تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیعلمیکالم

اشرافیہ کون؟ ——– نجیبہ عارف

by ڈاکٹر نجیبہ عارف 01/10/2019
written by ڈاکٹر نجیبہ عارف 01/10/2019
1.5K

گزشتہ کئی دنوں سے بار بار یہ خیال میرے ذہن سے ٹکرا رہا ہے کہ ہماری زبان میں کچھ ایسی اصطلاحات رائج ہیں جو غیر محسوس طریقے سے ہمارے رویوں اور طرز فکر پر اثر انداز ہوتی ہیں اور بعض صورتوں میں معاشرتی ترجیحات کی سمت نما بھی بن جاتی ہیں۔ اس عمل کا نتیجہ اگر مثبت ہو تو بہت خوب لیکن اگر ان لسانی دھندلکوں کے باعث معاشرے میں افراتفری اور نفسا نفسی پھیلنے کا اندیشہ ہو تو ہمیں ان کے متبادل ڈھونڈنے میں تامل نہیں ہونا چاہیے۔

ایسی ہی ایک اصطلاح ’’اشرافیہ‘‘ ہے جو اردو میں معاشرے کے ایک خاص طبقے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ یہ خاص طبقہ مارکسزم کی اصطلاح میں بورژوا کہلاتا ہے۔ عام لوگ اسے ’’اونچا‘‘ یا ’’اعلیٰ‘‘ طبقہ کہتے ہیں اور اس کے متضاد کے طور دوسرے طبقے کو ’’نچلا‘‘ یا ’’ادنیٰ‘‘ طبقہ کہا جاتا ہے۔ اب ہم میں سے کون ہے جو نچلے یا ادنیٰ طبقے کو اپنی شناخت بنانا چاہے گا۔ ظاہر ہے کہ ہر فرد کے دل میں پوشیدہ یا علانیہ، یہ خواہش ہو گی کہ کسی نہ کسی طرح اعلیٰ طبقے کا حصہ بن جائے۔ یہ خواہش مختلف صورتوں اور جہتوں میں نمایاں ہوتی ہے۔ لباس، اطوار، طرزِ ندگی، زبان، پیشہ؛ ہر معاملے میں اس نام نہاد اعلیٰ طبقے کی پیروی دیگر تمام انسانوں کا، جو اس طبقے سے باہر ہیں، خواب بن جاتی ہے۔ زندگیاں اسی خواب کی تعبیر دیکھنے میں، مشین کے پرزوں کی طرح، گھس گھسا کر اپنی تمام تر انفرادی چمک دمک سے محروم ہو جاتی ہیں اور انسانیت کا اصلی جوہر کھو کر، محض ایک طبقاتی کل پرزہ بن کر رہ جاتی ہیں۔

ہمیں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ معاصر عہد میں جس طبقے کو اشرافیہ کہا جاتا ہے، وہ کون سا طبقہ ہے، اس کی کیا خصوصیات ہیں اور کیا وہ اس لقب کا اہل ہے؟ پہلے اس لفظ کے معانی پر غور کر لیتے ہیں۔ فرہنگ آصفیہ کے مطابق اشراف سے مراد ہے، ’’اچھے، خوش اطوار، عالی نسب یا ایمان دار لوگ۔ شریف کی جمع۔ ‘‘ اور اسی لغت کے مطابق شریف کے معانی یہ ہیں:

ہم چاروں طرف سے کرنسی کی یلغار اور منڈی کے شور و شغب میں بری طرح گھر چکے ہیں۔ کیوں نہ ایک لمحے کو رک اپنی قد و قیمت کا تعین کسی اور پیمانے سے کرنے کا سوچیں اور خود کو پہچانیں۔

۱۔ مرد بزرگ قدر، بزرگ، نجیب، اصیل، بڑے رتبہ کا، عالی خاندان، اونچے گھرانے کا۔
۲۔ بھلا مانس، مہذب، اشراف، شائستہ، تہذیب یافتہ، اشراف زادہ، فخر خاندان۔
۳۔ سید، آل رسول۔
۴۔ مکہ شریف کے حاکم کا لقب جو سید ہوتا ہے۔
۵۔ پاک، مقدس، پوتر۔
۶۔ ایک تعظیم کا کلمہ، جیسے مزاج شریف، مکہ شریف، اجمیر شریف وغیرہ۔

فرہنگ تلفظ میں درج معانی کے مطابق اشراف کے معنی ہیں:

۱۔ بھلا مانس، عالی خاندان، رئیس، عالی نسب، امیرزادہ، ذی رتبہ، ذی عزت، جنٹلمین۔
۲۔ سیدھا، غریب، نیک۔
۳۔ مہذب، شائستہ۔

فرہنگ آصفیہ ۱۸۸۲۔ ۱۸۸۳ کے دوران میں تالیف کی گئی جب کہ فرہنگ تلفظ ایک سو بارہ سال بعد ۱۹۹۵ میں شائع ہوئی۔ اس ایک صدی کے دوران اشراف کے معنی میں دو جہات کا اضافہ ہو گیا ہے۔ ان میں سے ایک معنی ہے، ’’امیرزادہ اور ذی رتبہ‘‘ اور دوسرا ہے ’’سیدھا اور غریب۔‘‘ لیکن یہ دوسرا معنی جس تناظر میں استعمال کیا جاتا ہے، اس میں مدح کا پہلو کم اور ذم کا پہلو زیادہ ہے کیوں کہ اس میں بے چارگی اور کمزوری کا مفہوم بھی پوشیدہ ہوتا ہے مثلاً یوں کہ ’’بے چارہ شریف سا ہے۔‘‘ البتہ پہلا معنی یعنی ’’امیر زادہ اور ذی رتبہ‘‘ عملی طور پر خوب رائج ہے۔

اب اگر ہم اپنے گردوپیش میں لفظ اشرافیہ کے محل استعمال پر نظر ڈالیں تو معاملہ کچھ اور گمبھیر نظر آئے گا۔ پچھلے پچاس ساٹھ برس میں بالعموم اور گزشتہ تیس پینتیس برس میں بالخصوص، اشرافیہ مین شامل ہونے کے لیے ان تمام اوصاف کا ہونا لازمی نہیں سمجھا جاتا جن کا ذکر سوا سو برس پہلے مولوی سید احمد دہلوی نے فرہنگ آصفیہ میں کیا تھا۔ نجیب، اصیل اور عالی نسب ہونے کی فضیلت تو یوں گئی کہ اس سے ’’نسل پرستی‘‘ ( racism) کی بو آتی ہے۔ اب اگر سائنس نے ڈی این اے کی اہمیت کے ساتھ ساتھ فضیلت بھی بیان کرنی شروع کر دی تو ہو سکتا ہے کہ اگلے چند برس تک دنیا پھر سے نام و نسب کی پہچان کو نکل کھڑی ہو لیکن فی الحال یہ معاملہ نہیں ہے لہٰذا خاندانی نجابت اور نسب کی بنا پر کسی کے اشرافیہ میں شامل ہونے کا کوئی امکان نہیں۔

تہذیب و شائستگی اور بھلا مانس ہونے کی شرط یوں غائب غلہ ہو گئی کہ گزرے وقتوں میں جب ملوکیت اور جاگیرداری کا زمانہ تھا، صاحبِ ثروت طبقہ نسل در نسل دولت و ثروت کا مالک رہتا تھا جس سے ان کی نسلوں میں ایک طرح کی سیر چشمی پیدا ہو جاتی تھی اور وہ ذاتی مفاد سے متعلق بڑے بڑے معاملات مثلاً خواہش اقتدار یا باہمی رنجش و حسد وغیرہ کو چھوڑ کر عام معاشرتی معاملات میں کشادہ ظرفی کا مظاہرہ کیا کرتے تھے۔ ان کے ہاں اپنی قدیم روایات اور خاندانی اقدار کی پاس داری بہت اہم تھی اور چوں کہ وہ روزی روٹی کمانے کی فکر سے آزاد تھے تو ان کے پاس یہ موقع بھی موجود تھا کہ اگر چاہیں تو فنون لطیفہ کی سرپرستی کریں، یا خود اپنے وسائل کی بنا پر اپنے جمالیاتی ذوق کا اظہار عالیشان تعمیرات، کتب خانوں، چڑیا گھروں اور نوادر کے ذخائر کے ذریعے کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ اسی طبقے کے افراد تھے جن کی رسائی علم کے اعلیٰ ذرائع تک تھی اور انھیں ایسی فرصت اور فارغ البالی بھی میسر تھی کہ ان میں سے کئی افراد اپنی زندگیاں تصنیف و تالیف میں بسر کر دیتے تھے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ماضی میں اس طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد نے، ظلم و ستم اور استحصال کی روایت پر قائم رہنے کے ساتھ ساتھ، انسانیت کی عمومی فکری و ذوقی نشوونما میں بھی بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انھیں تہذیب و شائستگی کی علامت سمجھا جاتا تھا اور معاشرے کے دیگر افراد ان کے طور طریقوں کی پیروی اور تقلید کو باعث فخر سمجھتے تھے۔

ہمارے عہد میں اب وہ طبقۂ اشرافیہ ناپید نہیں تو کم یاب ضرور ہوتا جا رہا ہے جو سیر چشم، کشادہ ظرف، مہذب و شائستہ اور سب نہ سہی، کچھ اعلیٰ انسانی اقدار پر عمل پیرا ہوا کرتا تھا۔

ہمارے عہد تک آتے آتے معاملات بہت کچھ بدل چکے ہیں۔ جاگیردارانہ نظام اس سطح پر باقی نہیں رہا جس پر دو سو سال پہلے تک تھا۔ اشرافیہ کہلانے والا قدیم طبقہ، صنعتی ترقی، نئی تعلیم، کاروباری طبقے کی تیز رفتار معاشی خوش حالی اور دیگر کئی اسباب کی بنا پر غیر اہم ہوتا گیا اور ہر وہ شخص جس نے کسی نہ کسی طرح دولت و طاقت پر قبضہ کر لیا، اشرافیہ کا حصہ بن گیا۔ دولت کمانے کے یہ ذریعے اگر جائز اور محنت پر مبنی ہوں تو کوئی راتوں رات امیر نہیں ہوتا، اس میں کم از کم ایک نسل کی مشقت شامل ہوتی ہے اور امارت کا حصول ایک تدریجی عمل بن جاتا ہے جس کے دوران انسان اپنے تجربات سے بہت کچھ سیکھتا رہتا ہے۔ البتہ سیر چشمی اور کشادہ ظرفی آتے آتے آتی ہے۔ لیکن اگر دولت یا طاقت پر قبضہ ناجائز ذرائع سے کیا جائے اور اسے مزید دولت یا طاقت حاصل کرنے کا ایک ذریعہ سمجھ لیا جائے تو ایک ایسی نحوست طاری ہو جاتی ہے جو دوسروں کے دل میں خواہ مخواہ نفرت اور عداوت کو جنم دیتی ہے۔

یہ ایک تلخ حقیقت ہے مگر اس سے آنکھیں نہیں چرائی جا سکتیں کہ ہمارے عہد میں اب وہ طبقۂ اشرافیہ ناپید نہیں تو کم یاب ضرور ہوتا جا رہا ہے جو سیر چشم، کشادہ ظرف، مہذب و شائستہ اور سب نہ سہی، کچھ اعلیٰ انسانی اقدار پر عمل پیرا ہوا کرتا تھا۔ اس خلا کو جس طبقے نے پر کیا ہے، وہ تین قسموں میں تقسیم ہے۔ ایک تو وہ لوگ جنھوں نے تعلیم اور ذہانت کے ذریعے نوکر شاہی یا انتظامیہ میں اعلیٰ مناصب حاصل کر کے اپنی اہمیت کو تسلیم کروا لیا ہے، دوسرے وہ جنھوں نے صنعت کاری یا کاروبار کے ذریعے خوش حالی کی منزلیں طے کی ہیں اور تیسری مگر مقتدر ترین قوت وہ ہے جس نے کئی طرح کے ناجائز ذرائع، مثلاً سمگلنگ، منشیات فروشی، اسلحے کے ناجائز کاروبار، مختلف خفیہ ایجنسیوں کی ایجنٹی، حتیٰ کہ قلم اور ضمیر فروشی کے ذریعے بھی، خود کو معاشرے کا طاقت ور ترین طبقہ ثابت کر دیا ہے۔

جمہوریت کی برکات سے ہمارا معاشرہ ہی نہیں، جمہوریت کا مادر معاشرہ، یعنی امریکہ تک اسی لیے محروم ہے کہ دولت کے بغیر کسی جمہوری ادارے کا رکن بننے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔

ہم اپنے ارد گرد دیکھیں تو ہر اہم معاملے کا فیصلہ انھی تین گروہوں میں سے کسی ایک یا دونوں تینوں کی مشترکہ پشت پناہی اور حمایت سے ہوتا ہے۔ جمہوریت کی برکات سے ہمارا معاشرہ ہی نہیں، جمہوریت کا مادر معاشرہ، یعنی امریکہ تک اسی لیے محروم ہے کہ دولت کے بغیر کسی جمہوری ادارے کا رکن بننے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ اور کبھی کوئی ایسا معجزہ ہو بھی جائے تو وہ رکن اپنے ادارے میں ایک عضو معطل سے زیادہ کی حیثیت نہیں رکھتا۔ جمہوری اداروں کا رکن بننے کے لیے یا تو قوت خرید کا مالک ہونا ضروری ہے، یاخود مالِ فروخت بن جانا۔ جو خود قوت خرید کے مالک ہوتے ہیں، وہ اپنے مفادات کے غلام ہوتے ہیں اور جو محض مال فروخت ہوتے ہیں ان میں اتنی سکت بھی نہیں ہوتی کہ اپنے مفادات کا تحفظ کر سکیں۔ وہ محض بساط کا ایک مہرہ ہوتے ہیں، جس کی بولی کوئی بھی دے سکتا ہے۔ عوام، جن کے نام پر جمہوری حکومتیں قائم ہوتی ہیں، دونوں صورتوں میں چکی کے دو پاٹوں کے بیچ پستے ہیں اور کمزور سے کمزور ہوتے جاتے ہیں۔

ہمارے معاصر معاشرے میں دولت اور طاقت لازم و ملزوم ہو چکے ہیں۔ جس کے پاس دولت ہے وہ طاقت کو خرید لیتا ہے۔ جس کے پاس طاقت ہے وہ بزور دولت حاصل کر لیتا ہے۔ لیکن یہاں معاملہ کچھ اور ہے۔ ہم جس بات پر بحث کر رہے ہیں وہ یہ ہے کہ دولت اور طاقت کا حامل یہ طبقہ جو اس وقت کروڑوں افراد کی تقدیر کا ملاک بنا بیٹھا ہے، کیا ’’اشرافیہ‘‘ کہلانے کا حق دار ہے؟ اب جب کہ اشرافیہ میں شامل ہونے کا واحد معیار دولت و طاقت بن چکے ہیں، کیا ہم پر لازم نہیں کہ اس طبقے کو اشرافیہ کہنے سے انکار کر دیں۔ آخر ہم کب تک اس طبقے کو، جو اصل میں اشرافیہ کے بجائے’’استحصالیہ ‘‘ طبقہ ہے، ’’اعلیٰ‘‘ اور ’’اونچا‘‘ اور ’’بالائی‘‘ طبقہ کہتے رہیں گے اور کب تک ان مجبور و مقہور عوام کو، جو اس طبقے کے استحصال کا نشانہ ہیں، ’’ادنیٰ‘‘، ’’نچلا‘‘ یا ’’چھوٹا‘‘ طبقہ پکارتے رہیں گے۔ کیا ہم اپنے معاصر حالات کو پیش نظر رکھ کر ان طبقات کے لیے کچھ اور اصطلاحات وضع نہیں کر سکتے جو ان طبقات کی جھوٹی شناخت کو رد کریں اور ان کا وہ ’’امیج‘‘ توڑ ڈالیں جو خود کو اشرافیہ کہہ کر یہ طبقہ غیر محسوس طریقے سے ہمارے ذہنوں پر ثبت کرتا رہتا ہے؟

اس طبقے کو ہم، اگر بہت غیر جانب داری سے بھی کام لیں تو، زیادہ سے زیادہ ’’مالدار یا دولت مند طبقہ‘‘ کہہ سکتے ہیں۔ یوں کہنے کو تو یہ محض ایک لفظ ہے لیکن اس لفظ کے بدل جانے سے وہ تمام تناظرات ختم ہو جائیں گے جو لفظ اشرافیہ کے اطراف میں موجود ہیں اور اسے ایک مثبت اور قابلِ قدر رتبہ عطا کرتے ہیں۔

میں تو یہ تجویز کروں گی کہ ہمیں لفظ ’’اشرافیہ‘‘ کا اطلاق افراد کے ایسے گروہ پر کرنا چاہیے جو ہمارے نزدیک واقعی شرف و عزت کا باعث ہو۔

اس سے بھی آگے بڑھ کر میں تو یہ تجویز کروں گی کہ ہمیں لفظ ’’اشرافیہ‘‘ کا اطلاق افراد کے ایسے گروہ پر کرنا چاہیے جو ہمارے نزدیک واقعی شرف و عزت کا باعث ہو۔ ویسے تو حضور اکرمؐ نے ساڑھے چودہ سو سال پہلے اس بات کا اظہار علی الاعلان کر دیا تھا کہ شرف اور بزرگی کا اصل معیار، دولت ہے، نہ رنگ و نسل بلکہ انسان کا عمل اس کی قدر و قیمت کا تعین کرتا ہے۔ لیکن مذہب کا حوالہ ہمارے ہاں بعض اوقات عجیب و غریب ردعمل پیدا کرتا ہے۔ جو لوگ مذہب سے چڑتے ہیں ان کے لیے ہم ’’سیکولر‘‘ اصطلاحات میں بات کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور اہلِ خدمت کو اشرافیہ کہا جائے جو اپنی زندگی دوسروں کے لیے وقف کر دیتے ہیں۔ عبدالستار ایدھی، انصار برنی، مدر ٹریسا اور ایسے کتنے ہی افراد ہیں جو ایک مثال بن سکتے ہیں۔ یا پھر ان اہل علم کو اشرافیہ کہا جائے جو علم کی ترویج و ترسیل میں مخلصانہ اور بے غرضانہ کوششیں کر رہے ہوں۔ قیمتاً علم دینے والے یا علم کو حصول دولت کا ذریعہ بنانے والے افراد اس لقب کے اہل نہیں ہو سکتے۔ اسی طرح کے اور کام جو فرد اور معاشرے کی عمومی بھلائی پر منتج ہوں، اشرافیہ کی پہچان قرار دیے جا سکتے ہیں۔

یہ سوال کیا جا سکتا ہے کہ اس سے کیا ہو گا؟ ظاہر ہے کہ فوری طور پر، راتوں رات تو کچھ نہیں ہو گا لیکن جب ہماری نئی نسلیں دل ہی دل میں اپنے مقاصد کا تعین کریں گی تو معاشرے کے اشراف میں شامل ہونے کے لیے صرف پیسہ کمانے کو اپنی منزل مقصود نہیں سمجھیں گی۔ مارکیٹ اکانومی کا پھیلایا ہوا یہ جال، کہ ’’زندگی اسی کی ہے جو روپے کا ہو گیا‘‘، نہ بھی ٹوٹے لیکن کچھ تو کمزور ہو گا۔ جب ہم اپنے بچوں کو ’’بڑا آدمی‘‘ بننے کا سبق سکھائیں گے تو ان کے ذہنوں میں لمبی کار، عالیشان مکان اور بھری ہوئی تجوریوں کے علاوہ بھی کچھ نقش ابھریں گے۔

ہم چاروں طرف سے کرنسی کی یلغار اور منڈی کے شور و شغب میں بری طرح گھر چکے ہیں۔ کیوں نہ ایک لمحے کو رک اپنی قد و قیمت کا تعین کسی اور پیمانے سے کرنے کا سوچیں اور خود کو پہچانیں۔

Facebook Comments Box
featuredاشرافیہباعزت طبقہپاکستانی اشرافیہڈاکٹر نجیبہ عارفعزتفرہنگ آصفیہفرہنگ تلفظ
1 comment 0 FacebookTwitterPinterestEmail
ڈاکٹر نجیبہ عارف

Prof. Dr Najeeba Arif has been appointed as Chair person Academy of Lettres, Islamabad. She was Dean of the Faculty of Languages and Literature (FLL) at International Islamic University Islamabad (IIUI). Dr. Najeeba is a Professor at the Department of Urdu in International Islamic University, Islamabad and is the founder-editor of the Index of Urdu Journals. She is a creative writer, poet and critic. She has authored and edited thirteen books and published more than 50 research papers in national and international journals and volumes like Annual of Urdu Studies (US), The Journal of Indology and South Asian Studies (Germany) and the Encyclopedia of the World of Islam. Her collection of poetry Ma’āni se Ziyāda won the Oxford University Press Award for Urdu Literature, 2015. She has also published her short stories, travel narratives and memoirs. In research, her field of interest is socio-political study of South Asian literature, Sufism and its literary manifestations and Occidentalism. She studied the impact of 9/11 on Urdu fiction and poetry in 2010 and presented it in a conference at the University of Wisconsin, Madison. Her post-doc research at SOAS focused on the Study of travel narratives of the South Asian Muslims who visited Europe in the colonial period and compiled their views about the West. She discovered and edited a few rare manuscripts of the travelogues and biographies of South Asian Muslims, penned in the eighteenth and nineteenth century. She also studied and wrote about classical Punjabi Sufi poets including Bullhe Shah, Mian Muhammad Bakhsh, Ali Hayder Multani and Ghulam Rasul Alampuri. She has presented papers in several International and national conferences and seminars in and out of Pakistan. Translation is one of her recent passions and she has translated multiple writings from English to Urdu, including a voluminous book on Mysticism, Philosophy and Science. She edited the renowned research journals Meyār (2009-2010) and Bunyād, (2013-2016) in the past.

previous post
’’سموگ‘‘۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‎ عاصم چوہدری
next post
جدید علمِ عمرانیات: اینتھونی گڈنز ۔۔۔ حصہ سوم — اسامہ ثالث/ ارم صغیر

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

1 comment

ریاض اختر 02/06/2023 - 10:03 pm

بلاشبہ یہ ایک دانشمندانہ ہی نہیں بلکہ فکر انگیز مضمون ہے جس کے آخر میں اٹھایا سوال دعوت تفکر دیتا ہے کہ عہد گذشتہ میں ” اشرافیہ” کی تعریف میں مثبت خواص پائے جاتے تھے جو اب بہت تیزی سے روبہ تنزل ہوتے جا رہے ہیں۔ آپ کا تجویز کردہ متبادل لفظ “استحصالیہ ” حسب حال ہے لیکن مخلص “غیر اشرافیہ ” طبقات کو بھی اپنی منفیت کی لپیٹ میں لے رہا ہے۔ اگرچہ آپ نے دو تین متبادلات اور بھی بتائے ہیں مگر بظاہر ان میں جاذبیت نظر نہیں آتی۔ بہرحال ایک اچھے موضوع کو زیر بحث بنانا بذات خود شاندار کاوش ہے، اور پھر یہ کہ زبانوں میں تغیر و تبدل اور حالات کے مطابق نئے الفاظ کا استعمال اسی طرح ممکن ہے۔

Reply

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.