تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیکالم

مجھے ڈوبتا بھی دیکھ! (ایک استاد نے خود کشی کیوں کی؟) —- اورنگ زیب نیازی

by دانش ڈیسک 20/10/2019
written by دانش ڈیسک 20/10/2019
172
دنیا میں خود کشی کی بے شمار مثالیں موجود ہیں ماہرین نفسیات نے خود کشی کے متعدد محرکات کو نشان زد کیا ہے لیکن موت کے درندے میں کیسی کشش ہے؟ اس تہ تک کوئی نہیں پہنچ سکا۔
 12نومبر 1966ء کو اردو کے معروف شاعر شکیب جلالی نے محض 32 سال کی عمر میں ریل کے آگے کود کر خود کشی کر لی۔ اس کی جیب سے ایک کاغذ بر آمد ہوا، جس پر اس کا آخری شعر درج تھا:
تو نے کہا نہ تھا کہ میں کشتی پہ بوجھ ہوں
آنکھوں کو اب نہ ڈھانپ، مجھے ڈوبتے بھی دیکھ
9؍اکتوبر 2019 ء کو گورنمنٹ ایم۔اے۔او کالج لاہور کے جواں سال استاد محمد اٖفضل نے خود کشی کر لی۔ خود کشی سے ایک روز قبل اپنے خلاف قائم کی گئی انکوائری کمیٹی کے سربراہ کے نام آخری درخواست میں اس نے لکھا:
’’میری موت کے بعد میری تنخواہ اور میری بے گناہی کا خط میری ماں کو دے دیا جائے تاکہ وہ اس اطمینان کے ساتھ جی سکے کہ اس کا بیٹا بد کردار نہیں تھا۔‘‘
اس کی آخری تحریر چیخ چیخ کر بتا رہی ہے کہ وہ جینا چاہتا تھا۔
شکیب، ثروت اور سارا کی خود کشی کے متفرق محرکات تھے۔ معاشرے کی بے حسی، حد سے بڑھی ہوئی شاعرانہ  حساسیت اور موت کی خواہش نے انھیں خود کشی پر آمادہ کیا۔ لیکن محمد افضل کی جبلت میں موت کی خواہش نہیں تھی۔ وہ ایک سیلف میڈ، محنتی انسان تھا، ایک بھر پور کیریئر اس کے سامنے تھا۔ اس کی آخری تحریر چیخ چیخ کر بتا رہی ہے کہ وہ جینا چاہتا تھا۔ لیکن اپنی ہی ایک شاگرد کی طرف سے جنسی ہراسانی کے الزام اور انتظامیہ کی بے حسی نے اسے یہ انتہائی قدم ا’ٹھانے پر مجبور کر دیا۔ وہ استاد ہونے کے علاوہ ایک عام انسان بھی تھا۔ ممکن ہے کسی کمزور لمحے میں اس سے یہ غلطی سر زد ہوئی بھی ہو لیکن انکوائری کمیٹی اسے بے گناہ قرار دے چکی تھی۔ اسے کمیٹی کے فیصلے سے زبانی طور آگاہ کر دیا گیا تھا (اس کا اقرار کالج کے پرنسپل اور انکوائری کمیٹی کی سربراہ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کر چکے ہیں)۔ اب اس کا مطالبہ محض اتنا تھا کہ اسے بے گناہی کا آفیشل لیٹر دیا جائے اور غلط الزام لگانے والے اور اس کی پشت پناہی کرنے والوں کو سزا دی جائے۔ وہ چاہتا تھا کی وہ اپنی ماں، بیوی اور دیگر خاندان کے سامنے خود کو بے قصور ثابت کر سکے۔ وہ کس کشتی پر بوجھ تھا؟ یا اس کی ذات پر کیسا بوجھ تھا؟ ماں جیسے پیارے، سچے اور سُچے رشتے کے سامنے اپنے کردار کا سرٹیفیکیٹ پیش کرنے کی اسے واقعی ضرورت تھی ؟یا وہ معاشرے سے سے اپنی بے گناہی کا ثبوت لینا چاہتا تھا؟

ایک کم عمر طالبہ کے اندر یہ حوصلہ کیسے پیدا ہوا کہ وہ اپنے ہی استاد پر ایسا الزام لگائے جسکی قیمت اسے اپنی جان کی صورت میں چکانی پڑے۔

اس دیدہ دلیری کی وجہ شاید آزادی اور تانیثیت کا وہ ناقص فہم ہے جو کچے ذہنوں کے اندر زبر دستی ٹھونسا جا رہا ہے۔

اب اس کا معاملہ اللہ کے ساتھ ہے۔ لیکن اس کی خود کشی ہمارے سماج، سماجی اقدار اور ترکیب پر بہت بڑا سوالیہ نشان چھوڑ گئی ہے۔ اس اندوہ ناک واقعے نے سب سے کاری ضرب استاد اور شاگرد کے مقدس رشتے پر لگائی ہے۔ اس کے محرکات اور اسباب کی درست نشاندہی ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ ایک کم عمر طالبہ کے اندر یہ حوصلہ کیسے پیدا ہوا کہ وہ اپنے ہی استاد پر ایک ایسا الزام لگائے جس کی قیمت اسے اپنی جان کی صورت میں چکانی پڑے۔ جب کہ مذکورہ طالبہ انکوائری کمیٹی کے سامنے یہ اقرار کرتی ہے کہ کلاس سے غیر حاضری اور کم نمبر دینے پر اس نے یہ الزام لگایا تھا۔ اس دیدہ دلیری کی وجہ شاید آزادی اور تانیثیت کا وہ ناقص فہم ہے جو کچے ذہنوں کے اندر زبر دستی ٹھو نسا جا رہا ہے۔ ہمارے ہاں حقوق نسواں کی تحریک کا تصور مغرب سے آیا لیکن اس ضمن میں مغربی اور مشرقی معاشرے کی ترکیب میں بنیادی فرق کو پیش نظر نہیں رکھا گیا۔ مغرب میں حقوق نسواں کی تحریک تین مراحل میں آگے بڑھی۔ پہلے مرحلے میں خواتین کے معاشی استحصال کے خلاف آواز اُٹھائی گئی؛ مزدوری کے اوقات کار اور یکساں معاوضے کا مطالبہ کیا گیا۔ دوسرے مرحلے میں عورت کے لیے تعلیم، صحت اور دوسرے حقوق کا مطالبہ کیا گیا۔ اور تیسرے مرحلے میں جنسی اور انفرادی آزادی کا نعرہ بلند ہوا۔ ہمارے ہاں کی نسوانی تحریک نے ایک ہی جست میں پہلے دو مراحل عبور کیے اور تیسرے مرحلے پر آکھڑی ہوئی۔ فی الفور وہ کچھ مانگا گیا جس کی گنجائش اس سماج میں نہ ہونے کے برابر تھی۔ اہداف کے حصول میں ناکامی نے عورت کے اندر غصے، اضطراب، بے چینی، انتقام اور مخالف جنس کے لیے نفرت کے رویوں کو جنم دیا۔ حقوق نسواں کی غلط تشریح اور غلط فہم معاشرے میں موجود مردوں کے لیے ایک طرح کے سماجی دبائو کا باعث بننے لگا جس کا لامحالہ نتیجہ پروفیسر محمد افضل جیسوں کی موت کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
حقوق نسواں کی غلط تشریح اور غلط فہم مردوں کے لیے ایک طرح کے سماجی دبائو کا باعث بننے لگا ہے۔
سماجی دبائو کی ایک اور شکل معاشرے میں نجی زندگی کے تصور کا ناپید ہونا ہے۔ ’’لوگ کیا کہیں گے۔۔‘‘ کا محاورہ ہماری زندگیوں میں اس حد تک دخیل ہے کہ ہمارے بیشتر اعمال و افعال دوسروں کی خوشنودی اور ان کے رد عمل کے محتاج ہیں۔ محمد افضل کو یہی صورت حال درپیش تھی۔ اس پر ایک عورت نے الزام لگایا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ لاکھ انکوائریوں میں بے گناہ ثابت ہوجانے کے باوجود بھی اسے باقی عمر اس الزام کے ساتھ جینا ہے۔ وہ زندہ رہنا چاہتا تھا لیکن اسے اپنے معاشرے سے اپنے اچھے کردار کا سرٹیفیکیٹ چاہیے تھا وگرنہ ماں کی مامتا تو بیٹوں سے کردار کے سرٹیفیکیٹ نہیں مانگا کرتی!!
Facebook Comments Box
harrasmentProfessor SuicideSexual HarrasmentSuicideپروفیسر خودکشیجنسی ہراسگیہراسمنٹ
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
خواتین کارڈ اور سوشل میڈیا ‎‎‎——– محمد شافع صابر
next post
بچوں کی سماجی تربیت: کیسے؟ —– قاسم یعقوب

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.