تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینتنقیدعلم و ادبکتابوں پر تبصرے

ڈاکٹر منظور احمد کی کتاب ’اقبال شناسی‘ کے اہم نکات — راجہ قاسم محمود

by دانش ڈیسک 29/08/2019
written by دانش ڈیسک 29/08/2019
89

اقبال شناسی ڈاکٹر منظور احمد صاحب کی دوسری اہم کتاب جس میں انھوں نے اپنے خیالات کا کھل کر اظہار کیا ہے۔ اس سے پہلے ان کی “اسلام: چند فکری مسائل” کے اہم نکات پر بات کر چکا ہوں۔ اور وہ تبصرہ دانش پر شائع بھی ہو چکا ہے۔

اس کتاب کو بھی ادارہ ثقافت اسلامیہ نے شائع کیا ہے اور یہ فکر اقبال پر ڈاکٹر منظور احمد صاحب کے چھ مضامین کا مجموعہ ہے۔ میں یہ بات بھی واضح کردوں کے اقبال کے اوپر بات کرنے کا میں بلکل بھی اہل نہیں ہوں ان کے حوالے سے میں ایک ادنی درجہ کا طالب علم ہوں تو عین ممکن ہے کہ کسی جگہ اگر میں اپنی کوئی بات کروں تو وہ درست نہ ہو۔
اس کتاب کے پیش لفظ میں بھی ڈاکٹر صاحب نے مسلمانوں کو اپنے علمی پیرا ڈائم پر نظر ثانی کرنے پر زور دیا اور لکھا کہ نظر ثانی کے بغیر مسلم فکر منجمد رہے گی اور عصر حاضر کے مسائل سے نبردآزما ہونے کے قابل نہیں ہوگی۔

پہلا مضمون “اسلامی فکر میں بصیرت کی روایت اور اقبال” کے نام سے ہے۔
اس کے آغاز میں ہی ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں

“ہر فکر عموماً اور فکر اقبال خصوصاً وقتی چیلنجوں کے مقابلے میں وجود میں آئی ہے۔ کسی فکر اور فلسفہ کو ہم عصر معاشی، معاشرتی اور علمی پس منظر کے بغیر نہیں سمجھا جاسکتا۔
تاریخ فلسفہ لکھنے والوں نے عموماً اس غلطی کا ارتکاب کیا ہے کہ انہوں نے مختلف حکماء کی فکر کو اس کے سماجی پس منظر سے علیحدہ کرکے مجرد طور پر بیان کیا ہے اور پھر صداقت اور کذب، جواز وعدم جواز کی بحثیں چھیڑ دی ہیں.”

اس غلطی کے نتیجے پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر صاحب کچھ سطور بعد لکھتے ہیں

“اسی رجحان نے عام طور پر لوگوں کے ذہنوں کی اس طرح پرورش کی کہ وہ ہر فلسفی اور ہر شاعر کے کلام میں آفاقی پہلو دیکھنے لگے اور یہ نہ سمجھے کہ آفاقی پہلو بھی جو انسانی ذہن میں آ سکتے ہیں زمانی اور مکانی قید کے پابند ہوتے ہیں فکروفلسفہ معاشرہ کے زمینی حقائق سے الگ کرکے نہیں سمجھا جاسکتا”

اب اپنے اس نظریے کو اقبال اور ان کی فکر سے جوڑتے ہوئے کہتے ہیں کہ

“اقبال فی نفسہ مفکر نہیں تھے۔ ان کی فکر کا بنیادی محرک مسلمانوں کی بلڈ مون اور برصغیر کے مسلمانوں کی بالخصوص حالت زار تھی”
“اقبال کو شاندار ماضی سے محروم ہوجانے کا قوی احساس تھا”

اس مضمون میں آگے ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ اقبال نے حقیقت کی تہہ میں پہنچنے کی کوشش کی کہ مسلمانوں میں روشن خیالی پیدا نہ ہونے کے کیا اسباب ہیں اور اس کی تین وجوہات اقبال نے دریافت کیں۔

  1. تصوف، جس کے زیر اثر مسلمان عمل کی قوت سے محروم ہوئے۔
  2. اپنے مذہب کی بنیاد ارسطو سے مستعار منطق پر رکھی۔ اس مراد ڈاکٹر منظور احمد صاحب فقہ لیتے ہیں جس پر ان کی پہلی کتاب کے تبصرے میں ذکر کیا جا چکا ہے۔
  3. مسلمانوں نے اس چیز کو بھی نظر انداز کر دیا کہ ان کے مذہب کا ایک لازمی رشتہ طاقت کے ساتھ ہے۔ مذہب، محکومی، بے طاقتی اور بے بضاعتی کی زندگی کو صیح نہیں سمجھتا۔

بقول ڈاکٹر منظور احمد صاحب اقبال کا فلسفہ ان امراض کی تشخیص کرتا ہے۔ اور ساتھ کہتے ہیں کہ اقبال آخر میں خود اس علمی جمود کا شکار ہو گئے جس سے وہ بچنا چاہتے تھے۔ شاید ڈاکٹر صاحب کا اشارہ اقبال رح کے تصوف کی طرف رجحان کی جانب ہے۔ اس مضمون کے آخر میں ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ اقبال نے مرض کی تشخیص تو کی مگر اس کے حل کے لیے کوئی نیا پیرا ڈائم مہیا نہیں کیا۔ اس پر ڈاکٹر صاحب کی اپنی معروضات کا ذکر ان کی پہلی کتاب میں بیان کیا جا چکا ہے جو انھوں نے دوبارہ پیش کیں، وہ قرآن و حدیث کو زیادہ تر ترغیب، ترہیب اور مواعظ پر مشتمل مانتے ہیں مطلب احکامات کے معاملے میں ان کا نظریہ جدا ہے۔ احکامات میں وہ اجتہادات زیادہ اہمیت دیتے ہیں اور اس کی مثال حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور سے دیتے ہیں مگر اس معاملےکئی جگہ ان کے دلائل کی کمزوری نظر آتی ہے جس کا جائزہ ایک اور کتاب میں لیا گیا ہے۔

ڈاکٹر منظور احمد صاحب کی پہلی کتاب پڑھنے کے دوران میں نے یہ محسوس کیا کہ وہ ٹو دی پوائنٹ بات نہیں کرتے۔ ایک موضوع پر جب وہ گفتگو شروع کرتے ہیں تو اس کو بیچ میں چھوڑ کر ایک اور موضوع پکڑ لیتے ہیں۔ اس کتاب میں بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ فکر اقبال پر بات کرتے کرتے وہ ناسخ و منسوخ کی اصطلاحات کی طرف نکل گئے اور کہتے اس کی قدر و قیمت کو ہمارے مفکرین نے نہیں جانا۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ منسوخ حکم سے مراد اس کا زمانی طور پر کالعدم ہونا نہیں۔ اگر ہم تاریخ کے ادوار سے دوبارہ گزریں تو وہ حکم اقتضائے وقت کے مطابق صیح ہو گا اور اصل مقصود حکم بلکہ قدر کا حصول ہے۔ یعنی مقاصدِ شریعہ کی بحث کو بھی یہاں لے آئے ہیں۔

اپنے اسی مضمون میں وہ ایک اور بات کرتے ہیں کہ فقہاء یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ جتنا معاشرتی ردوبدل ہونا تھا ہو چکا اب احکامات میں ردوبدل کی گنجائش نہیں ہے۔ بہتر ہوتا کہ ڈاکٹر صاحب اس دعویٰ کے حوالے دیتے کہ معلوم ہوتا کہ یہ کس فقیہ کا دعویٰ ہے کیونکہ اب بھی جدید مسائل پر مختلف مکاتب فکر کے اہل افتاء کی تحریریں آ رہی جو کے اس دعویٰ کی از خود تردید کرتی ہیں۔

دوسرا مضمون “اقبال، حالیہ فکری تناظر میں” ہے۔

اس مضمون کے آغاز میں ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ انسانی فکر ترقی کی منزلیں طے کرتی رہتی ہے، فکر و فلسفہ پر معاشرتی، معاشی اور سیاسی ماحول کے اثرات پڑتے ہیں۔ اس وجہ سے ایک زمانے کے فکری رجحان دوسرے زمانے سے مختلف ہوتے ہیں۔

اقبال نے ایک محکوم معاشرہ میں انکھ کھولی، مغربی طرز تعلیم نے ان کو آزادی اور محکومیت کے امتیاز سے آشنا کیا۔ پھر ان کا ماحول بڑی حد تک مذہبی عوامل سے تشکیل پایا تھا اس وجہ سے سیکولر تعلیم ان کی محکم مذہبیت کو تبدیل نہ کرسکی۔ اسلام کی تفہیم کے لیے وہ تاریخی و روایتی طریقے کے مطابق قرآن و سنت سے حاصل کرنے کے قائل تھے اس کے علاوہ باقی تعبیروں کو وہ غلط سمجھتے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ اطراف میں موجود خیالات سے بھی وہ متاثر ہوئے اس لیے ہمیں بعض اوقات ان کی فکر میں ایسی باتیں ملتی ہیں جو آپس میں متضاد تھیں۔

ڈاکٹر صاحب یہ بھی کہتے ہیں گو کہ اقبال نے پنجاب یونیورسٹی سے فلسفہ میں ایم اے کیا مگر ان کے فلسفیانہ خیالات کی اصل تشکیل کیمبرج قیام کے دوران ہوئی۔ مگر انگلستان واپسی کے بعد وہ فلسفے سے پیشہ ورانہ طور پر متعلق نہیں رہے کیونکہ اس کے بعد فلسفیانہ مباحث میں جو تبدیلی آئی اقبال ان کے بارے میں خاموش رہے۔ اس بات کی مزید وضاحت کرتے ہوئے ڈاکٹر منظور احمد آگے لکھتے ہیں کہ جب ۱۹۲۹ میں اقبال خطبات لکھ رہے تھے اس وقت کیمبرج میں یہ فلسفیانہ نعرہ گونج رہا تھا کہ ابہام سے گریز اور تجربے پر زور۔ چونکہ مابعد الطبیعیاتی اصطلاحیں ابہام رکھتیں لہذا وہ سنجیدہ فکر کا موضوع نہیں بن سکتیں۔ پھر اس وقت الفاظ اور متون کے معنوں کی تعیین کرنے پر بھی بحثیں جاری تھیں، متن کی تفہیم کے لیے تفسیر کے طریقے کار اور مصنف کے تجربات اور ذہنی واردات موضوع بحث تھیں۔ اقبال ان سب کے بارے میں اپنے خطبات میں بات کرتے نظر نہیں آتے۔

تیسرا مضمون “اقبال، سائنس اور مذہب” کے نام سے ہے۔ اس میں ڈاکٹر منظور احمد نے اقبال اور سائنس کے تعلق کے حوالے سے بات کی ہے۔

ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے اپنے کلام یا شاعری میں سائنسی حقیقت کا ذکر کردیا تو بھی صاحب کلام سائنسدان کہلانے کا حقدار نہیں تاوقتیکہ وہ طریق کار یا توثیق کی شرائط پوری نہ کرے۔ ان معنوں میں اقبال کو ہم سائنسدان نہیں متصور کر سکتے۔

اس طرح ڈاکٹر صاحب کو اقبال کے ان معنوں میں بھی سائنسدان ہونے سے انکار ہے انھوں نے سائنس سے متعلق ایسے نظریات بیان کیے جو زیادہ بہتر توجیہ کرتے۔ اقبال کے بیان کردہ نظریات سائنسی کم اور عقلی زیادہ ہیں۔ ہاں ایک مفکر کو حق ہے کہ وہ سائنسی علم یا اس کی تشریح پر تنقید کرے اور اس کے انکشافات کو اپنے موقف کے حق میں استعمال کرے۔ اقبال اور سائنس کا تعلق اس نوعیت کا ہے۔

چوتھا مضمون “اقبال کا فلسفہ مذہب” کے نام سے ہے۔

اس کے شروع میں ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ اقبال نے اپنے کلام کو حرف آخر کے طور پر پیش نہیں کیا اس لیے اگر اب اسلامی الہیات کی تشکیل جدید کا پہلو سامنے آئے تو محض یہ سمجھ کر کہ یہ اقبال کے فلسفے سے میل نہیں کھاتا انکار نہیں کرنا چاہیے۔ اقبال کی علمی عظمت کا ڈاکٹر منظور احمد بھی اعتراف کرتے ہیں مگر ان کو حرف آخر نہیں سمجھتے۔

اسلام میں الہیات کی تشکیل جدید کا مرکزی خیال یہ ہے کہ جدید فکر کی مدد سے مذہب کا جواز مہیا کیا جائے۔
ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ مذہب کی تاریخی وسعت کا صیح مفہوم اسلامی مفکرین کی نظر سے اوجھل رہا۔ اس لیے انھوں نے اسلام کی تعبیر ایک زمانے کے افکار کی روشنی میں کرنے کی کوشش کی ہے، اقبال کے فلسفے میں بھی یہ رجحان پایا جاتا ہے اس لیے ہم دیکھتے ہیں کہ وہ اسلام کے روایتی موضوعات کو اکثر خالص ہیگلی یا برگسانی تصورات سے تعبیر کرتے ہیں وہ سرسید احمد خان کی طرح آیات کو ان کے سیاق سے جدا کرکے بھی دیکھتے ہیں۔

اس کے بعد ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ موجودہ زمانے میں بھی عقلیت یا سائنسی تحقیقات کی روشنی میں وحی کی مختلف تاویلات ہو سکتیں ہیں پھر اس پر ایک خدشہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ اگر اس کوشش کو بنیادی مقصد سے آزاد کردیا اور کسی زمانے کی سائنسی فکر وحی کے مترادف قرار دی گئی تو مذہب کی صداقت اس سائنسی فکر کی پابند ہو جائے گی۔

پانچواں مضمون “اقبال اور تصوف کی مابعد الطبیعات” کے نام سے ہے۔

مضمون کے آغاز میں ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ لوگوں میں اقبال کی بابت اختلاف ہے کہ اقبال شیخ مجدد رح کے شہودی نظریے قائل تھا یا پھر شیخ اکبر رح کے وجودی مسلک کے؟ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ شروع میں تو وہ شہودی نظریے کو درست سمجھتے تھے مگر آخری عمر میں وہ وجودی مسلک کے قریب ہو گئے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ان دونوں نظریات میں کوئی تضاد نہیں اور ان کے فرق کے درمیان تعبیر ممکن ہے اور اقبال کا فلسفہ خودی ان دونوں کا تعبیراتی امتزاج ہے۔
ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ اقبال پہلے شیخ اکبر رح کی فصوص کے بارے میں کہتے تھے کہ یہ ماسوائے الحاد و زندقہ کے کچھ بھی نہیں مگر بقول ڈاکٹر منظور احمد، اقبال جو تصوف سے متنفر تھے کا اپنا تصور خودی تصوف کا فلسفہ ہے۔ اگے جا کر ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ اقبال کو فی نفسہ تصوف سے کوئی عناد نہ تھا وہ اس کو عمدہ چیز سمجھتے تھے مگر جب یہ تصوف نظام فلسفہ کی شکل اختیار کرتا ہے تو اقبال کی روح بغاوت پر آمادہ معلوم ہوتی ہے۔
اس مضمون میں ڈاکٹر صاحب نے جبر و قدر، وحدت اور کثرت، کانٹ اور زینو کے حرکت بارے میں نظریات ہر بھی بات کی ہے۔ مگر زیادہ ممکن ہے کہ میں اپنی کم علمی کے باعث ان کو صیح طور پر سمجھ نہیں سکا یا پھر ڈاکٹر صاحب نے مختصر مضمون میں ان مشکل مباحث کو بہت اختصار کے ساتھ ذکر کیا ہے۔

چھٹا مضمون “خدا، خودی اور زمان و مکاں” کے نام سے ہے۔

اس مضمون میں بنیادی طور پر خدا کے حوالے سے بحث کی گئی ہے کیونکہ خودی، زمان اور مکان اس کے ذیلی موضوعات ہیں۔

اقبال تصور خدا کو فلسفے کا مسئلہ نہیں سمجھتے تھے بلکہ اسے مذہب کا مسئلہ قرار دیتے تھے۔
وجود خدا کے علم کے بارے میں فلسفہ مذہب میں تین آراء ملتی ہیں۔
اول کہ ہم عقل سے وجود خدا کا علم حاصل کر سکتے ہیں۔
دوم کہ ہمیں وحی الٰہی سے حاصل ہو
سوم یہ کہ صوفیانہ وجدان کے ذریعے۔
فلسفہ میں ایک اور نقطہء نظر بھی ہے کہ علم وجود خدا ناممکن اور علمیاتی طور پر ہم اس کے وجود نفی و اثبات دونوں نہیں کرسکتے۔
افلاطون اور ارسطو اس بات کے قائل تھے کہ عقل، وجود خدا کے یقینی علم کا ذریعہ ہے۔ اور یہ دعویٰ اکثر عیسائی مدرسین نے تسلیم کیا ہے۔
اقبال کے نزدیک قرآن کا اصلی مقصد انسان میں خدا اور کائنات کے درمیان تہہ در تہہ (mainifold) اضافتوں (رشتوں) کا اعلیٰ شعور بیدار کرنا ہے۔ یہ کائنات اقبال کے نزدیک خدا کا تخلیقی لہو ولعب نہیں ہے جس کو اس نے کسی مابعد کائناتی دن میں بیٹھ کر بنا ڈالا ہو یہ ایک جیتی جاگتی حقیقت ہے جو ہر دم تخلیقی مراحل طے کر رہی ہے۔ نیز اقبال کے نزدیک انسان اس کائنات کا مضطرب وجود ہے اس کی زندگی کی ایک ابتداء ضرور ہے لیکن انتہا لامحدود ہے۔

یہ ڈاکٹر صاحب کی کتاب کے کچھ اہم نکات تھے جو دوران مطالعہ نظر سے گزرے۔ ہو سکتا ہے کئی اہم نکات و موضوعات قلت مطالعہ کے باعث رہ گئے ہوں یا میری طرف سے توجہ نہ دی گئی ہو۔ میں اپنا تبصرہ بھی اس لیے نہیں کر رہا کہ ابھی تک اپنے آپ کو اس لائق نہیں سمجھتا، ایسے ہی ڈاکٹر منظور احمد صاحب کے خیالات نقل کرنے سے ہرگز یہ مراد بھی نہیں کہ میں ان کی تائید کرتا ہوں۔ امید ہے اہل علم حضرات کی طرف سے کافی سیکھنے کو ملے گا۔

Facebook Comments Box
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
جنازے، روح اور ماں —– اظہر عزمی
next post
کاریگر: شیخ رشید احمد کا دلچسپ خاکہ —- فاروق عادل

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.