تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتازہ ترین

چار مسجدیں اور پنڈت نہرو —- احمد الیاس

by دانش ڈیسک 28/10/2019
written by دانش ڈیسک 28/10/2019
87

 گزشتہ دنوں ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم اور ہندوستانی سیکولرازم کے ممتاز مدبر پنڈت جواہر لال نہرو کا ایک مضمون پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ مضمون کا نام ہے “دو مسجدیں”۔ یہ مضمون پنڈت نہرو نے ۱۹۳۵ میں لکھا جب مسلمانوں اور سکھوں کے درمیاں لاہور کی مسجد شہید گنج کا تنازعہ عروج پر تھا۔ مسجد شہید گنج کی زمین پر مسلمانوں اور سکھوں دونوں کا دعویٰ تھا جس کے سبب صوبہ پنجاب، بالخصوص لاہور کی فضاء کافی کشیدہ تھی۔

 پنڈت نہرو اس تنازعے کا تذکرہ کر کے دوسرے ہی پیراگراف میں ترکی کے شہر استنبول کی معروف یادگار سینٹ صوفیہ کا ذکر شروع کر دیتے ہیں اور اسکی مکمل تاریخ بیان کرتے ہیں۔

 سینٹ صوفیہ بازنطینی سلطنت کے صدر مقام قسطنطنیہ کے اندر چھٹی صدی عیسوی میں ایک گرجا گھر کے طور پر تعمیر ہوا۔ مسیحی دنیا کے اورتھوڈوکس اور کیتھولک فرقوں میں تقسیم ہو جانے کے بعد یہ گرجا گھر اورتھوڈوکس فرقے کا مرکز بن گیا۔ اسے باز نطینی سلطنت کا مرکزی گرجا گھر ہونے کا اعزاز بھی حاصل تھا۔ 

 ۱۴۵۳ میں عثمانی ترک مسلمانوں نے قسطنطینیہ فتح کیا تو اس گرجا گھر کو مسجد بنا دیا گیا اور یہ عمارت کئی صدیوں تک ایک عظیم الشان جامع مسجد کے طور پر کام آتی رہی۔

 وقت نے کروٹ لی اور مصطفیٰ کمال اتا ترک کا دور آن پہنچا۔ خلافت ختم کر دی گئی۔ سیکولرزم کو ریاستی قوت سے سیاست ہی نہیں بلکہ معاشرت پر بھی نافذ کیا گیا اور اسی ضمن میں سینٹ صوفی ہیا جامعہ صوفیہ کو آیا صوفیہ میوزیم بنا دیا گیا۔ 

 آیا صوفیہ کے میوزیم بنائے جانے کا قدم اتا ترک کے حکم پر ۱۹۳۵ میں اٹھایا گیا، وہی سال جب پنڈت نہرو نے یہ مضمون “دو مسجدیں” لکھا۔ 

 پنڈت نہرو مسجد شہید گنج پر پھیلی مذہبی کشیدگی کا موازنہ ترکی کی مثال سے کرتے ہوئے اتا ترک حکومت کے اس اقدام کو آئیڈلائز کرتے ہیں۔ لکھتے ہیں:

 “لیکن وہ پتھر اور دیواریں خاموش ہیں۔ انہوں نے اتوار کی مسیحی پوجا بہت دیکھی اور جمعہ کی مسلمانی نمازیں بھی سنیں۔ اب ان کے سائے میں روزانہ کی نمائش ہے۔ دنیا بدلتی رہی لیکن وہ قائم ہیں۔ ان کے گھسے ہوئے چہرے پر کچھ ہلکی سے مسکراہٹ معلوم ہوتی ہے اور ایک دھیمی سی آواز کانوں میں آتی ہے:

“انسان بھی کتنا بے وقوف اور جاہل ہے کہ وہ ہزاروں برس کے تجربے سے نہیں سیکھتا اور بار بار وہی حماقتیں دہراتا چلا جاتا ہے”۔

 یہ پیراگراف پڑھ کر میں کچھ دیر کے لیے کافی متاثر ہوا۔ لیکن پھر میرا ذہن بائیں بازو کے معروف دانشور اقبال احمد کے ایک انٹرویو کی طرف مڑ گیا۔ اقتباس ملاحظہ فرمائیں۔ 

 “اس وقت کے بھارتی صدر راجندر پرساد نے گجرات کی ریاست میں سومنات کے مندر کی تعمیر نو اور تزئین و آرائش کا بیڑا اٹھایا۔ اسے افغان حملہ آوروں نے گیارہویں صدی عیسوی میں تباہ کر دیا تھا۔ نہرو بھی راجندر پرساد کے اس منصوبے کا حصہ بن گئے۔ انہیں اس میں شامل نہیں ہونا چاہیے تھا۔ ہزار یا دو ہزار سال قبل ہونے والی تاریخی غلطیوں کا درست کرنا ریاست کا کام نہیں ہے۔
میں ۱۹۹۲ میں تاریخی اہمیت کی حامل بابری مسجد کو مسمار کیے جانے پر تحقیق کررہا تھا۔ عسکریت پسند جو اس مسجد کو مسمار کرنے کی تیاری کررہے تھے انہوں نے مجھے یاد دلایا کہ کانگرس نے بھی یہی کیا تھا، یعنی سومنات مسجد کو گرا کر سومنات مندر تعمیر کیا تھا۔”

سومنات مسجد کی جگہہ پر سومنات میوزیم کی بجائے سومنات مندر بنانے سے پنڈت نہرو کے بارے میں ایک بات تو واضح ہوجاتی ہے کہ ان ان کی وہ سیکولرازم جس کا اظہار انہوں نے “دو مسجدیں” جیسے مضامین اور تقاریر میں کیا ہے، محض اسلام اور مسیحیت تک محدود تھی۔ ہندو مذہب ان کے لیے بھی اس سیکولرازم سے بالا و اعلیٰ تھا کیونکہ یہ مذہب پنڈت نہرو کے مطابق بھی کی کی مقامی اور “قومی” روایت اور تہذیب کا حصہ ہے۔

آپ کہہ سکتے ہیں کہ پنڈت نہرو تو لاادری (اگناسٹک) تھے۔ انہیں ہندو مذہب کے حق میں جانبدار ہونے کا طعنہ کیونکر دیا جاسکتا ہے۔ لیکن میں آپ کو یاد دہانی کرواؤں گا کہ ہندو انتہاء پسند اور قوم پرست جماعت آر ایس ایس کے معروف مدبر اور رہنماء دنایک دامودر ساورکر بھی عقائد کے لحاظ سے ملحد تھے مگر نظریات کے لحاظ سے کٹر ہندو قوم پرست بلکہ نسل پرست۔ ہندو مذہب چونکہ ہندوستان کے قدیم مقامی مذہبی کلچر کا نام ہے اور اس میں کوئی طئے شدہ اور لازمی عقائد نہیں ہیں لہذا مذہب کے اندر ہی الحاد کی پوری روایت ہے اور کئی ملحد بھی ہندو کہلاتے ہیں کیونکہ وہ ہندو تہذیب اور روایت سے خود کو وابستہ کرتے ہیں۔ اگر ملحد ہندو بلکہ ہندو قوم پرست ہوسکتا ہے تو لاادری ہندو کیوں نہیں ہوسکتا؟

یہ تو تھا پنڈت نہرو اور ان کی جماعت کی سیکولرازم کا تعارف۔ بہرحال، سیکولرازم کو پنڈت صاحب اس مضمون میں بھی اور دیگر کئی مقالات و خطبات میں جدت اور مستقبل سے جوڑ کر پیش کرتے ہیں اور بار بار یہ بتاتے ہیں کہ مذاہب کا زمانہ گزرچکا ہے۔ مستقبل صرف سیکولرازم، قوم پرستی اور قومی ریاست کا ہے۔ آئیے اس دعوے کو پنڈت نہرو ہی کی مثال کے حوالے سے دیکھتے ہیں۔

مارچ ۲۰۱۹ میں صدر اردوان نے کہا کہ مسجد صوفیہ کو میوزیم میں تبدیل کرنا ترک جمہوریہ کی غلطی تھی، اسے جلد ہی دوبارہ مسجد بنا دیا جائے گا۔ اس سے قبل مارچ ۲۰۱۸ میں ترک صدر رجب طیب اردوان نے سینٹ صوفیہ میں با آوازِ بلند قرآن کی تلاوت کی۔ چونکہ یہ عمارت یونیسکو کے عالمی تاریخی ورثے کا حصہ ہے چنانچہ اسے دوبارہ مسجد بنانے کے لیے یونیسکو کی اجازت درکار ہے جس کے لیے ترک حکومت کوشاں ہے۔ امید کی جارہی ہے کہ اجازت ملنے پر ۲۰۲۰ میں جامع مسجد صوفیہ باقاعدہ طور پر بحال ہوجائے گی۔

اس حوالے سے یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جولائی ۲۰۱۶ میں آٹھ دہائیوں بعد جامع مسجد صوفیہ میں نماز ادا کی گئی۔ اگلے سال یعنی ۲۰۱۷ میں ترک حکومت نے لیلہ القدر کی قومی محفلِ شبینہ کا اہتمام اسی عمارت میں کیا۔ پندت نہرو نے کہا تھا کہ مسلمانوں کی نماز خاموش ہوئی لیکن آیا صوفیہ کی دیواریں کھڑی ہیں۔ سوچتا ہوں کہ بابری مسجد اور مسجدِ سومنات کی دیواریں تو نہ رہیں لیکن مسلمانوں کی نماز دنیا کے بدلنے کے باوجود بلند ہورہی ہے۔ جب جامع مسجد صوفیہ میں قرآن کی تلاوت ہورہی ہوگی تو پنڈت نہرو اور اتاترک جیسوں کو یاد کرکہ مسجد کے گھسے ہوئے چہرے پر کچھ ہلکی سے مسکراہٹ آئی ہوگی اور ایک دھیمی سی آواز کانوں میں پڑی ہوگی:

“انسان بھی کتنا بے وقوف اور جاہل ہے کہ وہ ہزاروں برس کے تجربے سے نہیں سیکھتا اور بار بار وہی حماقتیں دہراتا چلا جاتا ہے”۔

یہ بھی پڑھیں: بھٹو : بھارت کا خیرخواہ دشمن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر غلام شبیر
Facebook Comments Box
featuredNehruPandat Nehruاحمد الیاسآیا صوفیہپنڈت نہرودو مسجدیںمسجد شہید گنجنہرو
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
اعجاز رحمانی: ایک ملاقات کا احوال ——— عدنان کریمی
next post
‎انکل ٹام —— اے جی نورانی/ رانا آصف

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.