تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیصنف/ جینڈرکالم

خلیل قمر صاحب منٹو بنو — لالہ صحرائی

by لالہ صحرائی 01/11/2019
written by لالہ صحرائی 01/11/2019
116

خلیل الرحمٰن قمر صاحب اپنے انٹرویو میں ایک مخصوص کردار کی عورت پر لعنت بھیج کے آجکل انجمن جدید نسواں کی چاند ماری کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔

چند ماہ قبل مخصوص مزاج کی خواتین پر تنقید کرکے مسز خان بھی، آ ببلی مجھے مار کے مصداق، اس قبیلے سے خوب باتیں سن چکی ہیں۔

ان دونوں واقعات پر سب سے بڑا سوال یہ سامنے آتا ہے کہ جدید تعلیم یافتہ نسل کسی بات کا حقیقت پسند جائزہ لینے کے قابل کیوں نہیں اور ردعمل میں دانشمندانہ توقف کیساتھ مدلل جواب دینے کی بجائے بدتمیزی اور غیر ضروری شدت کیوں اختیار کر جاتی ہے؟

دوسرا سوال تشکیلیت کے علمبرداروں سے بھی بجا طور پر پوچھنا چاہئے کہ جب دورِ حاضر کا مزاج مختلف ہے تو آپ بھی تحکمانہ لہجے میں دو ٹوک تلقین کرنے کی بجائے عصری مزاج سے ہم آہنگ ہوتے ہوئے لچھے دار اسلوب میں الجھا کے بات کیوں نہیں کرتے؟

یہ مراۃ العروس کا زمانہ تو ہے نہیں جب عوام الناس میں اتنی فکری بلوغت تھی کہ وہ اکبری کا پھوہڑ پن سے لبریز کردار سن کے اکھڑی ہوئی کلہاڑی کی طرح اچھل کے مصنف کے سر میں لگنے کی بجائے اصغری کے سلجھے ہوئے کردار سے موازنہ کر کے درمیان کی اصل بات کو خندہ پیشانی سے جذب کر لیا کرتے تھے۔

مادیت پسندی کے گلیمرس پورٹریٹ Glamorous Portrait کی وجہ سے اب نئی نسل، خاندانی مرکزیت اور سماجی اخلاقیات کے اس بندھن اور تربیتی مدار سے دور ہٹتی جا رہی ہے جو بالغ نظری پیدا کرنے میں معاون تھا۔ یہ نسل اپنی فیوچرسٹک Futuristic ضروریات کیلئے خاندانی و سماجی پابندیوں کے حصار سمیت اردگرد کے سہاروں سے بے نیاز ہو کر کارپوریٹ نظام کی کھلی فضا پر انحصار کرنا چاہتی ہے۔

یہ سچ ہے کہ جہاں ادب آداب اور زباں بندی کا دستور ہو وہاں کسی حد تک استحصال بھی ہوتا ہے، فرد کی مرضی اور حقوق کیخلاف بھی فیصلے ہو جاتے ہیں لہذا یہ فیکٹر اس پرانے نظام کے اندر بھی موجود تھا جسے تصحیح کی ضرورت تھی، لیکن اس دستور کی بدولت ہی مرد و عورت کو اپنے خاندان اور معاشرے سے ایک سماجی تحفظ Social Security بھی حاصل تھا جو قبیح مظالم اور چیرہ دستیوں کی راہ میں حائل ہو جاتا تھا۔

اس دور کو گذرے کچھ زیادہ عرصہ نہیں ہوا جب بہنیں اور بیٹیاں سب کی سانجھی تھیں، بیوہ کو بری نظر سے دیکھنے والا کوئی نہ تھا، اس اصول کی خلاف ورزی کرنیوالا اپنے ہی گھر سے لتاڑ دیا جاتا تھا اور رشوت خور کو نجس سمجھا جاتا تھا۔

اس کے برعکس جہاں سے رکھ رکھاؤ اٹھا لیا جائے وہاں گمراہی ایک اصول بن کے چھا جاتی ہے، موجودہ کارپوریٹ سوسائٹل سٹرکچر اور اس کے تحت تشکیل پانے والی شخصی آزادی نے ہر قسم کی پوچھ گچھ اور پابندی سے آزاد کرکے فرد کو ایک خود مختار ہجوم میں تو شامل کر دیا ہے مگر ساتھ ہی اسے تنہا کرکے استحصال کے پہلے سے بھی زیادہ بڑے گڑھے میں دھکیل دیا ہے۔

اسی گمراہی کی بے برکتی سے اب کوئی کسی کی بہن بیٹی نہیں، سب ایکدوسرے کی جسمانی اور مادی حیثیت کا بھرپور جائزہ لیکر بات شروع کرتے ہیں جس میں احترامی القابات کا کوئی دخل نہیں بلکہ ذرا سی دیر میں بے تکلفی Frankness  ہونے کے بعد دونوں اصناف ایکدوسرے کو یار یار کہہ کے مخاطب کرنا قابل فخر سمجھتے ہیں اور مادی یا جسمانی رشوت کو سروس چارجز کا درجہ حاصل ہو گیا ہے، یہ سب کچھ اس سماج میں عیاں ہے کوئی دور پرے کی بات نہیں۔

بے تکلفی Frankness  ہونے کے بعد دونوں اصناف ایکدوسرے کو یار یار کہہ کے مخاطب کرنا قابل فخر سمجھتے ہیں اور مادی یا جسمانی رشوت کو سروس چارجز کا درجہ حاصل ہو گیا ہے،

جدید ذہن فی الحال ماڈرن دور کی اس چکاچوند میں کھویا ہوا ہے اسلئے اس گڑھے کی گہرائی ناپنے سے قاصر ہے ورنہ جس چیز کو وہ بنیادی حقوق کے تحت اپنی آزادی سمجھ رہا ہے وہ دراصل ایک محدود قید خانے سے نکل کے ایک وسیع و عریض قید خانے میں اس کی آمد کے مصداق ہے جس میں استحصال کا دائرہ پہلے والے محدود دائرے سے بھی کہیں زیادہ بڑا ہے۔

ان دونوں دائروں کا جب موازنہ کیا جائے تو ردِ تشکیلیت کے دائرے میں موجود سہولیات فی الحال اتنی پرکشش ہیں کہ دور جدید کا فرد بلا تردد خاندانی و سماجی دائرے میں سے نکلنے سے گریز نہیں کرتا بلکہ وہ ہر بات کو سمجھے اور پرکھے بغیر رد کرنے کا عادی ہوتا جارہا ہے اور اسی رویئے نے اسے معاملہ فہمی کی بجائے سطحیت پسندی اور بدتمیزی کا خوگر بنا دیا ہے۔

یہ سطحیت اب کسی بھی ایسی بات کو قریب نہیں پھٹکنے دیتی جو فرد کو مناسب پیرامیٹرز میں رہنے کی تلقین کرے۔

خلیل صاحب اور مسز خان کا قصور یہ نہیں کہ انہوں نے فرد کی آزادی پر کوئی مہلک یا عامیانہ حملہ کیا تھا بلکہ ان کا قصور یہ ہے کہ ناصحانہ حکمت کو بالائے طاق رکھ کے اپنی تلقین پر اپنے جذبات کو حاوی کر بیٹھے اور جہاں ملائمت درکار تھی وہاں دوبدو ہونے لگے ورنہ ان باتوں میں کیا برائی ہے؟

1۔  بڑھتی ہوئی شرح طلاق کی باعث لڑکیوں کی معاملہ فہمی کی بجائے زبان درازی کی عادت ہے، یہ للو بہت چلاتی ہیں۔

جہاں سے رکھ رکھاؤ اٹھا لیا جائے وہاں گمراہی ایک اصول بن کے چھا جاتی ہے۔

2۔  مرد کی برابری مانگنے کی بجائے عورت کو اپنے حقوق پہچاننے چاہئیں جو اپنی نہایت میں بذات خود بہت وسیع اور طمانیت بخش ہیں۔

3۔  مرد کا مقابلہ کرنے کیلئے اس جیسی وارداتیں کرنا اپنے اخلاق و کردار کو ضائع کرنے کے مترادف ہے لہذا مرد بن کے دکھانے کی بجائے اپنی نسوانی حیثیت کو قابل عزت بنوائیں۔

4۔  منی سکرٹ یا کج لباسی کا ترقی سے کوئی تعلق ہے نہ حقوق سے تو اسے قبول عام بنانے کا کیا فائدہ؟

5۔  مرد کی دوسری شادی سے عدم تحفظ آنے والی عورت کے ہاتھوں پیدا ہوتا ہے تو مرد کو طعن کرنے کی بجائے اس عورت کو اپنے لئے محفوظ بنائیں۔

6۔  ہوس پرست مردوں کے سامنے عورت اپنے انکار کی طاقت سے کام لے ورنہ جو مرد متعدد عورتوں کیساتھ افئیر چلاتا ہے وہ اکیلا ملامت کا حقدار کیوں ٹھہرایا جائے؟

7۔  رجولیت پسندی صرف مرد کا ہی نہیں ہر جاندار مذکر کی فطرت کا بنیادی اور نمایاں عنصر ہے، انکار تو دور کی بات ہے اس فطرت کو تزکیۂ نفس کے بغیر چھپایا بھی نہیں جا سکتا اسلئے خام فطرت مرد بھی بجا طور پر خبیث کہلانے کا حقدار ہے۔

8۔  وہ عورت جو شوہر کے پیچھے بند مٹھی کھول دے میں اس پر لعنت بھیجتا ہوں، مطلب یہ کہ روشن خیال ماحول کی آزاد فضاؤں میں جو عورت جنسی آزادی کو بنیادی انسانی حقوق میں شمار کرکے عیاشی کرے وہ لعنت کی مستحق ہے۔

ان پوائنٹس میں جہاں تک اصناف کے درمیان انصاف کا تعلق ہے تو خلیل صاحب نے اس مرد کو بھی معاف نہیں کیا جو بدکردار ہو، ایسے مرد کو انہوں نے خبیث قرار دیا ہے۔

عورت کے ناپسندیدہ کردار پر حرف تنقید آتے ہی بے جا طور پر حساسیت سنسی خیزی کی حد تک بڑھ جاتی ہے جسے بعض لوگ اپنے فکری و مادی مفاد کیلئے بھی استعمال کرنے لگتے ہیں۔

مردوں نے تو اس بات کا برا نہیں منایا کیونکہ یہ حقائق کے منافی ہرگز نہیں، ہر ایک سماج میں جنسی بے راہ روی کا ماسٹر مائینڈ اور ڈرائیور ہمیشہ مرد ہی ہوتا ہے جسے اپنی اصلاح کرنی چاہئے، نہیں کرتا تو عورت اس کی خواہش پوری کرنے سے انکار کردے، اس کی مذمت بھی بجا ہے۔

لیکن عورت کے ناپسندیدہ کردار پر حرف تنقید آتے ہی بے جا طور پر حساسیت سنسی خیزی کی حد تک بڑھ جاتی ہے جسے بعض لوگ اپنے فکری و مادی مفاد کیلئے بھی استعمال کرنے لگتے ہیں۔

اس قضیئے میں در اصل یہ آخری بات ہی سب کی ناک پہ جا کے لڑی ہے، حالانکہ اس قماش کی عورت کو اکھڑ لوگ گولی مار دیتے ہیں اور روشن دماغ بھی کھڑے کھڑے دو تھپڑ مار کے طلاق کیساتھ اپنے گھر سے بیدخل کر دیتے ہیں۔

اس حقیقی سماجی رویئے کے باوجود سمجھ نہیں آتی کہ اس لعنت پر ردعمل دینے والے کسی چیز کی مذمت کر رہے ہیں۔

کیا معترضین کو عورت کا وہ کردار پسند ہے جس پر لعنت کی گئی ہے، کیا یہ بنیادی حقوق کے نام پہ عورت کے اس کردار کو محفوظ بنانے کیلئے تنقید سے بالاتر رکھنا چاہتے ہیں یا انہیں صرف لعنت بھیجنے پر اعتراض ہے؟

ان پہلے دو سوالوں کا جواب اگر ہاں میں ہے تو پھر یہ روشن خیال دنیا کی منافقت اور ذہنی افلاس کے سوا کچھ نہیں اور اگر معاملہ صرف لعنت کا لفظ استعمال کرنے پر ہے تو اس پر بات ہو سکتی ہے مگر ایسے نہیں کہ اس ایک بات کی وجہ سے باقی سب باتیں بھی الٹ دی جائیں۔

میرا خیال ہے کہ مرتبہ اور شہرت بعض لوگوں کا اخلاق کھا جاتے ہیں اور بعض لوگوں کو لاپرواہ بنا دیتے ہیں۔

خلیل صاحب نے اپنی گفتگو میں یہ کہہ کر لاپرواہی کا ثبوت دیا ہے کہ آپ کو اچھا لگے یا برا لگے مجھے کوئی پرواہ نہیں، آپ چاہیں تو پرچہ کٹوا دیں یا ٹرینڈ چلوا دیں مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

بھائی جان…..!
یہ لوگ اپنے ہی لوگ ہیں، ان کی اصلاح مطلوب ہے تو اس انداز سے ممکن نہیں جو آپ نے اختیار کیا ہے، یہ تو پہلے ہی باغی ہیں، انہیں برانگیختہ کرکے مزید دور تو کیا جا سکتا ہے، قریب لانا ممکن نہیں۔

یہی وجہ ہے کہ آپ کی اس شان بے نیازی سے ایک بہترین فکری موضوع بیہودہ تنقید کی گرد میں کھو کے ضائع ہوگیا ہے۔

آپ نے جس ریورس سائیکالوجی کا استعمال کیا ہے اسے سمجھنے والے کم اور ظاہری الفاظ کے ایک ایک لفظ کو پکڑ کے اپنی دانست میں منہ توڑ جواب دینے والے زیادہ ہیں، آپ کی ویڈیو بدقماش عورت پر لعنت کی بجائے عورت ذات پر خلیل قمر کی لعنت کے نام سے چل نکلی ہے۔

سمجھ نہیں آتی، ایک بہترین رائٹر ہونے کے باوجود آپ یہ کیوں بھول گئے تھے کہ سوشل ٹیبوز کو ذاتی جزبات کی بجائے کہانی کی گوٹہ کناری لگا کے پیش کیا کرتے ہیں تاکہ مرد تنقید نگار کہانی کے فنی پہلوؤں میں الجھ جائے اور دانشمند خواتین کہانی کے دامن پر بکھری ہوئی جاذب نظر بیل بوٹی کی تراش خراش اور مہک سے مدہوش ہو کے الٹی شلوار، کالی شلوار، ٹھنڈا گوشت، لحاف اور اترن جیسی بے عزتی کو ترقی پسند ادب کے نام پر نہ صرف قبول کرلیں بلکہ عش عش بھی کرتی رہیں۔

یہ بھی پڑھیں: اغواکار، قاتل عورت اور خلیل الرحمن قمر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رقیہ اکبر

اس وقت کہانی کاری کا موڈ نہیں تھا تو پھر آپ کو منٹو کے یہ الفاظ استعمال کر لینے چاہئے تھے کہ میں لعنت بھیجتا ہوں اس سماج پر جو بدکرداری کو شرف کا جامہ پہنا کے احترام کی کھونٹی پہ لٹکانے پر مصر ہو۔

منٹو کے الفاظ یاد نہیں تھے تو ایک قومی سیمینار میں کھڑے ہو کر اس پوری قوم پہ لعنت بھیجنے والے پرویز ہود بائی کے الفاظ کا ہی سہارا لے لیتے، ورنہ چار حرف ناطق والے بھی کام آسکتے تھے۔

امید ہے آپ جانتے ہی ہوں گے کہ منٹو، ہود بائی اور ناطق کی طریقت ملامتی، مزاحمتی اور ترقی پسند ادب کا طرۂ امتیاز ہے، پھر بھی ایک زرخیز ادیب کیلئے یہ مرحلہ واقعی مشکل ہوتا ہے کہ اپنے اظہار کیلئے وہ کسی دوسرے کے الفاظ کا سہارا لے چنانچہ آپ کو جو سوجھا وہ جڑ دیا۔

میرا خیال ہے جب کسی صاحب قلم کو شناخت Recognition ملنے لگے تو اس کے اندر حکیمانہ عجز کا پیدا ہونا ضروری ہے تاکہ لوگ اس کے گرد اکٹھے ہوں، آپ نے اگر یہی لب و لہجہ اپنانا ہے تو پھر مناسب ہے کہ منٹو کا رنگ اختیار کر لیں، یا اس شانِ بے نیازی کو تیاگ دیں جس کی وجہ سے آپ نے موتی، ریشم کی بجائے مونجھ کی رسی میں پرو ڈالے ہیں، اب نہ یہ پھینکنے جوگے ہیں نہ ہی گلے میں ڈالنے کے لائق رہے ہیں۔

خلیل الرحمان قمر کی وڈیو:

Facebook Comments Box
cheating girlfriendcheating wifefeaturedfemale rightswomen rightآزادی نسواںبرا مردبری عورتبہکی عورتبے وفا عورتبے وفائیجدید عورتحقوق نسواںخلیل الرحمان قمرخواتینرقیہ اکبرصنف نازکعورتعورت کی عزتلالہ صحرائیمرد کی عزت
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
لالہ صحرائی

لالہ صحرائی: ایک مدھم آنچ سی آواز، ایک حرفِ دلگداز لفظوں کے لشکر میں اکیلا۔ "افسانوی ادب، سماجی فلسفے اور تحقیقی موضوعات پر لیفٹ، رائٹ کی بجائے شستہ پیرائے میں دانش کی بات کہنے کا مکلف ہوں، بجز ادبی و تفریحی شذرات لکھنے کے اور کوئی منشور ہے نہ سنگت"۔

previous post
اسمارٹ فون نئی سگریٹ ہے —– مارک مینسن
next post
"اثبات” احیائے مذاہب نمبر —- نعیم الرحمٰن

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.