تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیکالم

پاکستان، کشمیر اور سنکیانگ ——– عمیر فاروق

by Editor2 14/10/2019
written by Editor2 14/10/2019
81

بھارت کی طرف سے پاکستان پہ الزام عائد کیا گیا کہ پاکستان نے کشمیر پہ تو آواز بلند کی لیکن سنکیانگ کا نوٹس نہ لیا۔ ہمارے ایک طبقے نے بھی بھارت کی تان سے تان ملائی یہ سوچے بغیر کہ دونوں معاملات میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ یاد رکھنا چاہیے کہ سنکیانگ چین کی بین القوامی حدود کے اندر غیر متنازعہ طور پہ چین کا حصہ ہے جبکہ کشمیر کبھی بھی انڈیا کی بین الاقوامی سرحد کے اندر نہیں رہا اور یہ تسلیم شدہ عالمی تنازعہ ہے۔

جہاں تک مختلف عالمی مسائل پہ ریاستی رائے زنی کا تعلق ہے تو پہلا اصول یہ ہوتا ہے کہ دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات عملی یا زبانی مداخلت سے گریز کیا جائے کیونکہ یہ ان ممالک کے اقتداراعلی یا ساورنٹی میں دخل اندازی کے مترادف ہے۔ یاد رہے کہ یہ عمومی رویہ تمام مہذب دنیا اپناتی ہے حتی کہ کوئی بہت گھمبیر مسئلہ درپیش نہ ہو۔

اسی لیے پاکستان آسام یا انڈیا کی ریڈ بیلٹ پہ ہمیشہ خاموش رہا اور انڈیا کو اس لئے ہدف تنقید نہ بنایا کہ مبادا اس کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا تاثر نہ جائے۔ سنکیانگ پہ خاموش رہنے کا اعتراض لاشعوری طور پہ یہ بھی فرض کر لیتا ہے گویا جس طرح امریکہ انسانی حقوق کی عالمی چیمپین شپ کا دعویدار ہے اسی طرح پاکستان کو مسلمانوں کے بارے میں ایسا ہی جارحانہ رویہ اپنانا چاہیے۔

لیکن کیا سنکیانگ واقعی کوئی اسلامی مسئلہ ہے ؟ کیا اویغور تحریک کی بنیاد مذہب ہے ؟

واقعات اس کی تائید نہیں کرتے چین کا ان کے ساتھ رویہ جو بھی ہے مذہب اسکی وجہ یا بنیاد ہرگز نہیں ورنہ کم لوگوں کو علم ہے کہ سنکیانگ کے ہی مشرق میں واقع کانسو کا صوبہ بھی بھاری مسلم اکثریت کا حامل صوبہ ہے وہاں ایسی کوئی تحریک موجود نہیں اور نہ ایسی کوئی شکایات، اسی طرح چین کی ہان النسل مسلمان آبادی کا معاملہ ہے انکی طرف سے بھی ایسی کوئی شکایت کبھی سامنے نہیں آئی۔ سنکیانگ کی اویغور تحریک کی بنیاد اویغور قومیت ہے نہ کہ مذہب۔

علیحدگی کی ان قومیتی تحریکوں کا معاملہ کافی الجھا ہوا ہے بے شمار ملکوں میں یہ موجود ہیں کبھی پس منظر میں چلی جاتی ہیں اور کبھی عالمی سیاست کی ضروریات اور مخالف ملک انہیں ہوا دیکر آگے لے آتے ہیں۔ درحقیقت یہ اخلاقی یا انسانی نہین بلکہ سیاسی معاملات ہوتے ہیں اور ان کو سیاسی زاویہ سے ہی لینا ہوتا ہے۔

مثلا روہنگیا کا معاملہ ہی لے لیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عالمی میڈیا نے اسکو مسکمانوں پہ ظلم کے زاویہ سے ابھارا لیکم معاملہ یہ نہیں تھا ورنہ برما کے اندر برمی مسلمان بھی تو ہین ان سے یہ سلوک کیوں نہیں؟ برمی لوگوں نے روہنگیا کو کبھی برمی نہیں مانا وہ انہیں بنگالی ہی سمجھتے آئے اور روہنگیا نے بھی کبھی برمی ہونے کا دعوی نہ کیا۔

برما کی طرف سے روہنگیا کے ساتھ سلوک ویسا ہی تھا جیسا یوگنڈا اور سری نام کی طرف سے آزادی کے بعد انڈین آبادی کو خارج کردینے کا عمل۔ دیکھا جایے تو روہنگیا کا معاملہ برما اور بنگلہ دیش کے درمیان تھا دوسری طرف بھارت بھی تو بنگالی النسل مسلمانوں کی شہریت کا اسی طرح انکار کررہا ہے جس طرح برما

یقیناً بنگلہ دیش ہی دونوں معاملات میں فریق ہے اور اگر بنگالی حکومت چپ ہے تو پاکستان کیوں ریاستی سطح پہ نوٹس لے؟ پاکستان تو سرے سے فریق ہی نہیں۔

یہی معاملہ یمن اور شام کا بھی ہے انسانی المیہ اور ذاتی سیاسی ہمدریوں سے قطع نظر کم لوگوں کو علم ہے کہ پاکستان نے جہاں ایک طرف یمن میں فوج نہیں بھیجی وہاں شام کے قضیہ میں ہر فورم پہ شامی ریاست کا ساتھ دیا نہ کہ کسی باغی گروپ کا۔

ایسا ہی معاملہ ترکی اور شام کے کرد علاقے کا ہے۔ انسانی سطح پہ یہ یقیناً ایک بہت بڑا المیہ ہے لیکن ریاستی ردعمل کسی حل کی جانب پیش رفت ہونا چائییے نہ کہ جذباتی ردعمل۔ کرد مسئلہ ایک وسیع مسئلہ ہے جو ایک آدھ نہین بلکہ چار ریاستوں کا مسئلہ ہے۔

علیحدگی کی تحریکیوں کا مسئلہ یہ ہے کہ انکے پیچھے مخالف ریاستوں کے مفادات جُڑے ہوتے ہین جو اپنے مقاصد کے لئے ان تحریکوں کو آلہ کار بناتے ہیں لہذا جلدبازی میں آکر جذباتی ردعمل دینا اور کسی کی کھیل کا مہرہ بن جانا حماقت کے سوا کچھ نہیں۔

دوسری بات یہ ہے کہ دوسرے ممالک کی ساورنٹی میں مداخلت سے گریز ہونا چاہئے۔ چونکہ ترکی نے فوج شام کی حدود میں داخل کی ہے تو اعتراض کا پہلا حق شام کا ہے۔ یہ معاملہ پہلے شام، ترکی اور کردوں کا ہے اس کے بعد کسی اور کا اور ہمیں بھی اس کا مفت میں ٹھیکہ لینے سے گریز کرنا چاہئے۔

یقیناً کرد مسئلہ ایک بڑا مسئلہ ہے اور ایک آدھ نہین بلکہ چار ممالک اس میں فریق ہیں۔ راقم الحروف کے نزدیک یہ معاملہ وفاقیت federalism کا ہے اور یہی اسکا حل ہے ایران، ترکی، شام وغیرہ کو وحدانی ریاستیں بنے رہنے کی بجائے وفاقیت کی طرف آنا چاہیے

لیکن ظاہر ہے کہ میرا یہ توقع کرنا غلط ہوگا کہ ریاست میرے نظریہ پہ لازماً عمل کرے اسی طرح دیگر دوستون کو اپنے سیاسی نظریات کے بارے میں یہی تسلیم کرنا ہوگا کہ ریاست انکے سیاسی نظریہ کی پابند نہیں۔

Facebook Comments Box
اسلامافغانستانامریکہانڈیاایرانبھارتپاک فوجپاکستانترکیچائینہچینروہنگیاسری نامشامعراقکشمیرمسئلہ کشمیرمسلمانمقبوضہ کشمیرہندوستانیمنیوگنڈا
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
Editor2

previous post
لنگڑی دانشوری —– فاروق عادل
next post
فروغِ انتشار کی صنعت اور ٹارگٹ کی نشانہ بازی —- عزیز ابن الحسن

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.