تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینعلم و ادبمزاح

ٹِین عورتیں ٹِین کہانیاں —— لالہ صحرائی کا طنزیہ شاہکار

by لالہ صحرائی 23/11/2019
written by لالہ صحرائی 23/11/2019
87

میں والدین کی اکلوتی اولاد تھی، اس بات سے آپ بخوبی یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ میرے والدین میں کتنیک انڈرسٹینڈنگ تھی، یا امی میرے ابو کو کتنیک لفٹ کراتی تھی، یہی وجہ ہے کہ امی اس وقت بھی میری ہم عمر ہی لگتی ہیں۔

اکلوتی ہونے کا کچھ کریڈٹ مجھے بھی جاتا ہے جس کے ضدی پن نے والدین کو میرا کوئی شریک پیدا کرنے کا خاطرخواہ موقع فراہم ہی نہیں کیا۔

امیر کبیر ہونے کی وجہ سے میری پرورش بھی بہت نازونعم میں ہوئی تھی، یعنی میرے لئے گھر میں کئی قسم کی بلیاں اور لمبے بالوں والے چھوٹے چھوٹے کتے رکھے ہوئے تھے۔

والد صاحب مجھے باہر سے اعلیٰ تعلیم دلوانا چاہتے تھے لیکن مجھے پڑھنے لکھنے سے کوئی لگاؤ نہیں تھا اسلئے انٹر کے بعد میں نے کالج جانا چھوڑ دیا، ابو کو یہ سن کر بہت دکھ ہوا کہ اپنی امی کی طرح یہ بھی اب جاہل ہی رہ جائے گی لیکن امی نے انہیں سمجھا بجھا لیا کہ لڑکی نے بہت سا پڑھ لکھ کے بھی تو گھر ہی سنبھالنا ہوتا ہے، میں نے انپڑھ ہونے کے باوجود بھی آپ کا گھر ایسے سنبھال رکھا ہے کہ آپ کے رشتے دار تو کیا یہاں چڑیا بھی پر نہیں مارسکتی بلکہ آپ خود بھی کبھی پھڑپھڑا نہیں سکتے۔

عورت کا بنیادی فرض یہی ہوتا ہے کہ مرد کو سکون دے، میں نے آپ کو اتنا سکون دیا ہے کہ اس ٹھنڈک کی وجہ سے ہی دوسرا بچہ بھی نہ ہوسکا، امی کی یہ بات سو فیصد سچ تھی اسلئے ابو کی سمجھ میں بھی آگئی چنانچہ انہوں نے میری شادی کا فیصلہ کرلیا اور سب ملنے جلنے والوں سے کہہ دیا کہ کوئی امیر کبیر بگڑا ہوا بچہ نظر میں ہو تو بتانا اسے بےبی سے ایکدم سیدھا کروا دیں گے۔

ایک دن کسی پارٹی میں ابو کی ملاقات ان کے ایک پرانے دوست سے ہوئی، انکل نے بتایا کہ بےبی کے رشتے کیلئے اب کہیں جانے کی ضرورت نہیں کیونکہ ان کا بیٹا لندن میں پڑھنے گیا تھا اور وہیں سیٹل ہو گیا ہے، لیکن وہ ایک مشرقی لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہے، پھر انکل اور ان کی مسز ایکدن ہمارے گھر آئے اور رشتہ پکا کر گئے، ان کا کہنا تھا کہ فون پر نکاح ہوگا، پھر امیگریشن کے سارے کاغذات بنیں گے تاکہ شادی کے فوراً بعد وہ دلہن کو لندن لے جا سکے۔

انکل بھی بہت امیر کبیر تھے یعنی کتے بلیوں کی ان کے گھر میں بھی کوئی کمی نہ تھی، بالآخر ایک دن نادر آئے اور میری رخصتی ہوگئی، جب تین ٹرک جہیز کے ان کے گھر پہ اترے تو سب کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں، دو ٹرکوں میں تو صرف میرے پانچ سو جوتے، کتے، بلیاں، آسٹریلین طوطے، کچھ بولنے والے میاں مٹھو اور کچھ دیگر قسم کے پَیٹس بھرے ہوئے تھے۔

سارا دن شادی کی گہما گہمی میں نکل گیا اور سہاگ رات آگئی مگر رات گئے تک نادر کا کچھ اتا پتا نہیں تھا، میں نے سوچا وہ دوستوں میں گھرے بیٹھے ہوں گے اور کہاں جائیں گے، بالآخر آنا تو یہیں ہے، لیکن جب رات ڈھلنے لگی تو مجھے تشویش کی لہر دوڑ گئی، میں ابھی سوچ ہی رہی تھی کسی سے کہہ کے نادر کو بلوا لوں کہ اتنے میں دروازہ کھلنے کی آواز آئی اور میں نے جھٹ سے گھونگھٹ نکال لیا۔

جب کافی دیر گزرنے کے بعد بھی اس نے گھونٹ نہ اٹھایا تو میں نے سوچا کہ وہ لندن ریٹرن ہے، ہوسکتا ہے اسے گھونگھٹ اٹھانا نہ آتا ہو اسلئے میں نے اسے گھونگھٹ اٹھانے کی دعوت دیدی مگر جب کوئی جواب نہ آیا تو میں نے خود ہی تھوڑا سا گھونگھٹ اٹھا کے دیکھا تو وہ صوفے پر سو رہا تھا۔

میں نے سوچا، ابھی کل ہی تو اتنا لمبا سفر کرکے آیا ہے، آج شادی تھی اسلئے بیچارہ بہت تھک گیا ہوگا مگر جب کمرے کی خاموشی سے مجھے وحشت ہونے لگی تو میں نے اسے جگا کے کہا، مجھے پیاس لگی ہے اور گھٹن بھی ہو رہی ہے۔

اس نے مجھے پانی کا گلاس اور سکون کی دو گولیاں کھانے کو دیں اور پھر سو گیا، اگلے دن ولیمے کے بعد جب ہم دوبارہ کمرے میں آئے تو اس نے پھر مجھے دو گولیاں اور پانی کا گلاس دے کر کہا کہ اسے کھا کے سکون سے سو جانا اور وہ خود بھی صوفے پر سو گیا۔

آپ کو پتا ہونا چاہئے کہ دو راتیں خالی گزر جانا دلہن کیلئے بدشگونی کی علامت ہوتی ہے اسلئے دو راتیں تو میں نے جیسے تیسے کاٹ لیں مگر اگلے دن صبح اٹھتے ہی شور مچا دیا کہ میرے ممی پاپا کو بلاؤ، میری ساس مجھ سے مسئلہ پوچھتی رہی مگر میں نے ایک ہی رٹ لگائے رکھی کہ بس میرے ممی پپا کو فوراً بلاؤ، وہ جب آگئے تو میں نے انہیں بتایا کہ اس بندے کو مجھ سے کوئی دلچسپی نہیں اگر وہاں جا کے بھی اس نے میرے ساتھ ایسا ویسا سلوک کیا تو میں بیگانے دیس میں کیا کروں گی؟

ابو نے کہا کہ ہمارا سامان واپس کرو، اب لڑکی یہاں نہیں رہے گی نہ لندن جائے گی، مگر سسرال والے اس بات پر راضی نہ تھے، ابو نے کمشنر کو بلوا لیا تو لڑکے نے انہیں بتا دیا کہ اس شادی سے اسے کوئی دلچسپی نہیں، یہ شادی اس کے والدین نے زبردستی کرائی ہے، اس کے بعد کمشنر صاحب کے دباؤ سے انہیں سامان بھی واپس کرنا پڑا اور لڑکے نے حق مہر کا ایک کروڑ روپیہ بھی ادا کر دیا، ابو نے ٹرانسپورٹ کمپنی کو فون کیا تو وہ میرے جہیز کا سارا سامان بھی اٹھا کے واپس لے گئے۔

جہاں مجھے اس شادی کے ناکام ہونے کا ملال تھا وہاں اس بات کی خوشی بھی تھی کہ کچھ کئے بغیر ہی میں ایک کروڑ روپے کی بلاشرکت غیرے مالک بھی بن گئی تھی، یہ خوشی اس ناکامی کا غم بھلانے کیلئے بہرحال کافی تھی۔

پھر دو سال بعد ایک نیا رشتہ آیا تو دھوم دھام سے دوبارہ میری شادی ہوگئی، میرے شوہر بہت اچھے ہیں، انہوں نے پہلے دن ہی دھوم دھام مچانے کی کوشش کی تھی مگر میں بھی امی کی سدھائی ہوئی تھی، چنانچہ میں نے ان پر ایسا قابو پایا ہے کہ اب دس سال گزرنے کے بعد بھی ماشاءاللہ میرا ایک ہی بیٹا ہے جو میرا بیٹا کم اور چھوٹا بھائی زیادہ لگتا ہے۔

خدا کا شکر ہے اب میں اپنے دو کنال کے گھر میں ایک پیار کرنیوالے شوہر، ایک چاند سے بیٹے اور بیشمار پیٹس کیساتھ بہت خوش ہوں مگر اس بات کا میں نے تہیہ کر رکھا ہے کہ اپنے بیٹے کو پڑھنے کیلئے لندن تو بالکل بھی نہیں بھیجوں گی ورنہ مفت میں بہو کو ایک کروڑ روپیہ حق مہر میں دینا پڑ جائے گا بلکہ ہو سکتا ہے جب تک یہ جوان ہو تب تک حق مہر کا ریٹ بھی دس کروڑ ہو جائے۔

آخر میں میری دعا ہے کہ سب بہنوں کے نصیب اچھے ہوں اور کسی کی بہن بیٹی کو بھی میرے جیسی مشکلات سے واسطہ نہ پڑے۔

والسلام
آپ کی سیانی بہن
نیلم چوہدری، لاہور

Facebook Comments Box
featuredModern WifePakistani Wifeبیویعورتلالہ صحرائیماڈرن عورت
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
لالہ صحرائی

لالہ صحرائی: ایک مدھم آنچ سی آواز، ایک حرفِ دلگداز لفظوں کے لشکر میں اکیلا۔ "افسانوی ادب، سماجی فلسفے اور تحقیقی موضوعات پر لیفٹ، رائٹ کی بجائے شستہ پیرائے میں دانش کی بات کہنے کا مکلف ہوں، بجز ادبی و تفریحی شذرات لکھنے کے اور کوئی منشور ہے نہ سنگت"۔

previous post
فیض احمد فیض‎ ——– خشونت سنگھ
next post
سلگتے چنار، آزادی کشمیرکے موضوع پربروقت ناول ——– نعیم الرحمٰن

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.