تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیسیاسیکالم

ہندو لڑکیوں کے اغواء کی عبرتناک کہانی ——- فرحان کامرانی

by دانش ڈیسک 13/06/2019
written by دانش ڈیسک 13/06/2019
73

کچھ عرصہ قبل ایک واقعے نے ہمارے ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر بڑی دھوم مچائی۔ خبر یہ تھی کہ اندرون سندھ سے دو نابالغ لڑکیاں بندوق کے زور پر اغواء کر کے پنجاب لے جائی گئیں اور وہاں ان سے جبراً اسلام قبول کروا کر دو مسلمان لڑکوں کی شادی کر دی گئی۔ اس واقعے پر ہندوؤں کے ٹھیکیدار مودی جی کی سشما سوراج جی نے نوٹس لے لیا۔ پھر بلاول، بختاور، سجاول، کامران، ذیشان، نعمان، الغرض ہر دوسرا تیسرا اپنی مفکری جھاڑنے لگا۔ ویسے حقیقت یہ ہے کہ ٹویٹ کرنا تو رفع حاجت کرنے سے بھی آسان کام ہے۔

مگر پہلے تھوڑی سی اصولی گفتگو ہو جائے، جگت بازی کا موقع اس کے بعد آئے گا۔ اصولی بات یہ کہ اسلام میں جبر نہیں ہے، کسی انسان کو تلوار کے زور پر مسلمان نہیں کیا جا سکتا، کسی کو اغواء کرنا بھی نہایت قبیح عمل ہے اور جبراً شادی بھی نہیں ہوتی۔ شریعت میں یہ بات واضح ہے کہ اگر لڑکی بالغ ہو تو اس کا شادی پر راضی ہونا لازم ہے۔ اسلام نے ماں باپ کی رضا کے خلاف شادی کرنے کی بھی حوصلہ شکنی کی ہے۔ نکاح تو دو مسلمانوں کی باہمی رضا مندی کی صورت میں منعقد ہو جاتا ہے مگر بہتر ہے کہ ماں باپ کی مرضی کو ہی مدنظر رکھا جائے۔ شرعاًمسلمان اور ہندو میں شادی ہو نہیں سکتی چاہے لڑکا و لڑکی دونوں راضی ہوں، ایسی شادی سول میرج تو ہو سکتی ہے مگر شریعت کی نگاہ میں وہ زنا ہی رہے گی۔ اب اگر واقعی لڑکی کو جبراً مسلمان کیا گیا تو وہ مسلمان تو نہیں ہوئی اور جبری نکاح کیا گیا تو جبری نکاح تو مسلم سے بھی ممکن نہیں چہ جائے کہ غیر مسلم سے۔

مگر تصویر کا دوسرا رخ یہ بھی تو ہے کہ ممکن ہے کہ لڑکیاں خود ہی بھاگ کر آئی ہوں اور خود ہی اپنی رضا سے قبول اسلام کیا ہو اور اپنے پسند کے لڑکوں سے شادی کر لی ہو۔ فرض کریں کہ ایسا ہوا ہو تو اس میں رکاوٹ ریاست کس حق سے ڈال سکتی ہے؟ اور اس پر پابندی کیونکر لگا سکتی ہے؟ پھر سوال یہ بھی تو ہے کہ خود کو اسلامی ریاست کہنے والا ملک پاکستان کیا کسی غیر مسلم شہری کو جبراً روک سکتا ہے کہ وہ اسلام قبول نہ کرے؟ کسی کو جبراً مسلمان کرنا غلط ہے تو کسی کو جبراً اسلام قبول کرنے سے روکنا کیسا ہے؟

پھر اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اسلام قبول کرنے کے لئے 18 سال کی عمر کا ہونا لازمی قرار دینے کی بات کی جاتی ہے۔ حضرت علیؓ دس سال کی عمر میں اسلام قبول کیا تھا اور یہ کس نے کہہ دیا کہ اسلام صرف بالغ فرد ہی قبول کر سکتا ہے؟ پھر سوال یہ بھی تو ہے کہ کیا انسان 18 سال کی عمر میں بالغ ہوتے ہیں؟ ہمارے ملک کے مفکرین ذرا راقم کو سمجھائیں کہ بلوغت کی تعریف کیا ہے؟ اگر یہ جسمانی بالیدگی کا نام ہے جو انسان کے جنسی عمل کرنے کے قابل ہو جانے کو کہتے ہیں تو یہ ہمارے وطن میں 18 سال سے بہت قبل ہی لڑکے اور لڑکیاں جنسی طور پر بالیدہ ہو جاتے ہیں۔ 18 سال سے بہت پہلے تو آج کل کے ماحول میں لوگ سائبیریا میں بھی بالغ ہو جاتے ہیں تو ہمارا ملک تو موسم کے اعتبار سے بہت گرم ہے۔ کوئی کہہ سکتا ہے کہ بلوغت ایک شعوری حالت کا نام ہے جو انسان کو 18 سال کی عمر میں ہی حاصل ہوتی ہے۔ مگریہ بھی نری احمقانہ بات ہے۔ راقم خود علم نفسیات کا معلم ہے اور ساری دنیا کے نابغوں کو چیلنج کرتا ہے کہ وہ ہر انسان پر لاگو ہونے والا کوئی ایک سن شعور بتا دیں۔ بہت سے لوگ 60، 70 سال کی عمر تک ذہنی طور پر نابالغ رہتے ہیں اور بہت سے لوگ دس سال کی عمر میں بھی ذہنی طور پر شیریں مزاری سے زیادہ بالیدہ ہوتے ہیں۔

اصولی بات صرف اتنی سی ہے کہ ریاست کو جبر کو روکنا چاہیے۔ کسی کو جبراً اسلام قبول نہیں کروایا جانا چاہئے اور کسی سے جبراً نکاح نہیں ہونے دینا چاہئے مگر نہ تو ریاست کسی کو جبراً اسلام قبول کرنے سے روک سکتی ہے نہ ہی شادی کرنے سے روک سکتی ہے۔ اب اصولی باتیں ختم، جگت بازی شروع۔ کراچی کے ایک صاحب جو جامعہ آئی بی اے میں پڑھاتے ہیں اور ایک انگریزی اخبار کے سابق مدیر بھی ہیں، نے کچھ عرصہ قبل اس موضوع پر ایک مضمون لکھا۔ اس میں کچھ بہت حیران کن اعداد و شمار تھے۔ مثلاً ہمارے ملک میں تقریباً ایک ہزار لڑکیاں ہر سال اغواء کر کے جبراً مسلمان کرکے مسلم لڑکوں سے بیاہ دی جاتی ہیں۔ پھر وہ فرماتے ہیں کہ 20 ہندو لڑکیاں ہر ماہ اغواء کر کے جبراً مسلمان کرکے مسلم لڑکوں سے بیاہ دی جاتی ہیں۔ ویسے ہماری ریاضی کچھ زیادہ اچھی تو نہیں مگر ہمارے خیال میں 20کو اگر 12 سے ضرب دیا جائے تو 240 ہوتا ہے اور ہزار میں سے 240 نکالیے تو 760 بچتے ہیں۔ یعنی وہ جو ہزار غیر مسلم لڑکیاں پاکستان میں ہر سال اغواء کر کے جبراً مسلمان کر کے مسلمان لڑکوں سے بیاہی جاتی ہیں ان میں سے 760 ہندو کے علاوہ دیگر مذاہب سے تعلق رکھتی ہوں گی؟ پاکستان سے یہود کی اکثریت تو 70 کی دہائی میں اسرائیل چلی گئی تو بچے عیسائی، سکھ، پارسی اور کیلاشی۔ سکھ، پارسی، کیلاشی تو ہیں ہی چند ہزار تو یعنی ان لڑکیوں کی جمیع اکثریت کا تعلق عیسائی مذہب سے ہوتا ہو گا؟

اگر اتنی بڑی تعداد میں ایسے واقعات ہمارے ملک میں ہو رہے ہیں تو تمام ہی ذرائع ابلاغ (جو روشن خیال لوگوں سے بھرے پڑے ہیں) اس پر خاموش کیوں ہیں؟ ہر مہینے 20 ہندو لڑکیوں کے اغواء کی خبریں کیوں اخبارات اور ٹی وی پر نہیں آتیں؟ اور یہ جو 760 لڑکیاں دیگر مذاہب کی اغواء ہوتی ہیں ان کا تذکرہ کیوں ذرائع ابلاغ سے بالکل غائب رہتا ہے؟کیا مصنف یہ فرمانا چاہتے ہیں کہ ایسے واقعات رپورٹ ہی نہیں ہوتے؟ اگر رپورٹ ہی نہیں ہوتے تو فاضل مصنف نے جن حوالوں کے ساتھ یہ اعداد و شمار پیش کئے ہیں ان تک یہ الہام سے پہنچ گئے؟

اور اگر واقعی یہ واقعات اتنی ہی کثرت سے ہوتے ہیں تو یہ عورت مارچ کرنے والیاں کیوں ہر ایسے واقعے پر احتجاج نہیں کرتیں؟ ان میں تو بہادری کوٹ کوٹ کر بھری ہے؟راقم سارے نابغوں کو چیلنج کرتا ہے کہ ہزار نہیں، وہ ایک سال میں ایسے سو واقعات ہی بتا دیں، سو نہیں دس واقعات ہی بتا دیں۔ مگر بات اتنی سی ہے کہ ان نام نہاد مفکرین کی کی ہوئی باتوں کا صحیح معائنہ کوئی کرتا نہیں اس لئے یہ کچھ بھی کہہ د ینے کے عادی ہو گئے ہیں۔ بس جو منہ میں آیا کہہ دیا۔ پھر اپنا ملک بدنام ہوتا ہے تو ان کی بلا سے! اپنے ملک کی عزت سے ہمارا کیا لینا دیا؟ pirn FARRAH ABRAHAM

Facebook Comments Box
featuredHinduSindhi Hinduپاکستانی ہندوسندھ ہندوفرحان کامرانیہندوہندو قبول اسلامہندو لڑکیاں
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
مغربی فکری روایت اور مذہب —- ظفر حسین ظفر
next post
احتیاط لازم ہے جناب ——— رقیہ اکبر

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.