تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینعلمیکالم

محمود شکنی اور محمود سازی کے درمیان — معین نظامی

by دانش ڈیسک 21/09/2019
written by دانش ڈیسک 21/09/2019
104

محمود غزنوی کی شخصیت اور اس کے بیشتر سیاسی و سماجی معاملات کو متنازع بنانے کا عمل محمود کی زندگی ہی میں ایک فیشن کی صورت اختیار کر چکا تھا اور اس میں بہت مضبوط ہاتھ چند ایسے طالع آزما سیاسی گھرانوں کا بھی ہے جو غزنویوں کے روایتی حریف تھے۔ کچھ دیگر طبقات کے مذہبی اختلافات بھی اس ضمن میں خاصے فعّال رہے۔ اسی تسلسل میں مختلف جغرافیائی شناختوں کے حامل ان تمام سیاسی عناصر نے بھی خوب سرگرمی دکھائی جنھیں غزنویوں کے ہاتھوں زک پہنچی تھی اور جو اچھی خاصی تعداد میں تھے اور اپنے اپنے سماج اور مقامی ادب و ثقافت میں وسیع حلقہء اثر بھی رکھتے تھے۔

ایران میں محمود بیزاری کا تحریری سلسلہ محمود کی وفات کے دو تین عشرے بعد ہی شدّ و مد سے شروع ہو گیا تھا۔ یہ تحریک غالباً غیر علانیہ انداز میں شروع ہوئی اور اس میں کئی ادیبوں، شاعروں اور سیاسی مفکّروں نے بھی دانستہ یا غیر دانستہ طور پر بساط بھر حصّہ ڈالا۔ دیکھتے ہی دیکھتے محمود کے خلاف ایک اچّھی خاصی طویل فردِ شکوک و شبہات اور فہرستِ جرائم مرتّب ہو گئی۔ محمود کی طرف سے فردوسی طوسی کی نا قدر شناسی، شاہ نامہ میں فردوسی سے منسوب ہجوِ محمود، عشقِ ایاز کے باب میں محمود کو ہم جنس پرستی کی سطح تک لے جانا، محمود کی شراب نوشی، اس کی مبیّنہ زر پرستی، سیاسی و مالی مفادات کی بنیاد پر بہ کثرت نقضِ عہد اور مذہب کی آڑ میں دیرینہ دشمنوں کے استیصال کی پختہ عادت وغیرہ جیسی روایات اسی قبیل سے ہیں۔

نظامی عروضی سمرقندی کی معروف اور مقبول ادبی کتاب چہار مقالہ اسی کاری گرانہ اندازِ فکر کی ایک نمایاں مثال ہے۔ درجہء اول کے ادیب اور تیسرے درجے کے شاعر نظامی عروضی ان چنگیز خصلت بادشاہوں کے دوسرے درجے کے درباری تھے جو غزنویوں کا نام و نشان مٹانے میں سب سے زیادہ دل چسپی رکھتے تھے اور ان کی سنگ دلانہ کارگزاریاں تاریخ کے صفحات میں محفوظ ہیں۔ چنانچہ نظامی عروضی سمرقندی سے یہ توقّع رکھنا کہ انھوں نے محمود غزنوی سے انصاف کیا ہو گا، بچگانہ سی بات ہو گی۔ چہار مقالہ کے اردو تراجم بھی ملتے ہیں اور آن لائن بھی موجود ہیں۔ متعدّد ذمّہ دار ایرانی محقّقین نے اس کتاب کی متنوّع تاریخی غلطیوں اور مشکوک سماعی روایتوں کو تاریخ کے درجے پر فائز کرنے کی سہل انگارانہ کوششوں پر شدید گرفت بھی کی ہے۔ اس سے چہار مقالہ کا درجہء اعتبار و استناد بھی بہ خوبی واضح ہو جاتا ہے۔

غزنویوں کے سیاسی حریف تو کچھ عرصے کے بعد غزنی کی اینٹ سے اینٹ بجا کر اور عماراتِ محمودی و مسعودی کو ملیا میٹ کر کے آخرکار خود بھی تاریخ کی گردِ راہ بن گئے مگر مذہبی مخالفین، اکنافِ عالم میں پھیلے ہوئے سیاسی زخم خوردگان اور ان کے زیرِ اثر دانش وروں کی عہد بہ عہد اڑائی ہوئی دھول صدیوں اڑتی رہی۔ بعد میں انگریز اور ہندو مؤرخین نے اپنی نہایت واضح مصلحتوں کی بنا پر ایسی کئی روایتوں کو جدید اسلوبِ تحقیق کی آب و تاب سے سجا سنوار کر مزعومہ علمی دنیا کی ضیافتِ علم و ذوق کی نذر کیا۔ ان لوگوں کی صداے بازگشت گاہے بہ گاہے اب تک سنائی دیتی رہتی ہے۔

محمود شکنی کے اس رویّے کے مقابل ایک بالکل مختلف بیانیہ بھی تھا جو نسل در نسل طبقہء صوفیہ اور ان کے بہت وسیع و عمیق دائرہء اثر میں رائج رہا۔ اس مرقّعے میں محمود کا کردار جلیل القدر غازی اور درد مند دل رکھنے والے مردِ کامل کی صورت میں ملتا ہے۔ تصوّف کی شاید ہی کوئی قدیم منثور یا منظوم کتاب محمود کے ذکرِ محمود سے خالی ہو۔ فرید الدّین عطّار نیشاپوری، عینُ القضات ہمدانی، شمس تبریزی، جلال الدّین رومی، سعدی شیرازی اور مولانا جامی وغیرہ سے ہوتی ہوئی محمود سازی کی یہ قدیم روایت علّامہ اقبال کو بھی منتقل ہوئی اور اس محیطِ فکر و نظر میں والہانہ شیفتگی کی وہ لہر ایک متوازن سی محمود پسندی میں ڈھل گئی۔

حقیقت شاید ان دونوں زور دار دھاروں کے درمیان میں کہیں منتظرِ تحقیق ہو۔

Facebook Comments Box
featuredGhaznaviGhaznawiMahmood GhaznaviMoeen Nizamiغزنویمحمود غزنویمعین نظامینظامی عروضی سمرقندی
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
غامدی صاحب کا ترک وطن اور انکا دعویٰ: ایک جائزہ —– عبدالمجید گوندل
next post
اب تم سے نہیں ملنا —— سعدیہ کیانی کا افسانہ

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.