تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
شعور کی انارکی: یہ سب ہوا کیسے؟ —...
شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...
ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری
شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول
ابریشم از سلمان باسط — ڈاکٹر بی بی...
محمد حفیظ خان کی فکشن نگاری —  ڈاکٹر...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیسیاسیعلمیکالممذہبی

سیکولرزم: یہ جنگ آپ ہر حال میں ہار جائیں گے —– جاوید احمد غامدی

by دانش ڈیسک 15/11/2019
written by دانش ڈیسک 15/11/2019
412

ذیل میں جناب جاوید احمد غامدی کی سیکولرازم اور ریاست کے موضوع پہ ایک اہم گفتگو پیش کی جارہی ہے، مذکورہ گفتگو کی وڈیو بھی آخر میں موجود ہے۔


اس وقت جو ریاست موجود ہے۔ یہ خواہ قومی ریاست ہے یا کوئی (اور ہے) اس میں جب آپ حکومت قائم کرتے ہیں۔ تو کیا اس حکومت (کے لیے) دین میں کوئی حکم دیا گیا ہے۔ (جب) میں جواب میں یہ کہوں کہ نہیں دیا گیا (ہے) تو مسئلہ ختم ہو گیا۔

ہمارے ہاں کا جو جدید طبقہ سیکولرازم سے متاثر ہے (یعنی) لبرازم سے متاثر ہے۔ (تو) اس کا مسئلہ کیا ہے۔ اس کے دو مسائل ہیں۔ ایک باطنی اور (دوسرا) ظاہری۔ باطنی مسئلہ (کے حاملین) میں ایک اچھی خاصی تعداد کا یہ (حال) ہے کہ وہ اصلا مذہب پر اپنا ایمان ختم کر چکا ہے۔ (واضح رہے کہ) میں کسی کے دین و ایمان پر کوئی تبصرہ نہیں کر رہا۔ (بلکہ) ایک تعداد (ایسی) ہے جس سے آپ (اگر) گفتگو یا بات کریں وہ اس کا اقرار کرتے ہیں۔ یہاں پر بھی میں کوئ حکم نہیں لگا رہا۔ بلکہ وہ خود اس کا اقرار کرتے ہیں۔

وہ آپ سے کہیں گے کہ ’ہم نہیں جانتے خدا کون ہے، آخرت کیا ہوتی ہے۔ (یہ سب) ملاؤں کی باتیں ہیں۔‘
لیکن بہرحال وہ مسلمان ہی کہلاتے ہیں، مسلمانوں کے معاشرے ہی میں رہتے ہیں۔ مسلمانوں ہی کے مطابق دفن کیے جاتے ہیں۔ جنازے ان کے پڑھے جاتے ہیں۔ اور وہ پسند نہیں کرتے کہ اپنے آپ کو مسلمانوں کی جماعت سے (خود کو) الگ کریں۔ ایسا ایک طبقہ موجود ہے۔

لیکن انہی میں ایک طبقہ ایسا بھی ہے کہ جس کا خیال یہ ہے کہ ٹھیک ہے کہ ہم مسلمان ہیں۔ ہم نماز بھی پڑھتے لیتے ہیں۔ روزہ بھی رکھتے ہیں۔ (ہم مانتے ہیں) آخرت کا بھی معاملہ ہے۔ لیکن اجتماعی زندگی کے بارے میں انسانی تجربے نے ہمیں (یہاں) پہنچا دیا ہے کہ جدید قومی ریاست کو سیکولر ہونا چاہیے۔

سیکولرازم اپنے آخری مفہوم، اپنے آخری اطلاق میں ایسا ہی ہونا چاہیے۔

یہ لوگ ہیں کہ جو میرے نزدیک نہ صرف یہ کہ مذہبی لحاظ سے غلط جگہ پر کھڑے ہیں بلکہ اگر وہ اپنے پیش نظر مقصد کے لحاظ سے بھی دیکھیں، تو وہ ایک ہاری ہوئی جنگ لڑ رہے ہیں۔

سیکولرازم اور لبرل ازم کے تصورات مغرب میں پروان چڑھے تو ان کی مخاطب مذہبی لحاظ سے مسیحیت تھی۔

(دیکھیں) جب سیکولرازم اور لبرل ازم کے تصورات مغرب میں پروان چڑھے تو ان کی مخاطب مذہبی لحاظ سے مسیحیت تھی۔ مسیحیت میں صدیوں پہلے، سیدنا مسیح علیہ السلام کے دنیا سے رخصت ہونے کے کم و بیش ایک صدی کے اندر اندر ہی ایک عظیم انقلاب برپا ہو چکا تھا۔ وہ انقلاب کسی حکومت یا ریاست نے برپا نہیں کیا تھا۔ وہ ان کے اندر ہی کے مذہبی رہنماؤں، سینٹ پال، نے برپا کیا تھا۔

وہ انقلاب یہ تھا کہ تورات کی شریعت کو مذہبی استدلال سے مسیحی نقطہ نظر سے الگ کر دیا گیا تھا۔ (کیونکہ) یہ واقعہ ہو چکا تھا۔ چنانچہ سیکولرازم یا لبرل ازم کی ساری جنگ مغرب میں چرچ کے خلاف تھی۔ اور چرچ اپنے وجود کے پیچھے کوئ حقیقی مذہبی استدلال نہیں رکھتا تھا۔ (کبھی) کیا کوئ چیز اپنی بنیاد رکھتی ہے۔ (بس) ایک روایت تھی، (وہ) قائم کر دی گئ۔ اس میں پوپ کو بڑا غیر معمولی سیاسی اختیار بھی صدیوں تک حاصل رہا۔ جس کو ول ڈوراں (اپنی کتاب) دی سٹوری آف سولائزیشن میں ایج آف فیتھ یعنی عصر الایمان کہتا ہے۔ یہی صورت حال تھی تو اس میں مذہبی لوگوں کو مسیحی دنیا میں بڑا غیر معمولی اقتدار حاصل ہو گیا۔

ہمارے ہاں بھی جیسے کہ شیعہ نقطہ نظر کے لوگ اہل تشیع ہیں۔ ان کے مذہبی علما کو ایک خاص طرح کا سیاسی اقتدار حاصل ہوتا ہے، اب تو وہ باقاعدہ ہو گیا ہے۔ لیکن اس سے پہلے بھی اس کو آپ بڑی حد تک ایک سیاسی اقتدار یا نیم سیاسی اقتدار سے تعبیر کر سکتے ہیں۔

(لیکن چونکہ) پوپ کا ادارہ اپنی کوئی بنیاد نہیں رکھتا تھا۔ (لہذا یہ ادارہ) انسانیت کے خلاف ایک تحکم تھا۔ اس سے زیادہ اس کی کوئی حیثیت نہیں تھی۔ لہذا (سیکولرازم) نے (اپنی) جنگ جیت لی۔ خود پاپائیت نے ویٹیکن میں اپنے آپ کو بند کرنے پر اتفاق کر لیا۔ کیونکہ ان کے پاس بھی کوئی استدلال موجود نہیں تھا۔ اگر تورات کی شریعت کو منسوخ نہ کیا ہوتا تو یہ واقعہ نہیں ہو سکتا تھا۔ (بالکل) ممکن نہ تھا۔ لیکن انسانوں کی نفسیات کے اندر سے یہ چیز نکل چکی تھی۔ یعنی ان کے ہاں تو صورت حال یہ تھی کہ جو انفرادی معاملات سے متعلق شریعت ہے وہ بھی ختم ہو چکی تھی۔ تو اسی لیے اسے کوئی مشکل پیش نہیں۔

ہمارے ہاں کے اس جدید طبقے کا نفسیاتی پس منظر یہ ہے کہ وہ وہاں سے چیزوں کو دیکھ رہا ہے۔

اسلام میں ایک بڑی تعداد احکام کی وہ ہے جو فرد سے متعلق ہے مگر چند احکام وہ بھی ہیں جو معاشرے، حکومت یا مسلمانوں کے نظم اجتماعی سے متعلق ہیں۔

مسلمان معاشرے کے اندر یہاں کون ہے۔ (یہاں) قرآن ہے۔ وہاں انجیل کی ایک تاویل کر لی گئ۔ یہاں قرآن ہے۔ پچھلی چودہ پندرہ صدیوں کےدوران میں کوئی یہ جسارت نہیں کر سکا کہ وہ یہاں کوئی اس طرح کا ادارہ وجود میں لے آئے۔ یا یہ اعلان کر سکے اور اس کو کروڑوں، اربوں کی تعداد میں لوگ قبول کر لیں کہ اسلام میں شریعت نہیں ہے۔ اگر آپ اسلام کے کانٹینٹ کا مطالعہ کریں جو قرآن میں بیان ہوا ہے تو اس کی “الحکمہ“ ہے۔ ایمان و اخلاق اصل دین ہے۔ اسی طرح اس کا ایک لازمی حصہ ‘انٹیگرل پارٹ‘ جزو لا ینفک اس کی شریعت اور اس کا قانون بھی ہے۔ یہ قانون جو آدمی بھی پڑھے گا وہ بلا تامل یہ جان لے گا کہ اس میں ایک بڑی تعداد احکام کی وہ ہے جو فرد سے متعلق ہے۔ چند احکام وہ بھی ہیں جو معاشرے سے متعلق یا جو حکومت سے متعلق ہیں یا مسلمانوں کے نظم اجتماعی سے متعلق ہیں۔

قرآن مجید ترجموں کی صورت میں نہیں ہے۔ یہ اپنی اصل صورت میں ہمارے پاس موجود ہے۔ اس کو ہر مسلمان اپنے گھر میں پڑھ رہا ہے۔ جیسے جیسے مذہب کی طرف توجہ ہوتی ہے لوگ اس کا مطالعہ دیکھ کر، سوچ کر، سمجھ کر کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس پہ کس میں یہ ہمت اور یارا ہے کہ وہ مسلمانوں کی نفسیات سے اس چیز کو نکال دے۔ یہ ممکن نہیں۔

چنانچہ آپ یہ دیکھیے کہ ترکی میں ریاست کی طاقت سے سیکولرازم کو ریاست کا مذہب بنانے کی کوشش کی گئ۔ اس میں ناکامی ہو گئ۔ مکمل ناکامی ہوئی۔ جہاں بھی یہ کوشش کی جائے گی ناکامی ہو گی۔
کیوں؟

ترکی میں ریاست کی طاقت سے سیکولرازم کو ریاست کا مذہب بنانے کی کوشش کی گئ۔ اس میں مکمل ناکامی ہوئی۔ جہاں بھی یہ کوشش کی جائے گی ناکامی ہو گی۔

جنگ پوپ اور لوگوں کے مابین نہیں ہے۔ جنگ قرآن کے اور لوگوں کے مابین ہے۔ یہ جنگ کسی صورت میں بھی کوئی نہیں جیت سکتا۔ اس وجہ سے میں ہمیشہ ان لوگوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ میں تو خیر اپنے ایمان کی جگہ پر کھڑا ہوں۔ اگر آپ اپنے سامنے کوئی سیاسی ہدف بھی رکھتے ہیں تو آپ ایک ہاری جنگ لڑ رہے ہیں۔ (مطلب ہے) کہ اس (جنگ) میں (کامیابی کا) کا کوئی امکان نہیں ہے۔

(یہاں) میں آپ سے ایک واقعہ عرض کروں اور آپ کے علم میں ہو گا کہ سندھ حکومت نے یہ اعلان کر دیا کہ وہ جمعے کا خطبہ ریاست کی سطح پر تیار کرے گی اور جامع مسجدوں میں وہی خطبہ دیا جائے۔ اس پر ظاہر ہے کہ ہمارے میڈیا پر ایک ڈیبیٹ شروع ہو گئ۔ تو وہ ڈیبیٹ میں نے سنی تھی۔ اس میں ہمارے دوست سلیم صافی صاحب نے، جو ٹھیک دین کا مؤقف ہے، اس کو بہت وضاحت کے ساتھ بیان کر دیا۔ اگرچہ اس میں ایک دو چیزیں ایسی ہیں کہ جن کے اوپر ان کی خدمت میں عرض کیا جا سکتا ہے کہ نظر ثانی فرمائیں۔

سیکو لر ازم کا لفظ بولتے ہوے سوچ لیجیے کہ آپ کیا کرنے جا رہے ہیں۔ آپ کے مقابلے میں قرآن کھڑا ہے۔

مثال کے طور پر انہوں نے یہ کہا کہ جو خطبہ ہے وہ تو ریاست ہی کا حق ہے۔ جامع مسجد بھی ریاست ہی کے پاس ہو گی۔ لیکن خطبہ تیار کرنے کے لیے تمام مکاتب فکر کے علما کی ایک کمیٹی بنائی جائے۔

اس کی کوئی ضرورت نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تمام علما یعنی مختلف نقطہ نظر کے علما کے پاس اپنی بات کہنے کے ہر جگہ مواقع موجود ہیں۔ وہ ہر مسجد میں جائیں، منگل کو، بدھ کو جب چاہیں درس دیں، تدریس کریں۔ اپنے نقطہ نظر کو بیان کریں۔

(اس ڈیبیٹ) میں ایک صاحب نے یہ کہا کہ ہرگز ہرگز حکومت کو یہ کام نہیں کرنا چاہیے۔ یہ لوگوں کے مذہبی معاملات میں مداخلت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سیکولرازم: چند بنیادی غلط فہمیاں — انوار احمد

میں ہوتا تو بہت ادب کے ساتھ عرض کرتا کہ یہ تو اصل میں ریاست کے معاملات میں علما مداخلت کر چکے ہیں، اس کو روکا جا رہا ہے۔ یہ ان کا حق ہی نہیں ہے سرے سے۔ ان کا جو حق ہے، کسی کی رائے پر پابندی نہیں لگائی جارہی۔ کسی کی تقریر پر بھی پابندی نہیں لگائی جا رہی۔ چوک میں کھڑے ہو کر (تقریر) کریں۔ میں تو اس کا بھی قائل نہیں ہوں کہ مسجد میں جا کر اگر وہ کسی دوسرے دن میں کوئی بات کرنا چاہے تو اس پر کوئی پابندی لگائی جائے۔ کیونکہ اس میں کوئی مسلمانوں کا نظم اجتماعی زیر بحث نہیں ہے۔ جمعہ پڑھنا مجھ پر بھی لازم ہے۔ آپ پر بھی لازم ہے۔ اس لیے تو ہم نے جانا ہے۔ منگل بدھ کو کوئی عالم وہاں تقریر کرنا چاہے تو ہماری مرضی ہے جائیں گے، مرضی ہے نہیں جائیں گے۔ وہ پھر اس کا حق ہے کہ وہ اپنی بات کرے۔ ہمارا حق ہے کہ ہم جا کے سن لیں۔ اس میں کسی ریاست کی مداخلت کو میں جائز نہیں سمجھتا۔ یہاں صورت حال یہ نہیں ہے کہ ریاست مداخلت کرنے جارہی ہے۔ بلکہ صورت حال یہ ہے کہ جو ریاست کا حق تھا، اس میں صدیوں سے کی گئ مداخلت کا ازالہ کرنے کے لیے جا رہی ہے۔ یہ بتانا چاہیے تھا۔ تو میں یہ گزارش کر رہا ہوں کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں پر آکر غلطی ہوئی۔ ایک پوائنٹ اگرچہ میرے دوست سلیم صافی صاحب نے اٹھا دیا لیکن اس کو پوری طرح بیان نہیں کر سکے۔

اگر آپ یہ کہتے ہیں کہ ریاست کو مذہبی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے، تو پھر میں یہ سوال کروں گا کہ پھر جہاد میں بھی مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔

یہ میں آپ سے عرض کروں کہ جس وقت یہاں قتل و غارت گری شروع ہوئی۔ یہ آپ کے علم میں ہے نا کہ پینتیس چالیس سال سے یہاں جہاد کے نام پر قتل و غارت گری ہو رہی ہے (اور) بڑے پیمانے پر ہوئی۔ اور جب میں نے کھڑے ہو کر یہ کہا کہ جہاد ریاست کی ذمہ داری ہے۔ (تو) سارے سیکولر طبقے نے داد دی۔
یعنی کہ وہی بات ہے۔ اب بھی یہی کہا جا رہا ہے کہ ریاست کی ذمہ داری ہے۔ اس لیے کہ وہاں مقاصد پورے تھے۔
اگر آپ یہ کہتے ہیں کہ ریاست کو مذہبی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے، تو پھر میں یہ سوال کروں گا کہ پھر جہاد میں بھی مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔
قرآن مجید نے مجھے حکم دیا۔ میں جہاد کرنے کے لیے نکل کھڑا ہوا۔ میں نے اپنی ایک پوری کی پوری بٹالین قائم کر لی ہے۔ آپ کون ہوتے ہیں مداخلت کرنے والے۔

(دیکھا) مسلمانوں کے معاشرے میں تو آپ جنگ نہیں روک سکتے جب تک مذہب کے حوالے سے گفتگو نہیں کریں گے۔

(لہذا) یہاں سیکو لر ازم کا لفظ بولتے ہوے سوچ لیجیے کہ آپ کیا کرنے جا رہے ہیں۔ آپ کے مقابلے میں قرآن کھڑا ہے۔

میں آپ سے یہ عرض کر رہا ہوں کہ یہ جنگ آپ ہر حال میں ہار جائیں گے۔
تو یہ وہ جگہ ہے جہاں سے میری راہیں ان لوگوں سے جدا ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سیکولرازم اور سیکولرائزیشن : اطہر وقار عظیم
اور  سیکولرازم: چند بنیادی غلط فہمیاں ۔۔۔ انوار احمد

http://daanish-pk.stackstaging.com/wp-content/uploads/2019/10/Secularism-by-Ghamdi-Daanish.pk_.mp4
Facebook Comments Box
featuredGhamidiJaved GhamdiLiberalismSecular StateSecularismتجدد پسندتجدیدیتجاوید احمد غامدیسیکولر ازمسیکولرزمسیکولزمغامدیغامدیتلبرل ازم
0 comments 1 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
ایڈونچر ——– محمد اویس حیدر
next post
کھیل کی نفسیات اور آج کی سیاست ——– قاسم یعقوب

Related Posts

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول

11/07/2026

فکنگ بِچ —– افسانہ

27/03/2026

07/12/2025

10/11/2025

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • غزل گائیکی اور آج کا پاکستان —- اقدس علی ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.