تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیسیاسیکالم

وکیل راہنما مودی فارمولے پر ——– خرم شہزاد

by Editor Daanish 16/12/2019
written by Editor Daanish 16/12/2019
92

پاکستان ہمارا دشمن ہے اور دشمن کو ختم کرنا ہر حال میں ضروری ہوتا ہے۔ پاکستان ہمارے ملک میں دہشت گردی کا سبب ہے اور اسی پاکستان نے ہمارے خلاف ہر دور میں سازشیں کی ہیں۔ پاکستان کو ختم کر کے ہی ہندو توا کا جھنڈا بلند کیا جا سکتا ہے۔ آج بھارت کے پاس رافیل ہوتے تو پاکستان کو سبق سیکھا دیتے۔ آج پاکستان کو سبق سیکھانا بہت ضروری ہو گیا ہے کیونکہ جب تک پاکستان کو سبق نہ سیکھایا گیا ہمارے ملک میں تاج اور پارلیمنٹ پر حملے ہوتے رہیں گے، کشمیر میں مداخلت ہوتی رہے گی اور سرحدوں پر ہمارے جوان بھارت ماتا کی حفاظت کے لیے شہید ہوتے رہیں گے۔۔۔ یہ وہ شعلہ فشانی تھی جو الیکشن قریب آتے ہی بی جے پی کے راہنماوں نے شروع کی اور اس پر مودی جی اپنا رنگ جماتے چلے گئے۔ خطے میں کشیدگی اتنی بڑھ گئی کہ دو اٹیمی قوتیں ایک دوسرے کے آمنے سامنے اپنی پوری قوت سے کھڑی ہو گئیں۔ افواج جنگ کے میدانوں میں پہنچنے لگیں اور کسی بھی حادثے کو روکنے کے لیے پوری دنیا کو مداخلت کرنی پڑی ۔ اسی افراتفری میں الیکشن ہوئے اور مودی جی ہندوستان کے دوسری بار وزیر اعظم منتخب ہو گئے اور اس کے بعد حالات اس تیزی سے بدلے کہ اچھے اچھے تجزیہ کار اپنی انگلیاں دانتوں میں داب کر رہ گئے۔ یہ سب کیا ، کیوں اور کس لیے تھا اس پر بات کرنے کے بجائے ایک اور صورت حال دیکھتے ہیں۔

پاکستان میں ابھی کچھ دنوں میں بار کونسلز کے الیکشن ہونے والے ہیں۔ آپ عقل مند نہیں بلکہ مہا عقل مند ہیں تو صرف یہ بتا دیں کہ ان الیکشنز میں کھڑے نمائندے کس مینڈیٹ پر ووٹ لیں گے، وہ کون سے نعرے اور وعدے ہوں گے جس سے وہ وکلا کو قائل کریں گے کہ نہیں جی ہمیں ہی ووٹ دینا آپ کے لیے بہت ضروری ہے۔ گیس بجلی پانی، روٹی کپڑا مکان، نوکری اور تنخواہ جیسا کوئی بھی نعرہ تو یہاں لگایا نہیں جا سکتا تو پھر آخر ایسی کیا وجہ ہو کہ ووٹ دیا جائے؟ یہاں سے کہانی مودی کی الیکشن مہم کے ساتھ جڑتی ہے کہ بھارت میں آج بھی گیس بجلی پانی کے ساتھ ساتھ روٹی کپڑا اور مکان کی باتیں تو ایک طرف کروڑوں لوگوں کو لیٹرین کی سہولت دستیاب نہیں۔ لاکھوں لوگ آج بھی فٹ پاتھوں پر نہ صرف رہتے اور سوتے ہیں بلکہ ہزاروں روز انہی فٹ پاتھوں پر مرتے بھی ہیں۔ ایسے ہندوستان میں کوئی بھلا مودی جی کو کیوں اور کس لیے ووٹ دے گا؟ اور دونوں الیکن مہمات کا ایک ہی جواب تھا۔۔۔ سورکشا یعنی حفاظت یعنی ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہندوستان نے جنگ کا ماحول بنایا اور مودی جی نے افواج کو سرحدوں پر لا کر سارے ہندوستان کو یقین دلایا کہ وہ ان کی حفاظت کے لیے پاکستان یعنی ایک اٹیمی ملک کے ساتھ جنگ کرنے سے بھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔ بالکل ایسے ہی ڈاکٹروں کی ایک وڈیو کے بعد وکلا کے نمائندوں نے دھواں دھار تقریریں کرتے ہوئے سب کو یقین دلایا کہ یہ تو آپ سب کی بے عزتی ہوئی ہے اور اس بے عزتی کا بدلہ لیا جائے گا اور اس بدلہ لینے میں ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ مودی کو اس بہادری پر خوب داد ملی اور وہ الیکشن جیت گئے۔ آپ بھی ہسپتال حملے کی وڈیوز دیکھ لیں، کئی نمائندے اس دہشت گردانہ واقعے کی قیادت کر رہے تھے اور باقی وکلا کو یہ باور کروایا جا رہا تھا کہ ڈاکٹروں نے آپ سب کی بے عزتی کی ہے اور ہم آپ کی اس بے عزتی کا بدلہ لینے کے لیے آپ کے ساتھ ہیں۔ لگا دو پولیس وین کو آگ، توڑ دو ہسپتال کے شیشے اور نکال کے باہر لے آو ڈاکٹروں کو۔۔۔ اور یقینا اب ہونے والے الیکشن میں یہ قیادت اپنی اسی کامیاب حکمت عملی کی وجہ سے کامیابی حاصل کر ہی لے گی۔

سوال یہ نہیں ہے ہم نے اپنے دشمن سے کیا سیکھا ہے لیکن سوال یہ ضرور ہے کہ کیا اب ہمارے معاشرے میں یہی چلن عام ہو گا؟ کیا اب معاملات اور مطالبات اسی طرح سے پیش کئے جائیں گے اور منوائے جائیں گے؟ اور کیا اب بدلے لینے کے لئے جتھہ طرز پر کام ہو گا ؟ کیا ایک ڈاکٹر کی یاوہ گوئی کا بدلہ سبھی ڈاکٹروں سے لیا جائے گا؟ کیا ایک وکیل قانون کی تعلیم صرف اس لیے حاصل کرئے گا کہ جب چاہے جیسے چاہے قانون کو اپنی مرضی کے مطابق استعمال کر سکے اور روند سکے؟ یقینا ڈاکٹر اور وکیل آج اپنی اپنی طاقت کے نشے میں ہیں کیونکہ دونوں گروہ ہی حکومت سے ٹکرا کر اپنی طاقت کا مظاہر ہ کر چکے ہیں لیکن کیا معاشرے ایسے چل سکتے ہیں؟ آپ اس معاشرے میں رہتے ہیں اور آپ کے بچوں نے بھی اگر اسی معاشرے کا حصہ بننا ہے تو ان سوالات پر ضرور غور کریںکیونکہ الیکشن لڑنے والوں کے ہاتھ تو کامیابی کا فارمولا لگ چکا ہے اور اس کے کامیاب استعمال اور نتائج سے بھی وہ آگاہ ہیںمگر چھری آپ کے گلے پر ہے لہذا کچھ سوچنے کا کام اب آپ کو ہی کرنا ہے تو پانی سر سے گزرنے سے پہلے سوچنا شروع کر دیں کہ ایسا جو چل رہا ہے وہ کیوں چل رہا ہے اور کب تک چلے گا ۔

Facebook Comments Box
بھارتبھارت ماتاپاکستانپی آئی سیڈاکٹرکشمیرلاہور پی آئی سی حملہلاہور وکلاء گردیمودینیرندر مودیہندوستانوکالتوکالت گردیوکیل
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
Editor Daanish

دانش ڈیسک سروس

previous post
سیمنتنی اُپدیش، تانیثی ادب کی ایک زرّیں دستاویز ——– نعیم الرحمٰن
next post
’’تاریخِ گُم گَشتہ‘‘ مائیکل ہیملٹن مورگن ۔۔ باب چہارم حصہ سوم —- ترجمہ و تلخیص: ناصر فاروق

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.