تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتازہ ترین

ٹَک پِل ———علی عمر عمیر

by دانش ڈیسک 11/07/2019
written by دانش ڈیسک 11/07/2019
78

پنجابی میں بنٹے اور کنچے، سرائیکی میں گولیاں اور ماٹے۔۔ ادھر سرائیکی میں جسے “پِل” کہا جاتا ہے پنجابی میں کیا خبر اسے کیا کہتے ہیں لیکن محلے میں جتنے پشتو بچے ہوتے تھے، وہ پِل ہی کہا کرتے تھے۔ میدانی علاقہ تھا، اس لیے زمین سیدھی ہوتی تھی۔ بے ہنگم تعمیرات کا کوئی چکر نہیں تھا۔ بڑے بڑے صحن، اتنے بڑے کہ ان میں “گیند بلا” کھیلا جا سکتا تھا۔ گیند بلے کے باقاعدہ اصول طے تھے۔ بال اڑتی ہوئی دیوار کو جا لگی تو چھکا، رِڑھتی ہوئی دیوار کو لگی تو چوکا، بائیں طرف والی دیوار سے پار گئی تو دُکّی، پیچھے والی رُوڑھی میں چلی گئی تو کچھ نہیں ہو گا۔

اتنے بڑے گھر، اتنے بڑے صحن اور گھر سے باہر نکلو تو سامنے ایک بہت بڑا “میدان” ہوتا تھا۔ تب لفظ “پلاٹ” کا تصور نہیں ہوتا تھا۔ میدان میں باندر کِلّا اور قیدی قیدی کھیلا جاتا تھا۔ گھروں میں “گِیٹی ڈنڈا'(گُلی ڈنڈا) کھیلنے کی اجازت نہیں تھی۔ گیٹیاں گھروں میں سِیپ سیتی بیبیوں کو جا لگتی تھیں اور وہ اپنے پاس رکھ لیتی تِھیں، پھر کسی کی ہمت نہیں ہوتی تھی کہ ان سے جا کر گِیٹی لے سکے۔ اس لیے بالکے، بالڑے گیٹی ڈنڈا بھی میدان ہی میں کھیلا کرتے۔

گھروں میں پِل بنانے کی اجازت نہیں ہوتی تھی۔ مائیں، چاچیاں، دادیاں پِل بنانے پر خوب خبر لیا کرتِیں۔ “نامراد سورا! ویڑھے دا ہنڑ پولا ڈِتے” (نامراد، خنزیر! صحن کی ابھی لپائی کی ہے)۔ کبھی کبھی ڈوہی (ڈوئی) سے دو چار ضربیں بھی لگا دیتی تِھیں۔ یوں ہم اس نسل میں سے ہیں جنہوں نے طنزاً نہیں حقیقتاً ڈوئیوں کا مزہ چکھا ہے۔

جب ویڑھے میں پِل بنانے پر اچھی خاصی درگت بن جاتی تو ہم منہ سُجائے سامنے والے میدان میں چلے جاتے۔ میدان میں جاتے ہی پھولے ہوئے بوتھے، کِھل کِھل سیدھے ہو جاتے۔ ساری مار کٹائی بھول بھول جاتی اور ہم ایک لکڑی کی نوک سے میدان کے سینے پر دو اڑھائی انچ کا چھوٹا سا گڑھا کھود دیتے تھے۔ یہی ہماری پِل ہوتی تھی۔

ایک روپے کی آٹھ گولیاں ملتی تِھیں، اور دو روپے کے چار ماٹے ملتے تھے۔ پھر جوا لگا کرتا تھا۔ جسے گولیاں لگانا کہا جاتا تھا۔ اٹّھ(8) گولیاں، ڈاہ(10) گولیاں، ویہہ(20) گولیاں۔۔ یعنی ایک ہی گیم میں روپے ڈیڑھ روپے کا نقصان یا نفع حاصل ہوتا تھا۔ ہم تب ایک ایک گولی لگایا کرتے تھے، اس سے زیادہ نہ ہم نقصان کے متحمل تھے، نہ نفع کے۔

دو تین طرح کی گیمیں ہوتی تھیں۔ ایک میں کھڑے ہو کر چھے آٹھ گولیاں پِل کی طرف پھینکی جاتِیں۔ جتنی گولیاں پِل میں چلی گئیں وہ پھینکنے والے کی۔ باقی گولیوں پر ٹَک کا حساب ہوتا تھا۔ ایک معینہ فاصلے سے گولیوں کا نشانہ باندھا جاتا اور ماٹا مارا جاتا۔ اگر ماٹا کسی گولی کو لگ جاتا تو یہ ٹَک ہوتا تھا۔ ہر ٹَک پہ ٹک والی گولی مارنے والے کو مل جاتی اور اس طرح یہ گیم چلا کرتی تھی۔

دوسرا طریقہ بیٹھ کر دائیں ہاتھ کی درمیان والی انگلی کی پور پر ماٹا رکھ کر بائیں ہاتھ کی شہادت والی انگلی اور انگوٹھے سے ماٹے کو قابو کیا جاتا اور انگلی کو کھینچ کر چھوڑا جاتا تو ماٹا بڑی رفتار سے دور پڑی گولی کو جا لگتا۔ یہی ٹَک پِل تھی۔۔

ہم نے کئی گولیوں کو ماٹے کی چوٹ سے ٹوٹتا دیکھا تھا۔ ہر گولی کے ساتھ ایک دل ٹوٹتا تھا، اور چار پانچ دل خوش ہوتے تھے۔ پھر وہ گولی تو نہیں جڑتی تھی، مگر وہ ایک دل جُڑ جایا کرتا تھا۔ اب بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔ کتنی ہی چوٹیں ایک دل توڑ جاتی ہیں اور کتنے ہی دل خوش ہو جاتے ہیں۔ پھر بچپن کی نسبت دیر سے ہی سہی، لیکن دل رفتہ رفتہ جُڑ جاتا اور اگلی چوٹ کے لیے تیاری شروع کر دیتا ہے۔ سانسیں چلتی رہتی ہیں، عمر گزرتی رہتی ہے، حیاتی نبڑتی رہتی ہے اور آخر ہم بچپن، نواجوانی، جوانی اور بڑھاپے کی سرحدیں عبور کر جاتے ہیں۔۔۔

Facebook Comments Box
بنٹےٹَک پِلعلی عمر عمیرکنچے
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
ازدواجی محبت کا اظہار یا جھوٹی نمائش —– عافیہ فیصل
next post
فارس مغل کا ’’سو سال وفا‘‘ ——– شریکِ مطالعہ: نعیم الرحمٰن

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.