تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیکالم

نہیں! عالی مرتبت! نہیں —- اظہار الحق

by دانش ڈیسک 11/08/2019
written by دانش ڈیسک 11/08/2019
116

کون سا خربوزہ میٹھاہے؟ کون سا تربوز اندر سے پھیکا ہے؟
اوپر سے سب ایک جیسے ہیں۔ تربوز بیچنے والا ایک کو ٹوہتا ہے، پھر دوسرے کو! تیسرے پر ہاتھ مار کر آپ کو دے دیتاہے آپ مطمئن ہو جاتے ہیں۔ شاید اسے یہی گُر بتایا گیا ہے کہ گاہک کی تسلی کے لئے ایک تربوز پر ہاتھ مارو، پھر دوسرے پر، تیسرا گاہک کو پیش کر دو۔ خوش ہو کر خرید لے گا!

انسان باہر سے ایک جیسے ہیں۔ وہی سر، سر کے اگلے حصے پر پیشانی، پیشانی کے نیچے ناک نقشہ، ہائے افسوس۔ یہی تو المیہ ہے۔ اسی کا تو رونا ہے۔ باہر سے سب ایک جیسے! اندر کے جہان میں کیا ہے؟ یہ اُس کے بولنے پر موقوف ہے۔ شاعر کو جیل میں بھیجا گیا تو دانش مند مصاحب نے سمجھایا کہ شاعر کو تنہائی مل جائے اور وقت پر کھانا‘ تو اس کی عید ہے۔ خوب شاعری کرے گا۔ اسے اذیت پہنچانی ہے تو صحبتِ ناجنس کی سزا دو! جس ذات شریف کو شاعر کا ہم اطاق بنایا گیا تو وہ اوپر سے بالکل نارمل تھا۔ یہ تو جب اس نے بتایا کہ وہ شاعر ہے تو شاعر کا دماغ ٹھکانے آیا۔ باقی قصہ قارئین نے سن ہی رکھا ہو گا!

ریڑھی بان کا موازنہ اس پروفیسر سے کیجیے جو کلاس روم میں دو گھنٹے بغیر کسی تھکان کے بولتا ہے۔ دانش کے موتی بکھیرتا ہے۔ سُننے والے مسحور ہو جاتے ہیں۔ کیا اُس کا چہرہ، اُس کا سر، اس کے نین نقش بتاتے ہیں کہ اس کے اندر علم کا سمندر ٹھاٹھیں مار رہا ہے۔ اُس جیسا انسان، بالکل اُسی جیسا، ریڑھی بان، گفتگو کرے گا تو چند پھلوں کی تھوڑی سی مقدار اور ان کی خریدو فروخت کے علاوہ کیا بات کرے گا؟ کہہ بھی کیا سکتا ہے؟

زرداری صاحب نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں جو کچھ کہا، وہ اس کے علاوہ کہہ بھی کیا سکتے تھے؟ ان کے ذہن میں کتنی گہرائی ہے؟ کس قدر گیرائی ہے؟ ان کا کتنا مطالعہ ہے؟ تحریک پاکستان اور تاریخ پاکستان سے ان کی کس درجہ آشنائی ہے؟ ان کی ’’سیاسی‘‘ زندگی کی ساری تقریریں ساری گفتگوئیں یک جا کر کے تجزیہ کیجیے، کیا معلوم ہو گا؟ یہ کہ وہ جوڑ توڑ کے علاوہ کسی علم سے آشنا نہیں۔ کبھی نظام تعلیم پر کوئی کمنٹ؟ زرعی اصلاحات کس چڑیا کا نام ہے؟ ترقی کے لئے کون کون سے اقدامات لازم ہیں؟ ان کے فرشتوں کو بھی خبر نہیں۔ ہاں، پاکستان کے سیاسی نظام کا جو پیش منظر ہے، جس میں بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے۔ اس کے وہ ماہر ہیں۔ ابھی تو وہ سینیٹ کے چیئرمین کے خلاف عدم اعتماد کی ایک اور قرار داد لانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

’’سندھ اور بنگلہ دیش نے پاکستان بنایا ہے آپ نے پاکستان نہیں بنایا بلکہ آپ مائگریشن کر کے آئے ہیں۔ آپ وہاں سے بھگائے گئے اور بھاگ کر یہاں آ کر آپ نے پناہ لی!‘‘

کتنی بڑی ٹریجڈی ہے کہ یہ الفاظ اس شخصیت کے ہیں جو ریاست کی سربراہ رہی۔ ’’بھگائے گئے‘‘ اور ’’بھاگ کر یہاں پناہ لی‘‘۔ یہ الفاظ، ان الفاظ کا چنائو، بہت کچھ بتاتا ہے کہ باہر سے دوسروں کی طرح نظر آنے والا وجود اپنے اندر کیا خیالات رکھتا ہے۔

اول تو یہ کوئی موقع ہی نہیں‘ اس موضوع کو چھیڑنے کا! دوسرے، تاریخ آپ کے اس بیان کو قبول ہی نہیں کر سکتی۔ پاکستان برصغیر کے تمام مسلمانوں کی جدوجہد کا ثمر ہے۔ سلہٹ نے ریفرنڈم کے ذریعے پاکستان کے حق میں فیصلہ دیا۔ سلہٹ آسام کا حصہ تھا۔ بنگال کا نہیں تھا نہ سندھ کا۔ خیبر پختون خواہ کے عوام نے پاکستان کے حق میں ووٹ ڈالا۔ کیا یہ سندھ اور بنگلہ دیش کا حصہ ہے؟ یا تھا؟ کیا اب جناب آصف زرداری جیسے مورخ یہ فیصلہ کریں گے کہ پاکستان کس نے بنایا؟

ہجرت کرنا دنیا کا دردناک ترین عمل ہے۔ جو اس اذیت سے گزرا ہو اسی کو اس کے کرب کا احساس ہو سکتا ہے۔ ایک ایک اینٹ یاد آتی ہے۔ ایک ایک درخت دل میں پتے بکھیرتا ہے۔ دروازے کھڑکیاں‘ گلی محلے یاد آتے ہیں۔ دلوں میں ہوکر اٹھتی ہے! عشرت گاہوں میں پڑے، کتاب سے ناآشنا، ناخدائوں کو کیا معلوم کہ قافلے کس طرح آئے‘ کیسے لُوٹے گئے! بچے مائوں کے سامنے بھالوں میں پروئے گئے۔ جوان لڑکیاں، بے بس والدین کے سامنے بے آبرو کی گئیں! بیل گاڑیوں پر ضعیف مرد اور معصوم بچے سسکتے فاصلے طے کرتے رہے اور پاکستان داخل ہونے سے پہلے مار دیے گئے۔ ریل گاڑیوں پر حملے ہوئے۔ قتل عام تو کوئی لفظ ہی نہیں!

وہ لیاقت علی خان جس نے لمبی چوڑی جائیداد کے بدلے میں‘ ایک انچ زمین بھی نہ لی‘ مہاجر ہی تھا۔ وہ قائد اعظم جو بمبئی اور دہلی میں محلات کے مالک تھے اور جنہوں نے پاکستان آ کرکچھ بھی اپنے نام نہ کرایا‘ مہاجر ہی تھے۔

حیرت ہے تاج حیدر، رضا ربانی، شرمیلا فاروقی اور دوسرے حضرات جو بقول زرداری صاحب ’’بھاگ کر آئے اور بھگائے گئے‘‘ ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔ اللہ اللہ۔ خاندانی جماعتوں کے سائے میں سیاست کرنے والوں کی کیا کیا مجبوریاں ہیں۔ 

یہ کہنا آسان ہے کہ یہ لوگ ستر برس گزرنے کے بعد بھی اپنے آپ کو مہاجر کہلواتے ہیں۔ ہاں، یہ ماننا مشکل ہے کہ ستر برس گزرنے کے بعد بھی آپ انہیں طعنہ دے رہے ہیں اور احسان جتا رہے ہیں کہ ’’ہم نے آپ کو پناہ دی‘‘! کراچی یونیورسٹی کا ریکارڈ چھان لیجیے مہاجروں نے طلبہ تنظیم اُس وقت بنائی جب سندھیوں، بلوچیوں، پنجابیوں، پٹھانوں اور دیگر شناخت رکھنے والوں کی پندرہ طلبہ تنظیمیں موجود تھیں! مہاجر کو مہاجر کا طعنہ دیا جاتا تو وہ الطاف حسین کے نرغے میں نہ آتا۔ آپ کے تعصب اور مہاجر دشمنی ہی نے تو الطاف حسین کا سکّہ چلایا۔ آپ نے کبھی یہ شکوہ نہ کیا کہ آج تک اچکزئی اور باچا خان کا خانوادہ پاکستانی نہ بنے۔ پٹھان ہی رہے! جن مولانا کے ساتھ آپ کا جوڑ توڑ کے حوالے سے ازلی ابدی گٹھ جوڑ ہے‘ ان کی زبان پر قائد اعظم کا نام ہی نہیں آ سکتا! اس کا غم آپ کو محسوس نہیں ہوتا!

آپ کی حب الوطنی پر شک نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان کھپے کا نعرہ لگا کر آپ نے ایک پاکستانی ہونے کے حوالے سے اپنا کردار ادا کیا جو ناقابل فراموش ہے۔ پیپلز پارٹی آج بھی چاروں صوبوں کی زنجیر کے طور پر قومی اتحاد کے لئے نیک شگون ہے۔ بلاول نے مولانا کا مذہبی کارڈ رد کر دیا۔ اس کی جتنی تحسین کی جائے کم ہے! مذہبی گروہ بندیوں سے پیپلز پارٹی ہمیشہ دور رہی، یہ اس کا مثبت پوائنٹ ہے۔ مگر جناب! مگر عالی جاہ! ایسی باتیں نہ کیجیے جو درست ہیں نہ شایان شان۔ خدا کے لئے مہاجروں کو مین سٹریم میں جذب ہونے دیجیے۔ قریب آ رہے ہیں تو لات نہ ماریے۔ اپنا زاویہ نظر تبدیل کیجیے۔ اگر یہ موضوع چھڑ گیا کہ ایم کیو ایم کیوں بنی؟ اس سے پہلے کیا ہو رہا تھا؟ کس کو کتنا احساس کمتری تھا۔ ؟ تو بات دور نکل جائے گی۔

حیرت ہے تاج حیدر، رضا ربانی، شرمیلا فاروقی اور دوسرے حضرات جو بقول زرداری صاحب ’’بھاگ کر آئے اور بھگائے گئے‘‘ ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔ اللہ اللہ۔ خاندانی جماعتوں کے سائے میں سیاست کرنے والوں کی کیا کیا مجبوریاں ہیں۔ آج اگر پارٹیوں کے اندر جمہوریت ہوتی تو پارٹی کے سربراہ کا یہ نا وقت اور حد درجہ نامناسب بیان ان کی معزولی کا پیشہ خیمہ بنتا۔ برطانیہ کینیڈا یا دوسرے ملکوں میں جہاں پارٹیاں موروثی نہیں، کوئی ایسا بیان دے کر دیکھے۔ چودہ طبق روشن ہو جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:  ایک مہاجر کیمپ: کراچی کی داستان —- احمد اقبال
Facebook Comments Box
featuredآصف زرداریایم کیو ایمزرداریزرداری مہاجر بیانکراچیکراچی اور مہاجرمحمد اظہار الحقمہاجرمہاجر کون
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
فرخ سہیل گوئندی کی کتاب: لوگ درلوگ ۔۔۔ نامورشخصیات کے واقعات — نعیم الرحمٰن
next post
چاند تارے کی طاقت ——– محمد مدثر احمد

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.