تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیکالم

سوموار کو دل کا دورہ اور بے اختیاری و مجبوری ——- محمد مدثر احمد

by دانش ڈیسک 07/10/2019
written by دانش ڈیسک 07/10/2019
75

بات واٹس ایپ کی ڈی پی سے شروع ہوئی۔

دو زنانہ بازو جو کلائیوں سے بندھے ہوئے تھے۔۔۔
بے بسی یا بے کسی کی تصویر۔۔ جبر اور مجبوریوں کی زنجیر۔۔
ناتوانی اور اسکا برملا اقرار۔ ایک بھر پور خاموش احتجاج۔۔۔۔

یہ ساری باتیں ہمایوں کو زیب نہ دیتی تھیں۔ بندھی کمزور کلائیاں ایک مضبوط آزاد خیال فردکے تصور سے خار کھاتی تھیں۔ ایک حساس مگر زندہ دل شخص، ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ پُر عزم نوجوان۔ ایک فرد جو اپنی منفرد سوچ کا حامل ہے۔ بے باک اور لاپرواہ۔ معاشرے کے نافذ کردہ رسم و رواج سے بے نیاز۔ من موجی مطمئن، خوش اور کامیاب۔

’’یہ ڈی پی چینج کرو‘‘ میں نے حکم دیا۔
’’یہ ٹھیک ہے۔‘‘ جواب
’’ تم ایک ونر ہو۔ تم آزاد اور خود مختار ہو۔ اس بے کسی اور ہار کا تم سے کیا واسطہ۔ DPچینج کرو۔‘‘

’’کیا ہم واقعی آزاد اور خود مختار ہیں؟ میرے خیال میں ایسا نہیں ہے۔ ہمارے ہاتھ بندھے ہیں۔ کسی کے سامنے سے اور کس کے پیچھے سے اور یہ ہاتھ بڑی مضبوطی اور بے رحمی سے باندھے گئے ہیں۔ ہم مجبور ہیں۔ مختارکہاں۔ تم ہی توکہتے ہو ہمارے کندھوں پر نظر نہ آنے والا بوجھ لدا ہے۔ ہمارے اعصاب پر ذمہ داری کی ٹوکریاں ہیں۔جس سے کمر جھکی رہتی ہے۔ کچے دھاگوں نے ہمارے پاؤں جکڑ کے رکھ دئیے ہیں۔ فرار کی کوئی صورت نہیں۔‘‘

گفتگو سنجیدہ ہونے لگی۔

’’بھائی میرے ! سقراط بقراط نہ بنو۔ میں ابھی دفتر سے گھر آیا ہوں۔ کھانا کھانے لگا ہوں۔ مکمل نہ سہی مگرپھر بھی ہم ٹھیک ٹھاک آزاد ہیں۔ یا ہم ضروری حد تک آزاد ہیں۔ لیکن اس آزادی کی کچھ حدیں ہیں وغیرہ وغیرہ۔ اب کھانا کھانے دو۔‘‘

یہ پیغام لکھ کر میں نے اس غیر ضروری طور پر طویل ہوتی ہوئی گفتگو سے کنارہ اختیار کیا، کھانا کھا کر صوفے پر لیٹا اور ٹی وی پر چینل بدلتا رہا۔

’’ویسے کہتا تو وہ ٹھیک ہے۔‘‘ میرا دھیان اب بھی میں اسکی باتوں کی طرف ہی رہا۔ تھوڑی دیر بعد ٹی وی بند کرنا پڑا اور کاغذ قلم قریب کر لیا۔

ہم بندھے ہوئے ہی تو ہیں، رسی سے، زنجیر سے، روایت سے، مصلحت سے اور کچھ کچے دھاگوں سے ہم آزادی اور اختیار کے فر یب میں مبتلا ہیں۔ یا اس دھوکے میں خود کو رضاکارانہ طور پر رکھے ہوئے ہیں۔ ہم تو بھاگنا چاہتے ہیں۔ فرار کی کوئی صورت ہی نہیں۔ ہمیں فرار کی ایک آبرو مندانہ ’’گولڈن ہینڈ شیک‘‘ قسم کی آفر ملے تو ہم لپک کر پکڑ لیں۔ ہم وہ کام کرتے جا رہے ہیں جو ہمیں پسند ہی نہیں۔ یہ کس مشقت میں پڑے ہوئے ہیں۔ ہماری مرضی کہاں ہے۔

سوموار کا دن خوف کی علامت ہے۔ اتوار کی رات اداس کر دیتی ہے۔ دنیا بھر میں لوگوں کو زیادہ تر دل کا دورہ سوموار کو پڑتا ہے۔ بے روز گاری مسئلہ ہے اور صاحبِ روزگار کے لیے سوموار ایک المیہ۔ گھر کی ذمہ داریاں، معاشرے کی نا ہمواریاں، ٹھیک اور غلط کے تصورات، عزیز و اقرباء کی توقعات یہ سب فرد کی آزادی کی فطری خواہش کا گلہ دبائے ہوئے ہیں۔ گزرے زمانوں میں لوگوں کی عمریں ایک ایک ہزار سال تک ہوتی تھیں۔ اللہ کا شکر ہے کہ یہ سہولت اس دور کے انسان کو دستیاب نہیں۔ ان ساری فکروں، اندیشوں اور لاچاریوں کی گٹھری اٹھائے عہد حاضر کا انسان پچاس سال جیتا ہے تو اس کی سانس پھول جاتی ہے۔ یہ سفر صدیوں پر محیط ہوتا تو مرو ت اورخلوص کی جنس ڈھونڈتے نہ ملتی۔ ماضی پر اس لیے رشک آتا ہے کہ وہ گزر گیا۔ مستقبل کی ترکیب میں بے یقینی پن ایک لازمی اور غالب جزو ہے۔ یہ پہاڑ جیسا لگتا ہے۔ طویل اور پر خطر۔ یہاں راہی فرار کا طالب ہے۔ تسخیر سے عاجز ہے۔ یہ تو یہیں پاس ہی ایک چھوٹی سی کٹیا بسانا چاہتا ہے۔ اکیلا رہنا چاہتا ہے۔ تھوڑی سی زندگی چاہتا ہے۔ کچھ اپنی مرضی چاہتا ہے۔

یہاں راہی فرار کا طالب ہے۔ تسخیر سے عاجز ہے۔ یہ تو یہیں پاس ہی ایک چھوٹی سی کٹیا بسانا چاہتا ہے۔ اکیلا رہنا چاہتا ہے۔ تھوڑی سی زندگی چاہتا ہے۔ کچھ اپنی مرضی چاہتا ہے۔

اندیشہ سود و زیاں سے ماورا
وقت کے تقاضوں سے غافل۔
زمانے کی رفتار سے لا تعلق
لوگوں کی رائے سے بے خبر۔
صبح چھے بجے کے آلارم سے آزاد
صاحب کو کیس پر بریف کرنے سے مستثنیٰ
بچوں کے اوسط نمبروں پر شاد
پُرانی وضع کے گھر کی شکستہ دیواروں سے مطمئن
چھوٹی سی گاڑی میں خوش
تنخواہ میں اضافے کی غیر مصدقہ خبر سے نہال
ذات کی چھوٹی سی کٹیا بسانے والا
آزادی کی بوند بوند کو ترسا
جبر کی ریت میں آ دھا دھنسا انسان

میں نے قلم واپس رکھ دیا۔ موبائل فون اٹھایا اور ہمایوں کو فارورڈ کرنے کے لیے فیض کی ایک نظم ڈھونڈنے لگا۔

ربّا سچیا توں تے آکھیا سی
جا وے بندیا جگ دا شاہ اے تو
ساڈیاں نعمتاں تیریاں دولتاں نیں
ساڈا نائب تے عالیجاہ ہے تو
ایس لارے تے ٹور کد پچھیا ای
کیہ ایس نمانے تے کی بیتیاں نیں
کدی سار وی لئی او ربّ سائیاں
تیرے شاہ نال جگ کیہ کیتیاں نیں
ِکتے دھونس پولیس سرکار دی اے
ِکتے دھاندلی مال پٹواری دی اے
کئی سسیّاں تھلاں وچ رُلیاں
کئی رانجھے جوگی ہوئے

Facebook Comments Box
featuredheart attacktensionانسانی آزادیانسانی خود مختاریدل کا دورہلاچار انسانمجبور انسان
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
غربت کیسے ختم کی جا سکتی ہے؟ (حصہ دوم) ——– رومانہ ملک
next post
دوسری تدفین —— حمید قیصر

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.