تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
شعور کی انارکی: یہ سب ہوا کیسے؟ —...
شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...
ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری
شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول
ابریشم از سلمان باسط — ڈاکٹر بی بی...
محمد حفیظ خان کی فکشن نگاری —  ڈاکٹر...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیعلم و ادبفکشنکالمکتابوں پر تبصرے

’’ممتاز مفتی‘ کا شاہکار کتاب ’ علی پور کا ایلی‘‘ ۔۔۔۔۔۔۔ ابن اظہر

by Editor2 01/08/2019
written by Editor2 01/08/2019
88

شروع میں تو سمجھ نہیں آتا کہ ممتاز مفتی کی ہزارصفحے پر مشتمل کتاب ” علی پور کا ایلی ” کو آخر کہیں کیا۔ سوشل میڈیا خاص طور پر ٹویٹر اور اختصار پسندی کے اس دور میں اردو ادب کے اس شاہکار کو بقول مفتی صاحب ” ڈھیر” کہنے پر دل آمادہ نہیں ہوتا۔ اگر اس کو مفتی صاحب کے سمجھانے پر “آپ بیتی ” مان لیا جائے تو کتاب کا افسانوی اور داستان گوئی کا پہلو نظر انداز کرنا پڑتا ہے۔ اگر قصہ کہانی سمجھ کر پڑھیں تو کتاب میں جا بجا بکھری حقیقتیں واشگاف الفاظ میں اپنی سچائی کا اعلان کرتی ہیں اور اگر اس کو زندگی کے سفر میں ڈبکیاں کھاتے ھوے ایک منتشر، آوارہ اور احساس کمتری کے مارے ھوے بے چین انسان کا سفر نامہ کہیں تو بھی بات بن تو جاتی ہے مکمل نہیں ہوتی۔

درحقیقت ” علی پور کا ایلی” بقول ابن انشا قلم نہیں بلکہ کیمرے کی آنکھ سے لکھا گیا ہے اور غالباً اس شاہکار کی یہی خصوصیت اسے اردو ادب کی ناول نگاری میں اس قدر بلندی عطا کرتی ہے کہ آپ کے سامنے کاغذ پر لکھی ہوئی تحریر ایک پلازما سکرین میں تبدیل ہو جاتی ہے اور آپ اس ہائی ریزولوشن منظر میں زندگی کے گرداب میں مصنف کے ساتھ ساتھ غوطے کھاتے چلے جاتے ہیں۔ جب یہ طوفانی ریلہ گزر جاتا ہے تو آپ صحرا میں کھڑے اس مسافر کی طرح حیران پریشان ادھر ادھردیکھتے ہیں جس میں چلنے کی ہمت صرف سراب کی جھلک سے پیدا ہوتی ہے۔ کتاب ختم ہو جاتی ہے، آپ سیر بھی ہو جاتے ہیں لیکن تشنگی باقی رہتی ہے۔

یہ کتاب آپ کو بازار حسن کے درشن بھی کرے گی اور پیروں سے بھی ملواے گی، اس میں محلے کی عورتوں کی چہ مگوئیاں بھی ہیں اور دیوانوں کے واشگاف نعرے بھی

” علی پور کا ایلی” کی سب سے بڑی خوبی اس کی نڈر اور بے باک سچائی ہے۔ منٹو کی طرح معاشرے کی ننگی حقیقتوں پر افسانے لکھنا اور بات ہے لیکن خود اپنے گھر میں جھانک کر سچائیوں کو سامنے لانا بہت دل گردے کا کام ہے۔ اردو یا دنیا بھر کے ادب میں کتنے لکھنے والے ہونگے جو خود اپنے والد کی زندگی پر اس قدر کھل کر لکھ سکیں۔ علی احمد کا کردار اپنی رنگین مزاجی سے زیادہ اس بات پر حیران کر دیتا ہے کہ لکھنے والا کوئی اور نہیں اس کا اپنا بیٹا ہے۔ مفتی صاحب کہنے کو ایک کمزور اور احساس کمتری کے مارے ھوے لڑکے لگتے ہیں لیکن ایلی کے روپ میں ان سا شہ زور اور دلیر آدمی شائد ڈھونڈے نہ ملے۔

کتاب کی دوسری بڑی خوبی اس کی کردار نگاری ہے تقریباً سو برس پہلے کے کردار آپ کو یوں دکھائے جاتے ہیں گویا آس پاس موجود ہوں اور مفتی صاحب کا قلم، کیمرے کا کام خوب انجام دیتاہے۔

تقریباً سو سے بھی زیادہ کرداروں کی تشکیل اس کی جزیات میں جاکر اس طرح بیان کی جاتی ہیں کے اگر وہی کردار حقیقی زندگی میں سامنےلا کر کھڑا کر دیا جائے تو شاید سواے سانس چلنے کے اور کوئی بات اضافی محسوس نہ ہو۔

جنس کی چھاپ یقیناً ایلی کے کردار پر بہت گہری ہے۔ علی احمد کا ” ٹین کا سپاہی” اور “ربڑ کی گڑیا ” کی باہمی دھینگا مشتی کی منظر کشی اس طرح سے کی گئی ہے کہ دل میں ویسی ہی کراہت پیدا ہو جاتی ہے جیسی خود ایلی کو ہوتی ہو گی۔

شہزاد کا کردار ناول کا وہ تیسرا ستون ہے جس نے اس عمارت کو چار چاند لگا دیے ہیں۔

چھ بچوں کی ما ں سے عشق لڑانا اور پھر اس کو بھگا کر شادی کر لینا کسی سورما کا ہی کام ہو سکتا ہے لیکن جس عورت کے گرد یہ کردار بنا گیا وہ بھی ایک حیرت ناک کردار ہے۔ خوبصورت ہونا،ایک بات ہے، اس حسن کا احساس ہونا دوسری بات لیکن ان سب کے ساتھ ساتھ بے باک اور نڈر ہونا بہت کم عورتوں کے حصے میں آتا ہے۔ ایلی جیسے احساس کمتری کے مارے ھوے لڑکے کو ایسے محبوب کا مل جانا بھی کمال ہے اور اس کو سمجھنے میں وقت درکار ہےکہ قصوروار کس کو کہیں اور باکمال کس کو۔

سادی ایلی کا وہ عشق ہے جو شہزاد کو پس منظر میں دھکیل دیتا ہے۔ لاہور میں سفید محل کی مقیم سادی حسن و عشق کا مکمل استعارہ ہے جو رفتہ رفت ا یلی کو یوں اپنی گرفت میں لیتا ہے کہ جان چھوڑے نہیں چھوڑتی۔ علی احمد، ایلی، شہزاد اورسادی کے علاوہ سو سے زائد کردار اس قدر مہارت سے بیان کیے گئے ہیں کہ گویا پردہ پر ابھرتے ہیں ہیں اور اپنا کردار خوبی سے ادا کر کے غائب ہو جاتے ہیں۔

جس قدر بے باکی سے ایلی نے کام لیا ہے اس کو پڑھنے کے لئے بھی حوصلہ چاہیے چہ یہ کہ لکھا جائے۔

یہ کتاب صرف پڑھنے کے لئے نہیں ڈوبنے کے لئے ہے یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ ” علی پور کا ایلی” پڑھ کر شرم میں ڈوب جاتے ہیں یا کسی گہری سوچ میں!۔

متحدہ ہندوستان کی تحصیل گورداسپور سے شہروں ہونے والی یہ کہانی لاہور، ساہیوال، شیخوپورہ، قصور، ایمن آباد سے ہوتی ہوئی امرتسر سے چوبیس میل دور دوبارہ علی پور یعنی بٹالہ پر جا کر ختم ہوتی ہے جہاں آخری دفعہ آنے کا مقصد اپنے بیٹے کو زندہ سلامت پاکستان پہنچانا ہوتا ہے۔

علی پور کا ایلی کی مثال احرام مصر کی طرح ہے جو دور سےبہت ہموار اور نفیس نظر آتا ہے لیکن جوں جوں اس کے قریب ہوتے جائیں اس کی ہیت سینکڑوں من وزنی پتھروں کی بدولت ناہموار اور خطرناک نظر آتی ہے یا پھر بالکل زندگی کی طرح جو اپنے اندر طوفان اور شدت لئے ہوتی ہے چاہے سطح پر سمندر کتنا ہی خاموش کیوں نہ نظر آ رہا ہو۔

یہ کتاب آپ کو بازار حسن کے درشن بھی کرے گی اور پیروں سے بھی ملواے گی، اس میں محلے کی عورتوں کی چہ مگوئیاں بھی ہیں اور دیوانوں کے واشگاف نعرے بھی، اس میں فحش اشارے بھی ہیں اور دلپذیر ادائیں بھی، اس میں لڑکپن کی جھجک بھی ہے اور جوانی کی بے باکیاں بھی۔ اس میں عشق کی پاکیزگی بھی ہے اور ہوس کی حیوانگی بھی، اس میں مہارانی اور نوکرانی کا روپ بھی ہے اور محبوبہ سے بیوی بنانےتک کا اذیت ناک سفر بھی۔

یہ کتاب صرف پڑھنے کے لئے نہیں ڈوبنے کے لئے ہے یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ ” علی پور کا ایلی” پڑھ کر شرم میں ڈوب جاتے ہیں یا کسی گہری سوچ میں!۔

علی پور کا ایلی کے کرداروں کا چارٹ

Facebook Comments Box
افسانےامرتسرایمن آبادبٹالہپاکستانساہیوالشہزادہشیخوپورہعلی پور کا ایلیعورتقصورگورداسپورلاہورمنٹوہندوستان
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
Editor2

previous post
گرم چشمہ، افغانی پلاؤ اور حیرانیاں (قسط ۵) ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ زاہد عظیم
next post
فنون لطیفہ، پینٹنگ، نیوڈ Nude اور ہمارا معاشرہ —— حلیمہ سعدیہ/ سجاد خالد

Related Posts

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری

11/07/2026

شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول

11/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • غزل گائیکی اور آج کا پاکستان —- اقدس علی ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.