تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینعلم و ادبکتابوں پر تبصرے

طاہرہ اقبال کا ناول ’’نیلی بار‘‘ ——– محمد تیمور

by Editor2 21/10/2019
written by Editor2 21/10/2019
119

انیسویں صدی کے اہم فکشن نگاروں میں مستنصر حسین تارڑ حمید شاہد ناصر عباس نیر شمس الرحمن فاروقی مرزا حامد بیگ اور ڈاکٹر طاہر اقبال قابل ذکر ہیں طاہرہ اقبال ناول نگار محقق افسانہ نگار سفر نامہ نگار اور نقاد ہیں طاہر اقبال جی سی یونیورسٹی فیصل آباد میں صدر شعبہ اردو ہین طاہرہ اقبال نے چار افسانوی مجموعے سنگ بستہ، ریخت، گنجی بار، ایک ناولٹ مٹی کی سانجھ، نگین گم گشتہ سفر نامے تنقیدی کتب منٹو جا اسلوب، پاکستانی اُردو اَفسانہ اور دو ناول نیلی بار اور گراں لکھے ہیں نیلی بار، بار اس جنگل کو کہتے ہیں جو نو آبادیاتی دور میں بننے والے نہری نظام سے قبل دو دریاوں کے درمیان واقع ہوتاتھا اس طرح بار وسطی پنجاب کے مختلف علاقوں میں موجود ہین جن میں نیلی بار گنجی بار ساندل بار وغیرہ ہیں نیلی بار وسطی پنجاب کا وہ علاقہ ہے جو دو دریاوں راوی اور ستلج کے درمیان واقع ہے نیلی بار میں طاہرہ اقبال نے پاکستان کی سیاسی تاریخ، درگاہیں، گدیاں، پیریاں ممریدیاں، مدارس، علمی و ادبی، شعوری، مذہبی سیاسی و اقتصادی نظام، جاگیر داروں، وڈیروں، غریب عورتوں کا جنسی استحصال کرنے والوں، حکومت بنانے والون حکومت گرانے والوں شادی بیاہ کی رسومات ممیڈیا اور عالمی اسٹیبلشمنٹ کو زیر بحث لایا ہے۔

ناول کا پیش لفط مستنصر حسین تارڑ نے لکھا ہے مستنصر حسین تارڑ لکھتے ہیں اردو کے بیشتر ناول گونگے ہیں وہ بولتے نہیں. طاہرہ اقبال کا ناول بولتا ہے آوازوں کا غدر مچ جاتا ہے زمینی مناطر زندہ ہو جاتے ہیں ڈالیاں بلبلاتی ہیں کجادوں میں برجماں عورتوں کے بدن دوہائی دینے لگتے ہیں۔

نیلی بار ، پنجاب کا مہا بیانیہ ہے وہ مہا بھارت کی یدھ کی ہمسری کرتا ہے ہومر کے، ایلیڈ، کو چلینج کرتا ہے وارث شاہ کے بیانیے کی قربت میں چلا جاتا ہے گارلیا مارکیز نے کہا تھا کی اگر مرد خوش نصیب ہو تو اس کی زندگی میں ایک ایسی عورت آتی ہے جو اسے مرد بنا دیتی ہے. اسی طرح وہ ادیب خوش نصیب ہوتا ہے جب اس کی زندگی میں ایک ایسا ناول اتا ہے جو اس کو ناول نگار بنا دیتا ہے. طاہرہ اقبال وہ خوش نصیب ادیب ہے طاہرہ اقبال نے نیلی بار، میں یہ بتایا ہے کہ پاکستان 1947 کے نو آبادیاتی نظام سے آزادی کے بعد ایک بار پھر جاگیر داروں، وڈیروں، اور سر مایہ داروں کے شکنجے میں چلا گیا اور بیورو کریسی میں بھی ہر طرف ان کے کےچمچے کڑچھے چھا گئے ایسا ماحول پیدا کیا گیا کہ اج 72سال ہو گئے اج بھی عوام بنیادی حقوق سے محروم ہیں عوام دو وقت کی روٹی کو ترس رہی ہے معشیت تباہ ہو چکی ہے قانون اشرافیہ کی لونڈی بنا ہوا ہے ہر طرف جنگل کا قانون ہے جاگیردار مزدور خواتین کو لونڈی کے طور پر استعمال کر کہ پھینک دیتے ہیں ان کی نظر میں یی جانوروں سے بھی بدتر ہیں۔

اپنی خواتین کو گھر کے اند ر پابند سلاسل رکھتے ہیں ان کی شادی بیاہ اس لئے نہیں کرتے کہ کہ ان کو زمین دینا پڑے گی پاکیزہ کا کردار ایک ایسی ہی مثال ہے جس کو مصنفہ نے اس طرح بیان کیا ہے،،مربع پال گاے گھوڑی اور بھڑیں بھی ہوتی ہیں سانڈ پال مربع بھی اس لیے پالے جاتے ہیں کہ سانڈ جتنا تنو مند ہو گا اتنی ہی جلد گائیوں کو گھابھن کر سکے گا مربع پال سانڈ صرف اسی مقصد کے لیے پالے جاتے ہیں مادہ کی پیدائش پر خوشیاں منائی جاتی ہیں کٹری بچھڑی گدھی خدمتوں کے لیے پالی جاتی ہیں جبکہ نر بچے قصائیوں کو بیچ دیے جاتے ہیں لیکن نسل انسانی میں اتنا بھید کیوں مسلنیں میراثنیں، للولی لنگڑی بدہیت بھی کئی امیدوار رکھتی ہیں جو بھاری ٹکے بھر کر انھیں بیاہ کر لے جائے معمولی کھٹ پٹ پر پیکے بوہے ان بیٹھیں ناک سے لکیریں نکلوا کر واپس جاتی ورنہ طلاق لے کر بھی اسی عزت کے ساتھ دوبارہ بیاہی جاتی جس کے پاس وٹایا ٹکے نہ ہوتے وہ سدا کنوارہ ہی رہ جاتا کاش وہ مسلن ہوتی میراثن ہوتی اس کے ٹکوں کے لیے کوئی پیسہ جوڑتا بھاری قیمت یعنی ٹکے بھر کر اسے عزت سے لے جاتا اسے تو ٹکوں کا اعتبار بھی حاصل نہ ہوا اس کے دونوں بھائی بناوٹے کے شاہانہ انداز میں بیاہے گے تھے اسے تووٹے کی بھی توقیر نہ ملی کیونکہ وہ کوئی چھوٹی ذات نہیں بلکہ ملکانی تھی کاش وہ کسی جھگی میں پیدا ہوتی، اس حویلی میں کبھی پیدا نہ ہوتی . صنعت کار جاگیردار سیاست دانوں کو اقتدار تک پہنچنانے کے لیے غریبوں کو سیڑھی کے طور پر استعمال کرتے ہیں. ناول کا آغاز ایوب خان کے دور سے کچھ عرصہ پہلے شروع ہوتا ہے اور موجود عہد تک آتا ہے اور فوجی نصیر جیسے غریب عوام کو استعمال کرتے ہیں کہ ایوب خاں اے گا اور اصلاحات نافذ ہوں گی کہ مزدور جس زمین پر کام کرتا ہے وہ اس کا مالک بنا دیا جائے گا، یہ دو دوسروں کی محنت کھاتے ہیں اور ہم پر حکم چلاتے چوہڑے مسلی اور ہمیں مہاجر کہنے والے اپنے حقے خود بھریں گے. کچھ عرصے بعد سرمایہ دار ایوب کے خلاف ہو جاتے ہیں اور ایوب کتا کا نعرہ لگتا ہے اور اشترکیت کا نعرہ دیا جاتا ہے بھٹو ساڈا آوے ہی آوے بھٹو آے گا اور تبدیلی آئے گی اور مجھے کوئی چوہڑے مسلی کی بٰبیٹی نہیں کہے گا بھٹو آتا ہے اور لیکن پھر بھی نہیں آتی ایک بار پھر سرمایہ دار بھٹو کو کافر اور لادین قرار دلا دیتے ہیں اور اسی دوران مذہب کا نعرہ لگتا ہے اور جنرل ضیاءالحق مذہبی لبادہ اوڑھ کر اجاتا ہے اس دوران روس اور امریکہ جنگ شروع ہو جاتی ہے امریکہ مذہب کا نام سہارا لے کر مسلمانوں کو استعمال کرتا ہے اور مذہبی انتہاپسندی اس قدر پھیل جاتی کہ عام آدمی جن کو پہلا کلمہ تک نہیں آتا جو پنجاب کے کھیتوں میں کام کرتے ہیں وہ بھی اس میں شامل ہو جاتے ہیں کہ ہمیں شہادت مل جائے ملک بھر میں سرمایہ داروں نے تربیت کے کمپ لگائے ہیں اور لوگوں کو جہاد پر بھیجا جاتا ہے ماہیں اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کے چڑھاوے کے طور وقف کر دیتی ہیں کہ اسی وجہ سے ان کو جنت مل جائے گی پھر ناہن الیون کا واقعہ ہوتا ہے اور اب ان کا رخ روس کی بجائے امریکہ کی مڑ جاتا ہے اس طرح ایک بار پھر پاکستان دہشت گردی کے چنگل میں پھنس جاتا ہے۔

ناول کے مرکزی کردار علی جود اور زارا فتح شیر ہیں دونوں کلاس فیلو ہیں علی جود غریب باپ کا بیٹا ہے جبکہ زارا فتح شیر ایک سر مایہ دار کی بیٹی ہے ددونوں میں نا چاہتے ہوئے بھی شادی ہو جاتی ہے لیکن جلد ہی طلاق ہو جاتی ہے علی جواد جو پہلے اشتراکیت کا سرگرم رکن تھا اب مذہبی لبادہ پہن کر علی محمد معاویہ بن جاتا ہے مدرسوں میں تربیت دینے کا کام سر انجام دیتا ہے زارا فتح شیر جس سرمایہ دار کی بیٹی ہے اس کو گھر میں مختلف پابندیوں کا سامنا کرنا پڑھتا ہے اور محض بیٹے کی خاطر ایک مولوی کی چوتھی بیوی بن جاتی ہے اور الیکش میں بی اے کی شرط لازمی ہوتی ہے تو مولوی صاحب اپنی روشن خیال بیوی کو الیکش لڑے کی اجازت دے دیتے ہیں زارا فتح شیر الیکش جیت کر وزیر مذہبی امور بن جاتی ہے علی جواد جو جن لوگوں مولوی محمد علی معاویہ بنایا تھا وہی اسے قتل کر دیتے ہیں ناول کا اسلوب نہایت جاندار ہے زبان وبیان کے لحاظ سے بھی بہت عمدہ ناول ہے اکثر جگہ پنجابی الفاظ کا استعمال کیا گیا ہے اس سے پتہ چلتاہے کہ یہ ناول جس ماحول میں لکھا گیا ہے اسی کی زبان بھی استعمال ہوہی ہے نیلی بار موجود صدی کے ناولوں میں بہترین اضافہ ہے نیلی بار کو دوست پبلی کیشنز اسلام آباد نے شائع کیا ہے اور اس کی قیمت 1050 روپے ہے۔

Facebook Comments Box
طاہرہ اقبال کا ناول ’’نیلی بار‘‘فکشنمستنصر حسین تارڑناولوارث شاہ
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
Editor2

previous post
دھرنے کے فکر مندوں پر ہنسی آتی ہے ——– خرم شہزاد
next post
مولانا فضل الرحمٰن اور ہمارا تہذیبی بحران —- محمد دین جوہر

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.