تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیصنف/ جینڈرکالم

مسز خان! حد ہے ویسے ۔۔۔۔۔۔۔۔ سحرش عثمان

by دانش ڈیسک 02/09/2019
written by دانش ڈیسک 02/09/2019
126

جوتوں تک تو ٹھیک تھا مسز خان کے وقت سے پہلے ہی سیدھے کرلینے چاہییں۔
لیکن یہ توے کی سمجھ نہیں آئی وہ کیوں چڑھا ہونا چاہئیے۔ آتے ہی کیا کس کو داغنے پر تل جایا کریں؟ وہ بھی توے سے مطلب اتنا وزنی توا ہوتا ہے۔ لگتا ہے مسز خان آپ نے کبھی توا چڑھایا نہیں ہے۔ وگرنہ یہ بھاشن تو ہرگز نہ دیتیں۔
حیرت ہے میچ میکنگ کے نام پر لوگوں کی مجبوریاں کیش کرا کے اپنے لیے آسائشیں خریدنے جیسے مکروہ کام پر بجائے شرمندہ ہونے کے آپ اخلاقیات پر لیکچر بھی دے رہی ہوتی ہیں۔
عجیب سماج ہے سنگ یہاں مقید ہیں سگ آزاد۔
جس کو اخلاقی طور پر مر جانا چاہیے وہ شخص بھی اخلاقیات کے بحران پر لیکچر دیتا ہے۔
جسے شرم سے ڈوب تو جانا ہی چاہیے وہ بھی اوروں کو شرمندہ کرنے کی کوششوں میں ہوتا ہے۔

جس قابلیت پر ڈگریوں پر رالیں ٹپکاتے رشتہ کیا ہوتا بعد میں وہی قابلیت طعنوں کی صورت وقتا فوقتا دہرائی جاتی ہے اور مسز خان جیسی سوکالڈ سلیبرٹیز ایسے مفاد پرست طبقے کے ہاتھ مضبوط کرتی ہیں اور شدید ترسے لونڈے و ہمنوا تالیاں پیٹ پیٹ کر ہاتھ اور ہاہا کار مچا مچا کر گلا سجا لیتے ہیں۔
یہ سوچے سمجھے بغیر کہ یہ گھٹیا اخلاقیات شادی کے انسٹیٹیوٹ پر کس قدر برے اثرات مرتب کر رہی ہے۔
اور یہ نام نہاد ویلیوز کی تکرار ہر بارآٹھ مارچ کے پوسٹرز میں اضافہ کیے جارہی ہیں۔ اور ہم جیسے لوگ اس طوفان بدتمیزی میں خاموش رہ جانے میں عافیت محسوس کرتے ہیں یہ جانے بغیر کہ ہماری خامشی کئی کچے ذہنوں کو شادی سے تعلق سے رشتے سے متنفر کررہی ہے۔
اور کئی بچے اس رشتے اور اس کی ذمہ داریوں سے بھاگنے لگتے ہیں۔
شادی ہمارے ہاں ایک ڈراؤنا خواب تو تھی ہی مسز خان ورژن نے اسے مزید مشکل بنا دیا ہے۔
پہلے کیا کم مشکلات ہیں جو جی کو جلانے کو ان محترمہ کا لیکچر بھی سننا پڑا ہے۔

ہم جیسے لوگ اس طوفان بدتمیزی میں خاموش رہ جانے میں عافیت محسوس کرتے ہیں یہ جانے بغیر کہ ہماری خامشی کئی کچے ذہنوں کو شادی سے تعلق سے رشتے سے متنفر کررہی ہے۔

حد ہے اور بے حد۔ ۔ ڈاکٹر انجینئر بہو چاہیے ساتھ ہی اس کی گول روٹی پرکار سے ماپی جاتی ہے۔
پروفیشنل لڑکی چاہیے ساتھ ہی امور خانہ داری میں طاق۔
شوہر و سسرال کی خدمت میں ہمہ وقت حاضر۔ کسی بھی قسم کی ناگوار صورتحال میں بھی جبڑے کے پورے پھیلاؤ سے مسکرانے اور مسکراتے رہنے والی۔
برتن دھو دھو کر لیمن میکس کے ایڈ کی طرح ان میں چہرہ دیکھ کر لپ گلوز برابر کرلینے والی۔
مصالحوں کے ایڈ والی سولہ سترہ سنگھار کیے کچن میں ایسے کھڑی ہو جیسے حبس و گرمی کا نام و نشان نہیں۔
اس پر سارے تنقیدی جملے ہنس کر برداشت کرنے والی کیونکہ زبان نہیں چلانی۔ اس کو تالو سے چپکا کر رکھنا ہے۔
اپنے اوپر ظلم کروائے جانا ہے۔ بس “گھر”بچانا ہے۔
اہسے عقوبت خانوں کو گھر کہنے پر ہی سُو کردینا چاہیے مسز خان کو۔ لیکن بتایا ہے نا سنگ یہاں مقید ہیں سگ آزاد۔
یہاں الٹی گنگا بہتی ہے۔
لیلا نظر آتا اور مجنوں نظر آتی ہے۔

لیکن اتنا ناراص ہونے والی کونسی بات ہے۔ مسز خان نے کونسا کوئی جگ سے انوکھی بات کہہ دی ہے۔
گھر بچانے کی ساری ذمہ داری بیٹیوں پر ڈالنے والے اس منافق سماج کا چہرہ ایسے ہی لوگ ہیں۔ کمزور کو دبا کر بہادری دکھانے والے۔
لیکن افسوس مسز خان کے اب ہم اتنے مجبور و مقہور و بے بس نہیں رہے، اب میری جنس ایسی بے وقوف نہیں رہی وہ اپنے لیے پورے فرد کا سٹیٹس مانگتی نہیں اب اس سٹیٹس کوبزور بازو حاصل کرلیتی ہے۔
آپ نے اگر فیملی انسٹیٹیوٹ بچانا ہے تو پھر اپنے بیٹیوں کی تربیت کرنا شروع کریں۔
شادی صرف خاتون کی نہیں ہوتی جس کو صرف اسی نے نبھانا ہوتا ہے۔
کسی بھی ناگوار صورتحال میں گھر صرف عورت کا نہیں ٹوٹتا۔ فیملی صرف عورت کی نہیں برباد ہوتی۔
اپنے بیٹوں میں احساس ذمہ داری پیدا کریں۔ انہیں انسانوں کی طرح بہیو کرنا سیکھائیں۔
اگر وہ عورت کو اس کا جائز مقام نہیں دے سکتے گھر بچانے کی برابر ذمہ داری نہیں لے سکتے تو پھر شادی نہ کرنے کا مشورہ انہیں دیجئے۔
ہمیں مت سیکھائیے کہ ہم نے شادی کرنی ہے یا نہیں۔
اور آپ نے بالکل ٹھیک کہا اگر طلاق کامکمل اختیار عورت کو دیا جاتا تو ہر مرد طلاق کا داغ لیے گھوم رہا ہوتا۔

بالکل درست فرمایا۔ اگر یہ مکمل اختیار عورت کو مل جاتا تو آپ کا سماج کم منافق ہوتا۔ یہاں دوغلے روئیے قدرے کم ہوتے یہاں چولہے کم پھٹتے یہاں بیٹی کی پیدائش جرم نہ ہوتی۔ بیہاں بیٹے کے لیے مشین نہ بنایا جاتا۔ یہاں جہیز کے ہاتھوں مجبور والدین بیٹیوں کو دیکھ دیکھ کر دل کے مریض نہ بنتے۔
یہاں “اچھے” لڑکے کے انتظار میں ڈگری پہ ڈگری نہ کیے جاتیں لڑکیاں۔
یہاں ریسپشنسٹ سے ٹرک کے اشتہار میں اور مصالحے بیچنے سے بلیڈ کی مارکیٹنگ تک عورت ایز ٹول استعمال نہ ہوتی۔
اور یہاں طلاق پر صرف عورت سے سوال نہ پوچھا جاتا مرد بھی جواب دہ ہوتا اسے بھی کوئی روک کر کہتا تم ہی برداشت کرلیتے۔
اس کی پیٹھ پیچھے بھی سرگوشیاں ہوتیں اس کا بھی کوئی نا کوئی قصور تو ہوگا ہی ورنہ اتنی چھوٹی بات پر کون طلاق دیتا ہے۔
اس کو بھی کہا جاتا اس کا باپ بھی ایسا ہی تھا اس کی ماں نے بھی تو چھوڑ دیا تھا اس کے نکھٹو باپ کو۔
اس کے رشتے کے لیے آتے ہوئے لڑکی کے گھر والے پوچھتے لڑکے کے باپ کو طلاق ہوئی تھی یقینا لڑکا بھی ویسا ہی ہوگا۔
آپ نے بالکل درست فرمایا یہ داغ عورت کے ماتھے کا جھومر نہ رہتا مرد بھی اس کا مزا چکھتا۔
اسے بھی احساس ہوتا جوتوں میں کیل کدھر ہے۔ اور کیلوں والے جوتوں سے لمبے سفر طے کرنا کیسا لگتا ہے۔

اگر آپ یہ سب نہیں کرسکتیں اس سماج میں بیٹوں کی تربیت پر زور نہیں دے سکتیں۔ تو پھر ایک کام کیجئے۔
چپ چاپ لوگوں سے جھوٹ بول پردے ڈال لالچ دے دے کر اپنی فیس کھری کرتی رہا کریں۔
یہ سوشل ریفارمر بننے کا کانٹا نکال پھینکئے۔
خوامخواہ ہی اپنی روزی روٹی پر لات مار بیٹھیں گی کہ آپ کی دوکان لڑکیوں کی وجہ سے پہ چل رہی ہے اور بہت حد تک بے جوڑ شادیوں کی وجہ سے۔ کیونکہ اگر اس سماج میں ایک نسل بھی بے جوڑ شادیوں کے بندھن کی بجائے خوشی والی شادی میں بندھی تو یہ سماج آپ جیسے کرداروں سے تو جان چھڑا ہی لے گا۔
لہذا اپنی چھابڑی کی حفاظت فرمائیے لیکچر دینےسے پہلے اپنی ذات کی کڑتن نکال لیا کیجئے۔
ہمارے ہاں کہا جاتا ہے اپنی ذات کڑتن ہوئے مصری نال نہ لڑئیے۔
تو اپنا گریبان میں جھانکنا سیکھئے۔

رشتے بچانے کی ذمہ داری رشتے میں بندھے ہر فرد پر یکساں عائد ہوتی ہے۔ یکطرفہ کچھ نہیں ہوتا، کم از کم شادی نہیں ہوتی۔
رہ گئی گھر کے کام کرنے کی بات تو آپ کون ہوتی ہیں ہمیں بتانے والی سارے کام ہم ہی پر فرض ہوئے ہیں۔ جب کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹایا کرتے تھے۔
جب وہ اپنے جوتے کپڑے خود مینج کیا کرتے تھے تو پھر کم از کم ہمیں اس بر صغیری روایت کو آفاقی اسلام بنا کر مت دکھایا کریں۔
اب ہم وہ چپ چاپ برداشت کرجانے والی نسل سے تعلق نہیں رکھتیں۔ ہمیں معدے سے دل والے رستے بھی قبول نہیں، دل سے دل والا رستہ کھلا ہے۔ جسے قبول ہے وہ قبول ہے کہے دوسری صورت میں۔۔۔ لڑکوں سے کہیئے شادی نہ کریں۔ ۔ گھر رہیں آوارہ گردی کریں اماں سے لاڈ اٹھوائیں۔ کسی کی بیٹی کی زندگی برباد کرنے سے بہتر ہے صرف اپنی کریں۔

یہ بھی پڑھیں: عورت کی ملازمت: مجبوری اور استحصال ——– محمد مدثر احمد

 

Facebook Comments Box
featuredدلہنرشتےسحرش عثمانشادیشادی شدہ زندگیشادی کی تبدیلیعورتمسز خان
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
روشن ستارہ ڈوب گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ سراج منیر کا تذکرہ، طاہر مسعود کا قلم
next post
ایک تھی بستی کالاباغ (ناول) — (قسط 4) حمید قیصر

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.