوط ڈھاکہ ہمارے لیے اٹھارہ سو ستاون کی جنگ آزادی جیسا ایک فضول واقعہ بن کر رہ جائے گا جس پر کبھی کبھی مذاکروں اور سیمینارز میں بات ہو گی، دانشوری جھاڑی جائے گی اور مسلمانوں کے زوال کے اسباب پر سیر حاصل بحث صرف اس لیے کی جائے گی کہ چائے لگنے میں ابھی کچھ وقت باقی ہے۔

سولہ دسمبر سے پہلے چھ ستمبر آتا ہے لیکن آج آدھے پاکستان کو صرف یہ پتہ ہے کہ چھ ستمبر کا دوسرا مطلب چھٹی ہوتا ہے۔ افواج یوم دفاع منا لیتی ہیں اور عوام چھٹی منا کر اگلے دن اپنے کام کاج پر نکل جاتے ہیں۔ ہمیں ایک لائن رٹی ہوئی ہے کہ چھے ستمبر کو بزدل دشمن نے ہم ہر حملہ کیا اور ہماری بہادر افواج نے اس کے دانت کھٹے کر دئیے۔ وہ لاہور میں ناشتے کا خواب لے کر نکلے تھے لیکن اس دھرتی کے بیٹوں نے اپنی مادر وطن کے دفاع کا حق ادا کر دیا اور ان کی مدد کو بہت سی غیبی قوتیں بھی شامل حال تھیں۔ کتنے لوگ جانتے ہیں کہ جنگ ستمبر کتنے دن تک جاری رہی۔ ہمارا اس جنگ میں کیا فائدہ ہوا اور دشمن کا کتنا نقصان ہوا۔ کتنے لوگ جانتے ہیں کہ جنگ شروع تو ہندوستان نے کی تھی لیکن اس کی وجوہات کیا تھیں اور پھر اس جنگ کا اختتام کیوں، کیسے اور کہاں پر ہوا۔ اس جنگ میں ہم نے کیا کھویا اور کون سا سبق حاصل کیا؟ ہم نے کہاں اپنی کمزوریوں کو نشان زد کیا اور کہاں نئے عزم کا اعادہ کیا؟ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم نے بس چند لائنوں کا رٹا تو لگایا ہوا تھا، جنگ ستمبر کی روح کو سمجھنے کی کبھی کوشش نہ کی جس کی وجہ سے ہمیں سولہ دسمبر دیکھنا نصیب ہوا۔

آپ، میں یعنی ہم سب چھے ستمبر کو بڑے بڑے جھنڈے لے کر باہر نکلتے ہیں، مادر وطن کے دفاع کے لیے بڑی بڑی بڑھکیں مارتے ہیں اور دشمن کی ایسی کی تیسی کرنے کی ان گنت خواہشوں کا اظہار کرتے ہیں۔ جنگ ستمبر کے واقعات کو اتنا بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں کہ کہیں کہیں تو حیرت اور بے یقینی کے ساتھ جھوٹ کی آمیزش میں سچ اور اصل بات کا پتہ ہی نہیں چلتا۔ ہم افواج پاکستان کی قربانیوں پر انہیں سلام پیش کرتے ہیں، اخبارات میں ان کے لیے خصوصی صفحات شامل ہوتے ہیں اور چینلز پر جنگ کے ہیروز کو بلایا جاتا ہے۔ ہم ان کی باتوں سے خون کو گرم کرتے ہیں اور پھر مشرق کی طرف منہ کر کے ہندوستان کو چھے ستمبر یاد دلانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ چھے ستمبر اور سولہ دسمبر کے درمیان صرف اور صرف چھے سال کا ہی تو فرق تھا۔

میں بچپن سے آج تک ان سوالوں کے جواب تلاش کر رہا ہوں کہ چھ ستمبر کے شیر دل جوانوں کو سولہ دسمبر کے روز کیا ہو گیا تھا؟ اگر خدا کی نصرت، مدد اور فرشتے چھے ستمبر کو اتر سکتے تھے تو سولہ دسمبر کو اس دھرتی پر ایسا کون سا گناہ ہو گیا تھا کہ ہر چیز نے ہم سے منہ موڑ لیا؟ چھ ستمبر کو دشمن کے دانت کھٹے کرنے والے آخر سولہ دسمبر کو اپنا وجود کیوں کٹوا کر آج بھی راضی خوشی بیٹھے ہیں؟ چھ ستمبر کو اپنی افواج کے لیے کھانے لے کر جانے والے اور چھتوں پر جہازوں کی ڈاگ فائٹ دیکھنے والی عوام سولہ دسمبر کو کہاں مر گئی تھی؟ چھے ستمبر کو اپنی زخمی فوجیوں کو خون دینے والوں کی قطاریں سولہ دسمبر کو حوصلہ دینے کے لیے بھی نظر کیوں نہیں آرہی تھیں؟ درجنوں سوالات ہیں جو میں آپ سب سے چھ ستمبر کو کرنا چاہتا تھا لیکن اب سولہ دسمبر گزرنے کے بعد کر رہا ہوں، صرف اس آس پر خاموش تھا کہ شائد اس سال ہم کچھ سوالوں کے جواب تلاش کر لیں گے اور اپنے گریبان میں جھانکتے ہوئے کچھ شرم محسوس کریں گے۔ کہتے ہیں کہ کامیابی کے ہزار باپ ہوتے ہیں لیکن ناکامی بانجھ ہوتی ہے، اس کی سب سے بہترین وضاحت چھے ستمبر اور سولہ دسمبر کا پاکستان ہے۔

ہمیں یہ ماننا پڑے گا کہ چھے ستمبر کو مادر وطن کا دفاع کرنے والا فوجی اگر سلوٹ کے لائق ہے تو سولہ دسمبر کے روز ڈیوٹی پر کھڑا فوجی بھی ہمارے سلام کا حقدار ہے۔ ہمیں یہ بھی ماننا پڑے گا کہ سولہ دسمبر کو ہمارے فوجی اتنے ہی جذبے اور ہمت سے لڑے تھے جتنی ہمت اور جذبہ ان میں چھے ستمبر کو تھا۔اگر چھے ستمبر کو انہوں نے قربانیاں دی ہیں تو سولہ دسمبر کو بھی وہ بیرکوں میں سکون کی نیند نہیں سو رہے تھے۔ اگر چھے ستمبر کو ہم جشن مناتے ہیں تو سولہ دسمبر کو بھی ہمیں اپنانا پڑے گا۔ ویسے ہم بھی عجب لوگ ہیں کہ جن کو چھے ستمبر کو سلام کرنے کو ہاتھ اٹھاتے ہیں، سولہ دسمبر کو انہی لوگوں پر انگلیاں بھی اٹھاتے ہیں لیکن سلام ہے پاک فوج پر کہ وہ کبھی سوال نہیں کرتی کہ چھ ستمبر ہو یا سولہ دسمبر وہ تو میدان جنگ میں تھے لیکن ان کے لیے روٹیاں اور راشن لانے والے کیا ہوئے؟ وہ جو چھتوں پر چڑھ کر جہازوں کی لڑائی دیکھنے والے تھے وہ جذبے اور لوگ کہاں گئے؟ وہ نہیں پوچھتے کہ زخمی تو ہم سولہ دسمبر کو بھی تھے تو خون دینے والے کہاں چھپ گئے؟ وہ نہیں پوچھتے کہ جو اسلام کا محافظ خاکی کفن پہنے چھے ستمبر کو سرحد پر کھڑا تھا وہی شخص تو سولہ دسمبر کو بھی ڈیوٹی پر تھا لیکن اس کی پشت کر وار کرنے والے لوگ کہاں سے آ گئے؟ سیاسی سماجی اور لسانی تقسیم پر اپنے ہی ملک کے لوگوں سے نفرت کرنے والے کہاں سے آ گئے؟ تقسیم جرمنی ایک ہو چکا ہے اور کوریا میں بھی سرحدیں کھولی جا رہی ہیں، افریقہ میں بھی ایسی مثالیں موجود ہیں لیکن کیا ہمارے لوگوں کے خواب میں بھی یہ خیال آیا ہے؟

سولہ دسمبر ہر سال اپنے ہاتھوں میں ایسے بہت سے سوالوں کا کشکول لیے چلا آتا تھا لیکن ہر سال اسے نا امید اور مایوس ہو کر لوٹنا پڑتا تھا، خیر اب تو اس سانحے کی لاش جلد ماضی کے کسی مزار میں دفنا دی جائے گی کیونکہ اب ہم نے اے پی ایس کو اپنا لیا ہے اور اگلے بہت سے سال ہم سقوط ڈھاکہ کی طرح اے پی ایس کا ماتم منائیں گے لیکن سبق پھر بھی نہیں سیکھیں گے۔

ایک اور سولہ دسمبر بالاخر گزر گیا، خالی ہاتھ۔۔۔ ہماری سوچ، ہماری ہمت اور ہماری باتوں کی طرح خالی۔

Facebook Comments Box
۱۶ دسمبرآرمی پبلک اسکولسانحہ اے پی ایسسقوط ڈھاکہ
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
اسمبلی کارروائی اور ۱۶ دسمبر ——- سعدیہ کیانی
next post
کوالالمپور کانفرنس، امت مسلمہ اور پاکستان ——– ظفر محمود شیخ

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.