تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیسیاسیعلمیکالم

کیا افغانستان ایک پشتون ریاست ہے؟ — احمد الیا

by دانش ڈیسک 30/06/2019
written by دانش ڈیسک 30/06/2019
104

اگر آپ سترہویں صدی کے ایشیاء کا سیاسی نقشہ اٹھا کر دیکھیں تو جنوبی ایشیاء اور مغربی ایشیاء کے سنگم پر آج جہاں افغانستان ہے، اس علاقے میں آپ کو مغلوں اور صفویوں کی سرحدیں ملیں گی۔ افغانستان نظر نہیں آئے گا۔ تاریخ میں اس سے پیچھے پلٹ جائیں تو یہ خطہ منگولوں اور سلطنتِ دلی کے درمیان بھی سرحدی علاقہ رہا۔ اس سے قبل یہ غوریوں، غزنویوں، سامانیوں اور صفاریوں کی ایرانی و ترک سلطنتوں کا حصہ تھا۔ اس سے بھی پہلے عباسیوں اور امویوں کے زیر قبضہ۔ ان سے بھی پہلے ایران کی ساسانی سلطنت کا حصہ تھا۔ گویا افغانستان نام کا کوئی خطہ قدیم تاریخ میں اسی طرح معدوم ہے جس طرح پاکستان نام کی کوئی ریاست۔

پھر افغانستان کا تصور کیسے اور کب ابھرا؟

اس حوالے سے کم از کم تین آراء موجود ہیں۔

۱۔ ایک نکتہ نظر یہ ہے کہ صفویوں کے زوال کے بعد جب پہلی مرتبہ پشتو بولنے والوں نے ایک مختصر المدتی ہوتکی سلطنت قائم کیا تبھی پہلی افغان ریاست قائم ہوگئی۔ یہ سلطنت اٹھارہویں صدی کے آغاز میں صرف تیس سال قائم رہی لیکن اس کی حدود میں ایران کا بڑا حصہ شامل تھا، اور موجودہ افغانستان کی طرح پشتون اقلیت میں ہی تھے۔ صرف حکمران پشتون تھا۔

۲۔ دوسرا نکتہ نظر یہ ہے کہ جب ہوتکیوں کے بعد آنے والی نادر شاہ کی ایرانی افشاری سلطنت بھی زوال پذیر ہوئی تو ایران دو حصوں میں بٹ گیا۔ مشرقی حصہ احمد شاہ کی درانی سلطنت بن گیا جو افغانستان کہلایا اور مغربی حصہ ایران رہ گیا۔

۳۔ تیسرا نکتہ نظر یہ ہے کہ انیسویں صدی کے آخر میں جب انگریز اور بارکزئی بادشاہت نے درمیان معاملات طئے پائے اور ڈیورنڈ لائن کھینچی گئی تو ہی افغانستان وجود میں آیا۔

پہلے دونوں نکتہ نظر قوم پرستانہ ہیں۔ قوم پرستی اور قومی ریاست ایک جدید اور مغرب سے درآمد کردہ تصور ہے۔ سوا سو سال پہلے تک ہمارے ہاں اور انقلاب فرانس سے قبل خود مغرب میں اس کا کوئی وجود نہ تھا۔ تب ریاستیں قوم کی نہیں بلکہ صرف بادشاہ کے مفتوحہ اور زیر قبضہ علاقے کی بنیاد پر طئے پاتی تھیں۔ بادشاہ کی قومیت اس ریاست کو اس قومیت کی قومی ریاست نہیں بناتی تھی۔ قومیت اور ریاست کو باہم منسلک کرنا ایک انتہائی جدید خیال ہے جو انیسویں اور بیسویں صدی میں رائج ہوا۔ لہذا اٹھارہویں صدی کی ہوتکی اور درانی سلطنتوں کو افغان یا پشتون قومی ریاست کہنے کی کوئی معروضی یا علمی حیثئیت بہرحال نہیں ہے۔

دنیا میں ایک بھی پشتون قومی ریاست نہ موجود ہے نہ رہی ہے۔ بالکل اسی طرز جس طرح کبھی کوئی پنجابی، سندھی، بلوچ قومی ریاست وجود نہ رکھتی ہے نہ کبھی رہی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ خود بارکزئی حکومت جو درانی سلطنت کے بعد قائم ہوئی اور ۱۹۷۳ میں سردار داؤد کے صدر بننے تک قائم رہی، خود کو کسی قومی شناخت کی بنیاد پر نہیں بلکہ امارت اور بادشاہت کے روایتی مسلم تصورات کی بنیاد پر ہی تصور میں لاتی تھی۔ سٹریٹجک مفاداتی سبب یا جدیدیت کے اثرات کے تحت انہوں نے پاکستان میں پختونستان وغیرہ کے شوشوں کی حمایت کی بھی ہو، تب بھی خود وہ اپنے آپ کو کبھی پشتون قومی ریاست نہ کہتے تھے اور کہہ بھی نہ سکتے تھے کیونکہ افغانستان میں پشتون سب سے بڑا لسانی گروہ تو تھے (اور ہیں) لیکن اکثریت میں کبھی نہیں رہے اور نہ ہیں۔ اکثریت وہاں مجموعی طور پر تاجکوں، ازبکوں، ہزاروں وغیرہ ہی کی ہے۔

پشتونوں، ازبکوں، تاجکوں، ہزاروں وغیرہ کی مشترکہ افغان قومیت کا نظریہ ستر کی دہائی میں صدر داؤد کی حکومت میں ہی ریاستی سطح پر اختیار کیا جانے لگا۔ کمیونسٹوں نے اسے مزید تقویت دینے کی کوشش کی۔ اور پھر مجاہدین (شمالی اتحاد / موجودہ افغان regime) نے بھی اسے اختیار کیا۔ لیکن اس کے باوجود یہ تصور اس قدر کمزور و مصنوعی ہے کہ موجودہ افغانستان بھی خود کو دستوری طور پر ایک اسلامی ریاست کے طور پر ہی ڈیفائین کرتا ہے ناکہ قومی ریاست کے طور پر۔ افغانستان کا پورا نام “اسلامی جمہوریہ افغانستان” ہے اور یہ ملک اپنے مشرق میں موجود اسلامی جمہوریہ (پاکستان) اور مغرب میں موجود اسلامی جمہوریہ (ایران) کی طرح ایک کثیر القومی ریاست ہی ہے جس کی اقوام میں سب سے نمایاں قدرِ مشترک اسلام ہی ہے۔

گویا دنیا میں ایک بھی پشتون قومی ریاست نہ موجود ہے نہ رہی ہے۔ بالکل اسی طرز جس طرح کبھی کوئی پنجابی، سندھی، بلوچ قومی ریاست وجود نہ رکھتی ہے نہ کبھی رہی ہے۔ پشتوں افغانستان کے متعدد لسانی گروہوں میں سے اسی طرح ایک لسانی گروہ ہیں جس طرح پاکستان کے متعدد لسانی گروہوں میں سے ایک گروہ۔ فرق صرف یہ ہے کہ افغانستان میں وہ سب سے بڑا لسانی گروہ ہیں اور پاکستان میں دوسرا بڑا۔ قوم پرستی اور قومی ریاست کے تصورات ہمارے چند طبقات کی ذہنی عیاشی کا سامان ہوں تو ہوں، عوام کے لیے یہ بڑی حد تک اجنبی ہیں۔

ایسے میں کچھ قوم پرستوں کا افغانستان کو “پشتون ریاست” سمجھ کر اسے پاکستان کے مقابل “پشتون عصبیت” کی بنیاد پر سپورٹ کرنا نرم سے نرم الفاظ میں بھی جہالت کہا جاسکتا ہے۔

Facebook Comments Box
afghanafghaniAfghanistanfeaturedkabulPakhtoonPakhtunPashtoonpashtunpathanاحمد الیاسازبک افغانافغان پٹھانافغان پختونافغان ریاستافغان قومافغانستانافغانیافغانیہپٹھانپختونپختون ریاستپختون قبائلپختونستانپشتونپشتون ریاستتاجک افغاندرانیسردار داودشمالی اتحادہزارہ افغان
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
کیا عمران خان پاپولسٹ ہیں؟ – احمد الیاس
next post
اکال گڑھ، علی پور چٹھہ : بچپن کی کچھ یادیں (قسط ۱) — فلک شیر

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.