تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
علم و ادبکتابوں پر تبصرے

اَنواسی: کیسی حقیقت؟ کتنی کہانی؟ — ڈاکٹر بی بی امینہ

by دانش ڈیسک 02/08/2019
written by دانش ڈیسک 02/08/2019
116

دو تین دن پہلے کی بات ہے کہ فیس بک دیکھا، ایک پوسٹ نظر سے گزری:

’’تہلکہ مچا دینے والا اردو ناول، اب محدود تعداد میں
ANWAASI by Hafeez Khan.  This week’s best seller. ‘‘

اسی پوسٹ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جون ۲۰۱۹ء میں منظر عام پر آنے والے اس نئے ناول نے اس قدر شہرت حاصل کر لی ہے کہ ایک ہی ہفتے کے مختصر سے عرصے میں اس کی پہلی اشاعت کی ۹۰ فی صد سے زائد کاپیاں فروخت ہو چکی ہیں۔ یہ پڑھ کر مزید حیرت ہوئی۔ ایسا نہیں تھا کہ میں مصنف کو نہیں جانتی تھی۔مصنف سے میرا تعارف ان کے ایک اور ناول ’’ادھ ادھورے لوگ‘‘ سے ہو چکا تھا اور میں ان کی ادبی حیثیت اور اُس ناول کی پذیرائی سے بھی واقف تھی۔ پھر بھی سوچنے لگی،’’ صرف ایک ہفتہ اور اشاعتِ اول تقریباً ختم؟؟ ایسا کیسے اور کیوں کر ہوا؟‘‘

اسی تجسس کے ہاتھوں مزید پوسٹیں دیکھیں تو ایک اور پوسٹ پر نظر پڑی،جو غالباً مصنف یا پبلشر کی طرف سے تحریر کردہ ناول کا تعارف تھا اور کچھ یوں تھا:

’’انیسویں صدی عیسوی کے آخری نصف میں انگریز اپناریلوے کانظام لے کر برصغیر پہنچے اور کراچی سے لاہور تک ریلوے ٹریک بچھاتے ہوئے جب بہاول پور کے نزدیک دریائے ستلج پر ایمپریس برج بنانے لگے تو اس کہانی کا آغاز ہوا۔برطانوی استعمار نے جب مقامیت کو برباد کیا تو اس کے پردے سے سنگری جیسے کئی کردار معصوم عورت سے “انواسی” ہو گئے۔‘‘

ناول پڑھنے کا اشتیاق اور بڑھ گیا اور جب پڑھ ڈالا تو معلوم ہوا کہ ایسا کیسے اور کیوں کر ہوا؟

’’انواسی‘‘درحقیقت محمد حفیظ خان کا ایک نو تصنیف ناول ہے، جو ’ملتان انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اینڈ ریسرچ، ملتان‘ سے حال ہی میں شائع ہوا ہے اور ۳۳۳ صفحات پر مشتمل ہے۔ اگرچہ ناول نگار نے یہ ناول پانچ سے چھے ماہ کی انتہائی کم مدت میں تحریر کیا ہے۔لیکن اس کے ذریعے انھوں نے تاریخ کے جس اہم باب تک رسائی دی ہے،وہ قابل ِ تحسین ہے۔ انھوں نے فرضی کرداروں کی معاونت سے۱۸۷۲ء اور ما بعد کے حقیقی منظر نامے سے وہ دبیز تہیں ہٹانے کی سعی کی ہے، جس کے نیچے پوشیدہ واقعات سے یقیناً بہت کم لوگ واقف ہوں گے کیوں کہ تاریخ ایسے سینکڑوں واقعات کو نو آبادیاتی جبر تلے دفن کر چکی ہے۔ لیکن مصنف نے کمال جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف اس حقیقی تناظر کے بیان پر قلم اٹھایا ہے بل کہ اسے کہانی کے تانے بانے کے ساتھ اس طرح ملا جلا کر پیش کیا ہے کہ کہانی کی سحر انگیزی سے سچائی کی تلخی اور تاریخ کی خشکی اگر پوری طرح ختم نہیں تو کسی قدر کم ضرور ہو گئی ہے۔

حقیقت کے بیان کے علاوہ بھی اس ناول میں کئی ایسے موضوعات ہیں، جو لائق توجہ ہیں، مثلاًطاقتوں اور مناصب کا بے جا استعمال، مذہبی منافرت، مشرق اور مغرب یا ان کے نمائندوں میں یکسانیت کے پہلو،مقاصد کی تکمیل کی خواہشا ت اور ان خواہشات کی حسرت میں تبدیلی، عروج سے زوال اور زوال سے عروج تک کا سفر، سیاست اور بغاوت، محبت اور نفرت، توہم پرستی، انسانی نفسیات کی لمحہ بہ لمحہ بدلتی نئی تعبیریں، کینہ، بغض، عداوت، انتقام اور اس کے علاوہ بھی اور بہت کچھ۔ لیکن ان تمام موضوعات کے بیان میں جو امر سب سے زیادہ نمایاں ہے، وہ مصنف کا قدرے غیر متعصبانہ رویہ ہے۔ چوں کہ مصنف بہ اعتبارِ پیشہ منصف ہیں اس لیے اپنی تحریروں میں بھی وہ اسی کے قائل دکھائی دیتے ہیں کہ ان کا قلم اگر ایک طرف محکوم قوم کے افراد کے پردے میں اپنے لوگوں کی خامیوں، کوتاہیوں اور کمیوں پر شاکی ہے تو دوسری طرف غیر جانب داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے حاکم ِ وقت (انگریزوں) کی فہم و فراست اور یا مختلف معاملات میں ان کے مہذب ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے بخل سے کام نہیں لیتا اور یہ یقیناً بہت کم دیکھنے میں آتا ہے۔اکثر ایسے حالات میں’ اپنو ں‘ کا دفاع کرکے تمام تر ذمے داری دوسرے فریق پر ڈال دی جاتی ہے۔

جہاں تک کرداروں کا سوال ہے تو محمد حفیظ خان کا ایک مرد لکھاری ہونے کے با وصف سنگری کی صورت میں ایک مرکزی نسوانی کردار کو ناول کے باقی تمام کرداروں پر حاوی و غالب دکھانا، اگر چہ ایک نیا یا اچھوتا تو نہیں لیکن ایک جرأت مندانہ فعل ہونے کے ساتھ ساتھ اس لیے بھی لائق ِتوجہ ہے کہ یہ کردار اپنے مکالموں اور طور طریقوں کے ذریعے عورت کی نفسیات کے جن مختلف پہلو ؤں کو بیان کرتا چلا جاتا ہے، ان سے ناول کے واقعات و حالات کی بہتر تفہیم میں مدد ملتی ہے۔ جب کہ مردانہ کرداروں میں سیدے جیسے مضبوط اور روایتی کردار کے ساتھ ساتھ انجینئر جان برنٹن کے کردار کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، جو نہ صرف ایک حقیقی تاریخی کردار ہے بل کہ ناول میں ’’قوتِ ارادی‘‘ اور اس کی کرشمہ سازیوں کو بروے کار لاتے ہوئے اس کردار کے ذریعے ایک شکست خوردہ آدمی کے نا مساعد حالات سے مقابلے اور اپنے (انسانی) حقوق کے حصول کے لیے لا متناہی جدو جہد کا درس بھی دیا گیا ہے۔ مغربی کرداروں کے حالات و واقعات سے مشرقی کرداروں کی مماثلت بھی ناول میں دل چسپی اور ربط پیدا کرنے کا سبب بننے کے علاوہ دونوں معاشروں میں پائی جانے والی ’اعلیٰ انسانی قدروں‘ کی موجودگی کوسمجھنے میں بھی معاون ثابت ہوتی ہے۔ جب کہ ناول میں قدم قدم پر ایک ہی ہیروئن کے مقابل اس کے’ ہیرو‘ کی مسلسل تبدیلی اور اس تبدیلی کے ساتھ ساتھ ایک مردانہ کردار کو منظر سے یک سر غائب کر کے دوسرے مردانہ کردار کو پہلے کردار سے زیادہ نمایاں اور مؤثر بنا کر پیش کرنا بھی دل چسپی کا حامل ہونے کے علاوہ قدرے مشکل امر ہے، جسے ممکن بنانے میں ناول کے مکالموں کی بر جستہ اور بر محل زبان کے علاوہ مقامی اور سرائیکی الفاظ کے قابلِ فہم استعمال نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ مزید بر آں یہ بات بھی بہت اہم ہے کہ ناول کے تخلیقی تقاضوں کے پیش نظر اس میں فرضی کرداروں کی تعداد زیادہ ہے اور ناول نگار نے بھی کتاب کے آغاز ہی میں اسے فرضی کرداروں کے ذریعے حقیقی تناظر میں لکھا گیا ناول قرار دیا ہے، لیکن اگر بحیثیت مجموعی دیکھا جائے تو تمام فرضی کردار ایک سچے منظر نامے کے ساتھ اس قدر گتھم گتھا ہو چکے ہیں کہ اپنے تعامل سے حقیقی کرداروں سے کئی زیادہ حقیقی معلوم ہوتے ہیں۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ محمد حفیظ خان کا یہ ناول برصغیر کی تاریخ کے ایک انتہائی اہم، لیکن نظروں سے اوجھل باب کی روداد ہے۔ایسے افراد، جو ادب کو محض وقت گزاری یا تفریح کے حصول کا ذریعہ سمجھنے کے بجائے اپنی تاریخ، ماحول، انسانی رویوں اور نفسیات کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے کسی کتاب کا مطالعہ کرنا چاہتے ہیں تو انھیں یقیناً یہ ناول مایوس نہیں کرے گا کیوں کہ اس میں موجود تقریباًہر واقعہ یہ گواہی دیتا محسوس ہوتا ہے کہ’ہاں! ایسا ہو سکتا ہے، ایسا ہوتا آیا ہے اور ایسا ہی ہوا ہو گا۔‘

Facebook Comments Box
Anwasiاردو ناولانواسیبی بی امینہمحمد حفیظ خان
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
سید جمال الدین افغانی : اک بھولا ہوا تاریخی کردار —- پروفیسر غلام شبیر
next post
بارشیں، ہلاکتیں اور بجلی کا نظام —- احمد علی کیف

Related Posts

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری

11/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.