تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
شعور کی انارکی: یہ سب ہوا کیسے؟ —...
شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...
ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری
شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول
ابریشم از سلمان باسط — ڈاکٹر بی بی...
محمد حفیظ خان کی فکشن نگاری —  ڈاکٹر...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینعلم و ادبکتابوں پر تبصرے

اسلام اور سیاست، بولتی تاریخ ——– قیوم نظامی

by دانش ڈیسک 30/11/2019
written by دانش ڈیسک 30/11/2019
86

اسلام اور سیاست کا موضوع تاریخ میں دلچسپ اور تلخ رہا ہے۔ قدامت پسند اور روشن خیال افراد کے درمیان معرکہ آرائی جاری رہی اور جو آج تک جاری ہے جسے حل نہیں کیا جا سکا۔ برصغیر کی سیاست اگر بااصول اور بااخلاق ہوتی تو اسلام اور سیاست کا تنازعہ پیدا نہ ہوتا۔ اسلام میں شدید نوعیت کی فرقہ بندی نے بھی مذہبی افراد کے مقدمے کو کمزور کیا ہے۔ ترقی پسند افراد کا خیال ہے کہ جمہوری سیاست میں اسلام کی مداخلت سے مسائل میں اضافہ ہوتا ہے۔ ملکی ترقی جمود کا شکار ہو جاتی ہے۔ تاریخ میں جب جب ترقی پسند شخصیات نے مسلمانوں کی ترقی اور خوشحالی کا نسخہ پیش کیا قدامت پسندوں نے اسلامی کارڈ استعمال کر کے اس نسخے کی مخالفت کی۔ شبلی نعمانی نے سرسید احمد خان سے ملاقات کرکے ان کی بعض پالیسیوں سے اختلاف بھی کیا۔ انہوں نے دارالعلوم ندوہ جاکر علماء کو باور کرانے کی کوشش کی کہ مدارس کے روایتی نصابات میں تبدیلیوں کی جدید زمانے کے مطابق ضرورت ہے۔ لہذا وہ مدارس میں انگریزی کی تعلیم بھی شامل کریں تا کہ جدید زمانے سے کٹ کر نہ رہ جائیں دارالندوہ کے علماء نے شبلی نعمانی کے مشوروں کو مسترد کردیا بلکہ ان پر سرسید احمد خان اور برطانوی سامراج کے ایجنٹ ہونے کا الزام لگایا اور ان کے خلاف کفر کا فتویٰ بھی جاری کر دیا۔ (حوالہ سلیمان ندوی: حیات شبلی نعمانی صفحہ نمبر 311) تاریخ نے ثابت کیاکہ سرسید احمد خان اور شبلی نعمانی کا موقف درست تھا۔ اگر سرسید احمد خان علی گڑھ یونیورسٹی کی بنیاد نہ رکھتے تو قائداعظم کے لئے آل انڈیا مسلم لیگ کی تحریک پاکستان کو فعال منظم اور متحرک بنانے کے لئے پڑھے لکھے افراد دستیاب نہ ہوتے۔ تحریک پاکستان کے دوران علی گڑھ یونیورسٹی کا بے مثال کردار سب کے سامنے ظاہر اور باہر ہے۔

شاہ ولی اللہ کی تحریک ایک شاندار تحریک تھی جس میں قدامت پرست اور ماڈرن لوگ بھی شامل تھے۔ سرسید احمد خان اور مولانا قاسم نانوتوی دونوں شاہ ولی اللہ کے شاگرد تھے۔ سرسید احمد خان نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی بنیاد رکھی اور مسلمان قوم کو انگریزی سیکھنے کی تلقین کی جبکہ مولانا قاسم نانوتوی نے دارالعلوم دیوبند کی بنیاد رکھی، دونوں ادارے مسلمانوں کی تعلیم و تربیت کے لیے بنائے گئے تھے مگر دونوں کے درمیان بنیادی فرق یہ تھا کہ دارالعلوم دیوبند قدیم روایات کا پابند تھا جبکہ کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی جدید علوم کی تعلیم دیتی تھی۔ تحریک پاکستان کے دوران جب پاکستان کے حصول کا مطالبہ سامنے آیا تو ان دونوں اداروں میں فکری اور نظریاتی تصادم شروع ہو گیا۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے قائداعظم کا مکمل ساتھ دیا اور پاکستان کو مسلمانوں کے مستقبل کے لئے لازم قرار دیا جبکہ دارالعلوم دیوبند کے بانیوں کا یہ خیال تھا کہ قیام پاکستان کے بعد مسلمان تقسیم ہوں گے، جس کے نتیجے میں اسلام کمزور ہوگا لہٰذا انہوں نے قیام پاکستان کی مخالفت کی اور متحدہ ہندوستان کی وکالت کرتے رہے۔

اے ایچ اصفہانی نے اپنی کتاب میں ایک دلچسپ واقعہ بیان کیا ہے کہ 1936ء میں دارلعلوم دیوبند کے علماء مولانا حسین احمد مدنی اور مفتی کفایت اللہ نے مسلم لیگ کے پارلیمنٹری بورڈ کے اجلاس میں شرکت کی اور قائد اعظم کو خراج تحسین پیش کیا۔ اجلاس کے اختتام پر انہوں نے دیوبند ہیڈ آفس سے مسلم لیگ کی انتخابی مہم چلانے کے لیے پچاس ہزار روپے کا مطالبہ کیا، قائداعظم نے معذوری کا اظہار کیا دونوں جید علماء مسلمانوں کے قومی مقصد کو نظر انداز کرکے کانگریس میں شامل ہوگئے۔جماعت اسلامی کے امیر مولانا ابو الاعلیٰ مودودی نے تحریک پاکستان کی فکری اور نظریاتی بنیادوں پر مخالفت کی۔ مولانا مظہر علی اظہر نے بدقسمتی سے قائد اعظم پر کافر اعظم کا فتویٰ جاری کر دیا۔ مولانا شبیر احمد عثمانی، مولانا ظفر احمد عثمانی، پیر صاحب آف مانکی شریف، پیر جماعت علی شاہ ، مولانا عبدالستار نیازی، خواجہ ناظم الدین تونسہ شریف ملتان، مولانا عبدالحنان ابوالحسنات نے تحریک پاکستان میں سرگرم اور پُرجوش کردار ادا کیا۔ قائداعظم مسلمانوں کے لیڈر تھے لہٰذا انہوں نے قرآن پاک اور سیرت کے سنہری اور لازوال اصولوں کو بہت اہمیت دی مگر ان کی یہ پختہ رائے تھی کہ بدقسمتی سے اسلام چونکہ مختلف فرقوں میں بٹ چکا ہے، اس لیے اگر اسلام کو سیاست میں شامل کیا گیا تو اس کے نتیجے میں تحریک پاکستان کمزور ہو سکتی ہے اور ایک قوم کا مقدمہ کمزور پڑ سکتا ہے۔ چنانچہ انہوں نے اسلام کے بارے میں بڑا محتاط رویہ اختیار کیا۔ جب مسلم لیگ کے فنانسر راجہ صاحب محمودآباد نے قائد اعظم سے درخواست کی کہ وہ ڈھاکہ میں ہونے والی آل انڈیا شیعہ کانفرنس کی صدارت کریں تو قائداعظم نے انکار کر دیا۔ اسی طرح جب گاندھی نے مذہب کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا اور تحریک خلافت کی قیادت سنبھال لی جس میں اس وقت کے اکثر مذہبی راہنما شامل ہو گئے مگر قائد اعظم نے اس تحریک میں شامل ہونے سے انکار کردیا اور تاریخ نے ان کے اس فیصلے کو درست ثابت کیا۔

پاکستان کے نامور مصنف محقق اور دانشور پروفیسر فتح محمد ملک نے “Islam versus Islam” کے نام سے ایک دلچسپ اور یادگار کتاب لکھی ہے۔ جسے سنگ میل پبلی کیشنز لاہور نے شائع کیا ہے۔ جس میں انہوں نے اسلام سیاست اور سوشل ازم کے حوالے سے تحریک پاکستان اور قیام پاکستان کی دلچسپ تاریخ رقم کی ہے۔ ان کی کتاب کا مرکزی خیال یہ ہے کہ جن مذہبی رہنماؤں نے قیام پاکستان کی مخالفت کی وہ قیام پاکستان کے بعد اس بنیاد پر ریاست کے اجارہ دار بن گئے کہ چونکہ پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا ہے، اس لیے اس اسلامی ریاست کو چلانے کی ذمہ داری ان کی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کے حوالے سے ان کو مذہبی رہنما کے طور پر منتخب کیا ہے۔ یہ بھی ایک دلچسپ امر ہے کہ قیام پاکستان کے بعد پاکستان کی حمایت کرنے والے اور مخالفت کرنے والے دونوں گروہ اسلام کے نام پر ایک ہوگئے اور انہوں نے لیاقت علی خاں کی شہادت کے بعد سول ملٹری بیوروکریسی کے ساتھ مل کر ریاستی نظام کو جوں کا توں رکھنے کے لیے اسلام کا نام استعمال کیا اور یہ فتوے جاری کیے کہ سوشلزم اسلام کے خلاف ہے لہٰذا قائداعظم علامہ اقبال اور لیاقت علی خان کا نظریہ ریاست پاکستان کے اندر نہیں چل سکتا۔ حیران کن امر یہ ہے کہ جن مذہبی رہنمائوں نے پاکستان کی مخالفت کی انہوں نے قیام پاکستان کے بعد اپنی غلطی کا اعتراف بھی نہ کیا۔ پروفیسر فتح محمد ملک لکھتے ہیں کہ قائد اعظم نے علماء کو انتخابات میں شکست دی اور عوام نے قائد اعظم کے نظریہ ریاست کو تسلیم کیا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے 1970ء کے انتخابات میں مذہبی جماعتوں کو شکست دی لاہور سے ڈاکٹر جاوید اقبال ذوالفقار علی بھٹو اور میاں طفیل محمد بابائے سوشل ازم شیخ محمد رشید سے انتخابات ہار گئے۔ پے در پے انتخابی شکستوں کے بعد بھی مذہبی جماعتیں سٹیٹس کو کی حمایت چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہیں۔ پروفیسر فتح محمد ملک کی نئی کتاب پڑھنے کے قابل ہے۔ انہوں نے اپنے اس بیانیے کو تاریخی شواہد اور مستند حوالوں کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ لیاقت علی خان نے اپنے امریکی دورے کے دوران اعلان کیا تھا کہ پاکستان نہ ہی کیپیٹل ازم اور نہ ہی سوشلزم کے بلاکوں میں شامل ہوگا بلکہ پاکستان اپنی آئیڈیالوجی کے مطابق اسلامی سوشلزم کے راستے پر چلے گا مگر افسوس سکندر مرزا اور غلام محمد نے امریکی بالادستی کو قبول کرنے کا فیصلہ کر لیا اور مذہبی رہنماؤں نے ان سے تعاون کیا۔ پروفیسر صاحب کے مطابق قائداعظم علامہ اقبال اور لیاقت علی خاں تینوں اسلامی سوشلزم کے راستے پر چلنا چاہتے تھے۔ ان کے نظریے سے آج تک انحراف کیا جا رہا ہے اور پاکستان مختلف نوعیت کے مسائل کا شکار ہے۔

Facebook Comments Box
featuredاسلاماسلام ورسز اسلامسر سید احمد خانشاہ ولی اللہعلامہ محمد اقبالفتح محمد ملکقائد اعظم محمد علی جناحقیوم نظامیمولانا ابو الکلام آزادمولانا مودودی
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
پاکستان لال عشق کی حویلی ہے —— خرم شہزاد
next post
اُردو ادب میں جدید تنقیدی رویے ———- عامر سہیل

Related Posts

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری

11/07/2026

شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول

11/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • غزل گائیکی اور آج کا پاکستان —- اقدس علی ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.