تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینعلم و ادبفکشن

بھینس بڑی ہے —- احمد حامدی

by دانش ڈیسک 07/11/2019
written by دانش ڈیسک 07/11/2019
71

ڈاکٹروں کا یقین نہیں کرنا چاہیے۔ عقل رکھنے والوں کا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ ان پر ڈاکٹروں کی بات کا اثر نہیں ہوتا، ان کی باتوں میں اتنے تضادات ہوتے ہیں کہ سمجھ داروں کا یقین اٹھ جاتا ہے۔ یقین اور سمجھ داری کا تعلق تضاد کا ہے۔

اُسے اپنی ہر بات ٹھیک لگی سوائے اس بات کے کہ “یقین اور سمجھ داری کا تعلق تضاد کا ہے۔” اُسے لگا کہ یہ بات خدا سے بے خوف اور مذہب بیزار لوگوں کا بنیادی مقدمہ ہے۔ اور اُس نے تو سالوں پہلے خود سے عہد لیا تھا کہ خدا بیزار لوگوں کی ہر بات کا رد کرے گا، ہٹ دھرمی اورتعصب کے ساتھ، اس لیے اُس نے اپنی یہ بات رد کر دی اور اُس کی خواہش تھی کہ اس پر توبہ کرے اور وبال سے بچنےکی دعا مانگے۔ یقین تو عقل کے حوصلے کا کام ہی نہیں ہے۔جس ملکِ وجود میں عقل کو دل کی کرسی پر بٹھا دیا جاتا ہے، وہاں طوائف الملوکی ہوگی، یعنی انارکی۔ اُسے لگا کہ مذہبی بندہ بھی گہری باتیں کر سکتا ہے، وہ اپنے مذہبی ہونے پر اتنا خوش نہ تھا، جتنا گہری باتوں کی صلاحیت پر شاد ہوا۔

ڈاکٹر نے کہا تھا، تمھارا مرض یہ ہے کہ تم سوچتے زیادہ ہو، کچھ دوائیاں دیتا ہوں، وہ استعمال کرتے رہو اور روزانہ تین گھنٹے ٹہل پر نکلا کرو۔ اُس نے سوچا کہ میں پڑے پڑے اتنا نہیں سوچتا جنتا ٹہلتے ہوئے سوچتا ہوں۔ اب یا تو مرض کا تعلق سوچنے سے نہیں ہے یا ٹہلنا بد پرہیزی ہے۔ یہی وہ تضاد ہے، جو میرےاعتماد کا قاتل ہے۔

ہو سکتا ہے ڈاکٹر نے مجھے تفصیلی بات بناتا خلافِ مصلحت سمجھا ہو۔ اور آدھی بات سے یہ تضاد پیدا ہو گیا ہو۔ اس نے گہرائی میں اُترنے کی کوشش کی ہے اور سوچا کہ خدا بیزار لوگوں کو عقل اور یقین میں اس لیے تضاد نظر آتا ہے کہ خدا نے پوری بات بتائی نہیں ہے۔ کیوں نہیں بتائی؟ شاید اس لیے کہ یہ انسان کے حق میں نہیں ہے۔ شاید پوری بات بتائی ہے لیکن ہم سمجھے نہیں ہیں۔ ایک سکالر نے لکھا تھا کہ یہ خدائی سکیم کے خلاف ہے۔ اُس نے طنزا ََمسکراتے ہوئے سوچا، خدا نے یہ سکیم رسول کے بجائے سکالر صاحب کو بتا دی۔ سکالر صاحبان کے خدا ؤں کی ایسی حرکتیں مجھے بالکل پسند نہیں آتیں۔ سکالرز کے خداؤں کے خوف سے اُس کے بدن پر جھرجھری سی گزر گئی۔

وہ ٹہلتے ہوئے سوچ رہا تھا کہ اگر ڈاکٹر کی بات درست ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہر ساکن چیز میں سوچنے کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے۔ سب سے پُرسکون چیز پتھر ہے۔ اُسے اپنا یہ دعوی بالکل بھی اچھا نہ لگا، تحقیق کے بغیر دعوے کرنا علمی رویہ نہیں ہے۔ پتھر سے زیادہ پُرسکون اشیاء کا ہونا بھی ممکن ہے۔ سوچ کا یہ سلسلہ اُسے بے فائدہ معلوم ہوا۔

وہ کیا صفت ہے جو قدر و قیمت میں اضافہ یا کمی کرتی ہے؟ اُس نے اس سوال پر سوچنا تو اس لیے شروع کیا تھا کہ عام پتھر اور قیمتی پتھرکی قدر و قیمت میں تفاوت نے اُسے اِسطرف مائل کیا، لیکن اپنے سوال سے اُس نے ایک اور رستے پر قدم رکھا۔ بدن کا رستہ تو وہی تھا لیکن سوچ کا رستہ بدل گیا۔

ایک پارک کے وسط میں سے گزرتا رستہ، جس کے دونوں طرف پیڑ استادہ ہیں، ایسے پیڑ جن کے نام گزرنے والے کو معلوم نہیں۔ اور نہ ہی اُس نے کبھی اِن پیڑوں پر غور کرنے کی طرف دھیان دیا۔ بس اُس کے ذہن میں اتنی سی بات ہے کہ جس پیڑ کے نیچے پرندوں کے بیٹ زیادہ ہیں وہ گھنا ہے، اور اُن کا محبوب ہے۔ اور جس پیڑ کے نیچے بیٹ نہیں، وہ محبوب نہیں ہے۔شروع شروع میں بیٹ اور محبوب کے تعلق پر اُسے ہنسی آئی تھی، لیکن اب بیٹ اور محبوب کا تعلق اس کے لیے معمولی بن گیا، ذہن کے کسی گوشے میں پڑا اک خیال، جو بالکل خام صورت میں ہے۔پارک میں جگہ جگہ کچھ نوجوان ہنسی مذاق کیا کرتے ہیں۔ جوڑے الگ تلگ بیٹھ، اتنی آہستہ باتیں کرتے ہیں کہ دیکھنے والے کو بے چینی ہو۔جب وہ آپس میں ہنستے ہیں تو دل شکوک سے بھر جاتے ہیں۔ ہر جوڑا غیر شادی شدہ لگتا ہے۔ یہ ہے بدن کا رستہ!۔۔۔۔ اِسی رستے سے وہ روز گزرتا ہے۔لا تعلق، بے پروا۔۔۔اِس پر وہ اتنا بھی نہیں سوچتا جنتا باتھ روم جانے یا نہ جانے پر سوچتا ہے۔اُس نے ایک بار سوچا تھا کہ ایسی لاتعلقی تو مرض کا علاج نہیں ، سبب بن سکتا ہے۔

وہ کیا صفت ہے جو چیزوں کی قدر و قیمت میں اضافہ یا کمی کرتی ہے؟ اِس سوال کے ساتھ اُس کے ذہن میں وہ لڑکی آئی جس کے بارے میں اُس کا خیال ہے کہ وہ اپنی قدر و قیمت کھو چکی ہے۔ کسی زمانے میں وہ اُس کی زندگی میں سب سے بلند درجہ رکھتی تھی۔اُسے معلوم تھا کہ اُس کا درجہ اتنا بلند کیوں تھا، اور یہ بھی معلوم ہے کہ وہ اپنی قدر و قیمت کیوں کھو بیٹھی۔ لیکن وہ اِس سوال پر پھر سے سوچنا چاہتا تھا۔ جیسے اُسے ایک نئے اور خوشگوار جواب کی ضرورت ہے۔ اُس نے دل ہی دل میں جوابات کی ایک فہرست بنائی اور اُن پر غور کرنے کا ارادہ کیا۔

وہ اپنی قدر و قیمت اِس لیے کھو بیٹھی کہ اُسے اپنے قیمتی ہونے پر اصرار تھا۔ قیمتی ہونے کے احساس کے باوجود وہ کھرے اور کھوٹے میں تمیز کرنا نہیں جانتی ۔ اس کے پاس ایسا کچھ نہیں تھا جو مستقل یعنی لازوال ہو۔

اُس نے سوچا کہ ایسی خشک گہرائی کس کام کی۔ اور ارادہ کیا کہ ہ اِس معاملے پر عام انسانی انداز سے غور کرے گا۔
پہلے اُس کا حُسن سحرانگیز تھا۔ پہلے اُس کی آنکھوں میں ایک نشہ تھا۔ پہلے اس کے قرب کی تمنا میں ایک تڑپ تھی۔ اب وہ سب کچھ نہیں رہا۔اب وہ ایک ایسی نوجوان لڑکی ہے جس کی باتیں احمقانہ، جس کی ادائیں محض اداکاری، جس کا ہنسنابے روح اور جس کی رحم دلی چالاکی ہے۔ جس کا ضمیر اپنی محبت میں گرفتار ہے۔ جس کی طرف سے ہمدردی، ایک جال ہے۔ پھنسانے والا شاطر اور پھنسنے والا احمق، بدّو۔ وہ خود پے ہنسا، میں بدّو!

اُسے اس معاملے پر غور کرنے کا یہ انداز بھی اچھا نہ لگا، یہ تو شاعرانہ انداز ہے۔ اُس نے تاسف بھرے دماغ سے سوچا کہ شاید میں عام انسانی اندازِ فکر سے محروم ہو چکا ہوں۔ اُس نے سوچا کہ سمجھ کی گہرائی اتنی اچھی بھی نہیں۔

اُس نے اپنی گلی میں مڑتے ہوئے سوچا کہ کل سے نصرو ماما کے ساتھ بیٹھا کروں گا تاکہ وہ کچھ سیکھ سکوں جو میں بھول چکا ہوں۔ بے خیالی میں اس کا دایاں پاؤں گندے نالے میں پھسل گیا۔ نصرو ماما قہقہہ لگاتے ہوئے اُسے گندے نالے سے نکلنے میں مدد دے رہا تھا۔

 

Facebook Comments Box
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
میڈیکل کالج کا آخری دن‎ ——– محمد شافع صابر
next post
شیخ الا کبر محی الدین ابنِ عربی : ایک تعارفی مطالعہ —- عامر سہیل

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.