تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیکالم

عدلیہ، عساکر، اشرافیہ اور عوام ——– محمد خان قلندر

by Editor2 25/09/2019
written by Editor2 25/09/2019
77

جس شدید ذلت اور رُسوائی کے ساتھ کٹہرے میں پاکستانی پبلک آج مقہور کھڑی ہے یہ انہونی نہیں۔ صدیوں کے شکستہ سماج سے دل شکستہ اور زوال پذیر معاشرتی اقدار کا شاخسانہ ہے۔ مہذب قومیں اپنی تاریخ سے سبق سیکھنے کے لئے اسے یاد رکھتی ہیں، مرقوم کرتی ہیں، نئی نسل کو آگاہی دیتی ہیں۔ وہ یہ جانتی ہیں کہ تاریخ کو بھلا دیا جائے تو وہ اپنے آپ کو دُہراتی ہے۔

برصغیر کی تاریخ کی تاریخ یہ ہے کہ اسے ہر زمانے میں از سر نو لکھا جاتا رہا ہے، پرانے ناپسندیدہ واقعات کو موجودہ ضروریات کے مطابق تصوراتی حقائق سے بدل دینا ایک دستور بن چکا ہے۔ خاص طور پر ماضی قریب کی صدی میں درباری تاریخ ہر دور حکومت میں مرتب ہوتی آئی، لا محالہ اس پر مذہب کا کوور چڑھانا لازمی تھا، ہر حاکم وقت کو دین کا علمبردار دکھانا ضروری تھا۔ جب کہ اصل تضاد تہذیبی تصادم میں تھا جو آہستہ آہستہ باہم ادغام سے کم ہونے لگا، ایک ملی جلی مشترکہ تہذیب کے خد و خال رائج ہو گئے، معاشرہ اور تہذیب جس رنگ کے ہوں ان کا دوام عدل اور انصاف کے نظام پر رہتا ہے، بادشاہ بننے کے لئے تو سپاہ گری درکار ہوتی ہے لیکن بادشاہت چلانے کے لئے بہادر جری لیکن تابعدار سپہ سالار کے ساتھ خود بادشاہ کا عادل مشہور ہونا رعایا میں مقبولیت کی شرط ہے، جو عوام کی اطاعت کی ضامن ہوتی ہے۔

مغلیہ دور میں عدل و انصاف ہر بادشاہ سے منصوب حقیقی یا تصور میں نظام کے ساتھ موجود تھی، پھر انگریز آ گئے۔ یہاں کا عدالتی نظام بتدریج، برطانوی ایکٹ در ایکٹ میں تبدیل ہوتا گیا۔ پاکستان بنا تو سپریم کورٹ بھی ساتھ ہی وجود میں آ گئی، ثقیل قانونی اصطلاحات سے صرف نظر کرتے، عام فہم زبان میں بات کرتے، محترم جج صاحبان سے پیشگی معذرت۔ مقصد تحریر کا بس اتنا ہے کہ پاکستان کے عام لوگ جس مایوسی، بے اطمینانی، تذبذب اور کنفیوژن کا شکار ہیں اس ذہنی انتشار کو کم کرنے کی کاوش کی جائے۔

قیام پاکستان سے ریاستی ڈھانچہ جیسے بھی منظم ہوتا رہا فوج بہت جلد منظم ہو گئی، سول انتظامیہ بھی فعال ہوئی۔ سیاسی اشرافیہ موجود تھی اس نے اقتدار پر قبضے کا کھیل شروع کر دیا، اعلیٰ عدلیہ کو دوسرے اداروں پے سبقت کا موقعہ پہلے آئین کی معطلی کے بعد انتظامی امور میں خلا پیدا ہونے سے میسر آیا، جب اس گنجلک معاملے کو نظریہ ضرورت کے تحت حل کیا گیا، اب یہ طے ہو گیا کہ آئین سازی اسمبلی کرے یا کوئی ڈکٹیٹر پی سی او جاری کرے اس کی تشریح عدلیہ کا کام ہے۔ یعنی کسی بھی آئینی انحراف پر مہر تصدیق عدالت لگا سکتی ہے۔ یوں ہر حکمران یا حکومت کے لئے اعلیٰ عدلیہ کی خوشنودی مجبوری ٹھہری، بصورت دیگر بات جج صاحبان کی جبری رخصتی اور نظر بندی تک بھی پہنچتی رہی۔ یہ ہماری عدلیہ کی تاریخ مرقوم ہے، بدقسمتی سے یہ بھی اشرافیہ میں شمولیت کا شاخسانہ ہے۔

یہ بات نہیں کہ عوام کو مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ کے اتحاد ثلاثہ کا ادراک نہیں، اصل کمزوری عوام کی سوچ منتشر اور منقسم ہونا ہے، اشرافیہ اور سرمایہ دار طبقات باہم شیر و شکر ہیں، ججز بحالی تحریک اور اس کے مابعد کے حقائق اس بات کا ثبوت ہیں، قریب المرگ ریٹائر جج کی بطور گورنر تقرری، جج کو صدر پاکستان لگائے جانے جیسے کتنے کام ہوئے اور ہوں گے۔ چیف جسٹس صاحب وزیراعظم کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کے، عدالتی امور سے وقت نکال کے دنیا بھر میں ایک صنعتی پراجیکٹ کے لئے چندہ جمع کریں تو یہ کچھ انوکھا لگتا ہے۔ ہم برطانوی عدالتی نظام فالو کر رہے ہیں لیکن ان کی روایات ہر گز نہیں ۔۔۔

کل وہاں سپریم کورٹ نے وزیراعظم کے پارلیمنٹ معطل کر نے کے حکم کو غیر آئینی قرار دے دیا۔ ہم یہ افواہ سن رہے ہیں کہ اگلے چیف جسٹس کون بنیں گے، اس پر اہم صلاح مشورہ جاری ہے۔سینیئر ججز کے ریفرنس بھی چل رہے ہیں، تو آخر میں ہم ایک سادہ سا بھولا سوال پوچھنے کی جسارت کر رہے ہیں!

پچھلے ایک سال میں نیشنل اسمبلی، صوبائی اسمبلیوں میں سوائے بجٹ پاس کرنے اور ممبران اسمبلی کی تنخواہ و مراعات بڑھانے کے کسی اہم قانون سازی پر کوئی کاروائی ہی نہی ہوئی، نہ کوئی اہم قومی ایشو وہاں زیر بحث آئے۔ نہ بیرونی ممالک سے ہوئے معاہدے، ان میں رد و بدل پر کوئی سوال جواب ہوئے، کیا عدالت عالیہ کا یہ استحقاق اور ذمہ داری نہیں کہ آئینی فرائض سے پہلو تہی پر، حکومت کے غیر شفاف فیصلوں، پر کوئی تادیبی ریفرنس حکومت وقت کو بھیجے ؟

از خود نوٹس کی شق جوں کی توں موجود ہے، تو جو یہ سرکار نے پوری قوم کو ٹیکس چور اور کرپٹ ڈیکلیر کیا ہوا ہے۔ دنیا بھر میں یہ ڈھنڈورا پیٹا جا رہا ہے کہ ہم بدکار ہیں، چور ہیں، بدقماش ہیں تو اس قبیل میں تو ادارے بھی ہیں! جس آزاد عدلیہ کے لئے ساری سوسائیٹی نے جان و مال کی قربانی دی صعوبت برداشت کی، کیا وہ اسی عوام کے خلاف مہنگائی، بد امنی، بد انتظامی عنوان کی سرکار کی چارج شیٹ کا نوٹس نہیں لے سکتی۔

ہم یہ نہیں مانگ رہے کہ واجب احترام جج صاحبان ہسپتالوں، سکول، کالج یا تھانے پر چھاپے ماریں۔ یہ بھی آس نہیں ہے کہ بنگلہ دیش کی طرح ملکی امور چلانے کی نگرانی کی جائے تآنکہ معیشت بحال ہو جائے۔ ہاں یہ تمنا ہے کہ عدالت عالیہ کے احترام کی وجہ سے ملک کے منتخب نمائندے با اختیار ہو کر اپنے آئینی کام کرنے لگیں، اسمبلی چند شخصیات کی ذاتی مخاصمت کی بجائے عوام مسائل کے حل کرنے کی بات کرے، اشرافیہ کے وی آئی پی کلچر کے ساتھ ایگریکلچر والے کسان کی بھی کچھ عزت ہو۔

خدا را یہ ہاتھیوں کی لڑائی جو زیادہ نمائشی ہے اور عدالتی معاملہ ہے اسی کو نپٹا دیں، پبلک کو مالی آسودگی نہ سہی کچھ ذہنی سکون، تھوڑی سی امید کچھ روشنی تو نظر آئے۔ آج کل نیویارک میں قومی خزانے کے خرچہ پر جو تقریری مقابلہ میں شریک ہیں ان کو تو یہ یاد بھی نہیں ہو گا کہ اسی اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر پر ہمارے بھی دستخط ہیں، آئین میں بھی یہاں بسنے والے انسانوں کے بنیادی حقوق ہیں جن کی حفاظت شائد جج صاحبان کے دائرہ کار میں بھی ہے۔

صحت کی سہولیات مہیا کرنا بھی حکومت کی ذمہ داری اور شہری کا بنیادی انسانی حق ہے کہ اسے سستے داموں علاج معالجہ اور دوائی بطور سہولت مہیا کی جائے۔ یہ جو ڈینگی نے حشر بپا کر رکھا ہے، حکومتی نااہلی کے سبب، اس پے کیا انسانی حقوق کی آئینی شق لاگو نہیں ہوتی۔

جن جج صاحب نے نظریہ ضرورت ایجاد کیا، جن محترم جج صاحبان نے ایک ڈکٹیٹر کو تین سال کے لئے ملک کے سیاہ و سفید کی ملکیت عطا کی اور ایسے دیگر فیصلے کرنے والے سب واجب الاحترام محترم آج شائد موجود نہیں لیکن ان فیصلوں کی قیمت تو یہ مقہور عوام آج بھی چکا رہی ہے ناں!

عدالت کا فرض عدل کرنا ہے تو کیا ہم عام لوگ انصاف تک رسائی کے وسائل رکھتے ہیں، سب نہیں رکھتے تو اجتماعی مسائل پر از خود نوٹس کا اختیار اسی لئے ہے، آئین کے دیئے اختیار استعمال ہونے چاہئیں جب تک مسند پاس ہے ریٹائرمنٹ اور موت تو ہر صورت ہونی ہے، یہ معروضات ایک عام شہری کے طور لکھی گئی ہیں، نہ کسی پر تنقید مقصود ہے نہ کسی کی توہین۔ ارباب اختیار تک گلی محلے کے عام شہریوں کے محسوسات پہنچانا درکار ہے۔

Facebook Comments Box
Supreme Court of Pakistanبیوروکریسیپارلیمنٹچیف جسٹسسپریم کورٹہائی کورٹ
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
Editor2

previous post
کچھ فضول باتیں ——– خرم شہزاد
next post
غفور شہزاد: مزاح نہ آئے تو قصے واپس ——– اظہر عزمی

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.