تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیکالم

جمہوریت کو پنپنے دو‎ ——– سمیع احمد

by Editor2 19/10/2019
written by Editor2 19/10/2019
93

آج کل ہر کوئی مولانا فضل الرحمان کا آزادی مارچ اور نواز شریف کا مزاحمتی سیاست کی جانب رخ ڈسکس کر رہا ہے کچھ کا خیال ہے کہ عمران حکومت کی چھٹی ہونے والی ہے۔ حکومت نہ بھی گئی تو خان ضرور جانے والے ہیں۔ کچھ جغادری کہتے ہیں کہ معاملات طے پا چکے ہیں۔ نواز شریف کی حکومت بننے والی ہے۔ محفوظ پچ پر کھیلنے والے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی مشترکہ حکومت کی بات کرتے ہیں۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ مقتدرہ عمران خان سے مایوس ہو چکی ہے۔

عمران خان ماضی میں خود بھی یہی کام کرتے رہے ہیں اس لیے اب دوسری جماعتیں بھی یہی کر رہی ہیں۔ ملک میں تاجر اور بیوروکریٹ بھی نہیں چاہتے کہ حکومت کامیاب ہو کیونکہ وہ نظام میں بہتری کو اپنے خلاف سمجھتے ہیں۔

ڈیڑھ سال کسی بھی حکومت کے لیے کم عرصہ ہوتا ہے اور ملک کو جن مشکلات کا سامنا ہے ان کا حل حکومت کی تبدیلی میں نہیں بلکہ نظام میں استحکام سے ہے۔ عمران خان کی شخصیت روایتی سیاستدانوں سے بالکل مختلف ہے، یہ بات حقیقت ہے کہ انہوں نے جو وعدے کیے وہ پورے نہیں کر پا رہے ہیں لیکن اس کی وجہ ہوم ورک نہ ہونا ہے ان کی ٹیم میں بھی روایتی کھلاڑی ہی موجود ہیں اب تو اس بات کا خود خان صاحب بھی اعتراف کر چکے ہیں. بلا شبہ تحریک انصاف حکومت شاید پاکستان کی سیاسی تاریخ کی پہلی حکومت ہے جو بے پناہ مسائل کا شکار ہونے کے باوجود جارحانہ سیاست کر رہی ہے۔ باوجود اس کے کہ پنجاب میں پوری طرح بیورو کریسی کی اتھل پتھل سال میں ایک ہی محکمے کے سات سیکرٹری، ڈیڑھ سال میں چار انسپکٹر جنرل پولیس کی متنازعہ تبدیلیاں، وفاقی کابینہ کے تین اہم وزرا کے خلاف مبینہ انکوائری کی خبریں اور تردید، کشکول توڑنے کے دعوئوں کے باوجود امدادی مہم اس حکومت کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں۔۔

تحریک انصاف حکومت شاید پاکستان کی سیاسی تاریخ کی پہلی حکومت ہے جو بے پناہ مسائل کا شکار ہونے کے باوجود جارحانہ سیاست کر رہی ہے۔

کہنے والے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمان کو لانچ کرنے والے بھی وہی ہیں جو عمران خان کو مرد آہن بنا کر پیش کرتے رہے ہیں۔ سب اپنی سوچ کے مطابق درست کہتے ہو گے۔ ایسے ہی ہوتا ہے جب سیاسی جماعتیں اپنی اہمیت اور افادیت کھو جاتی ہیں۔ قومی سطح پر قیادت کا بحران ہوتا ہے تو عوامی رجحانات اسی طرح تعمیر ہوتے ہیں۔ انگریزی محاورہ ہے Nature abhors a vacuum قیادت کے اس بحران میں مولانا فضل الرحمان نے جست خوب لگائی ہے، کہتے ہیں نہ دشمن کا دشمن دوست ہوتا ہے اسی لئے مولانا نے سب کو اپنی لائن میں کھڑا کر لیا ہے۔ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن کیا، حکومت اور میڈیا بھی مولانا کے آزادی مارچ کے سحر میں جکڑے نظر آتے ہیں.سب کے اپنے اپنے مفادات ہیں ہر کو اپنی اوقات کے مطابق اپنا حصہ اور ریلیف لے کے سائیڈ پے ہو جاۓ گا ادھر نواز شریف اپنی صاحبزادی سمیت جیل میں ہیں اور شہباز شریف بغیر چوں چراں ‘اداروں سے مذاکرات’ کا بھاشن سُنا رہے ہیں ایسے میں پی پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری کے خلاف منی لانڈرنگ کے مقدمات اور زرداری صاحب کے انتہائی قریبی لوگوں کو اُٹھانا بھی اسی گریٹ گیم کا حصّہ ہے

ملک ترقی کی بجائے تنزلی کی طرف بڑھتا رہا ہے۔ ملکی صورتحال آج اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ کاروبار مملکت چلانے کیلئے ایک ایک پائی مانگنا پڑ رہی ہے۔ اس کے باوجود سیاستدان ایک دوسرے کو گرانے پر کمر بستہ ہیں۔ ماضی سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا۔ عمران خان حکومت کو بنے ابھی دو سال بھی نہیں ہوے۔ فضل الرحمان تو پہلے دن سے ہی حکومت گرانے نکل پڑے تھے۔ اب پیپلز پارٹی نے بھی نعرہ لگا دیا۔ مہذب اور حقیقی سیاستدان اپوزیشن میں رہتے ہوئے ملکی اور عوامی مفادات کا تحفظ کرتے ہیں۔ حکومت پر انتخابی وعدے پورے کرنے کیلئے دباؤ بڑھاتے ہیں۔ اگر حکومت عوامی مفاد میں کام نہ کر رہی ہو تو اپوزیشن پارلیمان میں ملکی ترقی اور عوام مسائل کے حل کے بل لے کر آتے ہیں اور پاس کراتے ہیں۔ مگر اقتدار کے بچاری سیاستدان صرف ذاتی مفاد کی جنگ کرتے ہیں۔

حکومت سے سو اختلافات سہی مگر اس وقت جہوریت کا دفاع کیا جانا چائیے۔ کہنے والے یہ نہ کہہ سکیں کہ سیاستدان ملک اور جمہوریت چلانے کی اہلیت نہیں رکھتے ہیں۔ میرے اس امر سے کوئی انکار نہیں ہے کہ سیاستدان اس وقت سیاسی بصیرت کا مظاہرہ نہیں کر رہے۔ دانستہ یا نادانستہ اپنے سیاسی عمل سے اس بات کو تقویت دے رہے ہیں کہ ملک میں قیادت کا بحران ہے۔ کوئی بھی سیاستدان اس قابل نہیں ہے جس کے پاس ملکی مسائل حال کرنے کی صلاحیت ہو۔

باخبر سیاسی کارکن اس امر سے بخوبی آگاہ ہیں کہ غیر جمہوری عناصر جمہوری روایات اور جمہوری نظام سے خائف ہیں۔ اب یہ جمہوری لوگوں کا فرض ہے کہ وہ جمہوریت کا تحفظ کریں اور کوئی موقع ایسا نہ دیں جس سے جمہوریت کے خلاف آواز پیدا ہو۔ اس لئے جمہوریت کی بقا اور استحکام کی خاطر گرانے کی باتیں جانے دو۔ جمہوریت کو پنپنے دو۔

Facebook Comments Box
آصف زرداریبیوروکریٹبیوروکریسیپاکستانی میڈیاپنجابپیپلز پارٹیتاجرتحریک انصافشہباز شریفعمران حکومتعمران خانمسلم لیگ نمنی لانڈرنگمولانا فضل الرحمانمولانا فضل الرحمان آزادی مارچنواز شریف
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
Editor2

previous post
دانشِ عصر: احمد جاوید — (اردو ناول – کلاسیکی و جدید روایت) گفتگو: خرم سہیل- حصہ 1
next post
خواتین کارڈ اور سوشل میڈیا ‎‎‎——– محمد شافع صابر

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.