تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ تریندیگرعلم و ادب

کاغذی ہے پیرہن ہر پیکر تصویر کا —- سعدیہ بشیر

by دانش ڈیسک 11/08/2019
written by دانش ڈیسک 11/08/2019
61

انسانی زندگی کی کیا کیا صورتیں رہیں ہوں گی ان سب کے نقوش کہیں مدھم اور کہیں واضح ہم تک پہنچتے رہے ہیں ۔ ماضی کی ان تصاویر سے ہم پر کئی عقدے وا ہوئے وہیں بہت سے راستے دھند میں لپٹے بھی نظر آئے۔۔ کہیں خوب صورت تصاویر اپنے مٹے اور مدھم رنگوں سے ماضی کی روایات کے پردے چاک کرتی رہیں ہیں اور تحقیق کی یہ روایت ہنوز جاری و ساری ہے۔

ہر معاشرہ روایات، عادات، قوانین اور تعلیم و تربیت کی آما جگاہ ہے، جس کی تصاویر پیش کر کے پوری قوم کا چہرہ دکھایا جاتا ہے۔ گیہوں کے ساتھ گھن کے پس جانے کی اس سے بہتر مثال اور کیا ہو گی ؟

ان تصاویر کی طاقت سے انکار ممکن نہیں۔ تین سالہ شامی پناہ گزین ایلان کی ساحل سمندر پر تصویر نے دنیا بھر میں آنسوؤں اور درد کی لہر دوڑا دی۔ 1929 میں امریکا میں صنعتی پیداورا کے گھٹنے سے بے روزگاری کی ایسی لہر اٹھی جس نے خاندان کے خاندان بے گھر کر دیے۔ ایک سماجی کارکن نے فلورش نامی خاتون کی کسمپرسی کو تصویر کی صورت پیش کیا اور اسے Migrant Woman (مہاجر عورت ) کا نام دیا۔ یہ تصویرعالمی سطح پر غربت و بے چارگی کا استعارہ سمجھی جاتی ہے۔ اس تصویر نے امریکی صدر سے عام آدمی تک کو بہت متاثر کیا اور امریکی حکومت نے ان پناہ گزینوں کی مدد کی۔

پونے دو سو سال قبل امریکا میں غلامی کی لعنت اور تاجروں کی تجارت کا دور دورہ تھا۔ آخر غریب خاندان سے تعلق رکھنے والے صدر‘ ابراہام لنکن نے اسے ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔ جس پر 1861ء میں امیر امریکی زمین داروں اور کاروباریوں نے لنکن کے خلاف اعلان جنگ کر دیا۔ مورخین اس لڑائی کو امریکی خانہ جنگی کا ’’نقطہ تبدیلی‘‘ (turning point) قرار دیتے ہیں۔

ایک فوٹو گرافر ٹموتھی نے میدان جنگ کی تصویر بنائی جو جنگ کی تباہ کاریاں اور خوفناکی نہایت مؤثر انداز میں اجاگر کرتی ہے۔ یہ دنیا کی اولیں تصویر ہے جس نے وسیع پیمانے پر انسانی نفسیات پہ دوررس اثرات مرتب کیے۔ ٹموتھی نے اس تصویر کو” موت کی فصل ” A Harvest of Death کا نام دیا اور یہ پیغام دینے کی کوشش کی کہ بنی نوع انسان کاروشن مستقبل جنگوں میں نہیں امن میں پوشیدہ ہے۔

اسی طرح امریکا اور ویت نام کی جنگ میں کھینچی گئی ایک تصویر پر امن احتجاج کا استعارہ ہے۔ جس میں ایک نوجوان رائفل کی تنی ہوئی نالیوں میں پھول ڈالتا دکھایا گیا ہے اور اس تصویر کو Flower power کا نام دیا گیا ہے۔

ایسی لا تعداد تصاویر ہیں جن کی بدولت فیصلہ کن قوانین وجود میں آئے۔ ہم اپنے گردوپیش نظر دوڑائیں تو صرف کاغذی پیرہن دکھائی دیتا ہے۔ کہیں زندہ مقتدر شخصیات کے ساتھ یوں تصاویر کھنچوائی جاتی ہیں گویا شیرے کے ساتھ مکھی چپک جائے۔ حد یہ ہے کہ اپنی شخصیت کی نفی کرتے ہوئے پروفائل پکچر بنا لی جاتی ہے۔ کہیں مرنے والوں کو ایصال ثواب کی نیت سے تصاویر کھنگالی جاتی ہیں اور مرنے والے کے ساتھ اپنے روابط تصویری صورت میں پیش کیے جاتے ہیں۔ وہ ضروریات زندگی جن کا ظاہر ہونا کوئی انکشاف نہیں، مثلاً کھانا پینا۔ سونا جاگنا ۔ ۔ ۔ یہ سب اسٹامپ پیپر کی طرح پکی رسیدیں بن چکی ہیں۔ جن معاملات کی دوسرے ہاتھ کو خبر نہیں ہونا چاہیے وہ یوں بیان کیے جاتے ہیں گویا قلعہ فتح کر لیا ہو۔ نیکی دریا برد نہیں کی جاتی۔ دام بڑھانے کے لیے تصویری صورت محفوظ رکھی جاتی ہے۔ کچھ لوگ تو اپنی جوانی کی تصویر کے سہارے بڑھاپا جوان رکھنے کی کوشش میں سرگرداں رہتے ہیں۔

وہ تصاویر اور البم جو زندگی کا حسن اور سادگی سمجھی جاتی تھی سب برقی لہروں کی نذر ہو چکا ہے۔ جہاں ایک تصویر زندگی بھر کے لیے کافی ہوا کرتی تھی اب سیلفیز کے apps اس خلا کو بھرنے میں مصروف کار ہیں۔ یوں لگتا ہے تہذيب و اقدار کے بجائے تصاویر کی کاشت کی جا رہی ہے۔ خوش حالی کے مصنوعی رنگ، بربادی کے نوحے اور دوسروں کی کمزوریاں سب ثبوت من مانگے دام پہ میسر ہیں۔ جہاں مظلوم کی آہیں تصاویر میں رنگ بھرنے میں کامیاب نہ ہو پائیں اور ظلم کے پتھر تصویر کے سب رنگ مٹانے میں کامیاب ہو جائیں۔ وہاں لفظی گولہ باری کی طرح لفظی تصاویر سے مدد لی جاتی ہے ۔ آواز کی تیزی اور بناوٹ تصاویر میں من چاہے رنگ بھرنے لگتی ہے ۔

۔ جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے

اسی کرشمہ ساز گفتار نے ننگے بادشاہ کو پورے شہر میں سر اٹھا کر چلنے کا حوصلہ دیا تھا۔ ایسا حوصلہ جو ہمیں آج تک تحریک پاکستان کی تصاویر نہیں دے سکیں۔ ہم ہر app پر، ہر فریم میں صرف اپنی تصویر لگانے کے خواہش مند ہیں۔ بھلے یہ رنگ کسی کے خوابوں سے چوری شدہ ہوں۔ خواہ یہ فریم پورے سماج کی تصویر کے لیے بنایا گیا ہو۔ ہم کسی نہ کسی طرح اس میں اپنا چہرہ فٹ کر لیتے ہیں۔ ۔ ” میں ” کی یہ خواہش کئی مقامات پر کچھ لوگوں کی پروفائل میں لنگڑی لولی بھی نظر آتی ہے۔ جب صرف ہاتھوں۔ پاؤں یا گردن کی تصویر لگا کر حس جمال کو مہمیز کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ۔ ادھوری تصاویر ادھورے اور ٹوٹے پھوٹے سماج کی ہوا کرتی ہیں۔ تصاویر کی نمائش کا یہ شوق اداروں کو لے ڈوبا ہے۔ کام ہو نہ ہو، حکم یہی دیا جاتا ہے کہ 10 بجے تک تصاویر مین آفس میل کر دی جائیں۔ کارکردگی کا اندازہ ان تصاویر سے لگایا جائے گا۔ عام جلسے جلوسوں میں بھی عازمین حج یا یورپی ممالک کا مہذب رویہ اپنی اجڈ تصاویر کو ڈھانپنے کے کام آتا ہے۔ ۔ قاصد کے ہاتھ “پہنچی ” یا سلام کے بجائے رنگ ڈال کر اپنی کارکردگی کی تصویر بھیجی جاتی ہے۔ بے شمار جعلی تصاویر سچے عشق کو کھا گئی ہیں۔ یوں لگنے لگا ہے کہ اعمال میں نیت کے بجائے تصاویر پیش کیے جانے کی کوشش جاری ہے۔ لیکن تصاویر کے رنگوں کی طرح نیت کے رنگ بھی پھیکے پڑ گئے ہیں۔

کوئی تصویر مکمل نہیں ہونے پاتی
دھوپ دیتے ہیں تو سایہ نہیں رہنے دیتے
( احمد مشتاق)

تصویر بنانے کا شوق اور تصویر میں رہنے کا شوق اتنا حاوی ہو چکا ہے کہ ہم نے منظر کی حقیقی تبدیلی کو پس پشت ڈال دیا ہے۔ ان رنگوں نے اصل چہرہ گم کر دیا ہے۔

جگر مراد آبادی کےالفاظ میں
تصویر کے دو رخ ہیں جاں اورغم جاناں
اک نقش چھپانا ہے اک نقش دکھانا ہے

یہ چلتی پھرتی تصویریں ٹک ٹاک پر رنگینی تو ڈال سکتی ہیں لیکن ان کے ذریعے ذہنی تبدیلی ممکن نہیں۔ شعرجیسا بھی ہو خوب صورت لڑکی کی تصویر موجود ہونا ضروری ہے۔ ہمیں تو صرف چمکتی دمکتی تصاویر سے مطلب ہے ہم وہ قوم ہی نہیں جسے تحقیق کی عادت ہی نہیں۔ ہمارے سامنے جو ٹکڑے جوڑ کر جیسی تصویر بنائی جاتی ہے۔ ہم غور ہی نہیں کرتے کہ اس چہرہ پر کس کی آنکھیں ہیں۔ کس کی نا ک اور پس پردہ ہاتھ کس کے ہیں۔ اور اصل تصاویر خواہ زینب کی ہوں۔ ماڈل ٹاؤن کے شہدا کی۔ فرشتہ کی یا بہت سے کچلے پھولوں کی۔ ہمارے رویوں میں کوئی تبدیلی نہیں لا سکتیں۔ ہمیں مظلوم کی کچلی مسلی تصاویر دکھا کر رقت پیدا کرنے کی عادت ہو چکی ہے۔ کسی حادثہ۔ واقعہ یا ظلم پر مدد کے ہمارا ہاتھ نہیں اٹھتا۔ ۔ کیمرہ فرض نبھاہتا ہے۔ ان تصاویر میں ہم جو تبدیل کرنا چاہیں آزاد ہیں۔ کاش ان تصاویر پر انسانی جذبات حاوی ہو جائیں اور ان پر لگے مصنوعی رنگ مٹا کر تصویر کے اصل رنگ واپس لے آئیں۔ ۔ ہماری اصل تصویر وہ ہے جو دوسروں کو دکھائی دیتی ہے۔ یہ تصویر اچھے اخلاق اور مہذب رویہ کی ہو سکتی ہے۔ وہ نہیں جس کے رنگ تبدیل کر کے ہم دوسروں کو دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔

آ کہ میں دیکھ لوں کھویا ہوا چہرہ اپنا
مجھ سے چھپ کر مری تصویر بنانے والے

Facebook Comments Box
انشائیہسعدیہ بشیر
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
کیا پاکستان کے حق میں لکھنا جرم ہے؟ — ڈاکٹر اورنگ زیب نیازی
next post
کشمیر: عالمی سیاست کی سمت متعین کررہا ہے —- عمیر فاروق

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.