تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینتنقیدعلم و ادبلسانیات

علاقائی زبانوں کے اردو شعرأ: ایک منفرد عمرانی تجربہ —- ادریس آزاد

by دانش ڈیسک 28/08/2019
written by دانش ڈیسک 28/08/2019
681

ایک بات جو میری توجہ اکثر کھینچ لیتی ہے کہ پاکستان میں اُردو شاعری پر طبع آزمائی کرنے والے اکثر شعرأ، گھر میں اُردو نہیں بولتے۔ گھر میں اُردو نہ بولنے کی وجہ سے جہاں وہ روز مرّے اور محاورے کی مادر زاد روانی سے محروم ہیں وہاں اُن کے تفرّدات کی بدولت ایک جہانِ تراکیب بھی برآمد ہوتا ہے۔ پشتو، سندھی، سرائیکی، بلوچی اور پنجابی زبان بولنے والے اُردو کے شعرأ تو موجود ہیں ہی، پاکستان کی دیگر بولیاں، مثلاً بلتی، شنا، پہاڑی، پھوٹوہاری، براہوی اور ایسی ہی نہ جانے کتنی زبانوں کے بولنے والے اُردو شاعری میں اپنا اپنا حصہ ڈالتے اور خاطرخواہ سُرخروئی سے ہمکنار ہوتے رہتے ہیں۔

اگرکبھی کسی ایک علاقائی زبان کے اردو شعرأ کا کسی دوسری علاقائی زبان کے اُردو شعرأ کے ساتھ موازنہ کیا جائے تو خاصے دلچسپ نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ مثلاً اگر پشتو بولنے والے اردو شعرا اور پنجابی بولنے والے اردو شعرا کے فرق پر تحقیقی مقالہ لکھا جائے تو کیا دلچسپ لسانی تجربات کی توقع نہیں کی جاسکتی؟ عام طور پر پنجابی بولنے والے اردو شعرا ’’جاتی‘‘ اور ’’پڑتی‘‘ کا فرق نہیں کرپاتے۔ پشتو بولنے والے اردو شعرا بعض مذکر اسمأ کو مؤنث کی جگہ اور مؤنث کو مذکر کی جگہ بےدریغ استعمال کرلیتے ہیں۔ دراصل ہم جب کسی دوسری زبان میں کچھ کہنے لگتے ہیں تو ہم ساتھ ساتھ اپنی زبان میں سوچے گئے خیال کا ترجمہ کر رہے ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب ہم محاوروں اور روزمرّوں کو تیزی سے ترجمہ کرتے ہیں تو بعض اقات عجیب و غریب اور کبھی کبھار نہایت دلچسپ تصورات خودبخود وجود میں آجاتے ہیں۔ مثلاً سینے میں ٹھنڈ پڑنا، اب باقاعدہ اُردو محاورہ ہے لیکن ہم آسانی سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ پنجابی سے وارد ہوا ہوگا۔ پنجابی کے روزمرّے بھی بےساختہ تبدیلی کے وقت کبھی دلکش تو کبھی مضحکہ خیز بن جاتے ہیں۔ ’آپ ناراض ہوئے ہوئے ہو‘‘، ’’وہ چلنے لگ پڑاہے‘‘،’’ میں نے نہیں تھا کیا‘‘، ’’پروانے کو کیا آگ لگی ہوئی ہے یا اُس کو کیا مار پڑی ہوئی ہے؟‘‘ وغیرہ وغیرہ

پاکستان میں اُردو کے زیادہ ترشعرأ، گھروں میں اُردو نہیں بولتے۔ گھروں میں اُردونہ بولنے کی وجہ سے جہاں وہ روز مرّے اور محاورے کی مادرزاد روانی سے محروم ہیں وہاں اُن کے تفرّدات کی بدولت ایک جہانِ تراکیب بھی برآمد ہوتاہے۔

بات یہ ہے کہ جب ہم اپنی مادری زبان میں بات کرتے ہیں تو ہم اپنی ثقافت کے ساتھ جُڑے ہوتے ہیں اور جب ہم اُردو میں بات کرتےہیں تو ہم اپنی تہذیب کے ساتھ جُڑ جاتے ہیں۔ ہم جس قدر بھی لبرل ہو جائیں، بطور پاکستانی ہم اپنے آبائی پس منظر سے فرار حاصل نہیں کرسکتے، نہ ہی ہمارے لیے اپنے تہذیبی اثاثے کو نظرانداز کرنا ممکن ہے۔ ہماری زندگی جن جن چھوٹے چھوٹے اعمال کا مجموعہ ہے وہ اپنی ماہیت میں نہ ہندی ہیں نہ عربی اور نہ ہی فارسی۔ بلکہ اِن تینوں کے امتزاج کی بھی ایک ایسی صورت ہیں کہ گویا ہمیں بالکل ایک نئی قوم بنا دیتے ہیں۔

اس پر مستزاد تہذیب و ثقافت کے معنوی ابہام کا قضیہ بھی ہمیشہ موجود رہا ہے۔ اردو میں تہذیب و ثقافت کے الفاظ بعض لکھاریوں کے لیے مماثل، بعض کے لیے معمولی فرق کے ساتھ ایک ہی چیز اور بعض کے لیے دو مختلف اصطلاحات ہیں۔ لیکن اس بات پر لگ بھگ سب متفق ہیں کہ ثقافت چھوٹا جبکہ تہذیب بڑا سماج ہے۔ یوں گویا ایک تہذیب میں کئی ثقافتیں سما سکتی ہیں۔ اسی طرح تمدّن بھی ایک اصطلاح ہے۔ لیکن تمدّن شہریت ہے۔ تمدّن میں بڑی بڑی عمارتیں تصور میں لائی جاسکتی ہیں لیکن تہذیب کے تصور میں کسی بڑے سماج کی مشترکہ عادات و اطوار اور رسم و رواج کو تو دخل ہے لیکن بڑی بڑی عمارتوں یا سڑکوں کا ہونا ضروری نہیں ہے۔ غرض جب یوں کہاجائےگا تو غلط نہ ہوگا کہ ہمارے عہد کا اُردو شاعر جب اپنی مادری زبان میں شعر کہنے لگتا ہے تو اس کی تمام ترجیحات اس کی ثقافت اور زبان کے اردگرد ہی موجود رہتی ہیں، لیکن جب وہ اردو میں شعر کہتاہے تو اپنے آباؤاجداد کی ثقافت و روایت سے ماورا ہوکر اپنے حقیقی داخلی تجربے کی ترجمانی کرتا اور خود کو ایک بڑے سماج کا حصہ محسوس کرنے لگتاہے۔ اُردو میں شعر کہنا ہمارے لیے ایک جداگانہ عمل ہے۔ اردو کا شاعر اردو میں شعر کہتاہے تو وہ ایک مقدس یا اہم کام کرتاہے۔ چنانچہ اُردو کا شاعر داخلی تجربے کے اعتبارسے ایک فنکار جبکہ خارجی تجربے کے اعتبار سے ایک سائنسدان جیسا ہے۔ ایک سائنسدان کی طرح اُس کی تخلیق، ثقافتی دباؤ سے ماورأ بایں ہمہ زبان کی مخصوص روایتوں سے آزاد ہے۔ یوں گویا ایک ہی شاعر اپنی مادری زبان میں شعر کہے تو طبعاً معروضی اور اُردو میں شعر کہے تو موضوعی ہوجاتاہے۔

جب ہم اپنی مادری زبان میں بات کرتےہیں تو ہم اپنی ثقافت کے ساتھ جُڑے ہوتے ہیں اورجب ہم اُردو میں بات کرتےہیں تو ہم اپنی تہذیب کے ساتھ جُڑ جاتے ہیں۔

اگر صورتحال یہی ہے تو پھر ایک نئی اور نہایت دلچسپ حقیقت سامنے آتی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ عہدِ حاضرکا منطقی فہم ہر طرح کی داخلی واردات کو شک وشبہ کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ اگر آج کے شاعر کا مخاطب وہی منطقی فہم ہے تو آج کے شاعر کے لیے سب سے بڑا مسئلہ بیان کا مسئلہ ہے۔ کیونکہ شاعری کسی کےمنطقی فہم کی تسکین کے لیے تو وجود میں آتی ہی نہیں ہے بلکہ اُس کی تخلیق اپنی کُنہ میں آزادانہ بایں ہمہ محدود مقدمات کی ذمہ داری سے ماورا ہوتی ہے۔ چنانچہ وہ نئی حقیقت جو قابلِ فہم ہونے کے ساتھ ساتھ بیک وقت دلچسپ اور دنیا بھر کی شاعری کے لیے ایک چیلنج بھی ہے، یہ ہے کہ مخاطبین کےخوگرِ پیکر محسوس ہو جانے کی وجہ سے فی المعنی دنیا بھر کی شاعری گونگی ہوچکی ہے۔ شاعری داخلی واردات ہے اور شاعری کے مخاطبین خارج میں معنی کی موجودگی کے طلبگار ہیں۔ اب اگر بغور دیکھاجائے تو دنیا بھر کی شاعری میں فقط اُردو شاعری اور پھر پاکستانی اُردو شاعری وہ واحد سلسلہ ٔ ادب ہے، جو فی زمانہ شاعری ہونے کا فریضہ انجام دے رہاہے۔ کیونکہ ہم اُوپر دیکھ آئے ہیں کہ اُردو کا شاعر نہ چاہتے ہوئے بھی اپنی واردات کے وقت طبعاً موضوعی ہوجاتاہے۔ وہی شاعر اپنی مادری زبان میں شعر کہے تو کسی بھی انگریزی کے شاعر کی طرح کہےگا اور حتی المقدور طبعاً معروضیت پسندی کا مظاہرہ کرےگا لیکن اُردو شاعری کےوقت وہ ایسا نہیں کرسکتا۔

ہمارے عہد کا اُردو شاعر جب اپنی مادری زبان میں شعرکہنے لگتا ہے تو اس کی تمام ترجیحات اس کی ثقافت اور زبان کے اردگرد ہی موجود رہتی ہیں، لیکن جب وہ اردو میں شعر کہتاہے تو اپنے آباؤاجداد کی ثقافت و روایت سے ماورا ہوکر اپنے حقیقی داخلی تجربے کی ترجمانی کرتا اور خود کو ایک بڑے سماج کا حصہ محسوس کرنے لگتاہے۔

انوکھے لسانی تجربے ہوں یا معروضیت سے موضوعیت اور موضوعیت سے معروضیت کی نفسیاتی ادلہ بدلی۔ پاکستانی اُردو شعرأ نے گزشتہ پون صدی میں شعری محاورے اور روزمرّے کو بہت کچھ بدلا ہے۔ اردو بولنے والے پاکستانی اس تمام عرصہ میں اس قسم کی تبدیلیوں سے نالاں رہے لیکن تبدیلی کو کوئی روک نہ سکا۔ اور تو اور غزل جس کے مزاج میں شامل ہی نہیں کہ کسی اجنبی کے لیے کبھی اپنے دروازے کھولے، علاقائی زبانیں بولنے والے اردو شعرأ کے معاملے میں کسی حدتک بے پرواہ ہوگئی۔

غزل جس کے مزاج میں شامل ہی نہیں کہ کسی اجنبی کے لیے کبھی اپنے دروازے کھولے، علاقائی زبانیں بولنے والے اردو شعرأ کے معاملے میں کسی حدتک بے پرواہ ہوگئی۔

مختصراً یہ کہ جس لحاظ سے بھی دیکھا جائے پاکستانی ادب میں اردو شعر نے دنیا بھرکے ادب سے یکسر مختلف ماحول میں پرورش پائی اور ابھی تک پروان چڑھ رہا ہے۔ میری رائے ہے کہ مختلف زبانیں بولنے والے اردو شعرأ کے درمیان موازنے پر مشتمل ایم فل سطح کے کچھ مقالے لکھے جائیں۔ فی الحقیقت یہ کوئی کھیل کود جیسی سرگرمی نہیں ہوگی بلکہ اس طرح ہم اردو کے مزاج سے سائنسی بنیادوں پر واقفیت حاصل کرنے کے قابل ہوسکیں گے۔ دنیا میں ہرطرح کا ارتقائے حیات ہمہ وقت خود بخود جاری رہتاہے اور قدرت خود نئے نئے تجربات کے سامان ہمیشہ فراہم کرتی رہتی ہے۔ اول تو اردو زبان کی اپنی حیثیت بحیثیتِ مجموعی کچھ ایسی ہی ہے اس پر مستزاد پاکستانی اردو کی پرورش کا ماحول فطرت کا ایک نہایت منفرد تجربہ ہے، جسے نظرانداز کرنا ناشکری اورنا انصافی کے مترادف ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: مثالی اردو نصاب کی بنیادیں —— نجیبہ عارف
Facebook Comments Box
urduUrdu Languageادریس آزاداردواردو ادباردو الفاظاردو شاعریپاکستان کی مقامی زبانیںزبان دانیلسانیات
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
ہندوستان کا مودی اور عمران خان کا پاکستان ——– خرم شہزاد
next post
جنازے، روح اور ماں —– اظہر عزمی

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.