تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیکالم

دہلی یونیورسٹی، حبیب جالب: حیرت کیوں؟ —- احمد الیاس

by دانش ڈیسک 11/09/2019
written by دانش ڈیسک 11/09/2019
61

آج کل سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو کافی وائرل ہورہی ہے جس میں دلّی کی جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے کچھ بائیں بازو کے طلباء ہمارے لاہور کے اشتراکی شاعر حبیب جالب مرحوم کی ایک نظم گا رہے ہیں۔ بہت اچھی بات ہے، گانی چاہیے۔ لیکن میں سمجھ نہیں سکا کہ اس میں اس قدر خوشگوار حیرت کی کیا بات ہے؟

نئی دلی سمیت برصغیر میں اردو ہی سب سے بڑھ کر شاعری کی زبان ہے اور تقسیم ہند کے بعد معروف اردو شعراء کی اکثریت پاکستان میں ہی ہوئی ہے۔ اردو کی ترقی پسند تحریک کا زور بھی دلی یا لکھنؤ میں نہیں، لاہور میں ہی تھا۔ اب وہ اشتراکی طلباء پاکستانی کامریڈ شاعر کی ایک بہت ہی معروف اور زبانِ زدِ عام نظم نہیں گائیں گے تو انگولا کے کسی شاعر کا کلام گائیں گے ؟ یہ تو ایسی ہی بات ہے کہ پاکستان کے کچھ رومانوی اور رنگین مزاج لڑکے لڑکیاں گورنمنٹ کالج لاہور کے شہاب گارڈن میں بیٹھ کر بھارتی فلمی گانے گائیں اور پورا بھارت ان کی ویڈیو جوش و خروش سے شیئر کرنے لگے۔ بھارتیوں کے حوالے سے ہمارا مخصوص طبقہ کس قسم کے احساس کمتری کا شکار ہے، میری سمجھ سے تو باہر ہے۔

لیکن خیر، اصل بات یہ نہیں تھی۔ اصل بات جو کرنا مقصود ہے وہ یہ کہ پاکستان میں بھارتی بائیں بازو اور اس کے دونوں دھڑوں (لبرل اور سوشلسٹ) کے حوالے سے کافی خوش فہمیاں پائی جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں ایک تاثر قائم ہوچکا ہے کہ سرخے اور لبرلز ہمیشہ اپنے ریاست، مذہب، معاشرت یعنی اپنے ہاں کی مقتدر قوتوں کے بالکل خلاف ہوتے ہیں اور ہر اس چیز کی حمایت کرتے ہیں جو ان کے ملک، مذہب اور کلچر کی ضد میں ہو۔ یہ تاثر پاکستانی بائیں بازو کو دیکھ کر قائم کیا گیا ہے اور یہاں کے سرخوں اور لبرلز کے حوالے سے درست بھی ہے لیکن عرض یہ ہے کہ دنیا کے تمام ممالک میں ایسا نہیں ہوتا۔

بھارت کا لبرل اور سُرخا ہندوستانی قومیت اور قوم پرستی سے وفادار ہوتا ہے، تقریروں میں رام سیتا کے قصے بھی سناتا ہے، بھارتی تہذیب اور ہندو مذہب کو “وحشی مشرق وسطیٰ “ کے پڑوس میں برداشت اور عظمتوں کا مسکن ثابت کرنے کی دلیلیں بھی دیتا ہے

دیگر ممالک کا بایاں بازو بھی (انتہائی شدت پسند سرخوں کے علاوہ) ریاستی اور سماجی فکری دائرے کے اندر ہی حوالے تلاش کرتا اور کام کرتا ہے۔ امریکہ کے لبرل اور سوشلسٹ “امریکن ڈریم” کی ہی ایک متبادل اور مختلف تشریح کرتے ہیں، امریکہ کے قیام اور مفادات کے خلاف نہیں ہوتے۔ برطانیہ کی ڈیموکریٹک سوشلسٹ جماعت لیبر پارٹی نے بھی سالوں تک اقتدار میں رہنے کے باوجود بادشاہت اور ریاستی کلیسا جیسے قدامت پسندانہ قومی اداروں تک کو ہاتھ نہیں لگایا۔ اسرائیل کی لیفٹ بھی مزدور صہیونیت کہلاتی ہے اور تاریخی طور پر دائیں بازو کی صہیونیت سے کہیں زیادہ متحرک اور قوم پرست رہی ہے۔

بھارت کی لیفٹ بھی ایسی ہی ہے۔ بھارت کا لبرل اور سُرخا ہندوستانی قومیت اور قوم پرستی سے وفادار ہوتا ہے، تقریروں میں رام سیتا کے قصے بھی سناتا ہے، بھارتی تہذیب اور ہندو مذہب کو “وحشی مشرق وسطیٰ“ کے پڑوس میں برداشت اور عظمتوں کا مسکن ثابت کرنے کی دلیلیں بھی دیتا ہے اور اس سب کے باوجود لبرل ازم اور سیکولرازم کا دم بھی بھرتا ہے۔

بھارت کی سیکولر ہندوستانی قوم پرستی جو نہرو جی نے تخلیق کی اور بھارتی لیفٹ نے اختیار کی، سیکولر تو ہے لیکن مخلوط اور لبرل اور مساویانہ کبھی بھی نہیں رہی۔ بالکل اسی طرح جیسے ترکی کی سیکولرازم بھی خالص سیکولرازم ہونے کے باوجود قوم پرستانہ بنیاد پر مسیحیوں (جو غیر ترک تھے) پر ظلم ڈھاتی رہی یا جیسے چین ایک شدید سیکولر ملک ہونے کے باوجود اسلام اور مسیحیت کو لے کر زیادہ سخت گیر ہے اور مقامی لوک مذاہب پر نرم۔

ہندوستانی قوم پرستی میں ہندو عنصر ہمیشہ سے تناسب سے کہیں زیادہ غالب تھا۔ ہندوستان میں بائیں بازو کی سیکولر تاریخ نگاری میں بھی ہمیشہ آریائی حملہ آوروں کو تو گلوریفائی کیا گیا لیکن ترک حملہ آوروں کو صرف مسلمان ہونے کے سبب سخت ناپسند کیا جاتا رہا ہے۔ (رومیلا تھاپڑ ان تضادات کو واضح کرنے کے سبب آر ایس ایس ہی نہیں بلکہ بھارتی لبرلز کی تنقید کا بھی شکار ہیں)۔ مسلمانوں کو اپنا مذہب اپنے تک رکھنے کی تاکید بہت غیر متناسب طور پر زیادہ ہوتی رہی ہے جبکہ ہندوؤں کی مذہبیات کو کھل کر قومی شناخت کا حصہ بنایا گیا۔

اس لحاظ سے کانگرس کی سیکولر قوم پرستی شعوری نہیں تو تحت الشعوری طور پر ایک مشرقی، روایتی، غیر سیاسی اور خالص مذہبی روایت یعنی ہندومت کا ایک انتہائی سیاسی مغربی تصور یعنی قوم پرستی کے ساتھ نبھاہ کروانے کی طرف ایک عارضی زینہ تھا۔ اس نیشنلزم کی بہت اوپر کی سطح ہی سیکولر تھی۔ اندر سے یہ ہمیشہ ہندو نیشنلزم تھی اور ہندوستان کے اصل وارث ہمیشہ ہندو قوم پرست ہی تھے۔

گویا بھارتی سیکولرازم عملی طور پر ہمیشہ سے ایک عارضی بندوبست تھا کیونکہ یہ ایک جمہوری فریم ورک میں معاشرے کو سیکولرائز کیے بغیر ایک سیکولر ریاست کے قیام کی کوشش کررہا تھا۔ ایسے مصنوعی بندوبست نے ٹوٹنا ہی تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ۱۹۳۷ میں کانگرس کی ہندو نشستوں پر لینڈ سلائیڈ فتح کے باوجود اقبال نے جناح صاحب کو ایک خط میں اور چند بیانات میں صاف صاف کہہ دیا تھا کہ کانگرس کی نیشنلزم اور نہرو کی سیکولر سوشلزم ایک وقتی اُبھار ہے۔ ہندوؤں کی اصل نمائندہ ہندو مہاسبھا (تقسیم سے قبل کی بی جے پی) ہی ہے۔

بھارتی لیفٹ اور لبرلز کی رگوں میں بھی یہی مصنوعی نیشلزم کوٹ کوٹ کر بھری ہے۔ باقی بھارت تو آگے بڑھ کر اس مصنوعی انڈین نیشنلزم کی فطری منزل (ہندوتوا) پر پہنچ گیا ہے لیکن یہ لوگ ابھی پیچھے ہی اٹکے ہوئے ہیں۔ لیکن پیچھے رہ کر بھی ان میں مسلمانوں اور دلتوں کے حوالے سے حقارت کے جذبات کوٹ کوٹ کر بھرے ہے۔

بھارتی کمیونسٹ پارٹی کے پولیٹکل بیورو پر ہمیشہ برہمنوں کی اجارہ داری رہی ہے اور دلتوں یا مسلمانوں کو کبھی کوئی نمائندگی نہیں ملی اگرچہ سیاست وہ دلتوں کے نام پر بھی کرتے ہیں اور نظمیں مسلمان سرخوں کی پڑھتے ہیں۔ عوام کی سیاسی تربیت ایسی کی ہے کہ بنگال اور دیگر کچھ ریاستوں کے جن علاقوں میں چند سال قبل لیفٹ کا گڑھ تھا، وہاں سے بی جے پی بھاری مارجن سے جیت رہی ہے۔

خود جے این یو کے حالیہ الیکشن میں لیفٹ کی سب سے بڑی مدمقابل جماعت دلت – مسلم اتحاد کی تھی جو ان دونوں پسماندہ طبقات کی طرف لیفٹ کے لوگوں کی حقارت کے سبب سامنے آئی اور جس نے لیفٹ میں پھیلی برہمنیت کے ساتھ ساتھ اسلاموفوبیا پر بھی آواز اٹھائی۔ امبیدکر اور شہید میلکم ایکس کی تصویریں ساتھ ساتھ اٹھائے اس گروہ کو جالب گانے والے لیفٹ کے برہمن لونڈے لونڈیوں نے ایک طرف تو چمار کہا اور دوسری طرف ان سے مقابلے کے لیے مسلمانوں کے مذہب پر بھی ویسے ہی حملے کیے جیسے ہندو قوم پرست یا پاکستانی لیفٹ کرتی ہے۔

یوں بھی ان کی انقلابیت نہانے سے گریز، نعرے بازی اور جالب پڑھنے سے کبھی آگے نہیں بڑھی۔

اوپر اوپر سے بھارتی لیفٹ ارون دھتی رائے اور شہلا راشد جیسے چند خوشنما چہروں سے مثبت تاثر قائم کرلیتی ہے (جیسے کانگرس گاندھی اور آزاد کے ذریعے کرتی تھی) لیکن ان کے اندر بھی پٹیل کی سوچ ہی بھری پڑی ہے۔ یقین نہ آئے تو بھارت کے کسی دلت یا ایسے مسلم طالب علم سے پوچھ لیں جو خود اسلام بیزار اور مسلمان بیزار نہ ہوا ہو۔

لہذا حقیقی بھارتی لیفٹ کے حوالے سے یہ غلط فہمی پالنے کی ضرورت نہیں کہ جیسے ہماری لیفٹ بھارت کو نہیں بلکہ صرف پاکستان کو ہی تنقید کا نشانہ بناتی ہے، ہر وقت غیر متناسب قسم کی balancing میں لگی رہتی ہے اور اقلیتی مذاہب سے نہیں بلکہ صرف اکثریتی مذہب سے نفرت کرتی ہے اسی طرح بھارتی لیفٹ اپنے ریاست کے ہی خلاف ہوگی اور مسلمانوں وغیرہ کی بھی سچی دوست ہوگی۔ ہندو قوم پرستوں اور عام بھارتی سرخوں میں فرق بس اتنا ہے کہ ہندو قوم پرست کھلم کھلا مسلمانوں اور اسلام دونوں سے نفرت کا اظہار کردیتا ہے جبکہ لیفٹ اس نفرت کو اطلس و کمخواب میں سلوا کر پیش کرتی ہے۔

(بلکہ دلت مسلم اتحاد سے چیلنج ملنے پر تو یہ کافی کھل کر سامنے آگئے ہیں اور جعلی balancing کے فن میں پاکستانی کامریڈوں سے بھی چار ہاتھ آگے نکل گئے ہیں۔ یہاں تک کہ بیف لنچنگ کو بیلنس کرنے کے لیے پورک لنچنگ کی اصطلاح متعارف کروادی گئی ہے جو دنیا کے کسی کونے میں کبھی ہوئی ہی نہیں۔)

Facebook Comments Box
featuredبھارتری کمیونسٹ پارٹیبھارتی سیکولرازمبھارتی لبرلحبیب جالبدہلی یونیورسٹیسرخےسوشلسٹکانگرس کی سیکولر قوم پرستیکانگرس کی نیشنلزمکمیونسٹندو مہاسبھانہرو کی سیکولر سوشلزمہندو نیشنلزم
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
دریائے کنہار کے سنگ جھیل سیف الملوک تک ——– محمد حمید شاہد
next post
کورین چُوسک تہوار۔ Chuseok 추석 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ عبدوہو محمد

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.