تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتازہ ترین

آخری پرچہ اور ایک جائزہ —– عفیفہ شمسی

by دانش ڈیسک 31/07/2019
written by دانش ڈیسک 31/07/2019
60

تقریبا چار ماہ سے میں مختلف قسم کے امتحانات میں مصروف تھی، کبھی کس کی تیاری ہو رہی ہے کبھی کہاں کی تیاری ہے۔ صحیح معنوں میں یہی حال تھا کہ جو جب یہ سوال کرتا کہ آج کل کیا کر رہی ہو تو میرا جواب یہی ہوتا تھا کہ پیپر کی تیاری کر رہی ہوں یا پیپر ہے اور اس جواب کے بعد کئ بار دوسروں کے چہروں پہ آنے والی کوفت کے تاثر کو بھی بغور دیکھا گویا کہ امتحانات ہم نہیں وہی لوگ دے رہے ہیں یا پھر یہ ایک کھیل ہے جو کھیلا جا رہا ہے جس پہ بعض ‘بڑے’ تنگ ہو رہے ہوں۔ آج آخری پرچہ دینے کے بعد ذہن میں اس عرصے کی کچھ مثبت اور چند منفی باتیں گردش کر رہی تھیں سوچا کہ ان کا تذکرہ کیا جائے۔

مثبت پہلو (Positive Side)
تعلیمی نظام کے حوالے سے بہت سے راز آشکار ہوئے، بہت سی باتوں کو سمجھنے میں مدد ملی۔ ایسا رویہ پیدا ہوا جو خرابی دیکھ کے صرف بدظن ہونے کے بجائے مثبت انداز میں اسے دور کرنے میں مددگار ثابت ہوا مثلا بہت سی ہونے والی زیادتیوں کو صرف ظلم سمجھ کے اس پہ واویلا نہیں کیا گیا بلکہ ہمارا پہلا جملہ یہ ہوتا تھا کہ اس سٹیج پہ آنے کے بعد ہم یہ چیزیں نہیں دہرائیں گے ان شاءاللہ!

سخت حالات کا سامنا تھا لہذا سختی جھیلنے کے عادی ہوئے ہیں۔ تسلسل کے ساتھ اتنا کام کیا کہ بعض کاموں میں سستی کا عنصر دور ہو گیا، بلا ناغہ اور بے تحاشا ملنے والا کام دماغ کی چولیں ہلانے کے لیے کافی تھا لہذا وقفے یا پھر کھلی آنکھوں سے سونے کے دوران جو زنگ لگنے لگا تھا وہ صاف کرنے میں مدد ملی ۔

خوب Brain Storming ہوئی
(Thinking of everything you can about a topic/ generating new creative ideas)

پروجیکٹ ورک، ریسرچ ورک اور. آرٹ ورک میں بہتری پیدا ہوئی۔ اس کے علاوہ بھی بہت کچھ نیا سیکھا جس سے یہ فائدہ بھی ہوا کہ کم وقت میں زیادہ سیکھنے کی صلاحیت بڑھی، مطالعہ وسیع ہوا۔

منفی اثرات
انسان ہمہ وقت ایک سی حالت میں نہیں ہوتا نہ اس کا دماغ یا دل کا موسم ایک طرح کا رہتا ہے۔ کبھی کبھار ذہن کچھ بھی سیکھنے پہ آمادہ نہیں ہوتا تھا تب بھی زبردستی سکھائے جانے پہ باغیانہ کیفیت پیدا ہوتی تھی اور سیکھے گئے کا بھی فائدہ نہیں ہوتا تھا۔

ہماری ہفتے کے دن کی چھٹی بھی ختم کر دی گئ تھی تو کام مزید ایک دن بڑھ گیا تھا۔ اس کی وجہ یونیورسٹی انتظامیہ کا ٹائم ٹیبل درست نہیں تھا یا ٹائم مینجمنٹ کسی وجہ سے ناکامی سے دوچار تھی۔ یہاں تک سناکہ ممکن ہے آخری دنوں میں اتوار کی چھٹی بھی ختم ہو جائے۔

کئ دفعہ صرف رٹے پہ زور رہا، بہت کچھ سیکھنا تھا وہ صرف پڑھا گیا تاکہ ظاہری طور پہ دکھایا جا سکے (پیپر پہ اتارا جا سکے) ۔ جیسے لوگ ظاہری نمود و نمائش کرتے ہیں اندر چاہے دکھائی جانے والی چیز میں سے کچھ بھی نہ ہو۔

صحت پہ برے اثرات مرتب ہوئے، ذہنی پریشانی اٹھانی پڑی۔ طبعیت خرابی میں بھی کسی قسم کی مدد نہ مل سکی جس کی وجہ سے دکھ کا احساس بھی ہوا۔

بعض اساتذہ نے مختصر وقت میں گہرے منفی نقوش ثبت کیے، یہ سمجھنا دشوار تھا کہ جو باتیں ہمیں سمجھائی جا رہی ہیں وہ خود ان کے دائرہ عمل میں کیوں نہیں ہیں؟ بہت سے سٹوڈنٹس کی لرننگ زیرو تھی اور چیٹنگ سے بھر پور فائدہ اٹھایا گیا۔

ٹیچنگ اور چیٹنگ دو مختلف چیزیں ہیں۔ معاشرے میں جب اقدار و روایات ٹھیک سے سکھائی نہ جائیں، منتقل نہ کی جائیں، اگر کی جائیں توخالی نصائح کا پلندہ ہوں تو چیٹنگ کا عمل بڑھنے لگتا ہے۔ پھر چور چوری کرتا ہے، لوگوں کو بھی نمبرز کی طرح دنیا کی ریس میں کامیاب ہونے کے لیے پیسہ حرام ذریعے سے حاصل کرنا پڑے تو کرنے لگتے ہیں۔ جھوٹ کا رواج بڑھتا ہے کہ چیٹنگ کرنے والا اپنے جھوٹ پہ مزید جھوٹوں کا سہارا لیتا ہے۔ مزید ساری خرابیوں کا سلسلہ بھی شروع ہو جاتا ہے۔ ایک شخص چیٹنگ کرتا ہے دوسرا کرواتا ہے دونوں برائی میں ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہیں اسی لیے رشوت لینے اور دینے والے دونوں کو غلط کہا گیا ہے۔ پلکنگ کرنے اور کروانے والی دونوں برابر کا گناہ کما رہی ہیں اسی طرح گناہ کی دعوت دینے والا بھی اسی زمرے میں آتا ہے بلکہ وہ کتنے ہی لوگوں کا گناہ بھی کماتا ہے۔

جیسے ایک بچہ اگر چیٹنگ کرتا ہے تو وہ خود غلط کر رہا ہے اگر وہ ساتھ والوں کو بھی اس لیے چیٹنگ میں شامل کرتا ہے کہ اندر کی شرمندگی اکیلے نہ اٹھائی جائے، برائی کا ایک نفسیاتی پہلو یہ ہے کہ اگر دو چار لوگ مل جائیں تو گناہ کے احساس میں کمی ہونے کے ساتھ ساتھ کئ بار لذت میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ اس دوران بعض سٹوڈنٹس جو خود تو چیٹنگ نہیں کرتے مگر کرنے والوں پہ بھی خاموشی اختیار کرتے ہیں تو وہ انہیں خود اعتمادی فراہم کرتے ہیں۔ یہی کام معاشرے میں ہو رہا ہے اس سے مستقبل الگ خراب ہو رہا ہوتا ہے اور یہ عادت بھی پروان چڑھ رہی ہے کہ برائی ہوتے دیکھیں تو ‘ہمارے اعمال ہمارے لیے، ان کے اعمال ان کے لیے ‘ کے تحت خاموشی اختیار کی جائے حالانکہ یہ اصول یہاں کے لیے نہیں ہے۔ یہ اپنا کام مکمل کر لینے کے بعد کا مرحلہ ہے۔ سبت والوں کا قصہ بھی اس سے تھوڑا سا ملتا جلتا ہے.

برائی کو روکنے کے تین مراحل کے بعد یہ اصول اپنا کام کرتا ہے۔
“اگر ہاتھ سے روک سکو تو روکو
زبان سے روک سکو تو روکو
اس کی بھی استطاعت نہ ہو دل میں ہی برا جانو اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے ” مفہوم حدیث، صحیح مسلم

کسی وقت ایسا ہوتا ہے کہ ہم خود بھی غفلت کا شکار ہو جاتے ہیں، ہمیں بھی معلوم نہیں ہوتا ہم اس سب میں حصہ دار بن رہے ہوتے ہیں جیسے سود کا ہر گھر تک کسی نہ کسی طریقے سے پہنچ جانا۔ چیٹنگ کے حصہ دار بن رہے ہیں یا تو بنتے ہوئے احساس نہیں ہوتا یا پھر بھول سے ایسی غلطی ہو جاتی ہے چاہے کلاس میں ہو جائے یا پھر معاشرے میں۔ ۔ چلتے چلتے آئسکریم کا کور زمین پہ پھینک دیا اگر چہ آپ ایسا نہیں کرنا چاہتے تھے، کسی کو تکلیف پہنچا دی ہے، حقوق اللہ میں کمی کوتاہی کر دی ہے تو توبہ کر کے اپنے عمل کو آئندہ کے لیے درست کر لیا جائے۔

کئ بار حالات ایسے پیدا ہو جاتے ہیں کہ لوگوں کو صرف یہی ایک راستہ دکھائی دیتا ہے۔ سٹوڈنٹس کے پاس بھی ایک وجہ ہوتی ہے کہ فلاں استاذ نے کچھ پڑھایا ہی نہیں تو کیا کریں؟ جیسے چور نے چوری اس لیے کی ہوتی ہے کہ اس کے پاس کھانے کو کچھ نہیں تھا۔

‘Difficulty in making good and bad Decision ‘

ایسا اس لیے ہے کہ جرم کرنے والا متعلقہ جرم مجبوری کی بنا پہ کرتا ہے اور اسے صحیح یا غلط فیصلے کا شعور نہیں رہتا۔ وہ غلط فیصلے کو بھی درست سمجھ کے کوئی بھی کام کرتا ہے یا اپنے آپ کو حق بجانب سمجھتا ہے۔ ” ہر گروہ اس بات پہ خوش ہے جو اس کے پاس ہے ” یا اپنے نظریات پہ بغیر جانچ پرکھ کیے مطمئن ہے۔ ہمیں سراسر بچوں کو یا لوگوں کو الزام دینے کے بجائے ان وجوہات کا بھی جائزہ لینا چاہیے مثلا اگر چیٹنگ کا عمل ہو رہا تھا تو کرنے والے کو کن باتوں نے مجبور کیا۔ اگر چہ اسے اس کے عمل کی سزا ملے گی لیکن اس کے ساتھ ان عناصر کی بھی پکڑ ہوگی جو برائی کی وجہ بنے۔

Theory of moral reasoning
کے حوالے سے Kohlberg نے جو Stages بیان کی ہیں اور Storytelling techniques کا استعمال کیا ہے ان کا مطالعہ کر لیجیے۔

قیامت کے دن بھی انسان یہ کہہ کے بری نہیں ہو سکے گا کہ اللہ میرے والدین نے مجھے کچھ نہیں بتایا تھا یا پھر یہ وجوہات تھیں کہ میں یہ عمل کرتا رہا۔ سوال اس سے یہی ہوگا کہ تمہاری عقل اور شعور کہاں تھا ؟لرننگ کہاں گئ؟ اگر معاشرہ کنویں میں چھلانگ لگا دے گا تو کیا تم بھی لگا دو گے؟۔ کیا ظاہری نمائش کسی صورت میں قابل قبول ہے والدین یہ قبول کرنے کو تیار ہیں کہ ان کے بچے صرف خالی برتن ہوں جسا کا ڈیزائن باہر سے اچھا ہو۔ یا ملک کے لیے یہ بات قابل قبول ہے کہ ایسے شہری پیدا ہوں جو کھوکھلے کردار کے مالک ہوں؟ اگر نہیں تو حل کے لیے ہرفرد کو اپنا اپنا صاف و شفاف قطرہ جمع کروانا پڑے گا تاکہ پینے لائق پانی اکھٹا ہو سکے اور نئ نسل کو صحیح /غلط کی واضح پہچان دی جا سکے۔

Facebook Comments Box
ExamLast Paperامتحانامتحانی پرچہ
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
ٹیکس لا – یا ٹیکسلا ——– چوہدری محمد خان قلندر
next post
یوجین روگان کی کتاب ’The Arabs :A History‘ پہلا باب ’قاہرہ سے استنبول‘ —- ترجمہ و تلخیص: علی عبداللہ

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.