تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
شعور کی انارکی: یہ سب ہوا کیسے؟ —...
شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...
ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری
شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول
ابریشم از سلمان باسط — ڈاکٹر بی بی...
محمد حفیظ خان کی فکشن نگاری —  ڈاکٹر...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینعلم و ادبکتابوں پر تبصرے

مولوی محمد سعید کی آپ بیتی ’آہنگ بازگشت‘ کاتجزیاتی مطالعہ‎

by دانش ڈیسک 27/06/2019
written by دانش ڈیسک 27/06/2019
121

نامور ادیب، افسانہ نگار، محقق اوردانشور سید قاسم محمود نے انیس سوسترکی دہائی میں شاہکارکے ذریعے اردوکی اشاعتی دنیامیں عظیم انقلاب برپا کیا۔ شاہکار نے اردومیں جریدی کتب کا اجراء کیا اوردنیا بھرکے بہترین ادبی کتب انتہائی ارزاں قیمتوں پرشائع کرکے مطالعہ کے شوق کوعام کیا۔ انہوں نے مختارمسعودکی ’آوازِ دوست‘ ابن انشاکے سفرنامہ، ایرچ سیگل کے عالمی شہرت یافتہ ناول ’لواسٹوری‘ اور اولیور اسٹوری‘ ابوالحسن اصفہانی کی ’قائد اعظم میری نظرمیں‘ جیسی بیشمار کتابیں جریدی شکل میں شائع کیں۔ کئی قسط وار انسائیکلو پیڈیا بھی کم قیمت جریدی صورت میں اشاعت پذیر ہوئے۔ شاہکار کی مقبولیت کے بعدیہ کتب پاکٹ بکس، پیپر بیک حتیٰ کہ اخباری صورت میں بھی شائع کی گئیں۔ شاہکار کتب کی مقبولیت کے بعد کئی اورپبلشرزنے بھی جریدی کتب کی اشاعت شروع کی۔ اورقارئین کواچھی کتب دوسے دس روپے تک میسر آنے لگیں۔ سید قاسم محمود کے مرتب کردہ ’اسلامی انسائیکلوپیڈیا‘، ’انسائیکلو پیڈیا‘ سائنس اورکئی موضوعات پر انسائیکلو پیڈیا اب تک مختلف پبلشر شائع کر رہے ہیں۔ سید قاسم محمود نے قرآن کریم کے تیس پارے’’علم القرآن‘‘کے عنوان سے شائع کیے۔ جس میں علامہ عبداللہ یوسف کا انگریزی ترجمہ، مولانا فتح محمد جالندھری کا اردو ترجمہ اورمولانا ابوالاعلیٰ مودودی کی ترجمانی اور تفاسیر کا مختصرانتخاب شامل کیا جاتا تھا۔ صحیح بخاری کو بھی اسی انداز میں ’’علم الحدیث ‘‘ کے نام سے مرتب کررہے تھے۔ جو بوجوہ مکمل نہ ہوسکا۔

انجیئر راشداشرف نے شاہکار کی اشاعت کی نصف صدی بعد ’زندہ کتابیں‘ کے زیرِعنوان اردوکی نایاب اورشاہکار کتب کی اشاعت کا ڈول ڈالا۔ ابتدا میں زندہ کتابیں پیپر بیک شائع کی گئیں۔ لیکن پھررفتہ رفتہ مزیدساتھی راشداشرف کے ساتھ شامل ہونے لگے، اوران کی کتب اعلیٰ کاغذ پرمجلد شائع ہونے لگیں۔ لیکن ان کی قیمت پھربھی انتہائی کم ہی رہی۔ گذشتہ ڈیڑھ ماہ میں زندہ کتابیں کے تحت پانچ انتہائی شاندار کتابیں منظرِعام پرآئیں۔ جن میں سید انیس شاہ جیلانی کے خاکوں پرمبنی دو کتب ایک ہی جلد میں ’’آدمی غنیمت ہے اورآدمی آدمی انتر‘‘ کے نام سے شائع کی گئی۔ ادیب صحافی اوربراڈکاسٹراخلاق احمد دہلوی کے خاکوںکے تین کتب ایک ہی جلد میں ’’اورپھربیاں اپنا، پھروہی بیاں اپنا اورمیرابیان‘‘ شائع ہوئی۔ مشہورصحافی مولوی محمد سعید کی آپ بیتی ’’آہنگ بازگشت‘‘ صوفیہ انجم تاج کی خودنوشت ’’یادوں کی دستک‘‘ اور نامورصحافی مجاہد بریلوی کی حبیب جالب کے بارے میں کتاب ’’جالب جالب‘‘ شامل ہیں۔ زندہ کتابیں بہت تیزی سے نصف سنچری مکمل کرنے کی جانب رواں ہے۔ دورِحاضر میں اردوادب کی اس سے بہترخدمت اور فروغ مطالعہ کی کوشش کی کوئی اور مثال نہیں ملتی۔

اس سلسلے میں شائع ہونے والی آپ بیتی ’’آہنگ بازگشت‘‘ ایک صحافی کی داستانِ زیست ہے۔ پاکستان کے ابتدائی دورکے نامورصحافی کی حیثیت سے محمد سعید سیاست کے بہت سے رازوں سے آشنا ہیں۔ ملک کے ابتدائی دورکی بہت سی کہی ان کہی انہوں نے بہت سادگی اور سلاست سے بیان کی ہے۔ مولوی محمد سعید کی ’’آہنگ بازگشت‘‘ بلاشبہ اردوکی بہترین آپ بیتیوں میں شامل کی جاسکتی ہے۔ دوران مطالعہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آپ ایک ایسی تحریر پڑھ رہے ہیں جس کا اثر دیرپا ہے۔ یہ کتاب ایک سے زائد مرتبہ پڑھنے کے قابل ہے۔ ہرمرتبہ کوئی نیا پہلو قاری کے سامنے آشکار ہوتاہے۔ چھوٹے چھوٹے جملے ہیں، سادہ اور پرکار۔ بات اختصارسے کہی گئی ہے مگرقاری کے دل پراثر کرتی ہے۔ یہ ہماری تاریخ ہے، پاکستان کی تاریخ، صحافت کی تاریخ، مصنف نے اپنے دلکش اندازِتحریرسے ایک جداگانہ اسلوب کی بنیاد ڈالی ہے۔ یہ مولوی محمد سعیدکا اسلوب ہے۔ پانچ سودس صفحات کی بہترین کاغذ پر شائع مجلد کتاب کو فضلی بک کراچی نے شائع کیاہے، اوراس کی پانچ سو روپے قیمت موجودہ دورمیں انتہائی کم ہے۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ طویل مدت بعد کوئی کتاب ایک ہزارکی تعداد میں شائع ہوئی ہے۔

مولوی محمد سعید معتبر صحافی، انگریزی اوراردوکے ادیب، تحریک احراراورخاکسارکے رکن بھی رہے۔ وہ پاکستان ٹائمز کے ریذیڈنٹ ایڈیٹر بھی تھے۔ اس کے علاوہ معاصر ڈان ودیگراخبارات سے بھی وابستہ رہے۔ وہ تئیس اکتوبرانیس سوگیارہ کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے اورآٹھ ستمبرانیس سو نوے کواسلام آباد میں انتقال کیا۔ مولوی محمد سعید کی پنجابی زبان میں لکھی قرآن کریم کی تفسیرپسِ مرگ شائع ہوئی۔ اس خود نوشت کوپڑھ کرہمیں یہ اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان کا قیام کیوں ناگزیر تھا۔ سعید صاحب نے جس طرح ان عوامل کا تجزیہ کیاہے شایدہی کسی اورنے کیا ہو۔ یادرکھئے، پاکستان ہے توہم ہیں۔ مگراس ملک نوچ کر کھانے والوں کااحتساب، انتہائی کڑا احتساب، اشد ضروری ہے۔ ادھر موجود کمزور قانون میں نرم سزاؤں کوسخت کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ یہ نہ ہوگا تو پھر یاد رکھئے کہ قدرت بھی ہماری مدد نہ کرے گی۔

آپ بیتی میں بہت سے ایسے حقائق محمد سعید صاحب نے بیان کیے ہیں۔ جو بطورصحافی ان کے علم میں آئے اورجن سے کتاب کی دلچسپی صفحہ اول سے آخرتک قائم رہتی ہے۔ حفیظ ہوشیارپوری اردوکے نامورشاعر اوربراڈ کاسٹر تھے۔ ان کے حوالے سے ایک دلچسپ واقعہ سعید صاحب نے لکھا ہے۔ ’’حفیظ کا کلام بڑے احترام سے سُنا جاتا۔ غزل بڑی بے پناہ کہتے۔ اُن کا اسلوبِ گفتگو، جو دھیما اوردردبھرا تھا جب غزل میں ڈھلتا تو اکثرسہل ممتنع ہو جاتا۔ اُنہوں نے ترکِ محبت کے موضوع کو کئی رنگوں میں پیش کیا اور ہر بار احباب سے خوب داد پائی ہے۔ ایک روزایک غزل پڑھ رہے تھے۔ اشعار میں جب دو تین بار’جان ِتمنا‘ آیا تومسکراکے کہنے لگے ’حضرات کسی غلط فہمی کا شکار نہ ہوجا ئیے گا۔ ‘ میں نے عرض کیا۔ ’ایسا کوئی اندیشہ نہیں۔ غلط فہمی تو جب ہوگی جب جان ِ تمنا کی بجائے تمنا جان سُنیں گے۔ حفیظ ہوشیارپوری کو تاریخ  کہنے میں کمال حاصل تھا۔ وہ قریب قریب چھ ماہ ہمارے ہاں ٹھہرے۔ ایک روز کہنے لگے کہ مولوی عبدالحق سے ملنے گیا تھا۔ وہ گھرپر نہیں تھے۔ دو جملوں کا رقعہ چھوڑ آیا ہوں لیکن دلچسپ بات یہ ہوئی کہ رقعہ لکھنے کے بعد سوچا ذرا اس کے اعداد تو شمارکروں۔ دیکھا کہ دونوں جملوں سے اس روزکی تاریخ نکلتی تھی۔

اردوادب کے قارئین کے لیے عطیہ فیضی کا نام انجانا نہیں ہے۔ علامہ اقبال اورشبلی نعمانی کے علاوہ دیگر کئی ادیب وشعراء سے ان کی وابستگی کی داستانیں مشہورہیں۔ لکھتے ہیں۔

’’ایک صبح غلام حسین تھاور کی طرف سے پیغام آیا کہ کوئی آپ سے ملنا چاہتا ہے۔ میری طرف ہی آجائیے۔ میں اُن کے کمرے میں داخل ہوا تو دیکھا ایک خاتون بیٹھی ہیں۔ سر پر رومال، چہرہ جھریوں کی وجہ سے شکن در شکن، کندھے جھکے ہوئے۔ اُس نے یک لخت دو ایسی متحرک آنکھیں جو کبھی آفت کی پرکالہ رہ چکی ہوں گی۔ مجھ پر جمادیں اورپکاریں ’اُف یہ خوفناک داڑھی‘۔ میں نے عرض کیا، محترمہ یہ پہلی داڑھی نہیں جس سے آپ کو سابقہ پڑا ہو۔ جملہ سُنتے ہی ان کاچہرہ سرخ ہوگیا۔ یہاں تک کے کانوں کی مرجھائی ہوئی لویں تک تمتما اٹھیں۔ ہر جھری رگِ جاں بن گئی۔ تھاور نے یہ کیفیت دیکھی تو پوچھنے لگے۔ کیا آپ انہیں جانتے ہیں؟میں نے کہا کہ انہیں معلوم ہو گیا ہے کہ میں اُنہیں جانتا ہو ں مطمئن رہیے، تعارف ہوچکا ہے۔ ‘‘

ڈان اخبارکے بارے میں محمد سعید صاحب نے ایک ایسا انکشاف کیا ہے۔ جس سے بہت کم لوگ واقف ہوں گے۔

’’ڈان جب چل نکلا اور اس کی سیاسی حیثیت مسلم ہوگئی تو ہیرالڈ پبلی کیشنزنے جودلی سے ڈان کے کراچی آجانے کے بعد اس اخبار کے مالک بنے، یہ چاہاکہ اس کانام بدل کر ’ہیرالڈ‘ رکھ دیاجائے۔ ڈان اگرچہ عالمی صحافت میں خاصہ معروف ہوچکا تھا تاہم ان کا خیال تھا کہ اس تعارف اورشہرت کو نئے نام پر قربان کیا جاسکتا ہے تا کہ جہاں تک حقِ ملکیت کا تعلق ہے ڈان کو ماضی سے لاتعلق کیا جاسکتاہے۔ نام بدلنے کا منصوبہ گوخفیہ رکھا گیا تھا پھر بھی مخصوص حلقوں میں یہ راز برملا گردش کرنے لگاتھا۔ جس رات اُسے عملی جامہ پہنانا مقصود تھا ریڈیو پاکستان میں ایک مشاعرہ منعقد ہو رہا تھا۔ وہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ رازطشت ازبام ہوچکا ہے۔ جہاں ہم بیٹھے تھے اُس سے اگلی صف میں ڈاکٹر ایم ڈی تاثیر بیٹھے تھے۔ ہمیں دیکھا تو کہنے لگے’اگر ایسا کیا تو بہت برا کرو گے۔ یہ نام نہیں مٹنا چاہیے۔ ‘لیکن اخبار کے دفتر میں جذبات کی حلاوتوں یا تلخیوں کے لیے رکنا محال ہے۔ چنانچہ ورکس منیجر مسٹر ڈرائیر نے آکے کہا، آخری صفحہ تیار ہے۔ اخبارکے کارخانے میں آخری صفحہ پہلا صفحہ ہوتا ہے اور یہی وقت نام بدلنے کا تھا۔ الطاف آگئے۔ ڈرائیرنے اسے کس کسا کر مشین پرڈال دیا اور پھر اپنی جیب سے تانبے کی تختی نکال کر جمادی جس پر ‘ہیرالڈ‘ کندہ تھا۔ اخباردھڑادھڑ چھپنے لگا اور ڈان صبح صادق کے پھیلتے اجالے میں ڈوب گیا۔ برابر والے کمرے میں اردو ڈان کا نام ہیرالڈ کی رعایت سے ’نقیب‘ رکھا جا چکا تھا۔ نام کی تبدیلی نے کراچی کے سیاسی حلقوں میں ہارون برادرزکے خلاف ایک طوفان کھڑا کر دیا۔ لوگوں نے اُن کی حرکت کو تجارتی منفعت کے علاوہ قائداعظم کے نام کو مٹانے کی سازش قراردیا۔ ہیرالڈ کا ایک اور پرچہ نکلا اور یہ مسئلہ اخباروں کے کالموں سے نکل کر سیاسی پلیٹ فارم پر آگیا۔ الطاف صاحب گھبرا اٹھے۔ اس سے اگلا پرچہ پھر ڈان تھا اور اُس کے پہلے صفحے پر اُن کا اعلان تھا کہ ’میں قوم کو اُن کا ڈان واپس دیتا ہوں‘ محترمہ فاطمہ جناح نے طنز میں ڈوبا بیان دیا کہ ’الطاف بڑے کرم خسروانہ سے وہ شے قوم کو واپس لوٹارہے ہیں جو اُن کی نہیں۔ ‘‘

ایسے بے حد دلچسپ اورچشم کشاحقائق کتاب کے ہرصفحے پرموجود ہیں۔ اقتدارکی اکھاڑپچھاڑ کے بارے میں لکھتے ہیں۔

’’بالآخر غلام محمد کی باری بھی آگئی۔ چھ اگست انیس سو پچپن کو انہیں بیماری کے بہانے رخصت کیا گیا۔ گورنر جنرل ہاؤس کے عالی شان محل کی آخری سیڑھی اُن کے لیے قبر کا پہلا زینہ ثابت ہوئی۔ چندہی دنوں بعد گنتی کے کچھ لوگ غمگین و جنازہ بردوش ایک غیر معروف قبرستان کو جاتے دیکھے گئے۔ یہ غلام محمد کا آخری سفر تھا۔ غلام محمد رخصت ہوئے تو اسکندر مرزا آئے۔ ایک ماہ بعد اسکندرمرزا کی حلف برداری کی تقریب میں مجھے بھی شامل ہونے کا موقع ملا۔ اتفاق سے ان دنوں الطاف، سلہری اور میرخلیل الرحمٰن تینوں ملک سے باہرتھے۔ ان کے نیوز ایڈیٹرز اُن کی نمائندگی کر رہے تھے۔ برآمدے میں لوگوں کا ہجوم تھا۔ اُن میں سے اکثر ہمارے ایڈیٹرز کی خیریت پوچھ رہے تھے۔ اسی خیریت طلبی میں ایک آواز یوں بھی سنائی دی کہ ’جب سے ایڈیٹر باہرگئے ہیں، اخبار بہتر ہوگئے ہیں، بات دراصل یوں تھی کہ ہم میں جرأت اور جانب داری دونوں کا فقدان تھا۔ ہرلَے دھیمے سُروں میں اُٹھائی جارہی تھی۔ ‘‘

صحافتی دنیاکے کتنے حقائق اس ایک جملے ’جرأت اورجانب داری‘ کی کمی میںپنہاں ہیں۔ یہ سمجھنے والے ہی سمجھ سکتے ہیں۔ ایک اوراقتباس دیکھیں۔

’’چودھری محمدعلی تیرہ ماہ وزیراعظم رہے۔ ملک کو دستور بھی دیا اور نظم ونسق بھی لیکن اس کے باوجود وہ جلد ہی اپنی جماعت میں غیر مقبول ہوگئے۔ بہرکیف چودھری محمدعلی ایک دستور بنانے میں کامیاب ہوگئے۔ یہ کارنامہ واقعی قابلِ داد تھا کہ جس جنس کی تلاش میں قوم دس برس سے نکلی ہوئی تھی وہ اُن کے عہد میں دستیاب ہوگئی لیکن قوم کے سرسے شامت اعمال ابھی ٹلی نہیں تھی۔ اس کاروانِ بے موسیٰ کو ابھی کچھ اور ویرانوں میں بھٹکنا تھا۔ دستورایک کشتی میں سجا کر اسکندرمرزاکے محل تک لے جایا گیا۔ انہوں نے دستخط کردیے اوراس کے تحت اسلامی جمہوریہ پاکستان کی صدارت کا تاج اپنے فرقِ فرخ جمال پر سجا بھی لیا لیکن اُن کی نیت کچھ اور تھی۔ اعمال اگرنیتوں ہی کی ایک جھلک ہوتے تو کراچی کے دروبام سے وہ نیتیں عیاں تھیں۔ رات کے سناٹوں میں اس شہرکی دیواریں پکاراُٹھیں کہ اسکندر مرزا کو بادشاہ بنا یا جائے۔ یہ اشتہاراس کثرت سے دیواروں کی زینت بنے کہ فلمی ستاروں، مہ پاروں، شمشیرزنوں اور تاجداروں سے جو جگہ بچ گئی وہ اسکندر مرزا کے نقیبوں نے اپنے شاہ کی آمدکے اعلان کے لیے وقت کرلی۔ صبح تک جگہ جگہ پوسٹر چسپاں ہوگئے اور یوں دکھائی دینے لگا کہ جیسے کراچی کی ہر دیوارکسی ’ظل اللہ‘ کی منتظر ہے۔ ‘‘

محمد سعید نے اپنے گاؤں کے سادہ مزاج درویش کا ذکرکچھ یوں کیا ہے۔

’’گاؤں کے ان ہنگاموں سے دور جوہڑ کے پار ایک مردِ درویش اپنی دنیا الگ بسائے بیٹھا تھا۔ جہاں آج چٹیل چبوترے پر اُپلوں کے ڈھیر ملیں گے وہاں درختوں کے جنڈ میں دو کوٹھریاں تھیں۔ ایک میں خراس نصب تھا اور دوسری میں جس کا جھروکہ جوہڑ کی جانب کھلتا تھا مولوی عبدالحئی کتابوں میں گھرے ہوئے، کھجور کی چٹائی پر زہد و استغناء کی تصویر بنے بیٹھے رہتے۔ دنیاکے جھمیلوں سے الگ اس چھوٹی سے کوٹھری کا دروازہ ہرآنے والے کے لیے کھلا رہتا۔ ہندو، سکھ اور مسلمان سبھی اپنے اپنے اندوہ لے کے آتے اور تسکین پاکے جاتے۔ اسلام کے جمالیاتی پہلو کی ایک ہلکی سی جھلک اُس عزلت نشیں کو مرجع خلائق بنا رکھاتھا۔ جس کی پسائی سے گھر کا خرچ چلتا۔ مولوی مرحوم عمر بھر دوسروں کے ٹکڑوں کی محتاجی سے آزاد رہے۔ خود علم کی دولت صبح و شام لٹائی۔ برادری کی خوشیوں اورغموں میں شریک رہے۔ بیاہ شادی کے لین دین میں اُن کا رویہ عام برادری کے افراد کی طرح تھا۔ علم دین کے نام پر کبھی رعایت نہیں مانگی۔ وعظ سادہ ہوتا اور پنجابی زبان میں۔ جنہیں اُن کی صحبتیں میسر آئی ہیں وہ حیرت میں رہ جاتے قرآن کے اعجاز پر کہ ایسی سادہ بولی میں ڈھل کے بھی اُس کا حسن برقرار رہتا ہے۔ یہ وعظ جس میں نہ خطیبانہ زورِ بیان ہوتا اور نہ حکیمانہ موشگافیاں، محض اپنی سادگی اور خلوص کی بدولت دلوں میں اُترتا جاتا۔ میری آنکھیں ایک سفیدریش سکھ کوجمعے کے روزمنبر کے قدموں میں بیٹھا ہوا دیکھ رہی ہیں۔ توحید کے بیان پر بالخصوص اس کا سردُھننا۔ وہ بزرگ پورا خطبہ سنتے اور نمازکے وقت الگ بیٹھ جاتے۔ لوگ مولوی صاحب کے اتنے گرویدہ تھے کہ گاؤں کی عیدگاہ اور قبرستان کے لیے زمین ایک سکھ نے اُن کے نام ہبہ کردی۔ ‘‘

ایسے چشم کشا اور دل کو چھولینے والے واقعات کتاب میں جابجا ملتے ہیں۔ جن سے قاری کی دلچسپی قائم رہتی ہے۔ دریائے ستلج کارُخ روپڑ کے مقام پر پہلی مرتبہ موڑا گیا تواس واقعے کی ایک عجیب روئیداد برسوں بعدمیرے مطالعے سے گزری۔

’’افتتاح کے وقت وائسرائے لارڈ رپن کو نہر کا آہنی در کھولنے کے لیے ایک پہئے کو گھمانا تھا۔ کچھ تو حضور لاٹ صاحب ہی زیادہ شہ زور نہیں تھے اورکچھ پہیہ فنی خرابی کی وجہ سے جام ہوگیا۔ ریاست جیندکے فرماروا پاس ہی اس تقریب میں مدعو روساء کے ساتھ بیٹھے تھے۔ ریاست توخیران کی محدودتھی لیکن قدرت نے تن وتوش اُنہیں لامحدود عطا کر رکھا تھا۔ وہ وائسرائے کو ابتلا میں پا کر جذبہ خدمت گزاری میں اٹھے اور پہیہ گھما دیا۔ پانی موجیں مارتا نہر میں بہہ نکلا۔ لیکن اس کوشش میں راجہ صاحب کاموتیوں کا ہار پہئے میں الجھ چکا تھا۔ وہ پیچھے ہٹے تو ہار ایک جھٹکے سے ٹوٹ گیا اور موتی بکھرگئے۔ لوگوں نے موتی چُن چُن کرراجہ صاحب کے حوالے کردیے۔ وہ موتی قبول کرتے ہوئے جب پوری مالا مٹھی میں آگئی تو راجہ صاحب نے اسے لہروں پر نچھاور کر دیا۔ کچھ لوگوں نے اسے فضول خرچی پرمحمول کیا۔ بعض نے آبرو کا سوال سمجھا۔ بہرکیف راجہ صاحب نے کہا’اس موقع پر مالا کا ٹوٹنا بڑی بدشگونی تھی۔ میں نے موتیوں کی دکھشنا پانی کے دیوتاؤں کی سیوا میں پیش کی ہے کہ وہ خوش رہیں اور نہرجاری رہے۔ ‘‘

اب یہ راجہ صاحب کی انگریز وائسرائے کوخوش کرنے کے لیے تھا یااپنی دریادلی کی دھاک بٹھانے کی کوشش یاپھران کی ضعیف الاعتقادی۔ واقعہ دلچسپ ہے۔ تحریکِ آزادی اورکانگریس کے کردارکے بارے میں محمدسعید صاحب لکھتے ہیں کہ

’’کانگریس سب سے بڑی جماعت تھی اور اس کا کاروبار ہندوسرمائے اورسیاست کا مرہونِ منت تھا۔ اس میں ہر قوم کے کچھ لوگ حب ِ وطن اوربغضِ انگریز کی وجہ سے شریک تھے۔ آزادی وطن کی لگن نے بہت سے متضاد عناصر کو ایک رشتے میں پرو رکھا تھا۔ ایک انگریز نے اس کا سنگِ بنیاد رکھا تھا۔ ہندو نے عمارت اٹھائی۔ گو مسلمانوں کے اشتراک نے اس میں وسعت اور جوش پیدا کردیا تھا اور اس کا آرائش کا بہت سا کام مسلمانوں کے خون کا مرہونِ منت تھا، تاہم مسلمان اس سے بحیثیت مجموعی مجتنب رہے۔ اکبر الہٰ آبادی نے کانگریسی قیادت کو آندھی اور اس کے مسلمان پیروکاروں کو گردِراہ کہا۔ ابتدا پر کچھ بھی ہو۔ درمیانہ دور خواہ کتنا وطن دوستی کا ہو، کانگریس کا مزاج رفتہ رفتہ ہندوانہ ہوتا گیا۔ محمدعلی جوہر اور محمدعلی جناح کی اس سے علیحدگی اور ذرا اور آگے چل کر چل کر خاکساروں کا اس سے کلی عدم تعاون اور آخری ایام میں احرار کی سردمہری اس بات کی علامت تھی کہ کانگریس کا مزاج مسلمانوں کی امنگوں کی عکاسی کرنے سے قاصر رہا تھا۔ ‘‘

محمد سعید صاحب کا کانگریس کے بارے میں یہ تجزیہ کتنا درست تھا۔ آج ہم سب جانتے ہیں۔ ایسے ہی حقائق اورانکشافات سے بھرپور ’آہنگ بازگشت‘ انتہائی دلچسپ آپ بیتی ہے۔ جسے شروع کرنے والاقاری چھوڑنہیں سکتا۔

Facebook Comments Box
Ahang e BazgashtUrdu Biographyآپ بیتیآھنگ بازگشتبائیو گرافیخود نوشت سوانحریڈیو پاکستانسوانح حیاتمحمد سعید
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
پاکستان: المیہ اور حقیقت —— محمد خان قلندر
next post
قوی خان: ایک یادگار گفتگو —— کرامت بھٹی

Related Posts

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری

11/07/2026

شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول

11/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • غزل گائیکی اور آج کا پاکستان —- اقدس علی ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.