تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیکالم

برطانیہ کی منقسم جمہوریت —- جہاں تاب حسین

by دانش ڈیسک 30/08/2019
written by دانش ڈیسک 30/08/2019
78

لوگ چاہے وزیراعظم بورس جانسن کے فیصلے کو قانونی قرار دیں یا جمہوریت کا قتل مگر ساری بات ایک ہی نکتے پر ٹھہرتی ہے اور وہ ہے بریگزٹ یعنی برطانیہ کا یورپی یونئین سے علیحدگی کا فیصلہ۔ بریگزٹ نے ملکی و قومی اتحاد کو پارہ پارہ کر کے رکھ دیا ہے۔ اس سے معاشرہ منقسم اورسیاسی جماعتوں کے اتحاد میں دراڑیں پڑ چکی ہیں۔

سنہ ۲۰۱۶میں ہونے والے بریگزٹ ریفرنڈم میں ۵۲فیصد برطانوی ووٹروں نے یورپی یونین سے علیحدگی جبکہ ۴۸ فیصد نے یورپی یونین میں رہنے کے حق میں ووٹ ڈالا تھا۔ جو لوگ یورپی یونین سے علیحدگی کے حامی ہیں ان کی نظر میں پارلیمان کے ممبران برطانوی عوام کی رائے کو نظر انداز کر کے بریگزٹ کو روکنا چاہتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ملکۂ برطانیہ نے ۲۸ اگست ۲۰۱۹بدھ کے روز وزیر اعظم بورس جانسن کے پارلیمان کو معطل کرنے کے منصوبے کی منظوری دی تھی۔ اس منظوری کے خلاف برطانیہ کے دارالحکومت لندن سمیت متعدد شہروں میں ہزاروں افراد نے بدھ کی رات مظاہرے کیے اور اس اقدام کے خلاف درخواست پر چند گھنٹوں کے دوران دس لاکھ سے زیادہ افراد نے دستخط کیے۔ حکومت کا موقف ہے کہ ستمبر اور اکتوبر میں پانچ ہفتے کی معطلی کے باوجود بریگزٹ ڈیل پر بحث کے لیے کافی وقت مل جائے گا تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ ارکانِ پارلیمان کو نو ڈیل بریگزٹ کو ناکام بنانے سے روکنے کی ‘غیر جمہوری’کوشش ہے۔

اس بارے میں برطانوی وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت کے لیے ایسا کرنا اہم ہے تاکہ وہ ملک کے لیے ‘شاندار ایجنڈا’ تیار کر سکیں۔ ان کا اصرار ہے کہ وہ نئی قانون سازی متعارف کروانا چاہتے ہیں۔ وزیراعظم جانسن نے کہا کہ ۱۴ اکتوبر کو ملکۂ برطانیہ کی تقریر ان کے انتہائی دلچسپ ایجنڈےکے خدوخال بیان کرے گی۔

حکومت کے حامیوں کے خیال میں پارلیمان کو معطل کرنا اس لیے ضروری ہے تاکہ ملکۂ برطانیہ پارلیمان سے خطاب کر سکیں جو پہلے ہی تاخیر کا شکار ہو چکا ہے۔ ملکہ کا پارلیمان سے خطاب ہر پارلیمانی سال کے شروع میں ہوتا ہے۔

ملکۂ برطانیہ دارالامرا میں داخل ہوتی ہیں اور دارالعوام کے نمائندوں کو طلب کر کے حکومت کی طرف سے تیار کی گئی تقریر پڑھتی ہیں جس میں وزیر اعظم کے ان منصوبوں کا ذکر ہوتا ہے جس پر وہ قانون سازی کا ارادہ رکھتے ہیں۔ یہ روایت سولہویں صدی عیسوی سے جاری ہے اور پارلیمانی سال میں صرف ایک بار ہی ایسا ہوتا ہے۔ ملکۂ برطانیہ نے سنہ ۲۰۱۷ سے پارلیمان میں خطاب نہیں کیا ہے۔

دی ڈیلی ٹیلی گراف کے مطابق لیڈر آف ہاؤس جیکب موگ نے جو کہ ملکہ برطانیہ کے ساتھ بورس جانسن کی ملاقات میں موجود تھے بتایا کہ پارلیمان کا سیشن چار سو سالہ تاریخ میں طویل ترین تھا اس لیے اسے معطل کیا جانا درست ہے تاکہ نئے سیشن کی شروعات کی جا سکے۔ جیکب موگ کا مزید کہنا تھا کہ سنہ 2016 کے بریگزٹ ریفرینڈم کے مخالفین ہی اسے آئینی بحران قرار دے رہے ہیں۔

یورپی یونین میں رہنے کےحامی سمجھتے ہیں پارلیمان کو معطل کرنا برطانوی جمہوریت اور آئین کے دل پر وار کرنے کے مترادف ہے۔ اس ساری بحث کا محور تحریر شدہ برطانوی آئین ہے اور یہ صدیوں پر محیط جمہوری روایات، پارلیمان سے منظور شدہ قوانین اور عدالتی فیصلوں پر مشتمل ہے۔ یہ نظام اسی وقت تک اچھا چل سکتا ہے جب تک سیاستدان اصولوں کے مطابق چلنے پر رضامند ہوں لیکن آج کے منقسم برطانیہ میں جہاں یورپی یونین سے علیحدگی یا اس میں رہنے سے سیاستدانوں کے وسیع مفادات وابستہ ہیں، دونوں اطراف کے سیاستدان اپنی جیت کو یقینی بنانے کے لیے سب کچھ کرنے کو تیار ہیں اور پارلیمانی اقدار و روایات اُن کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتیں۔

برطانیہ کو 31 اکتوبر تک یورپی یونین سے الگ ہونا ہے مگر کچھ پارلیمانی ممبران یہ چاہتے ہیں کہ اگر برطانیہ اور یورپی یونین کے مابین کوئی معاہدہ طے نہیں پاتا تو علیحدگی کی تاریخ مزید آگے بڑھا دی جائے لیکن امکان یہی ہے کہ دس ستمبر کو پارلیمان کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا جائے گا اور اسے ۱۴اکتوبر تک دوبارہ نہیں بلایا جا سکے گا اور اس وقت برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی کی ڈیڈ لائن میں صرف ۱۷دن باقی رہ جائیں گے اور اگر پارلیمان کا اجلاس پانچ ہفتوں تک روک دیا گیا تو برطانیہ کے یورپی یونین کو چھوڑنے کی تاریخ میں اضافہ ممکن نہیں ہو سکے گا۔

لیبر پارٹی کی سینیئر ممبر پارلیمان مارگریٹ بیکٹ نے اپنے تبصرے میں کہا:

‘ہماری تاریخ میں پارلیمان کے بغیر حکومتوں کی نظیر موجود ہیں لیکن جب آخری بار ایسا ہوا تھا تو اس کا نتیجہ خانہ جنگی پر نکلا تھا۔’

قطع نظر اس کے کہ برطانیہ یورپی یونین کا حصہ رہتا ہے یا اس سے علیحدہ ہو جاتا ہے، لیکن برطانوی سیاست ایک لمبے عرصے تک تلخ اور منقسم رہے گی۔

۲۸ اگست ۲۰۱۹

Facebook Comments Box
boris johnsonBritish Parliament SuspendedfeaturedUK Parliamentبرطانوی پارلیمنٹ معطلبورس جانسنجہاں تاب حسین
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
کاریگر: شیخ رشید احمد کا دلچسپ خاکہ —- فاروق عادل
next post
پہاڑوں کی سیر، سیاحت کا فلسفہ اور میاں طاہر (پہلی قسط) — قاسم یعقوب

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.