تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیکالم

ہماری بے وقار کہانی ——– ڈاکٹر فرحان کامرانی

by Editor2 18/10/2019
written by Editor2 18/10/2019
144

قیصر ولیم میں ایک ادا بڑی شاندار تھی، وہ جب تک جرمنی کا بادشاہ تھا تب تک ایک قومی مطلق العنان اور بڑی انا کے حامل شاہ کی طرح حکمران رہا، اپنے دوست آسٹرو ہنگری کے شہزادے کے انتقام کے لئے جنگ میں کود پڑا مگر جب شکست ہوئی اور جلاوطن ہونا پڑا تو اپنی جلاوطنی کی زندگی میں بالکل خاموش اور اپنے محل میں گوشہ نشین زندگی گزار دی۔ اب بھی شاہ جرمنی کے اطوار بالکل شاہانہ تھے مگر نہ وہ دو ٹکے کے سیاستدانوں سے بات کرتا نہ دو پیسے کے صحافیوں کو ہی منہ لگاتا۔ اقتدار، اختیار، رتبہ، مرتبہ بڑی بھاری چیزیں ہیں، یہ اجلاف کو زیب دیتی ہی نہیں۔

شاہ ایران میں ہزار خرابیاں ہوں مگر ایک بات بڑی اچھی تھی کہ اقتدار سے نکلنے کے ایک سال بعد ہی مر گیا، فرض کریں کہ وہ 1990ء تک زندہ رہ جاتا تو خود اپنی تحقیر، اپنی توہین بن جاتا۔ عدی امین بادشاہ تو نہ تھا مگر یوگنڈا کا مطلق العنان حاکم ضرور تھا۔ جب تک وہ اقتدار میں رہا ہر وقت اپنی عجیب حرکات کی وجہ سے خبروں کا مرکز رہا مگر جب وہ جلاوطن ہوا تو پھر اس نے ایک مرتبہ بھی کسی اخبار تک کو انٹرویو نہ دیا اور بالآخر 2003 میں خاموشی سے دنیا سے چلا گیا۔ یہ سب عزت دار لوگ تھے، انہوں نے جان لیا تھا کہ طاقت ان کے ہاتھ سے نکل گئی ہے، کل تک جو نگاہیں ان کے سامنے جھکی رہتی تھیں وہ اب بے باک ہو گئی ہیں۔ کل تک جو لوگ ان کے در پر سجدہ کرنے کو تیار تھے آج وہ ان کی توہین کے مواقع کی تلاش میں ہیں۔ اس لئے ان لوگوں نے کنارہ کشی اور گوشہ نشینی اختیار کی، امریکی صدر دنیا کا طاقتور ترین صدر ہوتا ہے مگر جب وہ دو مرتبہ صدارتی دورانیہ پورا کر چکا ہوتا ہے تو صرف سیاست سے ہی نہیں، بیان بازی اور توجہ کے مرکزی اسٹیج سے بھی رٹائر ہو جاتا ہے۔ بش جونیئر زندہ ہیں، جمی کارٹر، کلنٹن زندہ ہیں مگر کیا یہ لوگ کبھی کسی عالمی معاملے پر بیان بازی کرتے ہیں؟ زیادہ بولنے سے، برا بولنے سے انسان کی عزت ختم ہوتی ہے۔ وہ اپنا وقار کھو دیتا ہے، مگر نہ جانے کیوں ہمارے ملک میں یہ بات کسی کی سمجھ میں ہی نہیں آتی؟ ہمارے پاس اس کی چند مثالیں ہیں جو ذیل میں بیان کی جاتی ہیں۔

امریکی صدر دنیا کا طاقتور ترین صدر ہوتا ہے مگر جب وہ دو مرتبہ صدارتی دورانیہ پورا کر چکا ہوتا ہے تو صرف سیاست سے ہی نہیں، بیان بازی اور توجہ کے مرکزی اسٹیج سے بھی رٹائر ہو جاتا ہے۔

عبدالقدیر خان صاحب محسن پاکستان ہیں، اس میں کوئی شک نہیں، انہوں نے ملک کو ایٹمی طاقت بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ وہ ایک بڑے سائنسدان ہیں، اس میں بھی دو رائے نہیں۔ اور مشرف کے عہد میں جو ان کے ساتھ ہوا وہ بھی سراسر زیادتی کے سوا کچھ نہیں، یہ بات بھی درست ہے مگر وہ ایک انٹلیکچول نہیں ہیں تو سیاست، مذہب اور ہر قسم کے ہی موضوع پر ہر طرح کے الٹے سیدھے اور احمقانہ مضامین لکھتے ہی چلے جانے کی انہیں کوئی ضرورت ہے۔ ان کو کیا ضرورت تھی کہ ایک احمقانہ سیاسی جماعت بنائیں؟ ان کو کیا ضرورت ہے کہ وہ ایک نفسیات کے ادارے کو ایک طور سے اغواء کرتے ہی بیٹھ جائیں حالانکہ علم نفسیات سے ان کا کوئی تعلق نہیں؟ اور سب سے بڑھ کر ان کو کیا لازم ہے کہ اپنی نس بندی کا اعلان کر کے اس ضعیفی میں خاندانی منصوبہ بندی کے پوسٹر بوائے بن جائیں؟ مگر ایک بے وقار شخصیت بنے رہنا جیسے ان کا زندگی کا مشن ہے۔ اب ظاہر سی بات ہے کہ ایٹمی دھماکے کے بائیس سال بعد بھی یہ تو ممکن نہیں کہ وہ طاقت کے اسی مرکز پر اور اہمیت کے اسی مقام پر کھڑے رہیں۔ کوئی بھی نوکری ہو، رٹائرمنٹ کے بعد توجہ تو ہٹتی ہی ہے۔ تو کیوں نہ ایک باوقار خاموشی اختیار کی جائے اور علمی تحقیق پر توجہ مرکوز کی جائے؟ ایک سائنسدان سے اور کیا مطلوب ہو سکتا ہے؟

پھر ایک اور اسی طرح کی چیز افتخار محمد چوہدری صاحب ہیں۔ یہ صاحب ملک کے منصف اعلیٰ تھے اورانہوں نے اپنے عہد کے فرعون سے ٹکر لی تھی مگر اب یہ صاحب ایک بھانڈ بن چکے ہیں۔ میں یہ سطور بڑے دکھ سے تحریر کر رہا ہوں۔ یہ صاحب میری نوجوانی میں میرے ہیرو تھے۔ جب یہ 12 مئی 2007ء کو کراچی آ رہا تھے تو میں نے بھی سوچا تھا کہ ایئرپورٹ اس کے استقبال کے لئے جاؤں مگر پھر میں ڈر گیا اور استقبال میں نہ گیا۔ مگر بعد میں چیف صاحب کے اور ہی رنگ سامنے آئے۔ خیر جو بھی تھا مگر ایک وقار اس شخص میں تھا جو اس کے منصب سے میل بھی کھاتا تھا۔ مگر رٹائرمنٹ کے بعد یہ صاحب بول بول کر اپنا منہ کھول کھول کر خود کو بے عزت کرائے ہی جاتے ہیں۔ ایک سیاسی پارٹی بھی بنا لی ہے اور اب ہر ٹی وی چینل کو ترجھی نگاہوں سے انٹرویو دیے ہی جاتے ہیں۔ ایک سال قبل محترم نے فرمایا کہ عمران خان کی ناجائز بیٹی کے معاملے کو اٹھا کر عمران خان کو نااہل کرائیں گے۔ عمران خان کوئی فرشتہ نہیں مگر مزاحیہ بات یہ ہے کہ عمران خان اس شخص کا سب سے بڑا حمایتی تھا۔ سوال یہ ہے کہ یہ شخص جب ملک کاچیف جسٹس تھا اور مشرف کی ”میڈم“ عتیقہ اوڈھو کے پاس سے شراب کی بوتل نکلنے تک ہر سوموٹو ایکشن لے لیا کرتا تھا۔ تب عمران خان کی اس ناجائز اولاد کے مسئلے پر سوموٹو ایکشن لے کر اس معاملے کو کیوں نہ نمٹا دیا؟ قصہ ہی پاک ہو جاتا۔ شراب کی بوتل سے تو بڑا ہی تھا ناں یہ ٹیریان خان کی ولدیت کا معاملہ؟ مگر بات یہ ہے کہ محترم کو کو توجہ کی عادت ہو گئی ہے۔ ان کو ٹی وی پر آنے اور خبریں بنانے کی لت لگ گئی ہے۔ یہ بھی ایک نشہ ہے۔

اسی نوع کی ایک شخصیت پرویز مشرف صاحب بھی ہیں۔ ان کے اقتدار کو ختم ہوئے گیارہ سال بیت گئے۔ ان کی کوئی سیاسی قوت نہیں۔ ملک میں کئی مقدمات میں مطلوب ہیں اور مفرورہیں مگر اب بھی روز ہی کسی فارغ ٹی وی اینکر کے پروگرام میں بیٹھے بہکی بہکی باتیں کرتے نظر آتے ہے۔ کیا ہی بات تھی کہ یہ صاحب عیدی امین کی طرح خاموش جلاوطنی اختیار کر لیتے۔ پھر جب بھی لوگ ان کو یاد کرتے تو ان کے ذہن میں صرف ان کی طاقت کا دورآتا۔ ان کے اذہان میں یہ صاحب دنیا کے بڑے بڑے رہنماؤں کے ساتھ ابھرتے۔ مگریہ صاحب ابھی کچھ عرصہ قبل یہ ہر غیر اہم چینل پر ایک ایک گھنٹے کے انٹرویو دے دے کر خود کو ہر ایک کے لئے ہر وقت مہیا، ایک فارغ ترین، رٹائرڈ ترین شخص کے طور پر پیش کر ردیا ہے مگر اب ان کو کون یہ بات سمجھائے کہ اپنی توہین مسلسل چھوڑیں اور اپنے حال کو تسلیم کر لیں۔

اسی طرح کی ایک مثال فاروق ستار بھی ہیں۔ MQM کی طاقت کے زمانے میں شہری سندھ میں اس کا طوطی بولتا تھا مگر 22 اگست کے بعد کی صورت حال میں یہ ہلکے ہلکے کمزوری کا نشان بنتے چلے گے۔ پھر سونے پہ سہاگہ یہ کہ اس کمزور MQM نے بھی ان کو برطرف کر دیا مگر یہ بھی نہ جانے کیوں اپنی توہین کئے ہی چلے جاتے ہیں۔ ان کو خود پر رحم نہیں آتا۔ محترم نہ جانے کس غلط فہمی، کس ابہام، کس خیال میں ہیں۔ MQM کی قوت، اس کی تحریکی نظم و ضبط کے مرہون منت تھی۔ وہ سارا تحریکی ڈھانچہ تو ٹوٹ چکا۔ پھر بچی کھچی MQM اور پتنگ کا نشان تو خالد مقبول صدیقی صاحب لے گئے۔ ویسے اس غلط فہمی کے شکار تو محترم سلیم شہزاد صاحب بھی تھے کہ وہ کراچی لینڈ کریں گے اور ہر طرف عوام اس طرح ان کے استقبال کے لئے امنڈ آئیں گے جیسے 80ء کی دہائی کے اواخر میں ہوا کرتا تھا، مگر MQM کوئی Electable کی جماعت تو ہے نہیں، نہ ہی ان سب کا کوئی حلقہ تھا۔ الطاف حسین نے کہیں سے کھمبا کھڑا کیا تو وہ بھی انتخابات جیت گیا۔ ایسے میں فاروق ستار کیا ہیں اورمرحوم سلیم شہزاد کیا تھے؟ مگر یہ لوگ ایک باعزت خاموشی۔ ایک پروقار کنارہ کشی کر لینے کے بجائے اپنا ہی مذاق اڑوائے جانے پر بری طرح تل گئے۔

یہ بے وقار زندگی ہمارے ملک کے سارے ہی زوال کے شکار افراد میں کچھ اس طرح ظاہر ہوتی ہے کہ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ ہمارا قومی مزاج ہے۔ ہم نے فیصلہ کرلیا ہے کہ خود کو ذلیل کرنا ہے اور کرتے ہی چلے جانا ہے۔ عیدی امین اور شاہِ ایران بھی تو تاریخ میں کوئی مثبت کردار بھی نہ تھے مگر ان میں وقار تھا۔ مگر ہم کیا ہیں؟ اتنی پیاری ہے شہرت؟ اتنی اچھی ہے طاقت کہ نہ بھی ہو تو بھی اسکی یاد کو سینے سے لگائے ہی رہنا ہے؟

Facebook Comments Box
الطاف حسینایرانایم کیو ایمپاکستانپرویز مشرفجرمنیچیف جسٹس افتخار محمد چوہدریخالد مقبول صدیقیشاہ ایرانطاقت کا نشہعبدالقدیر خانعمران خانفاروق ستارقیصر ولیمنشہنواز شریف
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
Editor2

previous post
پولیس کے احتجاج پر احتجاج کیوں ——- خرم شہزاد
next post
کیا مذہبی طبقے نے ٹشو پیپر بننا قبول کر لیا ——– خرم شہزاد

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.